← Al-Risala March 2014Al-Risala March 2014
ایک پیغمبر انہ اسوہ
Urdu · 4 min read
رسول اور اصحاب رسول کی تاریخ اپنے مختلف پہلوؤں کے ساتھ انسان کے لیے ایک ابدی گائڈ کی حیثیت رکھتی ہے- انھیں اصولوں میں سے ایک اصول وہ ہے جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پیش آنے والے ایک واقعے سے ملتا ہے-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات مدینہ میں 632 عیسوی میں ہوئی- اس کے بعد وہاں وہی مسئلہ پیدا ہوا جو عام طورپر کسی بڑے لیڈر کی وفات کے بعد پیدا ہوتا ہے، یعنی یہ سوال کہ — لیڈر کے بعد کون- جیساکہ معلوم ہے، پیغمبر اسلام کی وفات کی خبر سننے کے بعد مسلمانوں میں عام طورپر سراسیمگی پیدا ہوگئی- اِس بحران (crisis) کے موقع پر خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق وہاں آئے- انھوں نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: من کان یعبد محمدا فإن محمدا قد مات ، ومن کان یعبد اللہ فإن اللہ حی لا یموت (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 3668) یعنی جو شخص محمد کو پوجتا تھا تو محمدپر موت آچکی، اور جو شخص اللہ کو پوجتا ہے، تو اللہ زندہ ہے اور اس پر موت آنے والی نہیں-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق کا جملہ ایک اہم ترین حقیقت کو بتا رہا ہے، وہ یہ کہ تاریخ کو مسلسل کنٹرول کرنے والا اللہ ہے، نہ کہ کوئی انسان- ایک قائد جب تاریخ کی قیادت کررہا تھا، اُس وقت بھی اس کی پشت پر اللہ تھا اور قائد کے رخصت ہوجانے کے بعد یہ اللہ ہی ہے جو تاریخ کے نظم کو سنبھالنے والا ہے (ہو الأول والآخر)-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق کے مذکورہ الفاظ نے اہلِ ایمان کو ایک نیا حوصلہ دے دیا- وہ نئے عزم کے ساتھ پیغمبرانہ مشن کی تکمیل میں سرگرم ہوگئے-
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اُسی سال اہلِ یمن کی بغاوت کا واقعہ پیش آیا- یہ ایک انتہائی نازک معاملہ تھا- مختلف اسباب سے لوگ اِس بغاوت کے خلاف اقدام کے معاملے میں سخت متردد تھے- اُس وقت دوبارہ حضرت ابو بکر صدیق نے لوگوں کے سامنے ایک تقریر کی- اُس وقت انھوں نے یہ مشہور تاریخی جملہ کہا: أینقص الدین وأنا حی ( ہدایة الرواة لابن حجر العسقلانی، رقم الحدیث: 3031) یعنی کیا دین میں کمی کی جائے گی، حالاں کہ میں زندہ ہوں-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ قول بظاہر ایک انفرادی قول تھا، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ ایک اجتماعی قول تھا- وہ گویا پوری جماعتِ صحابہ کے دل کی آواز تھی- حضرت ابوبکر صدیق نے گویا اپنے اِس تاریخی قول کے ذریعے لوگوں کو یاد دلایا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کی صورت میں جو ٹیم چھوڑی ہے، اُن میں سے ہر شخص اِس اسپرٹ کا حامل ہے کہ — میں اِس کام کو کروں گا:
I will do it.
خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق کے اِس کلمہ نے ہر ایک کو آخری حد تک بیدار کردیا- ہر ایک ہیرووانہ اسپرٹ (heroic spirit) کے ساتھ ہمہ تن سرگرم ہوگیا- ہر ایک کے اندر یہ انقلابی سوچ ابھر آئی کہ یہ میری ذمے داری ہے اور مجھے زندگی کی آخری سانس تک اِس ذمے داری کو انجام دینا ہے-
اِس سلسلے میں دوسری چیز وہ ہے جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک نصیحت سے معلوم ہوتی ہے- آپ نے اپنے آخری لمحات میں اپنے اصحاب کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا: ترکتُ فیکم أمرین، لن تضلوا ماتمسکتم بہما: کتاب اللہ وسنة نبیّہ (موطأ الإمام مالک، رقم الحدیث: 1619) یعنی میں نے تمھارے درمیان دو چیزوں کو چھوڑا ہے- جب تک تم ان کو پکڑے رہوگے، تم ہرگز گمراہ نہ ہوگے- یہ دونوں چیزیں ہیں: اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن اور سنت کیا ہے، وہ گویا اسلام کا مستند لٹریچر ہے- اس کے مطابق، یہ کہنا صحیح ہوگا کہ پیغمبر اسلام نے اپنے بعد دو چیزیں چھوڑیں — اسٹرانگ ٹیم اور اسٹرانگ لٹریچر- یہ دو چیزیں اِس بات کی ضامن تھیں کہ آپ کے بعد آپ کا مشن پوری طاقت کے ساتھ چلتا رہے، یہاں تک کہ وہ اپنی تکمیل تک پہنچ جائے- اس معاملے میں یہ بھی ایک پیغمبرانہ اسوہ ہے- وہ بتاتا ہے کہ ایک لیڈر اگر ایسا کرے کہ وہ اپنے بعد ایک ڈیڈی کیٹیڈ ٹیم (dedicated team) اور ایک طاقت ور لٹریچر (strong literature)چھوڑے تو یہ اس کے مشن کی زندگی کی قطعی ضمانت ہے-