Maulana Wahiduddin Khan
87 min left
0:00

← Al-Risala March 2007
Al-Risala March 2007

Main Content

Urdu · 87 min read

عراق کے صدر صدام حسین نے تقریبا 30 سال تک عراق کے اوپر ڈکٹیٹرانہ حکومت کی ۔ انھوں نے اپنے دعوے کے مطابق ، مغربی قوموں کے خلاف سب سے بڑی جنگ چھیڑی ، جس کو وہ ام المعارک“ کہتے تھے۔ امریکا سے ان کا ٹکراؤ ہوا۔ ان کا آخری انجام یہ ہوا کہ 30 دسمبر 2006 کو انھیں عراق میں پھانسی دے دی گئی۔ یہ پورا واقعہ ایک افسوس ناک واقعہ تھا۔ لیکن اس کا ایک انتہائی مثبت پہلو یہ ہے کہ موت سے پہلے صدام حسین نے ای میل کے ذریعے اپنی قوم کے نام ایک پیغام دیا۔ اس پیغام میں انھوں نے کہا تھا کہ تم لوگ امریکا سے نفرت نہ کرو، کیوں کہ نفرت ، سوچنے کے تمام دروازے بند کر دیتی ہے۔ انگریزی رپورٹنگ میں اس کے الفاظ یہ تھے :

unverifiedAttribution could not be verified automatically

I call on you, not to hate Americans, because hate closes all doors of thinkin.

پچھلے دو سو سال کی مسلم تاریخ اس کا کھلا ہوا نمونہ ہے۔ نو آبادیات (Colonialism) کے زمانے میں ۔ مسلمان ، مغربی قوموں سے سخت نفرت کرنے لگے، پھر صیہونیت (Zionism) کے عنوان سے یہودی نفرت شروع ہوئی ، پھر امریکیت (Americanism) سے وہ شدید طور پر متنفر ہو گئے۔ اور امریکا کو اسلام کا دشمن نمبر ایک کہنے لگے۔ اس کا ایک مظاہرہ 11 ستمبر 2001 کا واقعہ تھا جو نیو یارک میں پیش آیا۔ پچھلے دو سو سال کے اندر پوری مسلم دنیا میں نفرت کا یہی ماحول چھایا رہا ہے۔ اس مدت میں پیدا ہونے والی تمام بڑی بڑی شخصیتیں نفرت کا شکار ہو کر رہ گئیں سید جمال الدین افغانی ، آیت اللہ خمینی، جمال عبد الناصر، اسامہ بن لادن، محمد علی جوہر، ابوالکلام آزاد اور صدام حسین وغیرہ۔ اس مدت میں پوری مسلم دنیا میں لوگ نفرت میں مبتلا رہے۔ اس بنا پر یہ ہوا کہ ان کے اندر مثبت سوچ کا ارتقا نہ ہو سکا ۔ یہ صورت حال ابھی تک بدستور جاری ہے جس نے مسلمانوں کے اندر مثبت سوچ کےتمام دروازے بند کر دیے ہیں۔

سپردگی کی اسپرٹ

اسلام کا مطلب سپردگی (submission) ہے۔ یہی اسلام کی اصل اسپرٹ ہے۔ جس آدمی کے اندر یہ اسپرٹ بھر پور طور پر پیدا ہو جائے اس کے اندر فطری طور پر سپردگی کا مزاج (submissive nature) جنم لیتا ہے۔ یہی حقیقت ایک حدیث میں تمثیل کی زبان میں اس طرح بتائی گئی ہے کہ مومن کی مثال میدان میں اُگے ہوئے نرم پودے جیسی ہے ،مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ ‌خَامَةِ ‌الزَّرْعِ(صحیح البخاری، 7466) ہوا کا جھونکا آتا ہے تو وہ اس کے مقابلے میں نرمی کے ساتھ جھک جاتا ہے، وہ ایسا نہیں کرتا کہ کڑی چیز کی طرح کھڑا ر ہے خواہ وہ اس کے نتیجے میں ٹوٹ جائے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مومن کے اندر سپردگی کا یہ مزاج اصولی طور پر یا اعتقادی طور پر صرف خدا کے لیے ہوتا ہے۔ لیکن اس کا عملی اظہار ہمیشہ انسان کی نسبت سے پیش آتا ہے۔ کیوں کہ خدا اس دنیا میں براہ راست طور پر ہمارے سامنے موجود نہیں۔ عملی طور پر ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ خدا کی بات کسی انسان کی زبان سے ادا ہوتی ہے۔ یہ انسان ہے جو موجودہ دنیا میں خدا کی بات کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس لیے خدا کے لیےسپردگی کا امتحان ہمیشہ انسان کی نسبت سے لیا جاتا ہے نہ کہ براہ راست خدا کی نسبت ہے۔

یہ بات قرآن میں آدم اور ابلیس کے واقعے سے معلوم ہوتی ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آدم کو پیدا کرنے کے بعد خدا نے جن اور ملائکہ کو حکم دیا کہ وہ آدم کے آگے جھکیں ۔ مگر ابلیس نہیں جھکا۔ اس کے نتیجے میں ابلیس کو خدا کا نافرمان قرار دیا گیا ۔ ابلیس خدا کے آگے سجدہ کرنے کے لیے تیار تھا مگر وہ اس کے لیے تیار نہیں تھا کہ وہ آدم کے آگے سجدہ کرے ۔ مگر اس کا سجدۂ خداوندی قبول نہیں گیا ، بلکہ سجدہ انسانی سے انکار کی بنیاد پر اس کو خود خدا کے آگے سجدہ نہ کرنے والا قرار دیا گیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سپردگی کی یہی اسپرٹ مومن کو ہر موقع پر خدا کا تابع دار بنائے رکھتی ہے۔ جن لوگوں کے اندر سپردگی کی یہ صفت نہ ہو وہ سرکشی کا طریقہ اختیار کریں گے اور بطور خود یہ سمجھیں گے کہ ان کی منفی روش صرف ایک انسان کے مقابلے میں ہے، نہ کہ خدا کے مقابلے میں ۔

زمانی بصیرت رکھنے والے علماء کی ضرورت

سو سال سے بھی زیادہ مدت سے یہ بات کہی جاتی رہی ہے کہ ہمیں دور جدید کے علماء کی ضرورت ہے، یعنی ایسے علماء جو علوم دینیہ کی تحصیل کے علاوہ وقت کے علوم کی بھی تعلیم حاصل کریں ۔ اس طرح ایسے علماء تیار ہوں جو قدیم وجدید دونوں سے واقف ہوں تا کہ وہ عصر حاضر کے مطابق،اسلام کی خدمت انجام دے سکیں ۔

حال میں اس ضرورت کو مزید شدت کے ساتھ دہرایا جا رہا ہے، مگر یہ درست نہیں ۔ اس موضوع پر لکھنے اور بولنے والے بظاہر یہ تاثر دے رہے ہیں گویا کہ اس موضوع پر ابھی تک کوئی کام نہیں ہوا، مگر یہ بات خلاف واقعہ ہے۔ اصل حقیقت بر عکس طور پر یہ ہے کہ پچھلے سو سال کے اندر بہت سے لوگوں نے تعلیمی اعتبار سے بظاہر دونوں قسم کی لیاقت حاصل کی ، مگر مطلوب نتیجہ حاصل نہ ہو سکا۔ دو طرفہ تعلیم کے باوجود وہ علماء تیار نہ ہو سکے جو عصر حاضر کی اسلامی ضرورت کو پورا کریں ۔ اس معاملے میں جو چیز مفقود ہے، وہ نتیجہ ہے نہ کہ کوشش ۔ فقدان نتیجہ کو فقدان کوشش سمجھا جا رہا ہے۔ یہ قلت شعور کے سوااور کچھ نہیں۔

ایسے لوگوں کی فہرست ہزاروں میں شمار کی جاسکتی ہے جو دونوں قسم کی تعلیم سے بہرہ ور ہوئے، مگر وہ ملّت کی مطلوب ضرورت کو پورا نہ کر سکے۔ مثال کے طور پر چند نام یہاں لکھے جاتے ہیں۔ مولانا حمید الدین فراہی ، مولانا سعید احمد اکبر آبادی ، ڈاکٹر یوسف القرضاوی، پروفیسر مشیر الحق ، ڈاکٹر عبد الحلیم عویس، ڈاکٹر عبد اللہ عباس ندوی ، مولانا محمد تقی عثمانی، پروفیسر محمد یاسین مظہر صدیقی، پروفیسر محمد اجتبا ندوی، پروفیسر محسن عثمانی، پروفیسر ضیاء الحسن ندوی ، ڈاکٹر عبد الحلیم ندوی، ڈاکٹر اشتیاق احمد ظلّی ، ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی ، ڈاکٹر سعود عالم قاسمی ، وغیرہ۔

یہ تمام لوگ مدرسہ اور یونیورسٹی دونوں قسم کی تعلیم سے بہرہ ور ہوئے۔ اس قسم کے دو طرفہ سند یافتہ علماء کی فہرست بہت طویل ہے، مگر ان میں سے کوئی بھی شخص مطلوب ضرورت کو پورا نہ کر سکا، یعنی قدیم و جدید دونوں کے مطالعے سے فکر اسلامی کی تشکیل و تدوین کرنا ، جو دور جدید میں دین اسلام کے فکری اظہار کے لیے مطلوب ہے۔ میں نے ذاتی طور پر اس قسم کے علماء کی تحریریں پڑھی ہیں ، مگر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ان سب کی تحریریں قدیم روایتی مسائل کی جدید تکرار کے سوا اور کچھ نہیں۔

جیسا کہ معلوم ہے، سرسید احمد خاں نے جب ایک تعلیمی ادارہ بنایا جس نے آخر کار مسلم یونیورسٹی کی شکل اختیار کی ۔ سرسید احمد خاں نے اپنے اس تعلیمی ادارے کا مقصد یہ بتایا تھا کہ اس میں ایسے مسلمان تیار ہوں جن کے ایک ہاتھ میں قرآن ہو اور دوسرے ہاتھ میں سائنس ہو۔ اس طرح مسلم ممالک میں بہت سے ایسے ادارے ہیں جو اسلامی علوم کے ساتھ ساتھ جدید علوم کی بھی تعلیم دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر اسلام آباد کی انٹر نیشنل یونیورسٹی ، قاہرہ کا جامعہ الازہر، ریاض کا جامعہ الامام، لیبیا کی جامعہ طرابلس، وغیرہ۔

اسی طرح یورپ اور افریقہ میں ایسے مدرسے قائم کیے گئے ہیں جہاں اسلامی علوم کی تعلیم انگریزی زبان میں دی جاتی ہے اور قرآن اور حدیث کے ساتھ جدید علوم بھی پڑھائے جاتے ہیں، نیز ایسے بہت سے مسلمان ہیں جنھوں نے ندوہ اور دیو بند جیسے اسلامی اداروں سے فراغت حاصل کی اور اس کے بعد انھوں نے کسی یونیورسٹی میں داخلہ لے کر باقاعدہ جدید علوم میں بھی ڈگری حاصل کی ۔ لیکن اس کے باوجود ایسے علماء تیار نہ ہو سکے جو مطلوب قسم کے علماء کی ضرورت کو پورا کر سکیں۔ جو کچھ ہوا وہ صرف یہ کہ مدرسے کے فارغین اگر مدرسے کے استاد بن کر رہ جاتے تھے تو ان لوگوں کو یونیورسٹی میں معاشی اعتبار سے زیادہ بہتر ملازمتیں حاصل ہو گئیں اور ایک عالم کے الفاظ میں وہ زیادہ بہتر قسم کے"حیوان کا سب" بن کر رہ گئے ۔

سند یافتہ علماء کے سوا بہت سے دوسرے مسلم رہنما ہیں جو عربی اور فارسی اور اردو کے سوا مغربی زبان (انگریزی یا فرنچ ) بھی جانتے تھے۔ انھیں دونوں طرف کے لٹریچر کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا، مگر ان کی تحریروں کا ذخیرہ بتاتا ہے کہ وہ بھی دور جدید میں اسلام کی اس فکری ضرورت کو پورا نہ کر سکے۔ ان میں سے چند نام یہ ہیں۔ سید جمال الدین افغانی ، ڈاکٹر محمد اقبال، ڈاکٹر محمد رفیع الدین ، مولاناابو الکلام آزاد، شیخ محمد عبده، سید رشید رضا، امیر شکیب ارسلان، سید قطب، ڈاکٹر عبد القادر عودہ، ڈاکٹر عبدالرحمن الکواکبی، مولانا عبد الماجد دریا بادی، سید ابوالاعلی مودودی ، ڈاکٹر اسرار احمد ، مولانا سید ابو الحسن علی ندوی ، ڈاکٹر محمد حمید اللہ، وغیرہ۔

دوسری قسم کے ان علماء کی تحریریں بھی میں نے پڑھی ہیں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ ان کا معاملہ بھی دیگر علماء سے مختلف نہیں۔ ان لوگوں کی تحریریں بھی اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ قدیم مسائل و افکار کی جدید تکرار ہیں ۔ یہ کتا بیں روایتی ذہن کو اپیل کر سکتی ہیں، لیکن وہ جدید ذہن کو ایڈریس نہیں کرتیں۔

جہاں تک دور جدید میں اسلام کے فکری اظہار کا معاملہ ہے، وہ ان لوگوں کی تحریروں کے اعتبار سےبدستور نا مکمل پڑا ہوا ہے۔ چند مثالوں کے ذریعے اس معاملے کی وضاحت ہوتی ہے۔

1- ڈاکٹر محمد اقبال، اردو، فارسی اور عربی کے علاوہ انگریزی زبان بھی بخوبی جانتے تھے۔

انھوں نے مذکورہ موضوع پر ایک کتاب بھی لکھی جس کا نام ہے الٰہیات اسلامیہ کی تشکیل جدید :

Reconstruction of religious thought in Islam.

مگر یہ کتاب کسی بھی درجے میں اسلام کی جدید ضرورت کو پورا نہیں کرتی ۔ اس کتاب میں یا تو بعض روایتی مسائل ، مثلاً وحدت وجود کو دوبارہ دہرایا گیا ہے۔ اس کے سوا اگر کچھ باتیں ہیں، تو وہ فلسفیانہ کنفیوژن کے سوا اور کچھ نہیں۔

زیر بحث موضوع کی نسبت سے اقبال کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ مغربی تہذیب کوصرف منفی نقطہ نظر کے تحت دیکھ سکے، اور جو آدمی اپنے زمانے کے افکار و احوال کو صرف منفی ذہنیت کےساتھ دیکھے ، وہ کبھی اسلام کی عصری ضرورت کو پورا نہیں کر سکتا۔

قرآن کی شہادت کے مطابق ، فطرت کا قانون یہ ہے کہ ہر بظاہر منفی چیز میں ایک مثبت پہلوموجود ہو۔ اس بات کو قرآن میں مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً یہ کہ خدا کی سنت کے مطابق ، ہر عسر کے اندر ہمیشہ یسر کا پہلو موجود رہتا ہے، مگر اقبال ( اور اسی طرح دوسرے تمام جدید مسلم علماء ) اس نکتے کو سمجھ نہ سکے۔ ایسی حالت میں وہ سرے سے اس کے اہل ہی نہ تھے کہ وہ عصری تقاضوں کے مطابق ،اسلامی فکر کی تدوین کر سکیں۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے اقبال کے ایک شعر کو لیجیے :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں سمجھتا تھا کہ لائے گی فراغت تعلیم کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ

اقبال کا یہ شعر جد یا تعلیم کے بارے میں ہے، مگر یہ شعر صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ اقبال جدید علوم کی حقیقت سے بالکل بے خبر تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید علوم، بالفاظ دیگر سائنسی علوم ، آفاق و انفس ( حم السجدہ 53) میں آیات الٰہی کے اظہار کی حیثیت رکھتے تھے۔ میں نے اس موضوع پر کئی کتابیں لکھی ہیں جن کو مزید وضاحت کے لیے دیکھا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر مذہب اور جدید چیلینج (God Arises) ۔ اس کتاب کا عربی ترجمہ الاسلام يتحدی کے نام سے چھپا ہے۔ ایک عرب شیخ نے اس کو پڑھ کر کہا تھا کہ اس کا ثانوی ٹائٹل یہ ہونا چاہیے : مَدْخَلٌ عِلْمِيٌ إِلَى الْإِيمَانِ . (ایمان میں داخلے کا سائنسی دروازہ )

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حقیقت یہ ہے کہ جو شخص بھی جدید علوم کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کرے گا اور فراست ایمانی کےتحت اس کا تجزیہ کرے گا وہ بالکل برعکس نتیجے تک پہنچے گا۔ وہ یہ کہنے پر مجبور ہوگا کہ اقبال کا مذکورہ شعر اور اسی طرح موجودہ زمانے کے تمام علماء کے منفی بیانات ) صرف جدید علوم سے ان کی بے خبری کا نتیجہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ علوم بر عکس طور پر معرفت کا نیا دروازہ کھولنے والے ہیں۔ اس اعتبار سےدیکھیے تو اقبال کا مذکورہ شعر ایک لفظی تغیّر کے ساتھ اس طرح کہنا زیادہ صحیح ہے:

میں سمجھتا تھا کہ لائے گی فراغت تعلیم کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا ایمان بھی ساتھ

2- اس سے متعلق دوسرا حوالہ مولانا ابوالحسن علی ندوی کا ہے۔ ان کی ایک عربی کتاب چھپی ہے جس کا ٹائٹل یہ ہے : رِدَّةٌ وَلا أَبَا بَكْرٍ لَهَا . ( ایک ارتداد ہے، مگر اس کے لیے کوئی ابوبکر نہیں ) اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ جو مسلم نوجوان جدید تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں، وہ فکری اعتبار سے اسلام کے بارے میں منفی ذہن کے حامل بن جاتے ہیں۔ بظاہر ان کے نام مسلمان جیسے ہوتے ہیں، لیکن اعتقادی اعتبار سے وہ اسلام سے بہت دور ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک ذہنی ارتداد کامعاملہ ہے جس سے آج مسلم ملّت کی نئی نسل دو چار ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ کتاب پہلی بار 1959 میں المجمع الاسلامي العلمی (لکھنؤ) کی طرف سے شائع ہوئی ۔اس کو پڑھنے کے بعد میں نے اس مسئلے کی باقاعدہ تحقیق کی ۔ مسلمانوں کی جدید نسل ( عرب اور غیر عرب دونوں ) کا مطالعہ کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مولانا ابوالحسن علی ندوی اور ان کے جیسے لوگ جس چیز کو ذہنی ارتداد ( intellectual apostasy) کہہ رہے ہیں، وہ دراصل ذہنی عدم اطمینان(intellectual discontent)کا کیس ہے۔

اصل یہ ہے کہ آج کا زمانہ سائنسی طرزِ مطالعہ کا زمانہ ہے۔ آج کا انسان ہر چیز کو سائنٹفک فریم ورک میں رکھ کر دیکھتا ہے۔ آج کے انسان کو صرف وہ استدلالی اسلوب اپیل کرتا ہے جو مبنی بر عقل (reason-based) ہو، مگر آج کے مسلم مصنفین اور اہل علم نے جو اسلامی لٹریچر تیار کیا ہے، وہ سب کا سب قدیم روایتی اسلوب پر مبنی ہے نہ کہ جدید سائنسی اسلوب پر۔ مثال کے طور پر مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کی ایک کتاب اس نام کے ساتھ چھپی ہے : عقل کا فیصلہ حالاں کہ اس کتاب میں جو استدلال پیش کیا گیا ہے، وہ مکمل طور پر نقلی دلیل پر مبنی ہے نہ کہ عقلی دلیل پر ۔ ( ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب فکر اسلامی ، صفحہ 216)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسلام کے خلاف جدید فکری چیلنج کا آغاز مغربی تہذیب کے عروج کے ساتھ پیدا ہوا۔ یہ مغربی تہذیب بیک وقت دو عناصر کے ساتھ مسلم دنیا میں داخل ہوئی۔ نو آبادیاتی سیاست، اور جدید عقلی افکار ۔ اس کے مقابلے میں مسلم رہنماؤں نے جو کچھ کیا ، وہ زیادہ تر پُر جوش ردّ عمل کی صورت میں تھا۔ ایک طبقے نے اس کو سادہ طور پر جہاد ( به معنی قتال ) کا مسئلہ سمجھا اور مسلّح جہاد کے ذریعے اس کو ختم کرنا چاہا۔ یہ مسلّح جہاد بے شمار قربانیوں کے باوجود یک طرفہ نقصان کی صورت میں ظاہر ہوا۔ تا ہم اس بحث میں ہمیں سیاسی رد ّعمل یا مسلّح جہاد کا جائزہ نہیں لینا ہے، بلکہ صرف فکری رد عمل کا جائزہ لینا ہے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ مسلم رہنماؤں نے اس مسئلے کے مقابلے میں صرف یہ کافی سمجھا کہ وہ مسلمانوں کو پُر جوش تقریروں اور تحریروں کے ذریعے دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کریں۔ اس ذہن کی نمائندگی کرتے ہوئے اقبال نے کہا تھا :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

نوا را تلخ تر می زن چو ذوق نغمہ کم یابی حُدی را تیز تر می خواں، چو محمل را گراں بینی!

موجودہ زمانے کے تمام مسلم رہنماؤں نے یہی انداز اختیار کیا۔ مثلاً مولانا ابوالکلام آزاد نے مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا: ”ستارے ڈوب گئے تو کیا ہوا ۔ سورج تو چمک رہا ہے اس سے کرنیں مانگ لو اور ان اندھیری راہوں میں بچھا دو جہاں اُجالوں کی سخت ضرورت ہے۔ مولانا آزاد کے ان پرُ شور الفاظ میں جوشِ خطابت تو ضرور ہے، مگر اس میں کوئی رہنمائی نہیں۔ اسی لیے مسلمانوں کو اس سے اپنے مستقبل کی تعمیر کے لیے کوئی سمتِ سفر نہیں ملی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

لکھنؤ کے ایک مشہور مسلم ادارے سے ایک عربی ماہ نامہ نکلتا ہے، جس کا نام البعث الاسلامي ہے۔ اس کے ٹائٹل پر ہمیشہ یہ الفاظ لکھے ہوئے ہوتے ہیں : شِعَارُنَا الْوَحِيد إلَى الْإِسْلَامِ مِنْ جَدِيد . ہمارا واحد ماٹو یہ ہے کہ از سر نو اسلام کی طرف لوٹا جائے ) اس ماہ نامے میں اور اس طرح کے دوسرے اخباروں اور ماہ ناموں میں اسی طرح کے پُر جوش الفاظ چھپتے رہتے ہیں، مگر ان میں دور ِجدیدکی نسبت سے مسلمانوں کے لیے کوئی ذہنی غذا موجود نہیں ہوتی ۔ ایک عرب ملک کے عربی روزنامے میں میں نے دیکھا کہ ایک بڑے مسلم لیڈر کی تقریر چھپی ہوئی ہے۔ اس تقریر میں انھوں نے پُر جوش طور پر کہا تھا :

unverifiedAttribution could not be verified automatically

الْإِسْلَام قَدْرُ الْبَشَرِيَّةِ . (اسلام انسانيت کی تقدیر ہے ):

Islam is the destiny of mankind.

یہ الفاظ بظاہر نہایت شان دار معلوم ہوتے ہیں، لیکن پوری تقریر سے آج کا انسان یہ معلوم نہیں کر سکتا کہ اسلام کی وہ کون سی خصوصیت ہے جس کی بنا پر اس کو تقدیر انسانی کا درجہ ملا ہوا ہے۔ پوری تقریر مدعیا نہ جوش کے انداز میں تھی نہ کہ علمی دلائل کے انداز میں۔

پاکستان کے سابق صدر جنرل محمد ضیاء الحق اپنے زمانۂ صدارت میں نیو یارک گئے ۔ وہاں انھوں نے یکم اکتوبر 1980 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک تقریر کی ۔ اس تقریر میں انھوں نے کہاکہ مسلمانوں نے دوبارہ اسلام میں اپنا فخر دریافت کر لیا ہے:

Muslims have rediscovered their pride in Islam.

موجودہ زمانے میں جب مغربی علوم مسلم دنیا میں آئے تو اُس وقت مسلم رہنماؤں نے یہ سمجھا کہ اصل ضرورت صرف یہ ہے کہ ایسے افراد پیدا کیے جائیں جو قدیم موضوعات کی تعلیم کے ساتھ جدید موضوعات کی تعلیم بھی حاصل کریں ۔ گویا کہ وہ ایک طرف دینی مدرسے سے وہاں کی سند لیں اور اسی کے ساتھ سیکولر تعلیمی اداروں سے بی اے اور ایم اے کی ڈگری حاصل کر لیں ، مگر یہ اصل صورت حال کا نہایت کم تر اندازہ تھا۔

اس معاملے کا گہرائی کے ساتھ جائزہ لیجیے تو معلوم ہوگا کہ جدید ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہمیں جس قسم کے افراد کی ضرورت ہے، وہ سادہ طور پر

سند یافتہ یا ڈگری یافتہ عالم نہیں ہیں، بلکہ وہ تخلیقی (creative) عالم ہیں۔ ہمیں مفکر کی ضرورت ہے نہ کہ سادہ طور پر صرف عالم کی ۔ سند یافتہ عالم یا ڈگری یافتہ مسٹر اس ضرورت کو پورا کرنے کا سرے سے اہل ہی نہیں جو آج ہم کو در پیش ہے۔

مروّجہ اصولِ تعلیم کے مطابق ، یہ ہوتا ہے کہ مدرسوں میں کلاسکل کتابیں پڑھائی جاتی ہیں۔ اس طرح یونیورسٹیوں میں بھی جو نصاب پڑھایا جاتا ہے، وہ کلاسکل کتابوں کے اوپر مبنی ہوتا ہے ۔ گویا کہ مدرسہ اور یونیورسٹی دونوں میں علوم ماضی پڑھائے جاتے ہیں۔ تخلیقی معنوں میں علوم جدید دونوں میں سے کہیں نہیں پڑھائے جاتے ہیں۔ اس معاملے کی وضاحت کے لیے یہاں دو مثالیں نقل کی جاتی ہیں ۔

حدیث کی تمام کتابوں میں صحیح البخاری سب سے زیادہ مستند کتاب مانی جاتی ہے۔ اس کی تشریح میں ابن حجر العسقلانی نے فتح البارى بشرح صحيح البخاری لکھی ہے جو تیرہ جلدوں پر مشتمل ہے ۔ فتح الباری اتنی جامع کتاب ہے کہ اس کو حدیث کا انسائکلو پیڈیا کہا جاتا ہے۔

صحیح البخاری میں کتاب الجنائز کے تحت ایک روایت آئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے ایک راستے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اُس وقت وہاں سے ایک جنازہ گذرا۔ کچھ لوگ ایک جنازے کو اٹھا کر قبرستان کی طرف لے جارہے تھے۔ روایت کے مطابق، یہ ایک یہودی عالم (حبر من اليهود ) کا جنازہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس جنازے کو دیکھ کر اس کے احترام میں کھڑے ہو گئے ۔ حاضرین میں سے کسی نے کہا کہ اے خدا کے رسول، یہ تو ایک یہودی کا جنازہ تھا۔ آپ نے فرمایا : أليست نفساً ( کیا وہ انسان نہیں )(فتح البارى بشرح صحيح البخاری ، جلد 3، صفحہ 214)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

صحیح البخاری تمام مدارس میں پڑھائی جاتی ہے۔ یہ حدیث واضح طور پر احترام انسانیت کی حدیث ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ مذہب وملّت کے فرق کے بغیر ہر انسان کا یکساں طور پر احترام کیا جائے ۔ اس واضح تعلیم کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ مساجد اور مدارس میں انسانیت کے اس عمومی احترام کا کوئی تصور نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ تبلیغی جماعت مسلمانوں کی سب سے بڑی دینی جماعت ہے۔ اس جماعت کے بانی اور رہنما سب کے سب علماء کے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن اس جماعت کے اصول میں " اکرام مسلم" تو ہے، لیکن "اکرام انسان" کا ذکر بطور اصول اس میں موجود نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

احترام انسان کی اس واضح تعلیم کے باوجود ہمارے مدارس اور مساجد میں کیوں ایسا ہے کہ اس کا ماحول ہمارے مدارس اور مساجد میں موجود نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ احترام انسان کی مذکورہ حدیث کو ہمارے فارغین مدارس جن کتب شرح کے ذریعے پڑھتے ہیں ، اُن کتابوں میں حدیث کا یہ مفہوم سرے سے موجود ہی نہیں ۔ فتح الباری نہایت مستند شرح سمجھی جاتی ہے، لیکن آپ اس حدیث کی شرح فتح الباری میں پڑھیں تو آپ دیکھیں گے کہ فتح الباری میں اس حدیث کی دس سے زیادہ تاویلیں موجود ہیں، لیکن اس میں وہی تاویل موجود نہیں جو حدیث کا اصل مقصود ہے، یعنی احترام انسانیت۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

یہ تمام شرحیں اس مفروضے پر قائم ہیں کہ غیر مسلم کا احترام مسلمانوں کے لیے کوئی مطلوب چیز نہیں، مسلمانوں کو مسلمانوں کا احترام کرنا ہے نہ کہ

غیر مسلموں کا ۔ فتح الباری میں اس حدیث کی شرح کے تحت بہت سے علماء کی رائیں نقل کی گئی ہیں۔ ان تمام رایوں میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ رسول اللہ یہودی کے جنازے کے احترام میں نہیں اٹھے، بلکہ آپ کے اٹھنے کا سبب کچھ اور تھا۔

مثلاکسی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرشتوں کے احترام میں اٹھے جو جنازے کے ساتھ چل رہے تھے ( إنما قمنا للملائكة ) ، کسی نے کہا کہ جنازے کے بخور ( دھونی ) کی بوسے آپ کو اذیّت پہنچی ، اس لیے آپ کھڑے ہو گئے ( فاذاه ریح بخورها ) ، کسی نے کہا کہ جنازہ آپ کے سر کے اوپر سے گزر رہا تھا ۔ آپ نے اس کو پسند نہیں کیا ، اس لیے آپ کھڑے ہو گئے ( كراهية أن تعلو رأسه ) کسی نے کہا کہ آپ نے شروع میں ایسا کیا تھا اور بعد میں آپ نے اس کو ترک کر دیا ، اس لیے اب یہ طریقہ منسوخ ہے ( أنه ترك بعد فعله، فالأمر بالقيام منسوخ ) ، کسی نے کہا کہ آپ نے ایسا صرف بیان جواز کے لیے کیا تھا ( کان قعوده لبيان الجواز ) ، وغيره –

opposing viewA view stated in order to be argued against

صحیح البخاری میں کوئی شخص اس حدیث کو پڑھے تو وہ اس سے یہ اخذ کرے گا کہ اسلام میں انسان کے احترام کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ احترام انسان اسلام کا ایک اعلیٰ اصول ہے ۔ لیکن جب آپ اس حدیث کو شارحین حدیث کی کہی ہوئی باتوں کی روشنی میں دیکھیں تو یہ تاثر بالکل بدل جائے گا۔ اس حدیث میں آپ کو احترام انسانیت کا کوئی سبق نہیں ملے گا۔ پچھلی صدیوں میں عملاً یہی پیش آیا۔ ہمارے مدارس سے لاکھوں لوگ صحیح البخاری پڑھ کر نکلے، مگر میرے علم کے مطابق کسی نےاس حدیث کو احترام انسانیت کی تعلیم کے طور پر نمایاں نہیں کیا۔ حالاں کہ دور ِجدید کی نسبت سے یہ حدیث بے حد اہمیت رکھتی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دور جدید میں تمام انسانوں کا یکساں احترام ان کے مطلق حق کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ حدیث دور ِجدید کے انسانوں کے لیے بہت زیادہ اہم ہے، مگر مدرسوں میں کلاسکل لٹریچر کو پڑھ کر جو لوگ نکلتے ہیں ، وہ صرف تقلیدی ذہن کے حامل ہوتے ہیں، وہ تخلیقی فکر (creative thinking) سے عملاً پوری طرح خالی ہوتے ہیں ۔ اس بنا پر ایسا ہوا کہ قدیم کتابوں میں اس حدیث کی شرح میں جو کچھ لکھ دیا گیا تھا ، اس کو انھوں نے آخری سمجھ لیا۔ اور تخلیقی غور و فکر کےذریعے حدیث کے غیر روایتی معنی کو دریافت کرنے میں وہ ناکام رہے۔

اب یونیورسٹی ایجو کیشن کی ایک مثال لیجیے۔ موجودہ زمانے کی تمام یونیورسٹیوں میں ارتقاء حیات کے نظریے کو بطور نصاب پڑھایا جاتا ہے، جس کو عام طور پر ڈراون ازم (darwinism) کہا جاتا ہے۔ وہ تمام لوگ جو یو نیورسٹیوں سے پڑھ کر نکلتے ہیں، وہ ڈارون کے نظریہ ارتقاء کو اس طرح مانتے ہیں جیسے کہ وہ کوئی ثابت شدہ حقیقت ہو۔ ان کا یہ عقیدہ اس لیے بنتا ہے کہ یونیورسٹی نصاب کے تحت ، وہ جن کتابوں کو پڑھتے ہیں ان میں ایسا ہی لکھا ہوا ہے اور اس کی تقلید میں ان کا پروفیسر اس موضوع کو اسی طرح پڑھاتا ہے۔ حالاں کہ یونیورسٹی نصاب کے باہر ایسی بہت سی کتابیں لکھیں گئی ہیں اور چھپ کر شائع ہو چکی ہیں، جن میں اس نظریے کو سر تا سر بے بنیاد ثابت کیا گیا ہے، مثلاً لُون (Luun) کی کتاب روولٹ اگینسٹ ریزن (Revolt Against Reason)، وغیرہ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

نظریہ ارتقاء کو میں نے تفصیل کے ساتھ پڑھا ہے۔ میرے مطالعے کے مطابق ، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ انواع حیات کے جسمانی ڈھانچے میں مشابہت (similarity) پائی جاتی ہے۔ مثلا بلّی اور شیر کا ڈھانچہ ایک دوسرے کے مشابہہ ہے۔ بکری اور زرافہ کا ڈھانچہ ایک دوسرے سے مشابہہ ہے ۔ بندر اور انسان کا ڈھانچہ ایک دوسرے سے مشابہہ ہے۔ اس ظاہری مشابہت کی بنا پر یہ سمجھ لیا گیا کہ مختلف انواع کے درمیان ایک ارتقائی رشتہ ہے، یعنی بلّی میں عضویاتی ارتقا ہوتارہا، یہاں تک کہ وہ شیر بن گئی۔ بکری میں عضویاتی ارتقاء ہوتا رہا، یہاں تک کہ وہ زرافہ بن گئی۔ بندر میں عضویاتی ارتقاء ہوتا رہا، یہاں تک کہ وہ انسان بن گیا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

یہ ایک بے بنیاد دعویٰ ہے۔ مشاہدے کے ذریعہ جو چیز دریافت ہوئی تھی ، وہ صرف مشابہت انواع ہے، لیکن بے بنیاد قیاس کے تحت یہ فرض کر لیا گیا کہ مشابہت انواع در اصل ارتقاء انواع کو بتارہاہے۔ حالاں کہ اس قسم کا قیاس سرتا سر بے اصل ہے۔

اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے ایک صاحب نے کہا کہ آپ خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے استنباط (inference) کو منطقی طور پر درست سمجھتے ہیں ۔ اصحاب ارتقاء بھی اسی استنباط کے ذریعے اپنے نظریے کو ثابت کرتے ہیں ، پھر کیوں آپ اس کو نہیں مانتے۔ میں نے کہا کہ یہ ایک مغالطے کی بات ہے۔ اس لیے کہ خدا کے وجود کو ثابت کرنے کا معاملہ یہ ہے کہ اس میں ایک ثابت شدہ واقعے کی توجیہہ کے لیے استنباط کو استعمال کیا جاتا ہے ۔ مثلاً یہ کہنا کہ :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Where there is a design there is a designer.

اس کے برعکس نظریہ ارتقاء کا معاملہ یہ ہے کہ اس میں ایک غیر ثابت شدہ واقعے کی توجیہہ کے لیے استنباط کے طریقے کو استعمال کیا گیا ہے، یعنی مختلف انواع کے درمیان ارتقائی عمل خود غیر ثابت شدہ ہے ، مگر اس غیر ثابت شدہ عمل کو لے کر وہ حیاتیاتی فلسفہ بنا لیا گیا جس کو ڈارون ازم کہا جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جدید دور میں ہمیں صرف عالم کی ضرورت نہیں، بلکہ عالم مفکر کی ضرورت ہے۔ صرف عالم دورجدید میں اسلام کی نمائندگی نہیں کر سکتا۔

مثال کے طور پر موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے لیے جو سب سے بڑا مسئلہ پیدا ہوا، وہ یہ تھا کہ مغربی قوموں نے مسلمانوں کے ہزار سالہ سیاسی دبدبے کو ختم کر دیا۔ یہ مسلمانوں کے لیے ایک نیا مسئلہ تھا۔ اس کو سمجھنے کہ لیے نہ مدرسی تعلیم کافی تھی اور نہ یونیورسٹی کی تعلیم ۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ۔ تخلیقی فکر در کارتھی ۔ چوں کہ دونوں طرف کے اصحاب علم میں تخلیقی فکر مفقود تھی ، اس لیے اس معاملے میں کوئی بھی شخص مسلمانوں کو صحیح رہنمائی نہ دے سکا۔

حقیقت یہ ہے کہ دور جدید میں مسلمانوں کے سیاسی غلبے کا ختم ہونا، ایک اضافی چیز تھی۔ اس سے زیادہ بڑی بات یہ تھی کہ جدید انقلاب نے ساری دنیا میں سائنسی دور پیدا کر دیا۔ تاریخ میں یہ جو تبدیلی پیش آئی ، وہ عین اسلام کے حق میں تھی ۔ جدید سائنسی دور اسلام کا معاون دور تھا نہ کہ کوئی رقیبانه دور۔

اس معاملے کو میں نے تفصیل کے ساتھ اپنی کتابوں میں لکھا ہے۔ خلاصہ یہ کہ رسول اور اصحاب رسول کے ذریعے دنیا میں جو انقلاب آیا، اُس انقلاب نے تاریخ میں ایک نیا پر اسس جاری کیا۔ اسی پر اسس کا ایک نتیجہ یہ تھا کہ دنیا میں سائنسی دور پیدا ہوا، یعنی فطرت کا مطالعہ کر کے فطرت کے ان قوانین کو دریافت کرنا جن کو قرآن میں آیات ِآفاق اور آیاتِ انفس (حٰم السجدہ : 53) کہا گیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس انقلاب کا ایک بے حد اہم پہلو یہ تھا کہ اس نے تاریخ میں پہلی بار دلیل کو تلوار کا قائم مقام بنا دیا۔ پہلے زمانے میں اسلامی دعوت کا کام تلوار کا مقابلہ کر کے کرنا پڑتا تھا ، اب یہ ممکن ہو گیا کہ کسی بھی قسم کے تشدّد کے بغیر صرف دلیل کی طاقت سے اسلامی دعوت کا فریضہ ادا کیا جائے۔

یہ ایک عالمی اصول ہے کہ ہر تہذیب کے دو حصے ہوتے ہیں۔ اس طرح مغربی تہذیب کے بھی دو حصے ہیں ۔ ان میں سے ایک حصے کو سائنس اور دوسرے حصے کو کلچر کہا جاسکتا ہے۔ سائنس، انسانی فلسفوں میں سے ایک فلسفہ نہیں ہے۔ سائنس تمام تر قوانین فطرت کی دریافت کا نام ہے۔ یہ فطرت کے قوانین براہ راست خدا کے قائم کیے ہوئے ہیں۔ یہ قوانین نہ مغربی ہیں اور نہ مشرقی ۔ وہ نہ مغربی ہیں اور نہ سیکولر ۔ وہ خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق ، براہ راست خدا کے حکم سے ہماری دنیا میں قائم ہیں۔ ان قوانین کو سائنس نے لمبی کوشش کے بعد دریافت کیا اور اس کو ایک علم کی صورت میں مدون کیا۔

یہ سائنسی علم اہلِ اسلام کے لیے اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ غیر اہل اسلام کے لیے۔ یہ علم یکساں طور پر ہر ایک کے لیے مفید اور قابلِ قبول ہے۔ اس سائنسی علم کا ایک پہلو وہ ہے جس کو ٹکنا لوجی کہا جاتا ہے۔ ٹکنالوجی کے ذریعے مشین اور دوسری مادی چیزیں بنتی ہیں۔ یہ چیزیں انسانی تمدن کے لیےکارآمد ہیں ، جیسے کار ، ہوائی جہاز اور ٹیلی فون ، وغیرہ۔

سائنسی علم کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو نظریاتی سائنس کہا جاتا ہے۔ مثلا شمسی نظام کا علم ، زمین کی گردش کا علم ، بارش اور نباتات کا علم ، وغیرہ۔ یہ دوسرا علم عین وہی چیز ہے جس کو قرآن میں آیات آفاق و انفس کہا گیا ہے۔ اس علم کو قرآن میں آیات الہیہ کا نام دیا گیا ہے۔ کیوں کہ وہ ہمارے اعتقادات کوعلمی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حقیقت یہ ہے کہ یہ سائنسی علم دور جدید کا علم کلام ہے۔ اس سائنسی علم نے تاریخ میں پہلی بار ایسا کیا ہے کہ عقلی دلیل واحد فیصلہ کن چیز بن گئی ہے۔ اس کی وجہ سے اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ دینِ توحید کی صداقت کو کسی بھی تشدّد کے بغیر صرف نظریاتی دلائل کے ذریعے ایک ایسی ثابت شدہ چیز بنا دیاجائے جس کو ماننے کے لیے انسان کی عقل مجبور ہو۔

مغربی تہذیب کا دوسرا حصہ اس کا کلچر ہے ۔ یہ کلچر اہلِ مغرب کی قومی چیز ہے۔ سائنسی علم سے اس کا براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے۔ مثلاً مغربی قوموں میں موجودہ زمانے میں اباحیت پسندی اور عریانیت پیدا ہوئی ہے، مگر اس اباحیت اور عریانیت کا سائنس سے کوئی تعلق نہیں ۔ وہ مغربی قوموں کی اپنی پیداوار ہے۔ تاریخ کے قدیم زمانے میں بھی اس قسم کی اباحیت کا ثبوت ملتا ہے۔ مثلاً قوم لوط میں اباحیت ایسے انتہائی درجے تک پہنچ گئی تھی کہ خدا نے ان کو آسمانی عذاب کے ذریعے ہلاک کر دیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مغربی قوموں میں جو بے قید آزادی پیدا ہوئی اس کی ذمے داری بھی براہ راست یا بالواسطہ طور پر خود مسلم رہنماؤں پر عائد ہوتی ہے۔ مغربی سائنس فطرت پر عقلی غور و فکر کے ذریعے پیدا ہوئی ۔ اس بنا پر جب سائنس کا عروج ہوا تو اس کے ساتھ عقلی غور و فکر کا بھی عروج ہو گیا ۔ اب فطری طور پر ایساہوا کہ موجودہ زمانے کے اہل علم مذہب کو بھی عقلی معیاروں پر جانچنے لگے۔

اب ضرورت تھی کہ مسلم رہنما اسلام کی تعلیمات کو ایسے عقلی اور سائنسی دلائل کے ذریعے پیش کریں جو آج کے انسان کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے والا ہو، مگر مسلم رہنماؤں کا حال یہ ہوا کہ وہ مغربی سائنس اور مغربی کلچر کے درمیان فرق کو سمجھنے سے عاجز رہے اور انھوں نے مغربی تہذیب کو اسلام دشمن سمجھ کر اس کی مخالفت شروع کر دی۔ وہ اسلام کو عقلی دلائل پر پیش کرنے کے بجائے جدید نسل کے لوگوں کو مُلحد اور مرتَد قرار دے کر ان کے خلاف فتوے کی زبان بولنے لگے۔ حالاں کہ یہاں فتوی ایکٹوزم نہیں بلکہ سائنسی ایکٹوزم کی ضرورت تھی ۔

مسلم رہنماؤں کی یہی وہ بھیا نک غلطی ہے جس نے سارے مسائل پیدا کیے۔ اس غلطی کا یہ نتیجہ تھا کہ سائنسی انقلاب جو دین حق کی تائید کے طور پر آیا تھا۔ وہ دینِ حق کا رقیب اور حریف بن کر رہ گیا۔ اور یہ سب کچھ صرف اس لیے ہوا کہ موجودہ زمانے میں سند یافتہ علماء اور ڈگری یافتہ رہنما تو بہت پیدا ہوئے لیکن ہمارے ادارے کوئی تخلیقی مفکر پیدا نہ کر سکے۔

راقم الحروف نے خدا کے فضل سے اس میدان میں ذاتی محنت کے ذریعے اتنا زیادہ کام کیاہے جو وقت کی اس کمی کو بھر پور طور پر پورا کر سکتا تھا لیکن ‌بَدَأَ ‌الْإِسْلَام ‌غَرِيبا وَسَيَعُودُ كَمَا بَدَأَ(صحیح مسلم ،۱۴۵) کے مطابق ، ایسا ہوا کہ روایتی ذہن کی بنا پر لوگ اس کی اہمیت کو سمجھنے سے عاجز رہے اور اس کے جواب میں انھوں نے انتہائی نادانی کے ساتھ منفی ردّ عمل کا ثبوت دیا۔ یہ تاریخ جدید کا ایک پر اسس تھا۔ ان حضرات پر فرض تھا کہ وہ اس پر اسس کا حصہ بنیں لیکن انھوں نے اس پر اسس کا حصہ بننے کے بجائےاس کی مخالفت کو بے بنیا د طور پر اپنی ذمے داری سمجھ لیا ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ تمام لوگ جس جدید علمی اور فکری ضرورت کا تقاضا کر رہے تھے ، عملاً وہ چیز ظاہر ہوئی لیکن عجیب بات ہے کہ یہ لوگ اس کے مقابلے میںوَلَا تَكُونُوٓاْ ‌أَوَّلَ كَافِرِۭ بِهِۦ[البقرة: 41]  كا مصداق بن کر رہ گئے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تراجم تذكير القرآن

تذکیر القرآن کے ہندی اور انگریزی ترجموں کے بعد اب دیگر مقامی زبانوں تلگو، تامل ، آسامی، گجراتی، مراٹھی، پنجابی، بنگالی، اڑیا، کنڑ، نیز مختلف عالمی زبانوں جرمن، فرنچ ، اسپینش ، روسی، جاپانی اور چینی، وغیرہ میں اُس کا ترجمہ اور اشاعت مطلوب ہے۔ جو حضرات تذکیر القرآن کے ترجمہ اور کمپوزنگ اور اشاعت کا دعوتی کام کرنا چاہتے ہوں، وہ ادارے کو اپنا مخلصانہ تعاون دیں ، اور اپنے مکمل پتے سے آگاہ فرمائیں۔ اس سلسلے کے تمام اخراجات ادارے کے ذمے ہوں گے۔

تفریق کیا ہے

قرآن کی سورہ نمبر 3 میں اہلِ ایمان کو خطاب کرتے ہوئے ایک اہم اجتماعی تعلیم دی گئی ہے،اس آیت کا ترجمہ یہ ہے:

Qur'anQuotes the Qur'an

اور تم لوگ اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو، اور متفرق نہ ہو جاؤ ( آل عمران: 103)

Qur'anQuotes the Qur'an

مفسرین نے اس آیت کی تفسیر کے تحت اُس حدیث کو نقل کیا ہے جس میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پچھلی امتیں بہتر فرقوں میں بٹ گئیں اور تم لوگ تہتّر فرقوں میں بٹو گے۔ ان میں ہر جماعت گمراہ ہو گی، سوا اُس جماعت کے جو رسول اور اصحاب رسول کے طریقے پر ہو ( مَا ‌أَنَا ‌عَلَيْهِ ‌وَأَصْحَابِي ، الترمذي، 2641)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

صحیح مسلم میں یہ روایت آئی ہے کہ خدا قیل و قال اور کثرت سوال کو سخت نا پسند کرتا ہے۔ (القرطبی، جلد 4، صفحہ 164) اس حدیث میں کثرت سوال سے مراد یہ ہے کہ آدمی نصوص میں خوض کر کے نئے نئے نکتے نکالے اور ان نکتوں کی بنیاد پر نصوص کی خود ساختہ تعبیر کرنے لگے ۔ ان خود ساختہ تعبیرات پر اصرار کرنے ہی کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ امت متفرّق گروہوں میں بٹ جاتی ہے، اور ہر گروہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ وہی حق پر ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اصل یہ ہے کہ ایک چیز ہے دین کی معلومات، اور دوسری چیز ہے حکمت اور بصیرت (wisdom) - معلومات نصوص کے مطالعے سے حاصل ہوتی ہیں، لیکن وہ چیز جس کو حکمت اور بصیرت کہا جاتا ہے اس کا ذریعہ صرف ایک چیز ہے، اور وہ ہے خدا کا خوف ۔ اس بات کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ ‌وَيُعَلِّمُكُمُ ٱللَّهُۗ[البقرة: 282]اس بات کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : رَأْسُ ‌الْحِكْمَةِ ‌مَخَافَةُ ‌اللَّهِ (البيهقي ، 742) حکمت کا سرا اللہ کا خوف ہے۔ دین سےسادہ فہم کے لیے معلوماتی علم کافی ہے، لیکن دین کی تشریح وتعبیر گہری بصیت کے بغیر ممکن نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس معاملے پر زیادہ گہرائی کے ساتھ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ تفرق فی الدین عوام کا فتنہ نہیں،اصلا یہ خواص کا فتنہ ہے۔ ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص جو ذہین تو ہولیکن خوف خدا والی بصیرت اس کے اندرموجود نہ ہو، وہ قرآن اور حدیث کو پڑھ کر ایک غیر ضروری نکتہ نکالتا ہے۔ اس نکتے کی کاٹ کے لیے اس کے اندر گہری بصیرت موجود نہیں ہوتی ، اس لیے وہ نکتے کو درست سمجھ کر اس کا پر چار شروع کر دیتا ہے۔دھیرے دھیرے کچھ اور سادہ لوح افراد اس کے گرد اکھٹا ہو جاتے ہیں۔ اس طرح ایک فرقہ وجود میں آجاتا ہے۔ چند نسلوں کے بعد فطری اسباب کے تحت، اس میں تعصّب کا عنصر شامل ہو جاتا ہے،یہاں پہنچ لوگ اس فرقے سے اس طرح جڑ جاتے ہیں کہ اُن کے لیے اُس سے جدائی ممکن نہیں ہوتی ،کیوں کہ دلیل کا جواب تو دلیل کے ذریعے دیا جا سکتا ہے، لیکن دلیل کے ذریعے تعصّب کی دیوار کو توڑانہیں جاسکتا۔ اس طرح ایک کے بعد ایک فرقے بنتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ ان کی تعداد ستر سےبھی زیادہ ہو جاتی ہے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

تفرق فی الدین کیا ہے۔ تفرق فی الدین در اصل تعبیر دین میں اختلاف کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ دین کی تعبیر، دین کی ایک فطری ضرورت ہے، لیکن تعبیر اور نکتہ آفرینی میں فرق ہے۔ حقیقی یا صحیح تعبیر وہ ہے جو علمی تجزیے میں پوری اُترے۔ جو نصوص دین کے مجموعی مطالعے سے درست ثابت ہو۔ جو " ما أنا عليه وأصحابی کا بدلے ہوئے حالات میں انطباق (application) کے ہم معنی ہو۔ جس سے مقتضیات دین میں کوئی تضاد واقع نہ ہوتا ہو۔

اس کے برعکس نکتہ آفرینی وہ ہے جو کچھ افراد کے ذاتی ذوق کو تسکین دیتی ہو، لیکن وسیع تر علمی تجزیے میں وہ اپنی صحت کو ثابت نہ کر سکے۔ مثال کے طور پر کچھ لوگ اسلام کا نشانہ یہ بتاتے ہیں کہ اس کا مقصد زمین پر حکومت الہیہ کا قیام ہے۔ اس نظریے کے ثبوت میں قرآن کی یہ آیت پیش کرتے ہیں:ﵟ‌إِنِ ‌ٱلۡحُكۡمُ إِلَّا لِلَّهِ ﵞ[يوسف: 40] مگر یہ حواله بداہتا درست نہیں ۔ آیت کے سیاق و سباق کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت فوق الفطری حکم کے معنی میں ہے نہ کہ سیاسی حکم کے معنی میں، جیسا کہ اس کے دعوے دار بتاتے ہیں۔ اس مثال سے نکتہ آفرینی اور حقیقی تشریح و تعبیر کے فرق کو سمجھاجاسکتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس معاملے کو اس طرح بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ حدیث کے الفاظ میں تشریح دین کی دو صورتیں ہیں۔ ایک اجتہاد صحیح اور دوسرے، تفسیر بالرائے ۔ اجتہاد صحیح وہ ہے جو تمام متعلق نصوص کے مطابق ہو۔ اُس سے شرعی احکام میں کوئی تضاد نہ پیدا ہوتا ہو۔ اس کے مقابلے میں تفسیر بالرائے وہ ہے جو ایک شخص کی ذاتی رائے ہو، لیکن جب اس کو متعلق نصوص پر رکھ کر جانچا جائے تو درست ثابت نہ ہو سکے۔ اس معاملے کی مزید وضاحت کے لیے چند مثالوں کو لیجیے۔

1- حدیث میں آیا ہے کہ : مَنْ ‌قَالَ ‌لا ‌إِلَهَ ‌إِلا ‌اللَّهُ ‌دَخَلَ ‌الْجَنَّةَ ( صحیح البخاری ) اس حدیث کو اور اس قسم کے دوسرے نصوص کو لے کر کچھ لوگوں کے دماغ میں آیا کہ جنت میں داخلے کے لیے صرف ایمان کافی ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے پاس معلومات تو تھیں، لیکن اُن کے اندر گہری بصیرت موجود نہ تھی ۔ چنانچہ انھوں نے اس حدیث کو لفظی معنوں میں لے کر یہ رائے بنائی کہ جنت کے حصول کے لیے صرف ایمان کافی ہے۔ اگر ان کے اندر گہری بصیرت ہوتی تو ان کی بصیرت ان کے لیے مہیمن بن جاتی اور وہ سمجھ لیتے کہ اس قسم کی رائے محض ایک بے بنیا د نکتہ ہے وہ کوئی حقیقی نظر یہ نہیں ، لیکن گہری بصیرت نہ ہونے کی وجہ سے اس نکتے کا بے اصل ہونا اُن کی سمجھ میں نہ آیا، وہ اپنے اس نکتے پر اصرار کرتے رہے، یہاں تک کہ اس کی بنیاد پر ایک نیا فرقہ وجود میں آگیا۔ اس فرقے کے لوگوں کی طرف اس قسم کے اقوال نقل کیے جاتے ہیں :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ليس لله عز وجل على خلقه فريضة سوى الإيمان به، فمن أمن به فليفعل ماشاء. الطاعة ليست من الإيمان (القرطبي، جلد 4، صفحه (162)

quoted sourceQuoted from another author or source

اس قسم کی بات کرنے والوں کے پاس اگر تقویٰ اور بصیرت کا سرمایہ ہوتا تو وہ اس معاملے پر غور کرتے ہوئے دوسرے نصوص کو بھی ضرور سامنے رکھتے اور پھر وہ پالیتے کہ جنت محض کسی قسم کے تلفظ لسانی کی بنا پر کسی کو نہیں ملے گی، بلکہ یہ سارا معاملہ تعمیر شخصیت کا معاملہ ہے۔ جنت دراصل اُس سعادت مند روح کے لیے ہے جو تزکیہ یافتہ شخصیت لے کر آخرت میں حاضر ہو وَذَٰلِكَ جَزَآءُ ‌مَن ‌تَزَكَّىٰ [طه: 76] اور جو شخص تزکیہ کے درجے میں اسلام کا حامل بن جائے اس کے لیے قول اور عمل میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ اس کا ایمان ایک ایسی معرفت پر کھڑا ہوتا ہے جو پوری انسانی شخصیت کے اندر انقلاب کےہم معنی بن جائے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

2- قرآن کی سورہ نمبر ۵ میں ارشاد ہوا ہے: وَمَن ‌لَّمۡ ‌يَحۡكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡكَٰفِرُونَ [المائدة: 44]  یعنی جو شخص اُس ( قانون ) کے مطابق ، فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے اتارا ہے تو وہی لوگ منکر ہیں ۔ اس آیت کو لے کر کچھ لوگوں نے یہ نظریہ بنایا کہ جو انسان خدا کے حکم اور اس کے نازل کردہ قانون کو چھوڑ کر اپنے یا دوسرے انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق فیصلہ کرتا ہے، وہ ایسا کر کے کافر ہو جاتا ہے۔ اس جماعت کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے : من حاکم إلى مخلوق فهو كافر (القرطبي، جلد 4، صفحہ 161)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس گروہ کی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے قرآن کی ایک آیت کو لیا اور دوسری متعلق آیتوں کو سامنے رکھے بغیر اس کا مفہوم متعین کرنے کی کوشش کی۔ قرآن کی دوسری آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی فعل کا غلط ہونا تعمّد قلب پر موقوف ہے ( البقرہ: 225 ۔ جس فعل میں آدمی کا قلبی ارادہ شامل نہ ہو وہ اس کے لیے ذمے دار نہیں ٹھہرایا جائے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

شرعی حکم کی کچھ شرطیں ہوتی ہیں، ان شرطوں کی موجودگی کے بغیر وہ حکم محقق نہیں ہوتا ۔ مثلاً ہر حکم کے ساتھ یہ لازمی شرط مجری ہوتی ہے کہ آدمی اس کی استطاعت رکھتا ہو

( اتقوا الله ما استطعتم،) 16) التغابن :اس اصول کو شریعت میں تکلیف بقدر وُسع (البقرہ: 286کہا گیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مثال کے طور پر ہندستان کے مسلمان اگر حکم شریعت کے مطابق، فیصلہ نہ کریں تو وہ مذکورہ آیت کا مصداق نہیں ٹھیریں گے۔ اس لیے کہ ہندستان میں مسلمانوں کو نفاذ شریعت کا اختیار حاصل نہیں ۔ ہندستان میں مسلمانوں کی ذمے داری ان کے دائرہ اختیار کے اعتبار سے متعین ہوگی نہ کہ فہرست احکام کے اعتبار ہے۔ چناں چہ ہندستان میں مسلمانوں کو جو کام کرنا ہے وہ دعوت الی اللہ ہےجس کا اس دور آزادی میں انھیں پورا اختیار حاصل ہے۔

اسی طرح پاکستان کے مسلمان بھی اگر شرعی احکام کا نفاذ نہ کریں تو اس بنا پر وہ کافر نہیں قرار پائیں گے۔ اس لیے کہ پاکستان کا معاشرہ ایک بگڑا ہوا معاشرہ ہے اور بگڑے ہوئے معاشرے میں اسلامی عمل کا آغاز احکام کے نفاذ سے نہیں ہوتا، بلکہ اس سے ہوتا ہے کہ غیر سیاسی سطح پر اصلاحی کوشش کے ذریعے معاشرے کے اندر احکام کی قبولیت کی استعداد پیدا کی جائے۔

3- اس طرح کچھ لوگوں نے قرآن اور حدیث میں جہاد کے احکام پڑھے۔ ان احکام کو پڑھ کر ان کے ذہن میں جہاد کی اہمیت کا ایک غلو آمیز تصور قائم ہوا۔ اس غلو آمیز تصور کی بنا پر انھوں نے جہاد کو فرض عین کا درجہ دے دیا۔ انھوں نے یہ نظریہ بنایا کہ جو شخص جہاد کو چھوڑ دے، خواہ وہ مرد ہو یاعورت ، تو وہ کافر ہو گیا:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

أن من ترك الجهاد من ذكر أو أنثى كفر ( القرطبی، جلد 4، صفحہ 161) جہاد کے بارے میں یہ نظریہ یقینی طور پر بے بنیاد ہے۔ یہ لوگ جہاد کو اسی طرح ابدی سمجھتے ہیں جس طرح نماز ایک ابدی حکم ہے، مگر جہاد کا معاملہ ایسا نہیں ۔ دیگر نصوص کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد ( بہ معنی قتال ) ایک مشروط حکم ہے، وہ کوئی مطلق حکم نہیں ۔ یعنی جہاد ( به معنی قتال ) دفاعی طور پر صرف اُس وقت کیا جائے گا جب کہ خارج سے با قاعدہ مسلح جارحیت کی گئی ہو۔ یہ دفاعی جہاد بھی منظم ریاست کا فریضہ ہے نہ کہ افراد یا غیر حکومتی ادارے کا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مزید یہ کہ جہاد ( به معنی قتال ) کا تعلق حالات سے ہے۔ یعنی جس وقت جہاد کا فعل کرنا ہو، اُس وقت کے حقیقی حالات کی نسبت سے دیکھا جائے گا کہ فریق ثانی کے مقابلے میں نتیجہ خیز جد و جہد کا طریقہ کیا ہے۔ مثال کے طور پر موجودہ زمانے میں قتال عملاً ایک نا ممکن چیز بن چکی ہے ۔ قتال اب کسی کے لیے بھی کوئی درست انتخاب نہیں ۔

جیسا کہ معلوم ہے، موجودہ زمانہ ایٹم بم کا زمانہ ہے۔ پہلے زمانے میں تلوار سے جنگ ہوتی تھی۔ تلوار کے ذریعے جنگ کا دائرہ بہت محدود ہوتا تھا، مگر موجودہ زمانے میں جدید ہتھیاروں کی تیاری نے جنگ کو عمومی تباہی (mass destruction) کا زمانہ بنادیا ہے ۔ ان ہتھیاروں کی فہرست میں ایٹم بم نمبر ایک کی حیثیت رکھتا ہے۔ موجودہ زمانے میں تقریباً تمام بڑے ملک یا تو ایٹم بم بنا چکے ہیں، یاانھوں نے ایٹم بم بنانے کی صلاحیت اپنے اندر پیدا کر لی ہے۔ اس سلسلے میں ایک تازہ سروے کی رپورٹ نئی دہلی کے انگریزی روز نامہ ٹائمس آف انڈیا (17 اکتوبر 2006) میں چھپی ہے۔ اس کی سرخی کے الفاظ یہ ہیں :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

40 more countries have skill to build the bomb.

اکتوبر 2006 میں نارتھ کوریا نے ایٹم بم کا تجربہ کیا۔ اس کے بعد تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ امریکا کی، نیوکلیر پرولفریشن (nuclear proliferation) کو روکنے کی پالیسی مکمل طور پر نا کام ہو چکی ہے۔ چنانچہ معلوم طور پر کم از کم چالیس ملکوں تک نیوکلیر ہتھیاروں کا پھیلاؤ پہنچ چکا ہے۔

ایسی حالت میں جہاد کے نام پر جنگ کی بات کرنا ، صرف تباہی کی بات کرنا ہے۔ اسلامی جہاد ایک مثبت فائدے کے لیے کیا جاتا ہے، لیکن جب جنگ عملاً صرف دو طرفہ تباہی کے ہم معنی بن چکی ہو تو جہاد (بہ معنی قتال) کا حکم بلاشبہہ بدل جائے گا ، جیسا کہ اسلامی شریعت کا مسلمہ ہے : تتغير الأحكام بتغير الزمان والمكان ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانے میں جنگ ایک غیر عملی چیز بن چکی ہے۔ اب جنگ کسی کے لیے بھی کوئی قابل انتخاب چیز نہیں۔ اسلام کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک ابدی مذہب ہے۔ اگر جہاد ( به معنی جنگ ) کو اسلام کا ابدی حصہ مانا جائے تو ایسا ماننا، خود اسلام کی ابدیت کو مشتبہ کر دے گا۔ میں نے واشنگٹن(امریکا) کے ایک سیمنار ( فروری 1998) میں اس موضوع پر بولتے ہوئے کہا تھا:

Islam claims to be an eternal religion, and an eternal religion cannot

afford, in its scheme, a principle which was not sustainable in the

later periods of human history.

حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ایسا کہتے ہیں کہ جہاد ( بہ معنی قتال ) شریعت کا ایک ابدی حکم ہے، جو مسلمان قتال نہ کرے وہ کافر ہو جائے گا۔ ایسا کہنے والے لوگ ، دوسرے الفاظ میں ، یہ کہہ رہے ہیں کہ موجودہ زمانے میں کسی مسلمان کے لیے اب صرف دو میں سے ایک کا انتخاب رہ گیا ہے۔ یا تو وہ جہاد بمعنی قتال ) کر کے اپنے آپ کو ہلاک کرلے، یا وہ جہاد کو چھوڑ کر کافر بن جائے۔

وہ گمراہی جس کو قرآن میں تفرّق کہا گیا ہے، وہ ہمیشہ اس طرح پیدا ہوتی ہے کہ ایک ذہین انسان ایک نص کو پڑھتا ہے، اس کو پڑھتے ہوئے اس کے ذہن میں ایک نکتہ یا شوشہ آجاتا ہے، وہ اس نکتے کو ایک بڑی چیز سمجھ کر اُسی میں جینے لگتا ہے ، وہ اس کے حق میں دلیلیں جمع کرتا ہے، اس کو لوگوں سے بیان کرتا ہے، اس طرح کچھ لوگ اس سے متاثر ہو جاتے ہیں، یہاں تک کہ دھیرے دھیرے اس کا ایک حلقہ بن جاتا ہے۔ پھر کچھ لوگ اُس سے متاثر ہو جاتے ہیں، یہاں تک کہ دھیرے دھیرے اس کا ایک حلقہ بن جاتا ہے۔ پھر یہ ہوتا ہے کہ وقت گزرنے کے بعد اس حلقے میں تعصّب کا عنصر شامل ہو جاتا ہے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو یہ گروہ ایک متعّصب فرقے کی حیثیت حاصل کر لیتا ہے۔ یہاں آکر اس کی گمراہی اپنے آخری درجے تک پہنچ جاتی ہے۔

اس فتنے سے بچنے کی تدبیر کیا ہے۔ اس کی تدبیر صرف یہ ہے کہ آدمی ذہن میں جب اس قسم کا کوئی نکتہ آئے تو وہ ہمیشہ ایسا کرے کہ اس کو اپنی ذاتی پسند کی بنا پر اختیار نہ کرلے، بلکہ وہ پوری سنجیدگی کے ساتھ اپنے خیال کو شرعی معیار پر جانچے ۔ اس شرعی معیار کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : مَا ‌أَنَا ‌عَلَيْهِ ‌وَأَصْحَابِي (الترمذی، 2641) اس شرعی معیار کو دوسرے لفظوں میں قرآن اور سنت بھی کہا جا سکتا ہے۔ یعنی وہ اپنے ذاتی نکتے کو انتہائی بے آمیز انداز میں قرآن اور سنت کے نصوص پر پر کھے ، وہ کھلے ذہن کے ساتھ اس پر ڈسکشن کرے، وہ اس کے لیے دعائیں کرے، وہ اس کے لیے استخارہ کرے۔ اس طرح کے لمبے تحقیقی مرحلے کے بعد جب اس کا ذہن مطمئن ہو جائے تو اُس وقت وہ اس کو لوگوں کے سامنے ایک نقطہ نظر کے طور پر بیان کرے۔ اس کے باوجود وہ ہمیشہ رجوع کے لیے تیار رہے، یعنی جب اس کے نقطہ نظر کے خلاف کوئی شرعی دلیل پیش کی جائے تو وہ تو بہ کرے ، یعنی اپنے نقطہ نظر کو چھوڑ دے۔ وہ ایسا نہ کرے کہ غیر متعلق الفاظ بول کر یہ ظاہر کرے کہ وہ حق پر ہے، اس نے حق سے انحراف نہیں کیا۔ یہاں میں اپنے ذاتی تجربے کے مطابق ، اس معاملے کی چند مثالیں درج کرتا ہوں ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

1- موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے لوگ تقریباً اتفاق کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے خلاف جو سنگین مسائل پیش آرہے ہیں، وہ دوسروں کی عداوت کی بنا پر پیش آ رہے ہیں۔ یہ لوگ متفقہ طور پر یہ کہتے ہیں کہ یہودیوں کی سازش، امریکیوں کی دشمنی اور ہندوؤں کا تعصّب ان مسائل کا اصل سبب ہے۔ راقم الحروف نے اپنی تقریروں اور تحریروں میں مسلسل طور پر یہ بتایا کہ یہ نظریہ سر تا سر ایک غیر قرآنی نظریہ ہے۔ قرآن میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ جو مصیبت بھی پیش آتی ہے وہ ان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے وَمَآ أَصَٰبَكُم مِّن ‌مُّصِيبَةٖ فَبِمَا كَسَبَتۡ أَيۡدِيكُمۡ[الشورى: 30]  اس موضوع پر میں نے قرآن اور حدیث کے دلائل کے ذریعے قطعی طور پر ثابت کیا کہ مسلم رہنماؤں کی سوچ غلط سوچ ہے، لیکن ان رہنماؤں نے رجوع اور اعتراف کا طریقہ اختیار نہیں کیا ، بلکہ انھوں نے خود میرے خلاف الزام تراشی شروع کر دی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

2 - اسی طرح مسلمانوں کے ایک گروہ نے یہ دعوی کیا کہ أَنۡ ‌أَقِيمُواْ ٱلدِّينَ[الشورى: 13]کی آیت مسلمانوں پر یہ فریضہ عائد کرتی ہے کہ وہ مکمل اسلامی نظام کو نافذ کریں اور اس مقصد کے لیے اقتدار پر قبضہ کریں۔ میں نے قرآن اور حدیث کے دلائل کے ذریعے ثابت کیا کہ یہ نقطۂ نظر بے بنیاد ہے، اس کے حق میں کوئی حقیقی دلیل موجود نہیں۔ یہاں بھی ان حضرات نے رجوع اور اعتراف کاطریقہ اختیار نہیں کیا، بلکہ وہ بے بنیا د طور پر میرے خلاف الزام تراشی کرنے لگے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

3- اسی طرح ایک گروہ ہے جو مسجد والے اعمال کو زندہ کرنے کی تحریک چلا رہا ہے لیکن وہ اپنی اس تحریک کو دعوت کا نام دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ہم دعوت کا کام کر رہے ہیں۔ میں نے قرآن کے واضح نصوص کے ذریعے ثابت کیا کہ دعوت اُس عمل کا نام ہے جو غیر مسلموں کے درمیان اسلام کا پیغام پہنچانے کے لیے کیا جائے۔ مسجد والے اعمال کو زندہ کرنے کی تحریک ایک اصلاحی کام ہے نہ کہ دعوتی کام ۔ یہاں بھی ان حضرات نے رجوع اور اعتراف کا طریقہ اختیار نہیں کیا، بلکہ غیر متعلق باتیں بول کر بے بنیا د طور وہ پر یہ ظاہر کرنے لگے کہ ان کا کام عین وہی کام ہے جس کو قرآن میں دعوت الی اللہ کہا گیا ہے۔

یہی وہ مزاج ہے جس کو قرآن میں تفرّق کہا گیا ہے اور جس سے فرقے وجود میں آتےہیں۔ اس گمراہی سے بچنے کی صورت صرف یہ ہے کہ آدمی یا تو اپنے آپ کو اجتہاد سے بچائے ، یا وہ اس کی قیمت اس طرح ادا کرے کہ وہ ہمیشہ رجوع اور اعتراف کے لیے تیار رہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ غلطی کوئی سادہ غلطی نہیں ہے، بلکہ وہ ایک سنگین غلطی ہے۔ یہ کہنا کہ یہ محض ایک لفظی فرق کا معاملہ ہے، غلطی پر سرکشی کا اضافہ ہے۔ اور یاد رکھنا چاہیے کہ غلطی پر سرکشی کا اضافہ غلطی کو جرم بنا دیتا ہے۔ غلطی قابل معافی ہے لیکن جرم قابل معافی نہیں ، الا یہ کہ آدمی تو بہ کرے اور کھلے طور پر اپنی غلطی کااعتراف کر کے حق کی طرف دوبارہ واپس چلا جائے۔

او پر ہم نے اس قسم کی تین مثالیں دی ہیں۔ ان میں سے پہلی مثال کو لیجئے ۔ اس مثال کا ایک عظیم نقصان یہ ہوا کہ مسلمان کے اندر غیر مسلم قوموں کے خلاف نفرت پیدا ہو گئی ۔ اس نفرت کا نتیجہ یہ ۔ ہوا کہ مسلمانوں کے لیے یہ قومیں مدعو نہ رہیں، بلکہ عملاً وہ ان کے لیے حریف اور رقیب بن گئیں۔ اور جب ایسا ہو کہ مدعو قوم داعی کو دشمن اور حریف دکھائی دینے لگے تو اس کا فطری نتیجہ یہ ہوگا کہ داعی کے دل میں اس قوم کے لیے دعوت کا جذبہ ختم ہو جائے گا۔ یہی وہ واحد سبب ہے جس کی بنا پر موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر کمیونٹی ورک تو بہت بڑے پیمانے پر پایا جاتا ہے، لیکن دعوہ ورک کا سرے سے وجود ہی نہیں ۔ حالاں کہ دعوہ ورک مسلمانوں کی ایک ایسی لازمی ذمے داری ہے جو کسی بھی حال میں ان سے ساقط نہیں ہوتی ۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوہ ورک کے بغیر مسلمانوں کا امت محمّدی ہونا ہی مشتبہ ہو جاتا ہے۔

اسی طرح دوسری مثال کو لیجیے، قرآن میں أَنۡ ‌أَقِيمُواْ ٱلدِّينَ[الشورى: 13] کی آیت اس معنی میں آئی ہے کہ ذاتی اختیار کے دائرے میں جو دینی فرائض ہیں، اُن کو ہر ہر فرد پوری طرح اپنی ذاتی زندگی میں اختیار کرے لیکن جب اس آیت کا مطلب یہ بتایا گیا کہ اسلامی حکومت قائم کرو اور شرعی قوانین کا نفاذ کرو تو لوگوں کے ذہن میں عمل کا نشانہ بدل گیا ۔ اُن کی نظر میں ذاتی طور پر مومن اور متّقی بننے سے زیادہ اہم بات یہ قرار پائی کہ وہ سیاسی جھنڈا اٹھائیں اور انقلاب کا نعرہ لگائیں ۔ اس طرح ” مکمل دین کی اقامت کے نام پر جزئی دین کی اقامت بھی حذف ہو کر رہ گئی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہی معاملہ مذکورہ تیسری مثال کا ہے۔ ان حضرات کا کام مثلاً اصلاح المسلمین کی نوعیت کا کام ہے، مگر وہ اس کو دعوت الی اللہ کا کام بتاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ اس تحریک میں نہ تو مسلمانوں کی اصلاح کے حقیقی تقاضے پورے ہوتے ہیں ، اور نہ غیر مسلموں کے درمیان دعوت الی اللہ کا کام انجام پاتا ہے۔

اس تحریک کے اصولوں کا مطالعہ کیجئے تو آپ پائیں گے کہ اُن کے اصولوں میں اکرام مسلم تو ہے، مگر اکرام انسان موجود نہیں۔ ان کے یہاں امت کا درد تو ہے، مگر انسانیت کا درد نہیں۔ اس تصور نے اس تحریک کو ایک محدود فرقہ بنا کر رکھ دیا۔

اس ذہن کا مزید نقصان یہ ہوا کہ غیر مسلموں کے درمیان دعوت کا کام کرنے کا ذہن بالکل ختم ہو گیا۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر ایک ایسے کام کو دعوتی کام سمجھنے لگے جو دعوتی کام نہ تھا۔ اس مزاج نے ان کے اندر یہ فرضی یقین پیدا کر دیا کہ وہ دعوت الی اللہ کا کام کر رہے ہیں، حالاں کہ وہ سرے سے

دعوت الی اللہ کا کام ہی نہ تھا۔ اس طرح دعوت کے نام پر اٹھنے والی یہ تحریک عملاً دعوت کی قاتل بن گئی۔ جب انھیں اس غلطی کی طرف توجہ دلائی گئی تو انھوں نے ایسا نہیں کیا کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کر کے اپنے ذہن کو درست کر لیں اور صحیح ذہن کے ساتھ اپنا کام کرنے لگیں۔

خصوصی رعایت !

طلبا اور اساتذہ کے لیے ماہ نامہ الرسالہ کا سالانہ زیر تعاون صرف 50 روپیے کر دیا گیا ہے۔ کالج اور یونیورسٹی کے طلبا بھی اس خصوصی اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔

موت کا مثبت تصور

وسیع خلا میں ان گنت ستارے اور سیّارے مسلسل گھوم رہے ہیں، لیکن ان کی رفتار اتنی کامل صحت کے ساتھ قائم ہے کہ ہزاروں سال گزرنے کے باوجود کبھی ان میں ادنیٰ فرق بھی نہیں ہوتا ۔ ہر روز کے اخبار میں منٹ اور سکنڈ کے تعین کے ساتھ یہ چھپتا ہے کہ آج کی صبح سورج کے طلوع کا وقت کیا ہے اور شام کو اس کے غروب کا ٹھیک وقت کیا۔ یہی حال تمام ستاروں اور سیاروں کا ہے۔ گویا کہ کا ئنات میں تنظیم اوقات (time management) معیاری صحت کی آخری حد پر ہے۔ جب کہ انسانی زندگی میں ایسا نہیں۔

اسی طرح مادی کا ئنات پوری کی پوری ایٹموں کا مجموعہ ہے۔ کائنات کا اصل مادی سورس ایٹم ہے۔ ایٹم کو بے شمار صورتوں میں ترتیب دے کر کائنات کی تمام چیزیں بنی ہیں، اور جیسا کہ مطالعہ بتاتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز آخری حد تک مکمل ہے۔ مثلاً گھاس اپنے فائنل ماڈل پر ہے۔ شمسی نظام اپنے فائنل ماڈل پر ہے، اسی طرح تمام چیزیں۔ گویا کہ کائنات سورس مینیج منٹ (source management)کا آخری کامل نمونہ ہے۔ جب کہ انسان کو اپنی زندگی میں یہ چیز حاصل نہیں ہوتی۔ اسی طرح کا ئنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس کے اندر بے شمار سرگرمیاں ہر لمحہ جاری رہتی ہیں لیکن یہ تمام سرگرمیاں پوری طرح نتیجہ خیز (result-oriented) صورت میں ہوتی ہیں۔ وسیع دنیا میں کوئی بھی سرگرمی بے نتیجہ نہیں حتی کہ کیڑے مکوڑے جو رات دن سر گرم عمل رہتے ہیں، وہ بھی انتہائی مفید کام انجام دینے میں مصروف ہیں ۔ جب کہ انسان کی زندگی میں اس قسم کی کامل درجے میں مفید سرگرمیاں موجود نہیں۔ اسی طرح کا ئنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں کی کوئی بھی چیز جمود کی حالت میں نہیں۔ ہر چیزمسلسل طور پر متحرک ہے۔ ایٹم کے اندر برقی ذرات کی غیر مر ئی گردش سے لے کر وسیع خلا میں ستاروں کی مسلسل گردش تک ہر چیز حالت ِحرکت میں ہے۔ اس کے باوجود کائنات کے کسی بھی حصے میں ٹکراؤ کا حادثہ پیش نہیں آتا۔ گویا کہ ہماری دنیا میں عالمی سطح پر بے مسئلہ کلچر (no problem culture) قائم ہے۔ جب کہ انسان کو اس قسم کی زندگی حاصل نہیں ۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اسی طرح کا ئنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں کی تمام چیزیں نفع بخشی کے اصول پر اپنا کام کرتی ہیں ۔ سورج سے نکلنے والی شعاعوں سے لے کر درختوں سے نکلنے والی آکسیجن تک تمام چیزیں دوسروں کے لیے یک طرفہ طور پر نفع بخش بنی ہوئی ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ کامل ہم آہنگی کے ساتھ اپنا فریضہ انجام دیتی ہیں ۔ گویا کہ موجودہ دنیا میں ہر طرف لینے کے بجائے دینے کا کلچر (giver culture) رائج ہے، مگر انسان کی دنیا میں اس قسم کا کلچر موجود نہیں۔

ایک فلسفی کا قول ہے کہ موجودہ دنیا میں ہر چیز حسین ہے، یہ صرف انسان ۔ ہے جو کہ حسین نہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا تجربہ ہر عورت اور مرد کو ہوتا ہے۔ سورج جب صبح کو طلوع ہوتا ہے اور شام کو جب وہ غروب ہوتا ہے تو وہ کسی آنکھ والے کے لیے ایک انتہائی حسین مشاہدہ ہوتا ہے۔ سرسبز درخت کو دیکھ کر آنکھ کو بے پناہ تازگی ملتی ہے۔ بہتے ہوئے دریا کے کنارے آپ کھڑے ہوں تو وہاں آپ کو ایک اتھاہ سرور کا تجربہ ہوتا ہے۔ پھول اور پھل، دریا اور پہاڑ حتیٰ کہ گھاس تک میں بھی آدمی کے لیےحسن ِمشاہدہ کی ایک کا ئنات نظر آتی ہے۔ مگر انسان کو خود اپنی زندگی میں یہی خوشی حاصل نہیں ہوتی۔ انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے معیار پسند (idealist) واقع ہوا ہے۔ اس کے اندر بے پناہ حد تک یہ تمنّا ہوتی ہے کہ وہ اپنے خوابوں کی معیاری دنیا پائے اور اس کے اندر ہمیشگی کی زندگی بسر کرے، مگر آدمی اپنی اس مطلوب دنیا کو نہیں پاتا اور محدود عمر گزار کر ایک ایسی دنیا میں مر جاتا ہے جہاں کی ہرچیز اس کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ یہاں معیاری دنیا کو پانا پوری طرح ممکن ہے۔ فلسفیوں کے نزدیک موت کے دو تصور ہیں۔ ایک نے منفی تصور ِموت (negative concept of death)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سائنس کا اصول ہے کہ جو تصور )positive concept of death( اور دوسرا ہے مثبت تصورِ موت حقائق سے زیادہ مطابقت رکھتا ہو، اس کو بطور واقعہ قبول کر لیا جائے گا اور جو تصور حقائق سے مطابقت نہ رکھتا ہو ، وہ تصور غیر واقعی سمجھ کر رد کر دیا جائے گا اس پہلو سے دیکھئے تو منفی تصور موت قابل رد قرار پاتاہے اور مثبت تصور موت قابل قبول ٹھیرتا ہے۔

کائنات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں ہر چیز اپنے امکان (potential) کو واقعہ (actual) بنا رہی ہے۔ مثلاً درخت کا بیج اپنے امکان کو آخری حد تک واقعہ بنانے میں کامیاب ہوتا ہے۔ ایٹم اپنے امکان کو آخری کامل حد تک واقعہ بنائے ہوئے ہے، وغیرہ۔ یہ صرف انسان ہے جو اتھاہ امکان لے کر پیدا ہوتا ہے، لیکن وہ اپنے امکانات کو تکمیل تک پہنچائے بغیر مر کر دفن ہو جاتا ہے۔ انسان کے مائنڈ میں سوملین، بلین ، بلین پار ٹکل ہیں۔ انسان کا مائنڈ اتھاہ امکانات کا خزانہ ہے، لیکن انسان اس امکان کو بمشکل چند فیصد استعمال کرتا ہے اور پھر موت اس کی زندگی کا خاتمہ کر دیتی ہے۔ موت کا مثبت تصور ہی موت کا حقیقی تصور ہے۔ کیوں کہ تمام متعلق حقائق (relevant data) اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ موت کے مثبت تصور کا مطلب یہ ہے کہ موت زندگی کا خاتمہ نہیں، بلکہ موت ابدی زندگی میں داخلے کا دروازہ ہے۔ موت کے بعد آدمی اس طویل تر مرحلہ حیات میں داخل ہو جاتا ہے جہاں وہ اپنے خوابوں کی دنیا کو پاسکے۔ جہاں اس کو یہ موقع ہو کہ وہ اپنی ہستی کے اتھاہ امکانات کو بروئے کار لا سکے۔

موت کے مثبت تصور کا پیغام یہ ہے کہ موت سے پہلے کے مختصر مرحلہ حیات میں اپنے اندر اس ربانی شخصیت کی تعمیر کرو جو موت کے بعد کے مرحلہ حیات میں تم کو تمھاری آرزوؤں کے مطابق ، ابدی طور پر خوشیوں اور راحتوں کی دنیا میں جینے کا مستحق بنائے۔

سہارن پور ( یوپی ) میں مولانا وحید الدین خاں کی عصری اسلوب میں فکر انگیز اسلامی کتابیں اور ماہنامہ الرسالہ حسب ذیل پتے پر دستیاب ہیں۔ یہاں سے دعوتی مقصد کے لیے کتابیں مفت بھی حاصل کی جاسکتی ہیں۔ پتہ درج ذیل ہے :

Dr. Mohd. Aslam

3/1108, Dehradun Chowk

Saharanpur-247001, U.P.

Mob. 9997153735

محاسبہ یا ڈی کنڈیشننگ

اسلام کی تعلیمات میں سے ایک بنیادی تعلیم وہ ہے جس کو محاسبہ (introspection) کہا جاتا ہے، یعنی اپنے آپ پر نظر ثانی کرنا، اپنے آپ کو خود سے جانچ کر اپنی اصلاح کرنا، اردو زبان میں اس عمل کو احتساب کہا جاتا ہے۔

محاسبہ کے بارے میں بہت سی روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں : حَاسِبُوا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُحَاسَبُوا، وَزِنُوا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُوزَنُوا، وَتَزَيَّنُوا ‌لِلْعَرْضِ ‌الْأَكْبَرِ (الترمذى، 2459کتاب القیامۃ ) یعنی اپنا حساب کر لو اس سے پہلے کہ تھا را حساب کیا جائے ، اپنےآپ کو تول لو اس سے پہلے کہ تم کو تو لا جائے ، اور بڑی پیشی کے لیے اپنے آپ کو تیار کر لو۔ اس حقیقت کو قرآن اور حدیث میں دوسرے الفاظ میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : أَكْثِرُوا ذِكْرَ ‌هَاذِمِ اللَّذَّاتِ يَعْنِي الْمَوْتَ ( الترمذی ، 2307 کتاب القيامة ) یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو جولذ توں کو ڈھا دینے والی ہے۔ موت کا سب سے زیادہ دہشت ناک پہلو یہ ہے کہ وہ اچانک آدمی کو اکیلا کر دیتی ہے۔ آدمی اچانک ہی ایک ایسی دنیا میں پہنچ جاتا ہے جہاں اس کی تمام چیزیں اُس سے چھوٹ جاتی ہیں ۔ وہ آخری حد تک اپنے آپ کو بے سہارا اور بے سرو سامان محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہ احساس آدمی کو مکمل طور پر ہلا دیتا ہے۔ جو آدمی موت کی اس سنگین حقیقت کو سوچے ، اس کا حال یہ ہوگا کہ وہ مکمل طور پر مین کٹ ٹو سائز (man cut to size) ہو جائے گا۔ یعنی ہر قسم کی مصنوعی بڑھوتری سے پاک ہو کر انسانِ اصلی بن جانا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

محاسبہ کے عمل کو آج کل کی زبان میں ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کہا جاسکتا ہے، یعنی اپنے ذہن کے اوپر پڑے ہوئے پردوں کو ہٹانا یہاں تک کہ آدمی کی اصل شخصیت سامنے آجائے ۔ ہر آدمی مختلف قسم کے غیر فطری احساسات میں جیتا ہے۔ مثلاً احساس برتری، نفرت، انتقام،جھنجھلاہٹ، اشتعال ، وغیرہ محاسبہ ان احساسات کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔ جو آدمی برابر اپنا محاسبہ کرے، اس کا حال یہ ہو جائے گا کہ اس کی شخصیت کے اوپر سے تمام مصنوعی پردے ہٹ جائیں گے اور وہ اُس فطری حالت پر پہنچ جائے گا جیسا کہ خدا نے اس کو پیدا کیا تھا۔

اس حقیقت کو حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے : كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ ‌عَلَى ‌الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ، أَوْ يُنَصِّرَانِهِ، أَوْ يُمَجِّسَانِهِ (البخارى، 1394 كتاب الجنائز) اس قول رسول میں اس حقیقت کو بتایا گیا ہے جس کو آج کل کی زبان میں کنڈیشننگ کہا جاتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہر عورت یا مرد کسی ماحول میں پیدا ہوتے ہیں۔ اس ماحول کی نسبت سے ان کے ذہن کی تشکیل ہونے لگتی ہے۔ یہ عمل صبح و شام مسلسل طور پر جاری رہتا ہے، یہاں تک کہ آدمی اپنے ماحول کی پیداوار بن جاتا ہے۔ اس کی سوچ اور اس کے جذبات پر ماحول کا اثر اس طرح غالب آجاتا ہے کہ وہ اس کے خلاف کچھ سوچ نہیں پاتا ۔ ہر انسان کو خدا نے حالت فطری پر پیدا کیا ہے، لیکن ماحول کی کنڈیشننگ کے نتیجے میں یہ ہوتا ہے کہ اس کی فطری شخصیت ڈھک جاتی ہے۔ وہ ایک مصنوعی انسان بن کر رہ جاتا ہے۔ انسانی شخصیت کی اس مصنوعی تشکیل کو ختم کرنا اور اُس کو دوبارہ حالت فطری کی طرف لے جانا، ہر انسان کی سب سے پہلی ضرورت ہے، اور اس عمل کا نام ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) ہے۔ ڈی کنڈیشننگ ایک نفسیاتی عمل ہے۔ اس کی ایک مادی مثال پیاز کی صورت میں دنیا کےاندر رکھ دی گئی ہے۔ پیاز ابتدائی شکل میں ایک چھوٹے سے مغز کا نام ہوتا ہے۔ اس کے بعد اس پر پر تیں (layers) چڑھنے لگتی ہیں، یہاں تک کہ پیاز کا داخلی مغز پوری طرح پرتوں سے ڈھک جاتا ہے اور داخلی مغز کو پانے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اس کی بیرونی پرتوں کو ایک ایک کر کے اس سے جداکر دیا جائے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ زمانے میں عام طور پر لوگ ٹنشن کی شکایت کرتے ہیں۔ ذہنی تناؤ موجودہ زمانے کا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ ہر قسم کا دُنیوی سامان اکھٹا کرنے کے باوجود وہ ذہنی تناؤ میں جیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ مثلاً سر درد ہونا، نیندنہ آنا، ہاضمے کی خرابی ، ذیا بیطس، اور بلڈ پریشر کا بڑھ جانا، وغیرہ۔ اس معاملے کو بھی کنڈیشننگ اور ڈی کنڈیشننگ کے اصول کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے۔

جائزہ بتاتا ہے کہ ایسے تمام لوگ ذہنی عدم اطمینان کا شکار رہتے ہیں۔ انھیں محسوس ہوتا ہے کہ ساری کوششوں کے باوجود وہ اپنے مطلوب کو نہ پاسکے۔ انھوں نے جن چیزوں کو حاصل کیا، اُن میں سے ہر چیز کا حال یہ تھا کہ اُن میں پھول کے ساتھ کانٹا بھی موجود تھا۔ کانٹا ان کے لیے غیر مطلوب چیز بن گئی ۔ اس کے نتیجے میں وہ ذہنی بے اطمینانی کا شکار ہو گئے اور آخر کار ذہنی تناؤ کے مریض بن کر رہ گئے ۔ اس معاملے کا حل ڈی کنڈیشننگ ہے۔ یہاں ڈی کنڈیشننگ کیا ہے۔ ڈی کنڈیشننگ در اصل یہ ہے کہ آدمی خواہش کو حقیقت واقعہ سے الگ کر کے دیکھ سکے :

To see his desires by detaching the reality.

اصل یہ ہے کہ ہر آدمی اپنے لیے ایک ایسی دنیا بنانا چاہتا ہے جہاں وہ اپنی خواہشوں (desires) کو لامحدود طور پر پورا کر سکے، مگر جب وہ دنیا میں اپنی خواہشوں کی تکمیل کے لیے جدو جہد کرتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ یہاں ہر قدم پر حد بندیاں (limitations) موجود ہیں ۔ مختلف قسم کی رکاوٹیں اس بات کو ناممکن بنا دیتی ہیں کہ وہ یہاں اپنی خواہشوں کی دنیا تعمیر کر سکے۔ نقصان، اندیشه، حادثہ، بیماری، بڑھاپا ، موت اور اس طرح کی دوسری نا موافق چیزیں آدمی کے لیے حصول مقصد کی راہ میں فیصلہ کن طور پر رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ بظاہر سب کچھ ہوتے ہوئے بھی وہ ذہنی تناؤ کا شکار بن جاتا ہے ۔

اس مسئلے کا حل صرف ایک ہے، اور وہ ہے اپنی خواہش کو خارجی حقیقتوں سے الگ کر دینا۔ جو آدمی ایسا کرے اس کو فوراً ذہنی سکون حاصل ہو جائے گا۔ اب اس کی سوچ یہ بنے گی کہ جو کچھ مجھے ملا، عملاً وہی مل سکتا تھا، اس سے زیادہ کو پانا میرے لیے ممکن ہی نہیں ۔ اور جس چیز کو پانا ممکن ہی نہ ہو اس کاغم کرنے کی کیا ضرورت ۔

تزکیہ نام ہے تربیت شعور کا

قرآن کی سورہ نمبر 3 میں ارشاد ہوا ہے: زيّن للناس حب الشهوات (آل عمران: 14) یعنی لوگوں کے لیے خوش نما کر دی گئی ہے محبت خواہشوں کی ۔ اسی طرح قرآن کی سورہ نمبر 49 سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر شعوری طور پر کیے ہوئے اعمال بھی قابل مواخذہ ہو سکتے ہیں۔ جیسا کہ فرمایا: ان تحبط أعمالكم وأنتم لا تشعرون (الحجرات: (2) یعنی ایسا نہ ہو کہ تمھارے اعمال برباد ہو جائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔ ان دونوں آیتوں کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ ایک آیت کو سمجھنے سے دوسری آیت سمجھ میں آتی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اصل یہ ہے کہ انسان کے ذہن کے دو بڑے حصے ہیں۔ ایک کو شعوری ذہن (concious mind) اور دوسرے کو غیر شعوری ذہن (unconcious mind) کہا جاتا ہے۔ انسان کے تمام اعمال، خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے ، سب کے سب ذہن کے تحت واقع ہوتے ہیں۔ کچھ اعمال کا تعلق شعوری ذہن سے ہے اور کچھ اعمال کا تعلق غیر شعوری ذہن ہے۔ انسانی جسم کا کوئی بھی عمل ، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا، خود جسم کے تحت نہیں ہوتا ، بلکہ سب کا سب براہ راست اس کے ذہن سے کنٹرول ہوتا ہے۔ اس کو مذہبی اصطلاح میں نیت کہا جاتا ہے۔

کوئی غلط یا نامناسب کام جب آدمی پہلی بار کرتا ہے تو وہ اس کو اپنے شعور کے تحت کرتا ہے۔ مثلاً مزاحیہ کلام کو لیجیے ۔ آپ ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہاں ایک سنجیدہ موضوع پر گفتگو ہورہی ہے۔ اس دوران آپ کے ذہن میں ایک مزاحیہ بات آگئی ۔ اب آپ کے لیے دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ آپ سوچیں کہ ہنسی مذاق کی بات کرنا کسی سنجیدہ انسان کے لیے مناسب نہیں ہے۔ یہ سوچ کر آپ چپ ہو جائیں ۔ یہی طریقہ صحیح طریقہ ہے۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ جب آپ کے ذہن میں کوئی مزاحیہ بات آئی اور آپ نے فوراً اس کو کہہ دیا۔ لوگ اس کو سُن کر ہننے لگے۔ اگر آپ ایسا کریں تو آپ کے شعوری ارادے میں ایک درجے کی کمزوری آجائے گی ۔ اس کے بعد آپ جب بار بار ایسا ہی کریں اور مزاحیہ کلام بول کر لوگوں کو ہنساتے رہیں تو یہ انداز آپ کی عادت (habit) بن جائے گا ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ یہ انداز آپ کے شعور سے گذر کر آپ کے لاشعور میں داخل ہو جائے گا۔ یہاں پہنچ کر مزاحیہ کلام کے بارے میں آپ کی حسّاسیت ختم ہو جائے گی ۔ اب ایسا ہو گا کہ آپ ہر بار مزاحیہ کلام بول کر لوگوں کو ہنساتے رہیں گے اور آپ کو یہ احساس نہیں ہو گا کہ آپ کوئی غیر سنجیدہ کام کر رہے ہیں۔ اس بات کو قرآن کی مذکورہ آیت میں تزئین کہا گیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس لیے جو شخص اپنا تزکیہ چاہتا ہو، اس کو ایسا کرنا چاہیے کہ وہ پہلے ہی مرحلے میں اپنے کو چیک کرے۔ پہلی بار جب اس کے ذہن میں کوئی مزاحیہ بات آئے تو وہ اس کو زبان پر آنے سے روکے۔ اس طرح ایسا ہو گا کہ مزاحیہ بات کرنا اس کی عادت کا حصہ نہیں بنے گا۔ ہر ایسے موقع پر اس کا شعور فوراً متحرک ہو جائے گا اور اس کو یہ کہہ کر روک دے گا کہ ہنسی مذاق کی بات کرنا، ایک غیر سنجیدہ فعل ہے ۔ وہ کسی انسان کے لیے کوئی مناسب روش نہیں۔

اس ایک مثال سے بقیہ تمام معاملات کو سمجھا جاسکتا ہے۔ انسان کے اندر جتنی بھی غلط یانا مناسب باتیں پائی جاتی ہیں، وہ سب اس کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ آدمی ایک نامناسب روش کو جب بار بار اختیار کرتا ہے تو وہ اس کے لاشعور میں داخل ہو کر اس کی عادت بن جاتی ہے۔ وہ عادت کے طور پر (habitual way) میں اس کو کرنے لگتا ہے۔ آدمی کو جاننا چاہیے کہ اس قسم کی روش پر بھی اس کا مواخذہ ہوگا۔ اس سے کہا جائے گا کہ تم کو چاہیے تھا کہ تم پہلے ہی مرحلے میں اپنے شعور کو متحرک کر کے اپنے آپ کو غلط روش سے باز رکھتے۔ تم اپنے آپ کو اس سے بچاتے کہ یہ چیز تمھارے لاشعور میں داخل ہو کرتمھاری عادت بن جائے۔

امید پر خاتمہ

ہندستان کی فلم انڈسٹری میں رشی کیش مکھر جی (Hrishikesh Mukherjee) ایک معروف نام کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ 27 اگست 2006 کو بمبئی میں ان کا انتقال ہو گیا۔ انتقال کے وقت ان کی عمر 84 سال تھی ۔ اپنے آخری زمانے میں انھوں نے بمبئی کے ایک مکان میں تنہائی کی زندگی گزاری۔ ان کے ساتھ صرف اُن کا گھریلو ملازم مینو (Meno) رہ گیا تھا۔ انگریزی روز نامہ ٹائمس آف انڈیا کے شماره 28 اگست 2006 میں ان کے بارے میں ایک رپورٹ چھپی ہے ۔ اس میں رپورٹر نے ان کے متعلق یہ الفاظ لکھے ہیں :

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

His last stage was painful. Dialysis, ventilators were his companions for the last three months or more. More than that there were the sorrows of his personal life. His wife, his brothers, even his younger son had passed away. He lived all alone in Mumbai, with only Meno (domestic help) p. 10

مکھر جی کے ایک قریبی دوست مسٹرسین (Mrinal Sen) آخری دنوں میں ملاقات کے لیے اُن کے گھر گئے ۔ انھوں نے دیکھا کہ مکھر جی نے اپنے کمرے اور اپنے باتھ روم کی تمام دیواروں پر آئینے لگا رکھے ہیں۔ یہ منظر ان کو عجیب معلوم ہوا۔ انھوں نے مکھر جی سے اس کا ذکر کیا تو انھوں نے کہا کہ چلیے ہم باہر بیٹھ کر سورج کے غروب ہونے کا منظر دیکھیں گے ۔ چناں چہ ہم لوگ باہر بیٹھ گئے ۔ جب سورج غروب ہوا تو مکھر جی نے اپنا طویل سکوت توڑتے ہوئے کہا کہ ایک دن اورکٹ گیا:

unverifiedAttribution could not be verified automatically

One more day has gone by.

جب میں نے اس رپورٹ میں رشی کیش مکھر جی کا حال پڑھا تو میں نے سوچا کہ یہ اس انسان کا المیہ ہے جس کو زندگی کی حقیقت معلوم نہ ہوسکی ۔ جو اپنی عمر کا ایک ایک دن مایوسی کی حالت میں گزار رہا تھا۔ اس کے برعکس حال اُس انسان کا ہوتا ہے جس نے سچائی کو دریافت کیا ہو۔ جو اس حقیقت کو جان چکا ہو کہ موت کے بعد وہ اگلے دور حیات میں داخل ہوگا جہاں خدا کی ابدی جنت ہے اور وہاں خدا کی بچے انسان کا انتظار کر رہی ہیں ۔ ایسا آدمی زبان حال یا زبان قال سے کہے گا کہ جنت ایک اور دن قریب آگئی :

One more day closer to Paradise.

یہ حقیقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی حضرت ابو ہریرہ کی زندگی سے معلوم ہوتی ہے۔ ابو ہریرہ ( عبدالرحمن بن صخر الدوسی ) نے 80 سال کی عمر میں 679 عیسوی میں مدینہ میں وفات پائی ۔ روایات میں آیا ہے کہ آخر عمر میں ابو ہریرہ سخت بیمار ہوئے ۔ ان کی یہ حالت دیکھ کر ان کی بیوی کی زبان سے نکلا : واکر باہ! (ہائے تکلیف) ابو ہریرہ نے سنا تو کہا : واطر باه! (ہائے خوشی ) پھر انھوں نے کہا کہ کل میں اپنے ساتھیوں سے ملوں گا، محمد سے اور ان کے گروہ ہے ۔ (غَدًا ‌نَلْقَى ‌الْأَحِبَّهْ … مُحَمَّدًا وَحِزْبَهْ)(مسند احمد، 12582)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مذکورہ دونوں واقعات کے درمیان یہ فرق بتاتا ہے کہ حقیقت سے بے خبر انسان اور حقیقت سے با خبر انسان کا معاملہ کیا ہوتا ہے۔ جو آدمی اس حقیقت کو نہ جانتا ہو کہ بعد از موت بھی زندگی ہے جس کو اگلے دور حیات کی خبر نہ ہو، وہ چند دن کے لیے موجودہ دور حیات میں بظاہر خوش نظر آتا ہے لیکن جب وہ بوڑھا ہوتا ہے اور وہ اپنی عمر کے آخری حصے میں پہنچتا ہے تو اس کا احساس یہ ہوتا ہے کہ آگے اس کے لیے تاریکی کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہ احساس اس کو مایوسی میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اس کا خاتمہ اس طرح ہوتاہے کہ اس کے پاس نا امیدی کے سوا کوئی اور سر مایہ نہیں ہوتا۔

اس کے برعکس معاملہ اس شخص کا ہے جس کو سچائی کی دریافت ہو گئی ہو۔ جو خدا کی تخلیقی اسکیم (creation plan) کو جان چکا ہو۔ جس کو یہ معلوم ہو کہ قبل از موت دور حیات میں اُس کو خدا رخی زندگی (God-oriented life) گذارنا ہے، تا کہ بعد از موت دور حیات میں وہ اس کے انعام کے طور پر خدا کی ابدی جنت میں جگہ پائے ۔ ایسے آدمی کے لیے زندگی امید سے بھرا ہوا ایک تجربہ ہے۔ وہ امید کے ساتھ جیتا ہے اور امید کے ساتھ موت کا استقبال کرتا ہے۔ ایسے انسان کے لیےمایوسی کا کوئی سوال نہیں ، نہ حال کی زندگی میں اور نہ مستقبل کی زندگی میں۔ موجودہ زمانے میں صنعتی انقلاب نے انسان کو ہر قسم کی آسائش کا سامان دے دیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہر آدمی تناؤ (tension) اور اسٹریس (stress) میں جیتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ جدید صنعتی انقلاب اس کو قبل از موت زندگی کے لیے تو بہت کچھ دے رہا ہے۔ لیکن یہ انقلاب نہ اس کو موت سے بچاتا ہے، اور نہ اس کو موت کے بعد کی زندگی کے لیے کوئی امید افزا پیغام دیتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو شعوری یا غیر شعوری طور پر ہر انسان کو ذہنی تناؤ میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔

ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن

ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن بمبئی سے شائع ہو رہا ہے ۔ ایڈیشن کا نام دی اسپر یچول میسج ۔

دی اسپر یچول میسیج ، فی کاپی - 15 روپئے ، سالانہ 165 روپئے۔

other sourceWords of another person or source

خط و کتابت کا پتہ ہے:

The Spiritual Message

302, Koldongri CHS, Sahar Road

Andheri (East), Mumbai-400099 (India)

Tel.: 28341654/28346079/28218609, Fax: 2823 6323

Email:hbshaikh@bom5.vsnl.net.in

عورت معاون حیات

قرآن کی سورہ نمبر 2 میں عورت اور مرد کے تعلق کے بارے میں ایک آیت آئی ہے، اس کا ترجمہ یہ ہے: تمھاری عورتیں تمھاری کھیتیاں ہیں ۔ پس اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو جاؤ ، اور اپنے لیے آگے بھیجو، اور اللہ سے ڈرو، اور جان لو کہ تمھیں ضرور اُس سے ملنا ہے۔ اور ایمان والوں کو خوش خبری دے دو:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

And do good beforehand for yourselves. (2:223)

اس آیت میں اپنے لیے آگے بھیجو ( قدموا لأنفسكم ) کا لفظ بنیادی لفظ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس مرکزی لفظ سے پوری آیت کا مفہوم سمجھ میں آتا ہے۔ آیت کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ تمھارا اصل نشانہ یہ ہونا چاہیے کہ تم وہ کام کرو جو مستقبل میں تمھارے لیے مفید بننے والا ہو (قدموا ما ينفعكم غداً ) یعنی آدمی موجودہ امتحان کی دنیا میں اپنے آپ کو اس طرح تیار کرے کہ وہ آگے آنے والی آخرت کی دنیا میں کامیاب زندگی حاصل کر سکے۔ یہ کسی انسان کا اصل مقصد حیات ہے۔ آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ اس مقصد حیات کی نسبت سے عورت کے معاملے کو سمجھو۔ عورت کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے ایک معاون حیات کی حیثیت سے پیدا کیا ہے۔ جس طرح کھیت کسی کسان کے لیے اس کے مقصد کی نسبت سے معاون کی حیثیت رکھتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جس زمانے میں یہ قرآنی آیت اتری ، اُس زمانے میں مدینہ میں یہ بحث چھڑی ہوئی تھی کہ عورت کا درجہ انسانی زندگی میں کیا ہے۔ اس معاملے میں لوگ اپنے سابق ذہنی نقشے کی بنا پر صرف دو باتیں جانتے تھے صنفی تسکین اور بقا نسل ۔ قرآن میں بتایا گیا کہ اس قسم کے پہلوؤں سے زیادہ اہم پہلو یہ ہے کہ عورت تمھارے لیے اپنی زندگی کی تعمیر میں ایک معاون کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لیے تم کو چاہیے کہ تم اپنے اس فطری معاون کا بھر پور استعمال کرو اور اس کو اپنی تکمیل حیات کا ذریعہ بناؤ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی انسان کی سب سے بڑی ضرورت ذہنی ارتقاء ہے ۔ اِس ذہنی ارتقاء کے عمل میں سب سے زیادہ کارآمد چیز )intellectual developement( انٹلیکچول اکسچینج (intellectual exchange) ہے۔ جس طرح دو پتھروں کے ٹکرانے سے ایک تیسری چیز نکلتی ہے جس کو چنگاری کہا جاتا ہے ، اسی طرح جب دو انسانی ذہن کھلے طور پر اٹلکچول اکسچینج کرتے ہیں تو ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ اس کے دوران زیر بحث موضوع کے لیے نیے پہلو سامنے آتے ہیں اور اس طرح ذہنی ارتقا کا سفر مسلسل جاری رہتا ہے۔ انٹلکچول اکسچینج کا یہ عمل مرد کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور عورت کے ساتھ بھی۔ عورت چوں کہ مرد کے لیے ہر وقت کی ساتھی ہوتی ہے اس لیے دیگر افادی پہلوؤں کے علاوہ اٹلکچول اکسچینج کے معاملے میں وہ بے حد اہمیت رکھتی ہے۔ اس لیے یہاں خصوصیت کے ساتھ اس کا ذکر فر مایا۔ کیوں کہ عورت ایک ایسی انٹلکچول پارٹنر ہے جو کسی مرد کے لیے ہر وقت قابل حصول رہتی ہے۔

صنفی تعلق اگر مطلقا مطلوب ہوتا تو حضرت مسیح کو بھی ضرور اس کے مواقع دیے جاتے ۔ اس طرح بقاء نسل اگر مطلقا مطلوب ہو تو حضرت محمد کے یہاں بھی اُسے پایا جانا چاہیے۔ حالاں کہ دونوں مثالوں میں یہ چیز مفقود ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی انسان کے لیے جو چیز مطلقاً مطلوب ہے، وہ صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ وہ اپنا تزکیہ کر کے اپنے آپ کو جنتی انسان بنائے ۔ اس عمل تزکیہ میں دوسری چیزوں کے ساتھ اٹلکچول ارینج لازمی طور پر ضروری ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو مذکورہ آیت میں عمل زراعت سے تعبیر کیا گیا ہے۔

اٹلکچول اکسچینج کا ذریعہ مرد بھی ہو سکتے ہیں اور عورت بھی ، مگر تعمیر شخصیت کے لیے یہ انتہائی رضروری عمل ایک قربانی چاہتا ہے اور وہ قربانی یک طرفہ صبر ہے۔ جب کوئی شخص کسی کے ساتھ اٹلکچول اکسچینج کے عمل میں مشغول ہوتا ہے تولا ما ایسا ہوتا ہے کہ بار بار اختلافی پہلو سامنے آتے ہیں۔ یہ اختلافی پہلو نارمل تبادلۂ خیال میں رخنہ ڈالنے کا باعث بن جاتے ہیں۔ ایسے موقع پر بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک کی رائے دوسرے کی رائے سے ٹکرانے لگتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ مرد کے ساتھ ایگو کلیش (ego clash) اور عورت کے ساتھ ایموشنل کلیش (emotional clash) کی نوبت آجاتی ہے۔ ایسے موقع پر اگر ٹکراؤ کو باقی رکھا جائے تو گفتگو کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے۔

ایسی حالت میں گفتگو کو معتدل انداز میں باقی رکھنے کی صرف ایک صورت ہے، اور وہ یہ کہ گفتگو کا ایک فریق یک طرفہ طور پر صابرانہ روش اختیار کر کے ڈیڈ لاک کو ختم کر دے اور بدستور معتدل انداز میں تبادلہ خیال کو جاری رکھے۔

الرسالہ مشن کے متعلق بعض سوالات

1۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ آپ اپنی تحریروں اور تقریروں میں ہمیشہ اسلام کے نظریاتی پہلو کو بیان کرتے ہیں۔ اسلام کا جو عملی پہلو ہے اس کو آپ بیان نہیں کرتے۔ آخر یہ تفریق کیوں۔

other sourceWords of another person or source

میں نے کہا کہ عمومی اعتبار سے یہ بات درست نہیں۔ میں نے اسلام کے تقریباً ہر موضوع پر لکھا ہے۔ مثلاً نماز اور روزہ اور حج جیسے موضوعات پر میری کئی کتابیں موجود ہیں۔ البتہ یہ صحیح ہے کہ میں اسلام کے نظری پہلوؤں پر زیادہ زور دیتا ہوں۔ نظری پہلو سے میری مراد ہے اسلام کی داخلی اسپرٹ، یعنی اسلامی طرزِ فکر پیدا کرنا، لوگوں کے اندر اسلامی جذبہ ابھارنا، اسلام کی صحیح اسپرٹ کو زندہ کرنا۔ یہ میری توجہ کا خصوصی مرکز رہا ہے۔ یہ کوئی اعتراض کی بات نہیں۔ آپ کو یہ بات قابلِ اعتراض اس لیے دکھائی دیتی ہے کہ آپ ہمارے مشن کو امت کی سرگرمیوں سے الگ کرکے دیکھتے ہیں۔ اگر آپ ہمارے مشن کو امت کی عمومی سرگرمی میں شامل کرکے دیکھیں تو آپ کا اعتراض اپنے آپ ختم ہوجائے گا۔

اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں ملتِ مسلمہ کے احیاء کی تحریک عالمی سطح پر چل رہی ہے۔ اس میں امت کے تمام درد مند افراد شریک ہیں۔ میںنے اپنے مطالعے میں پایا کہ احیاءِ ملت کی یہ تحریکیں ننّانوے فیصد کی حد تک اُسی پہلو پر چل رہی ہیں جس کو آپ اسلام کا عملی پہلو کہہ رہے ہیں۔ آپ دیکھیے تو ان میں سے کوئی نماز اور روزہ اور حج جیسے اسلامی اعمال کا نظام قائم کرنے میں مصروف ہے۔ کسی نے اسلام کے سماجی پہلوؤں پر اپنی توجہ لگا رکھی ہے۔ کوئی اسلام کے سیاسی ڈھانچے کو زندہ کرنا چاہتا ہے۔ کوئی مسجد اور مدرسے کے نظام کو قائم کرنے میںمصروف ہے۔ کوئی مسلمانوں کے خاندانی نظام کو اسلامی احکام پَر تشکیل دینا چاہتا ہے۔ کوئی ملّی مسائل، یا کمیونٹی ورک کے میدان میں محنت کررہا ہے، وغیرہ۔ لیکن میں نے اپنے تجربے میں پایا کہ كوئي بھي عصری اسلوب میں اسلام کی اسپرٹ کو جگانے کاکام نہیں کررہا ہے۔ اس لیے ہم نے اپنے آپ کو اس چھوٹے ہوئے کام میں لگا دیا ہے۔ گویا کہ ہمارا مشن احیاءِ ملت کے مجموعی کام میں ایک تتمّہ (supplement) کی حیثیت رکھتا ہے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

موجودہ حالات میں یہی چیز ممکن اور قابلِ عمل ہے۔ احیاءِ ملت کا موجودہ کام جو عالمی سطح پر انجام پارہا ہے اس کی حیثیت ایک پراسس (process) کی ہے۔ اِس پر اسس میں ساری تحریکیں اور سارے اجزائے ملّی شریک ہیں۔ ہمارا مشن بھی اِس پراسس کا ایک حصہ ہے۔ یہ پراسس گویا کہ ایک بلا اعلان تقسیمِ کار کا معاملہ ہے۔ اِس پراسس کے مختلف اجزا میں سے کوئی ایک بھی ساری ملی ضرورتوں کو پورا نہیں کرسکتا اور نہ کررہا ہے۔ ہر ایک کسی ایک پہلو سے ملت کی خدمت انجام دے رہا ہے۔ ہر ایک کو اپنی نیت اور اپنے اخلاص کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے یہاں انعام ملے گا۔

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ملّت کے اندر تنقید نہیں ہونی چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسری ضرورتوں کی طرح، تنقید بھی ملت کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ تنقید، حدیثِ رسول (سنن ابو داؤد، حدیث  نمبر 4918)کے الفاظ میں الْمُؤْمِنُ مِرْآةُ الْمُؤْمِنِ ( مومن مومن کے لیے آئینہ ہے) کے اصول کی تکمیل ہے۔ علمی تنقید ہمیشہ ذہنی ارتقا کا ذریعہ ہوتی ہے۔ اگر علمی تنقید کا طریقہ ختم کردیا جائے تو اس کے نتیجے میں صرف یہی نہیں ہوگا کہ علمی تنقید باقی نہ رہے گی، بلکہ ذہنی ارتقا کا عمل رک جائے گا۔ اس کے نتیجے میں ذہنی جمود پیدا ہو جائے گا جو کسی گروہ کے لیے سمّ قاتل کی حیثیت رکھتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

2۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ آپ کا مشن ایک فکری مشن ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ ہمارا نشانہ یہ ہے کہ ہم اسلام کو عصری اسلوب میں پیش کریں۔ اِس طرح ہم کچھ لوگوں کے لیے اسلام کو ان کی ڈسکوری بنانا چاہتے ہیں، اور کچھ لوگوں کے لیے اسلام کو ان کی ری ڈسکوری۔ آپ کی اِس فکری مہم میں مسلمانوں کا کیا درجہ ہے۔ کیا آ پ مسلم اور غیر مسلم کو اِس معاملے میں برابر کی حیثیت دیتے ہیں یا آپ کے نزدیک مسلمانوں کو کوئی خصوصی حیثیت حاصل ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن اور حدیث کے مطابق، ہماری رائے یہ ہے کہ جہاں تک آخرت کی جزا اور سزا کا معاملہ ہے، اس میں دونوں گروہوں کو یکساں حیثیت حاصل ہے۔ یہ بات قرآن کی اِس آیت سے واضح طور پر ثابت ہوتی ہے:لَيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ(4:123) یعنی نہ تمھاری آرزوؤں پر ہے اور نہ اہلِ کتاب کی آرزوؤں پر۔ جو کوئی بھی بُرا کرے گا وہ اس کا بدلہ پائے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ عقیدہ بالکل بے بنیاد ہے کہ مسلمان خود اپنی پیدائش کے اعتبار سے ’’منتخب گروہ‘‘ بن چکے ہیں۔ اور ان کی جنّتیں رزرو (reserve)ہیں۔ یہ عقیدہ سر تا سر بے بنیاد ہے۔ یہ عقیدہ بھی ایک بے بنیاد عقیدہ ہے کہ کچھ ظاہری رسوم ورواج کی تعمیل، یا کسی کلچرل شناخت کو اختیار کرناآدمی کو جنت کا سرٹفکیٹ دے دیتا ہے۔ جنت نفوسِ مزکّیٰ کے لیے ہے، نہ کہ کسی کلچرل گروہ کے لیے (طٰہٰ، 20:76)۔البتہ ایک اور پہلو ہے جس کے اعتبار سے مسلمانوں کو دوسروں کے مقابلے میں موافق حیثیت (advantageous position) حاصل ہے۔ وہ یہ کہ دوسروں کے برعکس، مسلمانوں کا ذہن اسلام کے خلاف تعصّب سے خالی ہوتا ہے۔ اِس بنا پر مسلمان ممکن طورپر اس قابل رہتے ہیں کہ وہ کسی نفسیاتی رکاوٹ کے بغیر اِس بارے میں غور وفکر کا صحیح نقطۂ آغاز پالیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حدیث میں آیا ہے: کُلُّ مَوْلُودٍ یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ، فَأَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہِ أَوْ یُنَصِّرَانِہِ أَوْ یُمَجِّسَانِہِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1385)۔ یعنی ہر پیدا ہونے والا فطرتِ صحیحہ پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اس کو یا تو یہودی بنا دیتے ہیں۔ یانصرانی بنا دیتے ہیں، یا مجوسی بنادیتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اصل یہ ہے کہ ہر پیدا ہونے والا کسی خاندان میں پیداہوتا ہے اور کسی سماج میں اس کی پرورش ہوتی ہے۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر آدمی بچپن ہی سے متاثّر ذہن کا حامل بن جاتا ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں کنڈیشننگ (conditioning) کہا جاتا ہے۔ چنانچہ ہر آدمی بلا استثنا کنڈیشننگ کا ایک کیس ہوتا ہے۔ آدمی کی کنڈیشننگ جس ماحول میں ہوتی ہے، اُسی ماحول کے اعتبار سے اس کی شخصیت بن کر تیار ہوتی ہے۔ کنڈیشننگ کے اِس عمل کا نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اس کو اپنے خاندانی مذہب کے ساتھ متعصبانہ حد تک جذباتی تعلق ہوجاتا ہے، اور دوسرے مذہب کے بارے میں وہ منفی ذہنیت کا حامل بن جاتا ہے۔ یہ کنڈیشننگ کسی غیر مسلم کے لیے اس میں رکاوٹ بن جاتی ہے کہ وہ اسلام کے بارے میں غیر متاثر ذہن کے ساتھ سوچ سکے۔

اِس معاملے میں مسلمان ایک مستثنیٰ حیثیت کا حامل ہوتا ہے۔ مسلمان کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ مخالفانہ احساس سے خالی ہوکر اسلام کا مطالعہ کرسکے۔ اِس طرح ایک مسلمان کو اسلام کے مطالعے کے لیے ایک موافق نقطۂ آغاز مل جاتا ہے۔ وہ اِس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ معتدل ذہن کے ساتھ اسلام کا مطالعہ کرے اور کسی قسم کی نفسیاتی رُکاوٹ کے بغیر اسلام کی صداقت اس کے ذہن میں بیٹھتی چلی جائے۔

3۔ ايك تعليم يافته مسلمان نے كها كه — الرساله كا انداز غير معتدل انداز هے۔ آپ اُس ميں هميشه مسلمانوں كو صبر اور تقوي كي ’’نصيحت‘‘ كرتےهيں۔ مسلمانوں كے ساتھ هونے والي زيادتيوں اور سازشوں پر آپ كوئي تبصره نهيں كرتے۔ جب كه دوسرے مسلم اهلِ علم اور رهنما، اعتدال كا طريقه اپناتے هوئے هميشه دونوں فريقوں كي غلطي كو بتاتے هيں۔

opposing viewA view stated in order to be argued against

ميں نے كها كه الرساله كا انداز قرآني انداز هے، وه هر گز غير معتدل انداز نهيں۔ اس معاملے كي وضاحت كرتے هوئے ميں نے غزوهٔ احد (3 هجري) كي مثال دي۔ ميں نے كها كه مشركين نے مكه سے چل كر چار سو كلوميٹر كا سفر طے كيا۔ اور يك طرفه طورپر انھوں نے مدينه ميں مقيم مسلمانوں پر جارحانه اقدام كركے انھيں جنگ كرنے پر مجبور كرديا۔ اِس جنگ ميں اپني ايك غلطي كي وجه سے مسلمانوں كو شكست هوئي۔ ستّر صحابه شهيد هوئے اور رسول الله صلي الله عليه وسلم، مخالفين كے پتھراؤ كي وجه سے شديد طورپر زخمي هوگيے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اِس كے باوجود قرآن ميں جب اِس واقعه پر تبصره نازل هوا تو اُس ميں يك طرفه طورپر ساري ذمه داري مسلمانوں پر ڈالتےهوئے كهاگيا: حَتَّىٰ إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِي الْأَمْرِ وَعَصَيْتُم مِّن بَعْدِ مَا أَرَاكُم مَّا تُحِبُّونَ (3:152)۔ يعني جب تم خود كمزور پڑ گئے اور تم نےكام ميں جھگڑا كيااور تم كهنے پر نه چلے جب كه الله نے تم كو وه چيز دكھا دي تھي جو تم چاهتے تھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ميں نے كها كه آپ كے نزديك ايسے موقع پر معتدل انداز يه تھا كه دونوں فريقوں پر تبصره كيا جاتا۔ پهلے مشركينِ مكه كے جارحانه اقدام كي كھلے طورپر مذمت كي جاتي اور اُس كے بعد مسلمانوں كو نصيحت كرتے هوئے ان كي كمزوري بتائي جاتي۔ حالاں كه قرآن كے اِس تبصرے ميں ايسا انداز نهيں هے۔ اِس ميں مشركينِ مكه كے جارحانه اقدام كا سرے سے كوئي ذكر موجود نهيں، بلكه اِس آيت ميں ساري ذمے داري مسلمانوں پر ڈال دي گئي هے، اور كهاگيا هے كه احد كي شكست كسي دشمن كي سازش اور ظلم كا نتيجه نه تھي۔ يه شكست خود تمھاري اپني كمزوري كا نتيجه تھي۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ميں نے كها كه اگر آپ قرآن كے اِس تبصرے كو درست سمجھتے هيں تو آپ كو يقيناً الرساله كے انداز هي كو صحيح انداز سمجھنا چاهيے۔ الرساله كا انداز خالص قرآني انداز هے، نه كه غير معتدل انداز۔

ميں نے كها كه قرآن ميں واضح طورپر يه آيت موجود هے: وَإِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا(3:120)۔يعني اگر تم صبر كرو اور الله سے ڈرو تو (مخالفين) كي كوئي بھي سازش تم كو كچھ بھي نقصان نه پهنچائے گي۔ اِس آيت سے واضح طورپر يه ثابت هوتاهے كه اهلِ ايمان كے ليےاصل مسئله سازش كا هونا نهيں هے، بلكه صبر اور تقوي كا نه هونا هے۔ اگر كسي گروه كے اندر صبر اور تقوي كي صفت موجود هے تويه صبر اور تقوي ان كے ليے هر سازش كے خلاف ايك چيك بن جائے گا۔ دوسرے لفظوں ميں يه كه اگر كوئي مسلم گروه كسي مخالف گروه كي سازش كا نشانه بنے تو قرآن كے مطابق، لازماً يه يقين كرنا چاهيے كه صبر اور تقوي كے نه هونے كي وجه سے ايسا هوا هے۔ سازش كي موجودگي نقصان كا سبب نهيں، بلكه صبر اور تقوي كي عدم موجودگي نقصان كا اصل سبب هے۔ اس ليے تمام لكھنے اور بولنے والوں كو صبر اور تقوي كي اسپرٹ جگانے پر مصروف هونا چاهيے، نه يه كه وه مفروضه دشمنوں كے خلاف بے فائده طورپر احتجاج اور شكايت كي مهم ميں لگ جائيں۔ صبر اور تقوي كاميابي كي واحد ضمانت هے، جب كه احتجاج اور شكايت كا طريقه اپنانا،كاميابي كي اِس واحد خدائي ضمانت سے اپنے آپ كو محروم كرلينا هے۔

يه كوئي ساده بات نهيں۔ يه ايك انتهائي حكيمانه بات هے۔ اصل يه هے كه ايسے معاملات ميں اگر دونوں فريقوں كو نصيحت كي جائے تو نصيحت غير موثر هو كر ره جاتي هے۔ نصيحت كے ليے هميشه يك طرفه كلام موثر هوتا هے، تاكه سامع كي ساري توجه صرف قابلِ اصلاح پهلو پر پڑے، اس كي توجه اصل مركز سے هٹنے نه پائے۔

مساجد اور مدارس اور اداروں کے لیے مولانا وحیدالدین خاں کی دس کتابوں کا

ایک منتخب سیٹ تیار کیا گیا ہے۔ خواہش مند حضرات آرڈر روانہ کر کے ۴۰ فی صد کی

خصوصی رعایتی قیمت پر اس کو حاصل کر سکتے ہیں ۔ ڈاک خرچ ادارے کے ذمے ہو گا۔ نیز

یہ آرڈر صرف ڈی۔ ڈی یا .M. O کے ذریعے روانہ کیا جائے گا۔ جو حضرات کتابوں کا یہ منتخب سیٹ مساجد اور مدارس اور اداروں کو اپنی طرف سے ہدیہ کرنا چاہتے ہوں ، وہ بھی اس اسکیم میں حصہ لے سکتے ہیں ۔ ہر آرڈر کے ساتھ ماہ نامہ الرسالہ (اُردو) ایک سال کے لیے مفت جاری کیا جائے گا۔ کالج اور یونیورسٹی کے طلبا اور اساتذہ بھی اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔ تفصیلات درج ذیل ہیں :

سیٹ برائے مساجد

سیٹ برائے ادارہ اور مدارس

1 تذكير القرآن ( اردو )

1 تذكير القرآن ( اردو )

2 اللہ اکبر

3 مطالعه قرآن

4 قال الله وقال الرسول

5 مطالعہ حدیث

2 الله اكبر

3 مطالعہ سیرت

4 الاسلام

5 فکر اسلامی

6 دین و شریعت

6 مطالعہ سیرت

7 سیرت رسول

7 تجدید دین

8 پیغمبر انقلاب

عظمت اسلام

10 انسان کی منزل

8 مذہب اور جدید چیلنج

انسان کی منزل

10 راز حیات

رعایتی قیمت صرف : 570 .Rs

رعایتی قیمت صرف : 510 .Rs

Al-Risala Monthly

1, Nizamuddin West Market, New Delhi-110013

Tel. 24355454,24355729, email: info@goodwordbooks.com

ایجنسی الرساله

الرسالہ بیک وقت اردو اور انگریزی میں شائع ہوتا ہے۔ الرسالہ (اردو) کا مقصد مسلمانوں کی اصلاح اور ذہنی تعمیر ہے۔ الرسالہ (انگریزی) کا خاص مقصد یہ ہے کہ اسلام کی بے آمیز دعوت کو عام انسانوں تک پہنچایا جائے ۔ الرسالہ کے تعمیری اور دعوتی مشن کا تقاضا ہے کا تقاضا ہے کہ آپ نہ صرف اس کو خود پڑھیں بلکہ اس کی ایجنسی لے کر اس کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں دوسروں تک پہنچائیں ۔ ایجنسی گو یا الرسالہ کے متوقع قارئین تک اس کو مسلسل پہنچانے کا ایک بہترین درمیانی وسیلہ ہے۔ الرسالہ (اردو) کی ایجنسی لینا ملت کی ذہنی تعمیر میں حصہ لینا ہے جو آج ملت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اسی طرح الرسالہ (انگریزی) کی ایجنسی لینا اسلام کی عمومی دعوت کی مہم میں اپنے آپ کو شریک کرنا ہے جوکار نبوت ہے اور ملت کے اوپر سب سے بڑا فریضہ ہے۔

ایجنسی کی صورتیں

ا الرسالہ (اردو، انگریزی) کی ایجنسی کم از کم پانچ پر چوں پر دی جاتی ہے۔ کمیشن ۲۵ فی صد ہے ۔ ۱۰۰ پرچوں سے زیادہ تعداد پر کمیشن ۳۳ فی صد ہے۔ پیلینگ اور روانگی کے تمام اخراجات ادارہ الرسالہ کے ذمہ ہوتے ہیں۔

زیادہ تعدا د والی ایجنسیوں کو ہر ماہ پر چے بذریعہ وی پی روانہ کئے جاتے ہیں۔ کم تعداد والی ایجنسی کے لیے ادائیگی کی دوصورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ پر چھے ہر ماہ سادہ ڈاک سے بھیجےجائیں ، اور صاحب ایجنسی ہر ماہ یا دو تین ماہ بعد اس کی رقم بذریعہ منی آرڈر روانہ کردے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ چند ماہ ( مثلاً تین مہینے ) تک پرچے سادہ ڈاک سے بھیجے جائیں اور اس کے بعد والے مہینے میں تمام پر چوں کی مجموعی رقم کی وی پی روانہ کی جائے ۔

زر تعاون الرسالہ

ہندستان کے لیے

ایک سال

دو سال

تین سال

پانچ سال

بیرونی ممالک کے لیے ( ہوائی ڈاک )

$10/£5

Rs. 100

$20/£10

Rs. 200

$30/£15چا

Rs. 300

$45/£20

Rs. 480

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content
unverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyopposing viewA view stated in order to be argued againstoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itQur'anQuotes the Qur'anQur'anQuotes the Qur'anoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itquoted sourceQuoted from another author or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itopposing viewA view stated in order to be argued againstunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it