Maulana Wahiduddin Khan
83 min left
0:00

← Al-Risala March 2006
Al-Risala March 2006

Main Content

Urdu · 83 min read

الرسالہ، مارچ 2006

بنگلور کا سفر

آندھرا پردیش میں پُٹّا پَرتھی (Puttaparthi) ایک ٹاؤن ہے۔ یہاںشری ستیہ سائی آرگنائزیشن کے تحت ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی۔ اس سلسلے میں بنگلور میں بھی چند دن قیام رہا۔ یہ سفر ۲۰ جولائی ۲۰۰۵ کو شروع ہوا اور ۲۷ جولائی ۲۰۰۵ کو ختم ہوا۔ اس سفر کی مختصر روداد یہاں درج کی جاتی ہے۔

۲۰ جولائی کی صبح کو جب کہ میں روانگی کے لیے تیار ہورہا تھا، مولانا محمد ذکوان ندوی ملاقات کے لیے آئے۔ وہ اس سے پہلے سویڈن (اسٹاک ہوم) میں تھے۔ آج کل وہ نظام الدین ویسٹ (نئی دہلی) میں رہتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ آج رات کو انھوں نے ایک خواب دیکھا۔ انھوں نے دیکھا کہ ’’وہ ایک مقام پر ہیں جہاں کثرت سے ہرے بھرے درخت ہیں اور پپیتے کے بھی کچھ درخت نظر آتے ہیں جس کو دیکھ کر وہ کہتے ہیں کہ ہرا بھرا درخت خدا کا کتنا بڑا معجزہ ہے۔ مٹی جیسی چیز سے ہرا بھرا درخت نکل کر زمین پر کھڑاہوجاتا ہے۔ اس سے بڑا معجزہ اور کیا ہوسکتا ہے‘‘۔ عجیب اتفاق ہے کہ جب میں پٹا پرتھی پہنچا تو وہاں جس گیسٹ ہاؤس میں مجھے ٹھہرایا گیا اس کے باہر ہرے بھرے درخت تھے جن میں پپیتے کے درخت بھی شامل تھے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

ائر پورٹ کے لیے روانگی ہوئی تو سڑک کے دونوں طرف درختوں کی قطاریں تھیں۔ ان درختوں کو دیکھ کر میرا وہی حال ہوا جو مولانا محمد ذکوان ندوی نے خواب میں دیکھا تھا۔ ہرے بھرے درخت قدرت کا عجیب وغریب نمونہ ہیں۔ جو لوگ پیغمبروں سے حسّی معجزوں کی مانگ کرتے تھے وہ اندھے لوگ تھے۔ ان کے چاروں طرف تخلیق کے معجزے بکھرے ہوتے تھے مگر ان قدرتی مناظر کی معجزاتی حیثیت کو وہ دیکھ نہیں پاتے تھے اس لیے وہ کسی نئے معجزے کی مانگ کرتے تھے۔ فطرت کا معجزہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ ان کے نزدیک معجزہ صرف وہ تھا جو طلسماتی طورپر ظاہر ہو کر سامنے آجائے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دہلی ایر پورٹ پر پہنچا تو یہاں ایک سبق آموز تجربہ ہوا۔ مجھے ٹائلٹ جانے کی ضرورت پیش آئی۔ حسب معمول میں نے ٹائلٹ کے اس حصے میں جانا چاہا جس کے اوپر معذور (disabled) لکھا رہتا تھا۔ اس کے بجائے اب وہاں فزیکلی چیلنجڈ(physically challenged) لکھا ہوا تھا۔ میں اس لفظ پر سوچتا رہا یہاں تک کہ ایک بہت بڑی حقیقت کا انکشاف ہوا۔ ہزاروں سال سے تمام فلسفی اور مفکرین اور مصلحین یہ کہتے رہے ہیں کہ اس دنیا میں مصائب (suffering) کیوں ہیں۔ انتہا پسند لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ اس دنیا کا پیدا کرنے والا اگر خدا ہے جو مذہبی عقیدے کے مطابق احسن الخالقین ہے پھردنیا میں مصیبت (suffering)کیوں۔ میری سمجھ میں آیا کہ یہ مسئلہ در اصل غلط تسمیہ (wrong nomenclature)کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ یہ لوگ جس چیز کو مصائب کہتے ہیں وہ دراصل چیلنج ہے جو انسانی ترقی کے لیے مہمیز(incentive) کا کام کرتا ہے۔ اس چیلنج کی کئی صورتیں ہیں

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Physically challenged, economically challenged, socially challenged.

فلسفے میں جس چیز کو برائی کا مسئلہ(problem of evil) کہاجاتا ہے وہ دراصل چیلنج کا مسئلہ (pbroblem of challenge) ہے۔ اس کا تعلق فطرت کے قانون سے ہے۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو خدا کے تخلیقی منصوبے (creation plan) کی نظر سے دیکھا جائے۔ اس تخلیقی نقشے کی حکمت کو میں نے خاص طورپر آرنلڈ ٹائن بی کی کتاب "A Study of History" کے مطالعے سے سمجھا۔ اس کے مطابق زندگی کا نظام چیلنج، رسپانس، میکانزم (challenge-response- mechanism) کے اصول پر چل رہا ہے۔ یعنی فطرت کا نظام چیلنج کے ذریعے انسان کو جھٹکے دے کر بیدار کرتا ہے۔ اس طرح انسان کی سوئی ہوئی طاقتیں جاگتی ہیں اور انسان بڑے بڑے کام کر ڈالتا ہے۔

مصلحین اپنی خود ساختہ سوچ کے تحت، بے مسئلہ قسم کا جو آئیڈیل سماج بنانا چاہتے ہیں وہ حقیقت میں ترقی کے راستے میں رکاوٹ ہے جو شخص آسودگی اور فراوانی(affluence) کے ماحول میں پرورش پاتا ہے اس کی ذہنی صلاحتیں بیدار نہیں ہوتیں۔ وہ ایک قسم کا ذہنی بَونا(intellectual dwarf ) بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ مشکل حالات میں پروش پاتے ہیں وہ متحرک ہوکر بڑے بڑے کام کرتے ہیں۔ تاریخ کے بڑے بڑے کام ان لوگوں نے انجام دیے ہیں جو غریب خاندان میں پیدا ہوئے۔ جو لوگ خوش حالی کے ماحول میں پیدا ہوئے انھوں نے کوئی بڑا کام نہیں کیا۔

اس طرح کی مثالیں بے شمار ہیں۔ فرانس کا لوئی بریل (وفات ۱۸۵۲) تین سال کی عمر میں اندھا ہوگیا تھا۔ اس اندھے شخص نے وہ عظیم کام انجام دیا جس کو بریل سسٹم کہا جاتا ہے۔ اس سسٹم کے ذریعے تاریخ میں پہلی با ر ایسا ہوا کہ اندھے بھی لکھنے اور پڑھنے لگے۔ حتی کہ اندھوںنے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور وہ یونیورسٹیوں کے پروفیسر بنے۔ مثلاً ڈاکٹر طٰہ حسین (مصر، وفات ۱۹۷۳) وغیرہ۔ برطانیہ کااسٹیفن ہاکنگ اتنا معذور ہے کہ وہ وھیل چیئر پر رہتا ہے۔ مگر وہ موجودہ دنیا میں نظریاتی فزکس کا سب سے بڑا عالم مانا جاتا ہے۔وہ یونیورسٹی میں نیوٹن کی سیٹ پر فائز ہے۔

دہلی ائر پورٹ پر میں ونڈو کی لائن میں بورڈنگ کارڈ لینے کے لیے کھڑا تھا۔ ائر پورٹ کا ایک آدمی جو بظاہر افسر دکھائی دیتا تھا اس نے کہا سر ، آپ کرسی پر بیٹھ جائیے ہم آپ کا چک ان (check-in) کرا دیتے ہیں۔ یہ سُن کر میرا دل بھر آیا۔ میں نے سوچا کہ کاش مرنے کے بعد آخرت کے مرحلے میں بھی میرے ساتھ ایسا ہی معاملہ ہو۔ وہاں بھی خدا کا کوئی فرشتہ آکر میرے معاملے کو آسان کردے۔

دہلی سے بنگلور تک کاسفر انڈین ائر لائنزسے ہوا۔ اس جہاز کو دہلی سے ساڑھے نو بجے روانہ ہونا تھا۔ مگر جہاز آدھا گھنٹہ لیٹ تھا۔ دہلی اوربنگلور کے درمیان پرواز کا وقت ڈھائی گھنٹے ہوتا ہے۔ پرواز کے دوران کچھ اخبارات مطالعے کے لیے دئے گئے۔ ان اخبارات سے کچھ سبق آموز آئٹم یہاں نقل کئے جاتے ہیں۔

انگریزی اخبار اسٹیٹس مَین (The Statesman) نئی دہلی کے شمارے ۲۰ جولائی ۲۰۰۵ میں ایک مضمون تھا۔ جس کا عنوان یہ تھا

US and Middle East.

اس میںبتایا گیا تھا کہ امریکا کی یہ کوشش کہ وہ ویسٹرن اسٹائل ڈیموکریسی کو مڈل ایسٹ اور ساؤتھ ایشیا میں ایکسپورٹ کرے، اُسی طرح ناکام ہوگئی جس طرح اس سے پہلے سوویت یونین کی طرف سے سوشلزم کو باہر کی دنیا میں ایکسپورٹ کرنے کی کوشش ناکام ہوگئی تھی۔ یہ بتاتے ہوئے مضمون نگار (Yevgeny Satanovsky) نے لکھا تھا کہ اس کا سبب یہ ہے کہ امریکا کے سیاسی حوصلوں کے مقابلے میںاس کی فوجی طاقت بہت محدود ہے

The problem is that the US pursues global interests but its military and economic resources are not unlimited. (p. 6)

یہ بات بالکل درست ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ امریکا کا عالمی توسیع کا منصوبہ ناکام ہوچکا ہے۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ امریکا کے توسیعی عزائم تو لامحدود تھے مگر اس کے مقابلے میں اس کی طاقت بہت محدود تھی۔ یہ اصول ہر ایک پر صادق آتا ہے، اس میں سُپر پاور اور غیر سپر پاور کے درمیان کوئی فرق نہیں۔خواہ فرد کا معاملہ ہو یا حکومت کا دونوں ہی کے لیے کامیابی کا اصول صرف ایک ہے— حوصلے اور امکان کے درمیان درست تناسب کو دریافت کرنا۔ اسی حکمت کا نام منصوبہ بندی یا پلاننگ ہے۔

انڈین ایر لائنز کا فلائٹ میگزین (Swagat) کے شمارہ جولائی میںایک مضمون کشمیر اور کشمیریت کے بارے میں تھا۔ لکھنے والے کا نام پوجا رتناکر(Pooja Ratnakar) تھا۔ مضمون نگار نے کشمیریت پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ کشمیریت تین چیزوں کے مجموعے کا نام ہے—بودھ رحم دلی، ہندو رواداری اور زندگی کے بارے میں مسلم ذوق اور زندہ دلی

It has been a mix of Budhist compassion, Hindu tolerance and Muslim zest for life. (p. 88)

اس اقتباس میں کشمیریت سے مراد عملی طورپر اسلام ہے۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ بدھ ازم اور ہندوازم کی امیج (تصویر) تو لوگوں کی نظر میں یہ ہو کہ بدھ ازم رحم دلی کا مذہب ہے اور ہندو ازم رواداری کا مذہب ۔ اس کے برعکس اسلام کی تصویر لوگوں کی نظر میں یہ ہو کہ اسلام محض ذوق وشوق کا مذہب ہے۔

اسلام کی یہ تصویر قرآن وحدیث کو پڑھنے سے نہیں بنی ، بلکہ وہ کشمیریوں کو دیکھنے سے بنی ہے۔ کشمیریوں کے درمیان ایک طرف تو اسلامی نظام اور نظامِ مصطفی کی دھوم لوگوں نے دیکھی۔ دوسری طرف کشمیریوں کا حال یہ ہے کہ ہر چیز میں ان کے یہاں ظاہری نمائش نظر آتی ہے۔ لذتی کھانوں سے لے کر شادی کی دھوم، اور گھر کی رسموں سے لے کر کلچرل سرگرمیوں تک ہر جگہ وہی منظر دکھائی دیتا ہے، جس کو مضمون نگار نے ذوق اور زندہ دلی (zest) سے تعبیر کیا ہے۔

کشمیر کی اس غیر موافق صورتِ حال کے باوجود کیوں ایسا ہوا کہ کشمیر کے خود ساختہ رہنماؤں نے کشمیر میںاسلامی نظام کا نعرہ بلند کیا، اور نظام مصطفی قائم کرنے کے نام پر ہنگامہ کھڑا کیا۔ اس کا سبب ایک غلط مفروضہ تھا جو تقریباً تمام مسلم علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ مثلاً پاکستان، افغانستان، ایران، مصر اور سوڈان وغیرہ۔

ہر جگہ نام نہاد اسلام پسندوں نے کہا کہ ان ملکوں کی عظیم اکثریت مسلمان ہے اس لیے یہاں اسلامی نظام قائم ہونا چاہیے۔ یہ ایک بے اصل بات ہے۔ اسلامی نظام کسی علاقے میں اس لیے نہیں قائم ہوسکتا کہ وہاں پیدائشی مسلمانوں کی اکثریت ہو۔ اسلامی نظام وہاں قائم ہوگا جہاں اسلامی کردار رکھنے والوں کی اکثریت ہو۔ یہی وہ بھیانک غلط فہمی تھی جس نے موجودہ زمانے میں اسلام کے نام پر اٹھائی جانے والی بڑی بڑی تحریکوں کو عملاً ناکام بنا دیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس بھیانک غلط فہمی کا سبب یہ ہے کہ لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ مسلم وہ ہے جو کلمہ گو ہو۔ حالاں کہ مسلم وہ ہے جو عارفِ کلمہ ہو نہ کہ صرف قائلِ کلمہ۔ اسلام کا آغاز کسی شخص کی زندگی میں اُس وقت ہوتا ہے جب کہ وہ اسلام کو بطور سچائی کے دریافت کرے۔ محض مسلم خاندان میں پیدا ہونا یا کلمے کو صحیح تلفظ کے ساتھ زبان سے بول دینا، یہ مسلم ہونے کے لیے کافی نہیں ۔

اس بھیانک غلط فہمی کا دوسرا نقصان یہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان جو بھی تحریک اٹھتی ہے وہ عملی اقدام سے اپنے کام کا آغاز کرتی ہے۔ حالاں کہ تحریک کا صحیح آغاز یہ ہے کہ افراد کے اندر فکری انقلاب پیدا کرنے سے اس کا آغاز کیا جائے۔ فکری تبدیلی سے آغاز ہی کا نام آغاز ہے، موجودہ حالت میں عملی اقدام سے آغاز کا نام آغاز ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے میں بہت سی تحریکیں بظاہر عملی دھوم دھام سے شروع ہوئیں مگر وہ جلد ہی بے نتیجہ طور پر ختم ہوگئیں۔

قرآن میں ارشاد ہوا ہے یا ایہا الذین آمنوا آمنوا (النساء ۱۳۶) اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ پیدائشی مسلمان جو کلمہ گوئی کی بنا پر اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں، ان کو چاہیے کہ وہ دوبارہ اسلام کی معرفت حاصل کریں اور شعوری معنوں میں حقیقی مومن بنیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت کی نجات گروہی بنیاد پر نہیں ہوگی۔ چنانچہ قرآن میں مسلمانوں کو دوسروں کے ساتھ یکساں درجے میںشامل کرتے ہوئے چار مذہبی گروہوں کا ذکر ہے—مسلم گروہ، یہودی گروہ، مسیحی گروہ، اور صابی گروہ۔ ان تمام مذہبی گروہوں کو ایک ساتھ بریکٹ کرکے ارشاد ہوا ہے کہ ان گروہوں میں سے جو افراد ایسا کریں کہ وہ حقیقی معنوں میں ایمان اور عمل صالح کا ثبوت دیں، وہ اپنے اندر باشعوری ایمان پیدا کریں اور عملی اعتبار سے خدا پرستانہ زندگی اختیار کریں تو ایسے افراد خدا کی پکڑ سے محفوظ رہیں گے اور ان کو ابدی جنتوں میں داخل کیا جائے گا۔ گویاکہ خواہ مسلمانوں کا نسلی گروہ ہو یا دوسرے مذہبوں سے منسوب گر وہ، ہر ایک کو یہ کرنا ہے کہ وہ سچے خدائی مذہب کو از سرِ نو دریافت (rediscover) کرے۔ اس ری ڈسکوری کے بغیر مسلم گروہ سمیت کسی کا مذہب بھی قابلِ اعتبار نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سفرسے تین دن پہلے ۱۷ جولائی ۲۰۰۵ کو اتوار کا اسپریچول کلاس سی۔وَن (C-1) نظام الدین ویسٹ مارکیٹ میںتھا۔ یہاں بلڈنگ کے ایک پورے فلور کو خالی کرکے اس کو ایک ہال کی صورت میں از سر نو بنایا گیا ہے۔ یہ فلور اب انشاء اللہ اسی خاص مقصد کے لیے استعمال ہوگا۔اس اسپریچول کلاس میں عورت اور مرد دونوں ایک ہال میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آج کی ملاقات میں اس پر ایک صاحب نے اعتراض کیا کہ وہاں عورت اور مرد دونوں ایک ہال میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ عورتوں کے لیے ایک علیحدہ کمرہ مخصوص ہونا چاہیے تھا۔ یہ صاحب خود بھی ۱۷ جولائی کے اس پروگرام میں شریک تھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ معاملے کو دیکھنے کے دو مختلف زاویے ہیں۔ ایک ہے فقہی زاویہ اور دوسرا ہے دعوتی زاویہ۔ فقہی نقطۂ نظر سے آپ کی بات درست ہوسکتی ہے مگر دعوتی مصلحت کے اعتبار سے دیکھیے تو یہاں جو ہورہا ہے وہی آپ کو درست نظر آئے گا۔ آپ چوں کہ دعوتی کام نہیں کررہے ہیں اس لیے آپ اس قسم کی رائے کا اظہار کررہے ہیں۔ اگر آپ اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے میں دعوتی کام کریں تو آپ کی سمجھ میں آئے گا کہ یہاں جو ہورہا ہے عملی طورپر وہی درست ہے۔ یہ دراصل تالیفِ قلب کا مسئلہ ہے اور تالیفِ قلب کی اہمیت کو صرف داعی انسان سمجھ سکتا ہے۔

تالیف قلب کی اہمیت اسلام میں بہت زیادہ ہے۔ اسی لیے زکوۃ کی آٹھ مَدوں میں سے ایک مد تالیفِ قلب کی ہے۔ تالیف قلب سے مراد وہی چیز ہے جس کو دل جوئی کہا جاتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے دلوں کو نرم کیا جائے تاکہ وہ کھلے ذہن کے ساتھ اسلام پر غور وفکر کرسکیں۔

تالیفِ قلب ایک دعوتی ضرورت ہے۔ اس کا مقصد دعوت کے موافق ماحول بنانا ہے۔ اس کی مختلف صورتیں ہیں۔ مثلاً لوگوں کے لیے کوئی مفید رفاہی کام کرنا، لوگوں کے مزاجی بگاڑ کی بنا پر ان کی رعایت کرنا، داعی اور مدعو کے درمیان حالات کو معتدل بنانا، لوگوںکو کسی نوعیت کا مادّی فائدہ پہنچانا تاکہ وہ اس سے متاثر ہو کر اسلام پر غور وفکر کرسکیں۔ خلاصہ یہ کہ بزنس میں جس چیز کو کسٹمر فرینڈلی سلوک کہا جاتا ہے اسی کو مدعو فرینڈلی کے طورپر استعمال کرنے کا نام تالیفِ قلب ہے۔

جس جہاز سے میں نے دہلی سے بنگلور کا سفر کیا وہ پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ اس کے بیش تر مسافر غالباً تاجر تھے۔ یہ اس بات کی ایک علامت ہے کہ پچھلے کچھ برسوں کے دوران دہلی اور بنگلور کے درمیان کاروبار بہت بڑھ گیا ہے۔ جہاز میں کئی لوگ بزنس کے موضوع پر بات کرتے ہوئے نظر آئے۔ فیملی کی ضرورت کے تحت سفر ہو تو جہاز میں عورت اور بچے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے برعکس جب سفر کرنے والے تاجر ہوں تو ہر ایک کے ہاتھ میں موبائل نظر آتا ہے۔ پرواز کے دوران موبائل کے استعمال کی اجازت نہیں۔ اس لیے پرواز شروع کرنے سے پہلے اور پرواز کے خاتمے پر بیش تر لوگ اپنے موبائل میں مشغول نظر آتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں بزنس کا نہایت گہرا تعلق کمیونکیشن سے ہوگیا ہے۔ اور موبائل اسی کمیونیکیشن کا ایک ذریعہ ہے۔

ہوائی جہاز بنگلور ایر پورٹ پہنچا تو یہاں پٹا پرتھی کی کانفرنس کے دو آدمی میری رہنمائی کے لیے موجود تھے۔ ایر پورٹ سے پٹا پرتھی کا سفر کار سے تقریباًچارگھنٹے کا ہوتا ہے۔ ایر پورٹ پر حلقہ الرسالہ کے کچھ لوگ بھی موجود تھے۔ یہ طے ہوا کہ پہلے شہر میں مسٹر اعجاز کے مکان پر جائیں۔ وہاں ظہر کی نماز اداکریں اور پھر آگے کے لیے روانہ ہوں۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔

مسٹر اعجاز اور ان کی اہلیہ سارہ فاطمہ نے بنگلور میں ایک ادارہ الفلاح کے نام سے قائم کیا ہے۔ مسٹر اعجاز احمدکے مکان پر کچھ لوگ اکھٹاہوگیے تھے۔ یہاں ان سے اسلامی موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔ ایک سوال یہ تھا کہ غیر مسلموں میں اسلام کا پیغام کیسے پہنچایا جائے۔ میں نے کہا کہ سب سے پہلا کام یہ ہے کہ ان لوگوں کو غیر مسلم یا کافر کہنا چھوڑ دیا جائے۔ حتی کہ دل سے بھی انھیں ایسا نہ سمجھا جائے۔ ان کو صرف انسان سمجھا جائے ۔ جب تک ایسا نہیں ہوگا ان کے لیے آپ کے دل میں سچی خیر خواہی پیدا نہیں ہوگی، اور سچی خیر خواہی کے بغیر دعوتی کام کا آغاز ہی نہیں ہوسکتا۔

میں نے کہا کہ ایک بزنس مین لوگوں کو صرف کسٹمر کے روپ میں دیکھتا ہے، وہ ان کو مسلم اور کافر، یا اپنی قوم اور غیر قوم کے الفاظ میں نہیں بانٹتا، وہ سب کو یکساں طورپر انسان کے روپ میں دیکھتا ہے۔ اسی طرح داعی وہ ہے جو انسان کو اپنے اور غیر، یا دوست اور دشمن میں تقسیم نہ کرے بلکہ سب کے لیے شفقت کا وہی جذبہ رکھے جو ایک ماں کے دل میں اپنی اولاد کے لیے ہوتا ہے۔ رسول اللہ نے عرب میں دعوتی کام شروع کیا تو آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ اے کافرو، بلکہ یہ فرمایا کہ اے انسانو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پیغمبر لوگوں کی ہدایت کا حریص ہوتا ہے۔ یہی پیغمبر کا سب سے بڑا دعوتی سرمایہ ہے۔ آپ قرآن کو پڑھیں تو اس میں اس قسم کی کوئی چیز نہیں ملے جس کو آج کل پروگرام کہا جاتا ہے۔ مگر رسول اور اصحابِ رسول کے دل میں لوگوں کی ہدایت کے لیے بے پناہ شفقت اور خیر خواہی موجود تھی۔ یہی جذبہ ان کے لیے دعوتی کام کا سب سے بڑا رہنما بن گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ داعی ایک پروگرام ساز انسان ہوتاہے۔ وہ ہر موقع کے لیے خود ہی پروگرام وضع کرلیتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ آج کل دعوت کے نام پر بہت سے کام کیے جارہے ہیں مگر میرے علم کے مطابق یہ سب مطلوب دعوتی کام نہیں۔ ان کاموں میں سے کوئی ڈبیٹ ہے، کوئی اصلاح ہے، کوئی کمیونٹی ورک ہے اور کوئی قومی یا سیاسی کام ہے۔ بذاتِ خود یہ سب کام مفید ہوسکتے ہیں، مگر ان کاموں کو دعوت الی اللہ کا کام نہیں کہا جاسکتا ۔

۲۰ جولائی کو چند گھنٹے مسٹر اعجاز کے مکان پر گذارکر دو بجے بنگلور سے پٹا پرتھی کے لیے روانگی ہوئی۔ سڑک اچھی تھی۔ بارش کی وجہ سے سڑک کے دونوں طرف دور تک ہریالی دکھائی دے رہی تھی۔ یہ پورا سفر اسی ماحول میں ہوا۔ سبزہ نہ صرف زمین کا حسن ہے بلکہ وہ زمین کا ایک زندگی بخش عنصر ہے۔ زمیں پر خالق نے ہمارے لے جو لائف سَپورٹ سسٹم قائم کیا ہے اس میں سرسبز درختوں کا کردار بے حد اہم ہے۔ درختوں کا منظر خدا کی صفتِ رحمت کا مشاہدہ کراتا ہے، درخت نہیں تو زندگی بھی نہیں۔

موجودہ زمانے میں کمیونکیشن کے ذرائع کی بنا پر سفر نے ایک نئی صورت اختیار کرلی ہے۔ مثلاً دہلی کے ایرپورٹ پر ہم کو کانفرنس والوں کا ٹیلی فون ملا، جس میں انھوں نے نام کے ساتھ بتا دیا کہ کون لوگ ہماری رہنمائی کے لیے بنگلور ایر پورٹ پر موجود ہوں گے۔ اسی طرح جب میں بنگلور سے بذریعے کار آگے جارہا تھا تو موبائل کے ذریعے مسلسل کانفرنس کے دفتر (پٹا پرتھی) سے ربط قائم تھا۔ کانفرنس کے ذمے داروں کو پیشگی طورپر معلوم تھا کہ اب ہماری گاڑی کس مقام سے گذر رہی ہے۔

بنگلور اور پٹا پرتھی کے درمیان ہم لوگ کچھ دیر کے لیے ٹھہرے۔ یہ چِک بالا پور تھا۔ یہاں ایک صاف ستھرا ریستوران موجود تھا، جس میں کھانے پینے کے سامان کے علاوہ دوسری انسانی ضروریات کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔ اس قسم کا ریستوران بھی دَورِجدید کی ایک دین ہے۔ قدیم زمانے میں اس قسم کے عوامی ریستوران کا تصور موجود نہ تھا۔ اس قسم کی سہولت صرف بڑے دولت مندوں کے لیے ممکن تھی۔ جن کے بارے میں شاعر نے کہا تھا

منعم بہ کوہ ودشت وبیا باںغریب نیست ہر جا کہ رفت خیمہ زد و بارگاہ ساخت

۲۰ جولائی ۲۰۰۵ کی شام کو ہم لوگ پٹا پرتھی پہنچے۔ پٹا پرتھی آندھرا پردیش کا ایک گاؤں تھا۔ سائی بابا اسی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ اب اس گاؤں کو ترقی دے کر ایک شہر کی مانند بنا دیا گیا ہے۔ یہاں تمام شہری سہولتیں حاصل ہیں۔ تعلیم اور طبی خدمات کا اعلیٰ انتظام، جدید طرز کی لائبریری اور دوسری تمام ماڈرن سہولتیں یہاں موجود ہیں۔ یہ سائی سنٹر بہت بڑے رقبے میں واقع ہے۔ یہاں سائی بابا کا پرائیویٹ ائر پورٹ بھی بنا ہوا ہے۔ سر سبز درختوں اور کھلے میدانوں کے درمیان اس سنٹر میںہم کو چند دن گذارنا تھا۔ پٹا پرتھی کو اب انٹر نیشنل ولیج کہا جاتا ہے۔

مجھے اس سنٹر کے گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرایا گیا۔ یہ گیسٹ ہاؤس میرے ذوق کے مطابق تھا۔ یہاں تکلفات والی کوئی چیز نہ تھی۔ مگر سادگی، صفائی، سکون اور باقاعدگی جیسی چیزیں یہاں کامل طورپر موجود تھیں۔ یہ شور اور دھوئیں سے پاک ایک دنیا تھی۔ تازہ ہوا اور چڑیوں کی آوازیں یہاں کے ماحول کو ایسا بنائے ہوئے تھیں جیسے کہ آدمی فطرت کی آغوش میں جی رہا ہو۔

دعوت نامے کے اعتبار سے میں سائی سنٹر میں آیا تھا، مگر ماحول کے اعتبار سے میں گویا فطرت کا مہمان تھا۔ یہاں کا پورا ماحول گویا فطرت کا ایک تعارف تھا۔ صبح کے وقت یہاں اگرچہ لاؤڈسپیکرسے بلند ہونے والی اذان سنائی نہیں دیتی تھی، مگر صبح ہوتے ہی چڑیاں قدرتی مؤذن کا کام کرتی تھیں۔ وہ اپنی سُہانی آ واز میں بتاتی تھیں کہ فجر کا وقت ہوگیا اور صبح کی عبادت کا لمحہ شروع ہوگیا۔

یہ ایک انٹرنیشنل کانفرنس تھی۔ اس لیے یہاں دنیا کے مختلف مقامات کے لوگ آئے ہوئے تھے۔ ان لوگوں سے ملاقتوں کے درمیان مذہب، روحانیت، ہندوازم اور اسلام کے متعلق گفتگو ہوتی رہتی تھی۔ میرے ساتھی دہلی سے ہمارے یہاں کی چھپی ہوئی انگریزی کتابیں لے آئے تھے۔ یہ لوگوں کو مطالعے کے لیے دی گئیں۔ سائی بابا کو بھی کئی انگریزی کتابیں دی گئیں۔ جن کو انھوں نے خوشی کے ساتھ قبول کیا اور کہا کہ میں اور میرے ساتھی ان کتابوں کو پڑھیں گے۔ یہاں تمام لوگ انگریزی زبان بولتے تھے، خواہ وہ کوئی عام آدمی ہو یا خاص آدمی۔

ایک صاحب نے کہا کہ ہم تمام مذہبوں کو مانتے ہیں، ہر مذہب ہمارے نزدیک برابر ہے۔ آدمی جس مذہب کو بھی اختیار کرلے وہ سچائی کو پاجائے گا۔ میں نے کہا کہ اگر آپ یہ کہیں کہ ابتدائی طورپر تمام مذاہب یکساں تھے اور ہر مذہب میں سچائی موجود تھی تو ماضی کے اعتبار سے آپ کا یہ بیان بالکل درست ہوگا۔ مگر آپ کا یہ بیان حال کے اعتبار سے درست نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ آج آپ پرنٹنگ پریس کے زمانے میں ہیں۔ ہر مذہب کی کتابیں چھپی ہوئی ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں۔ مگر یہ آج کی بات ہے، قدیم زمانے میں ایسا نہ تھا۔ قدیم زمانے میں کتابیں لوگوں کے حافظے میں رہتی تھیں۔ وہ عوام تک نہیں پہنچی تھیں۔ اس بنا پر ان کتابوں میں تبدیلیاں ہوتی رہیں۔ چنانچہ آج قدیم زمانے کی کوئی بھی مذہبی کتاب اپنی اصلی حالت میں محفوظ نہیں۔

اسلام ساتویں صدی عیسوی میں آیا۔ جب کہ قدیم طرز کا کاغذ وجود میں آچکا تھا۔ جس کو پپائرس(Papyrus)کہا جاتا تھا۔اس زمانے میں کتابت کا فن ترقی کرچکا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پہلی بار ایسا ہوا کہ قرآن کاغذ پر لکھ کر باقاعدہ جلد کی صورت میں تیار کر لیاگیا۔ اس کے بعد لوگ اس کی نقل کرکے مزید جلدیں تیار کرتے رہے۔ یہاں تک کہ انیسویں صدی میں پرنٹنگ پریس کا زمانہ آگیا۔ اب قرآن کے نسخے چھاپ کر تیار کیے جانے لگے۔ اب قرآن کے مطبوعہ نسخے ہر گھر، ہر ادارے اور ہرلائبریری میں پہنچ گیے۔ اس طرح اب یہ امکان ہی باقی نہ رہا کہ قرآن میں کوئی تبدیلی کی جاسکے۔

اس طرح بطور ایک تاریخی حقیقت، نہ کہ صرف بطور عقیدہ، ایسا ہوا کہ قرآن مستند مذہبی متن کے طورپر باقی رہا۔ قرآن کے سوا کسی بھی مذہب کی کوئی مقدس کتاب ایسی نہیں جو اپنی اصل حالت پر آج باقی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اب کسی طالب ِ حق کے لیے علمی طورپر اس کے سوا کوئی اور صورت نہیں کہ وہ قرآن کو مستند کتاب کے طورپر لے اور اس سے ہدایت حاصل کرے۔

کانفرنس کے ایک اور صاحب سے گفتگو ہوئی۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ اسلام کو قرآن سے سمجھو، مسلمانوں کی زندگیوں سے اسلام کو نہ سمجھو۔ مگر سوال یہ ہے کہ قرآن اگر آپ کے کہنے کے مطابق، سچی کتاب ہے تو مسلمان جو قرآن کو مانتے ہیں، ان کی عملی زندگی میں قرآن کیوں نہیں۔ ایسے قرآن سے کیا فائدہ جو اپنے ماننے والوں کو اپنا پیروکار نہ بنا سکے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ قرآن کا معاملہ الگ ہے اور مسلمانوں کا معاملہ الگ۔ قرآن کی حیثیت ایک کتاب کی ہے جب کہ انسان موجود دنیا میں ٹسٹ کی حالت میں ہے۔ یہ ٹسٹ جس طرح دوسرے انسانوں کا ہے، اسی طرح وہ مسلمانوں کے لیے بھی ہے۔ ٹسٹ کے معاملے میں مسلمان اور دوسرے انسانوں میں کوئی فرق نہیں ۔ جس طرح دوسرے انسانوں کے لیے ہے کہ وہ ٹسٹ میں پورے اتریں یا پورے نہ اتریں، اسی طرح مسلمانوں کے لیے ہے کہ وہ ٹسٹ میں پورے اترتے ہیں یا پورے نہیں اترتے۔ قرآن آزادانہ طورپر معیار کی ایک کتاب ہے۔ خدا جس طرح دوسرے انسانوں کو قرآن کے معیار سے جانچے گا، اسی طرح وہ مسلمانوں کو بھی قرآن کے معیار سے جانچے گا، اور جو شخص اس معیار پر جیسا ثابت ہوگا ویسا ہی اس کے ساتھ معاملہ کیا جائے گا۔ اس معاملے میں مسلمان اور غیر مسلمان کے درمیان کوئی فرق نہیں۔

اس قیام کے زمانے میں کانفرنس کے شرکاء سے برابر ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ یہ ملاقاتیں زیادہ تر ناشتے اور کھانے کی میز پر ہوتی تھیں۔ یہی ہر کانفرنس کا طریقہ ہے۔ کانفرنس کی کارروائیوں کے درمیان تبادلۂ خیال کے مواقع بہت کم ہوتے ہیں۔ زیادہ تر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ چائے، ناشتے، اور کھانے کے اوقات میں ایک دوسرے سے تبادلۂ خیال کرتے ہیں۔

ایک بار گفتگو کے دوران ایک صاحب نے کہاکہ سائی بابا خدائی اَوتار (god incarnet) ہیں۔ میں نے کہاکہ موجودہ زمانے میں کئی افراد خدائی اوتار کہے جاتے ہیں۔ مثلاً پٹا پرتھی کے سائی بابا، شانتی گِری آشرم کے گُرو، ساؤتھ کوریا کے مسٹر مون، اور اس طرح کے دوسرے کئی لوگ۔ پھر اگر خدا ایک ہے تواس کے اوتار اتنے زیادہ کیوں۔ آپ اس کی توجیہہ کس طرح کریں گے۔ اس موضوع پر دیرتک گفتگو ہوئی، مگر وہ کوئی اطمینان بخش جواب نہ دے سکے۔ آخر میں انھوں نے کہا کہ ہم سب لوگ خدائی اوتار ہیں۔ آپ بھی ایک اوتار ہیں اور میں بھی ایک اوتار ہوں۔ ان کی یہ بات اور بھی زیادہ ناقابلِ فہم تھی۔ اس لیے میں نے گفتگو کا موضوع بدل دیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

۲۳ جولائی کے اجلاس میں میری تقریر تھی۔ میری تقریر کا موضوع ’’اسلام اینڈ پیس‘‘ تھا۔ مجھے آدھ گھنٹے کا وقت دیا گیاتھا۔ میں نے انگریزی میں اس موضوع پر اظہار خیال کیا، اور قرآن وحدیث کے حوالے سے اس کی وضاحت کی۔ میری کرسی اور سائی بابا کی کرسی قریب قریب تھی۔ سائی بابا میری تقریر کو بہت دھیان سے سنتے رہے۔ جب تقریر ختم کرکے میں اپنی کرسی پر بیٹھا تو سائی بابا نے اپنی مخصوص کرسی میری کرسی کے قریب کرتے ہوئے کہا

We have complete faith in the Qur'an.

جلسے کی کارروائی کے بعد سائی بابا نے مجھ سے دوبارہ ملاقات کی۔ یہاں اُن کا ایک خاص کمرہ ہے۔ اس کمرے میں وہ کبھی کبھی کسی خاس آدمی سے ملتے ہیں۔ مجھے اس کمرے میں لے جایا گیا۔ جہاں صرف دو کرسیاں تھیں۔ ایک سائی بابا کی مخصوص وھیل چیر اور دوسری، میرے لیے ایک کرسی۔ اس ملاقات میں سائی بابا نے وہی بات کہی جو وہ اپنی تقریر میں کہہ چکے تھے۔ اس کے علاوہ کوئی اور مزیدبات انھوں نے نہیں کہی۔ میرے ساتھی نے ان کو میری کچھ انگریزی کتابیں پیش کیں جن کو انھوں نے خوشی کے ساتھ قبول کیا اور کہا کہ یہ کتابیں ہماری لائبریری میں رہیں گی۔

سائی بابا نے اسی کے ساتھ اپنی مخصوص انگوٹھی مجھے دی۔ اس انگوٹھی کو ڈائمنڈ رِنگ کہا جاتا ہے۔ اس انگوٹھی کا یہ نام غالباً اس کی مفروضہ برکت کی وجہ سے ہوگا۔ کیوں کہ بظاہر یہ انگوٹھی عام قسم کی انگوٹھی تھی، وہ کوئی ڈائمنڈ رنگ نہ تھی۔ مشہور ہے کہ یہ ڈائمنڈ رنگ کسی کارخانے کی بنی ہوئی نہیں ہوتی، بلکہ وہ سائی بابا کی کرامت سے ان کے ہاتھ میں بن جاتی ہے۔ مگر مجھ کو وہاں ایسی کوئی کرامت دکھائی نہیں دی۔ مجھ کو تو یہی محسوس ہوا کہ یہ انگوٹھی ایک عام انگوٹھی ہے، وہ کوئی پُر اسرار انگوٹھی نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جلسے سے واپس ہوکر اپنے کمرے میں آیا تو یہاں دو صاحبان ملاقات کے لیے موجود تھے۔ یہ دونوں میڈیا کے آدمی تھے۔ انھوں نے مجھ سے مختلف قسم کے سوالات کیے۔ مثلاً ایک سوال یہ تھا کہ آپ یہاں کیسے آئے۔ کیا آپ سائی بابا کو اپنا گرو مانتے ہیں۔ کیا آپ سائی بابا کی باتوں سے متفق ہیں، وغیرہ۔ میں نے کہا کہ اس میں اختلاف یا اتفاق کی کوئی بات نہیں۔ یہاں ایک انٹرفیتھ کانفرنس ہورہی ہے۔ اس میں ہر مذہب کے لوگ بلائے گیے ہیں۔ مجھے بھی اسلام کے نمائندے کی حیثیت سے یہاں بُلایا گیا تھا۔ مجھ کو یہاں بولنے کے لیے جو موضوع دیا گیا وہ ’’اسلام اینڈ پیس‘‘ تھا۔ میںنے اس موضوع پرقرآن اور حدیث کی روشنی میں تقریر کی۔ جس طرح دوسرے لوگوں نے اپنے اپنے مذہب پر تقریر کی۔ ہر مقرر کو اپنی بات کہنے کے لیے تیس منٹ دیے گیے تھے۔

تقریر کے بعد کانفرنس کے کئی لوگ مجھ سے ملے۔ ہر ایک نے کہا کہ یہاں پانچ مذہب کے نمائندوں نے اپنے اپنے مذہب پر تقریریں کیں۔ مگر آپ کی تقریر سب سے زیادہ کلیر تھی، وہ پوری طرح ہماری سمجھ میں آئی۔ دوسرے لوگوں کی تقریریں زیادہ واضح نہیں تھیں۔

پٹا پرتھی میں کچھ مسلم لوگ بھی آباد ہیں۔ یہاں ان کی ایک چھوٹی مسجد بھی ہے۔ یہ مسجد سائی بابا نے خود اپنی طرف سے بنواکر مسلمانوں کو دی ہے۔ یہاں کی مسجد کے بارے میں مجھے آخر وقت میں معلوم ہوا۔ اس لیے میں خود اس مسجد کو دیکھنے کے لیے نہ جاسکا۔ یہاں رہنے والے ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ وہ بظاہر بہت خوش معلوم ہوتے تھے۔

جب سائی باباسے ملاقات کا وقت طے ہوا تو یہاں کے ایک صاحب نے کہا کہ سائی بابا ساری باتوں کو جانتے ہیں یہاں تک کہ ان کو آپ کے دل کا حال بھی معلوم ہو جاتا ہے۔ آپ کو اُن سے خود کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے، وہ اپنے آپ، آپ کو ساری بات بتادیں گے۔ مگر مجھے وہاں اس قسم کا کوئی تجربہ نہیں ہوا۔ میں سائی بابا کے مخصوص کمرے میں دیر تک اُ ن کے پاس اپنی کرسی پر بیٹھا رہا۔ مگرانھوں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی، جس کا تعلق میری ذات سے ہو۔ انھوں نے صرف یہ کہا کہ میں آپ کو جانتا ہوں۔ مسلم جَگت میں آپ کی جو مانیتا ہے اس کا ہم کو پتہ ہے۔ انھوں نے کچھ اور باتیں کہیں لیکن ان کی زبان پوری طرح میری سمجھ میں نہیں آئی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پٹا پرتھی کے زمانۂ قیام میں میں یہ سوچتا رہاکہ ایک شخص کو اتنی زیادہ مقبولیت کیسے حاصل ہوئی۔ کل ہی یورپ سے آنے والے ایک ہندو نے سائی بابا کو تین سو کروڑ روپیے کا چیک دیا۔ اِس طرح مسلسل انھیں لوگوں کا تعاون حاصل ہوتا رہتا ہے۔ اس سرمایے سے سائی بابا بہت بڑے بڑے کام کررہے ہیں، مثلاً اسکول، کالج اور اسپتال کا قیام وغیرہ۔ یہاں انتہائی جدید طرز کا ایک اسپتال ہے جہاں غریبوں کا علاج بالکل مفت کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ ہارٹ سرجری بھی مفت ہوتی ہے، وغیرہ۔

اصل یہ ہے کہ ہر آدمی اپنے اندر خدا کا شعور لیے ہوئے ہے۔ ہر آدمی ایک سپریم گاڈ پر یقین رکھتا ہے۔ سائی بابا یا اس طرح کے دوسرے لوگوں کو جو غیر معمولی رسپانس ملتا ہے وہ در اصل غلط انتساب کا نتیجہ ہے۔ لوگ اپنے خدائی جذبات کو اس طرح کے کسی انسان سے وابستہ کرلیتے ہیں۔ وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ان کی فطرت میں جس برتر طاقت کا شعور چھپا ہوا ہے، یہ انسان اسی کا ایک ظہور ہے۔ یہی غلط انتساب ہے جو موجودہ ساری دھوم کا اصل سبب ہے۔

ایک اور بات جو سمجھ میں آئی وہ یہ کہ قدیم زمانے کا فتنہ اگر شرک تھا تو موجودہ زمانے کا فتنہ مادّیت یا مال ہے، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے لکلّ امّۃ فتنۃ وفتنۃ امتی المال۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبوت محمدی کے ظہور کے بعد ایک زمانہ ایساآئے گا جب کہ مال یا مادّیت سب سے بڑا فتنہ بن جائے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پٹا پرتھی میں تقریباً پچاس ہزار لوگ جمع تھے۔ ان کی ننانوے فیصد تعداد ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھتی تھی۔ یہی منظر دوسرے ہندو پیشواؤں کے یہاں نظر آتا ہے۔ عورت اور مرد دونوں بہت بڑی تعدادمیں ان کے آشرموں میں آتے ہیں تاکہ ان کا آشیرواد لے سکیں۔ اس تمام بھیڑ کا محرّک صرف ایک ہے اور وہ ہے مادّی برکت حاصل کرنا۔ ایسے لوگوں کو اگر اسلام کا پیغام پہنچایا جائے تو وہ اس کی طرف اسی وقت متوجہ ہوںگے جب کہ انھیں اسلام میں مادّی فائدہ دکھائی دے، جیسا کہ گُرو لوگوں کے درشن اور آشیرواد سے وہ مفروضہ طور پر سمجھتے ہیں۔ گروؤں کی یہ ساری مقبولیت دراصل فرضی امیدوں کی تجارت (false hopes business) کے ہم معنی ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔

ایسی حالت میں اسلام کا مؤثر دعوتی اپروچ یہ ہوسکتا ہے کہ اسلام کے تصورِ جنت کو اُن کے سامنے نمایاں کیا جائے۔ لوگوں کو بتایا جائے کہ آپ لوگ اپنا جو مادّی محل بنانا چاہتے ہیں وہ موجودہ دنیا میں بننے والا نہیں۔ موت کے بعد جنت کی دنیا ہی میں آپ کو اپنی خوشیوں کا محل مل سکتا ہے۔ جس جنت کو آپ قبل از موت مرحلۂ حیات میں تلاش کررہے ہیں، وہ صرف بعد از موت مرحلۂ حیات میں حاصل ہوسکتا ہے۔میرے تجربے کے مطابق یہی اسلوب زیادہ مؤثر ہے۔ اس کو دین کی مادّی تعبیر نہیں کہا جاسکتا۔ کیوں کہ مادّی تعبیر ہمیشہ مادّی دنیا کے حوالے سے کی جاتے ہیں۔ جب کہ جنت کی بات جب بھی کی جائے گی آخرت کے حوالے سے کی جائے گی۔ اس کو جنتی تعبیر تو کہہ سکتے ہیں لیکن اس کو مادّی تعبیر نہیں کہا جاسکتا۔

ایک تعلیم یافتہ ہندو سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے میری بعض کتابیں پڑھی تھیں۔ ان کے سامنے میں نے اسلام کی مزید وضاحت کی۔ بظاہر وہ اسلام سے متاثر نظر آیے۔کچھ دیر سوچنے کے بعد انھوں نے کہاکیا کوئی آدمی بیک وقت دو مذہب کو مان سکتا ہے۔اس جملے سے اُن کا مطلب یہ تھا کہ ہندو دھرم کو چھوڑے بغیر کیا میں اسلام کو اختیار کرسکتا ہوں۔

میں نے کہا کہ مذہب محض رسم یا کلچر کا نام نہیں، مذہب دراصل سچائی کا نام ہے۔ سچائی لازمی طورپر یقین (conviction) چاہتی ہے اور یقین کے لیے وحدت ضروری ہے۔ آپ یقین کے ساتھ صرف ایک عورت کو اپنی ماں بنا سکتے ہیں۔ کئی عورتوں کے ساتھ ماں والا تعلق قائم ہونا ممکن نہیں۔ یہی معاملہ مذہب کا ہے۔ کسی ایک ہی مذہب کے بارے میں یقین کی نفسیات آپ کے اندر جاگ سکتی ہے۔ کئی مذہب کو یکساں ماننے کی صورت میں آپ کا یقین بکھر جائے گا اور آپ حقیقی یقین کی نعمت سے محروم ہوجائیں گے۔

میں نے کہا کہ اس معاملے میں صحیح فارمولا یہ ہے کہ —یقین ایک مذہب پر، احترام ہر مذہب کا۔ آپ کو چاہیے کہ آپ اس فارمولے پر عمل کریں کہ ایک مذہب پر چلو، اور سارے مذہبوں کا احترام کرو

Fallow one and respect all.

میں نے کہا کہ اکثر مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی لانے کی بات کی جاتی ہے۔ اس معاملے میں صحیح بات یہ ہے کہ مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان ہم آہنگی لائی جائے۔ جہاں تک مذاہب کا تعلق ہے، تو یہ ایک حقیقت ہے کہ مختلف مذاہب کے درمیان عقیدہ یا تھیالوجی میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ہر مذہب کا آدمی اپنے مذہب کی کتاب کو مقدس سمجھتا ہے۔ ٹکراؤ مختلف کتابوں کے درمیان نہیں ،بلکہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان ہے۔ اس لیے اس معاملے میں صحیح فارمولا یہ ہے کہ مذاہب کو اپنی حالت پر رکھتے ہوئے ان کا احترام کیا جائے اور مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان باہمی احترام کا مزاج پیدا کیا جائے۔

یہ کانفرنس بہت بڑی کانفرنس تھی۔ اس میں شرکت کرنے والے ننّانوے فیصدہندو لوگ تھے۔ صرف کچھ افرادمسلم یا سِکھ یا عیسائی فرقوں سے تعلق رکھنے والے ملے۔ اس معاملے میں ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا، یہ کوئی اچھی علامت نہیں۔ ضرورت یہ ہے کہ مختلف مذاہب کے لوگوں کے درمیان انٹریکشن کلچر(culture of interaction) کو رواج دیا جائے۔ ملنے جُلنے کے ہرموقع کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے۔ ہر مذہب کے لوگ دوسرے مذہب کے لوگوں کے درمیان جائیں اور ان کو جاننے اور ان سے سیکھنے کی کوشش کریں۔

میں نے کہا کہ بَروقت یہ صورتِ حال ہے کہ ہر مذہب کے لوگ شعوری یا غیر شعور طورپر اپنے مذہب کو جامد سمجھتے ہیں۔ ان کاخیال ہے کہ مذہب کچھ لگے بندھے رسوم کا مجموعہ (set of rituals) ہے۔ وہ نہ گھٹتا ہے اور نہ بڑھتا ہے۔ خود مسلمانوں میں آج بھی یہی عقیدہ بیٹھا ہوا ہے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ الإیمان لایزید ولاینقص (ایمان نہ بڑھتا ہے اور نہ گھٹتا ہے)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ ایک غیر فطری اور غیر واقعی بات ہے۔ یہ غیر فطری نظریہ مذہب کو جامد رسوم یا آداب (etiquete) سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ ہر مذہب میں (اور خود مسلمانوں کے یہاں) ایسا ہوا ہے کہ جسمانی افعال کو شرعی افعال سمجھ لیاگیا۔ مثلاً نماز کو بدنی عبادت کہتے ہیں۔ حالاں کہ یہ درست نہیں۔ نماز اپنی حقیقت کے اعتبار سے قلبی عبادت ہے۔ بدنی افعال صرف اس کا ظاہری حصہ ہیں۔ یہی معاملہ ہر مذہب میں ہوا ہے۔ ہر مذہب میں کچھ ظاہری افعال اور رسوم کو مذہب سمجھ لیاگیا ہے۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ ان افعال او رسوم کو ظاہری طورپر ادا کرنے سے مذہب کے تقاضے پورے ہوجاتے ہیں اور ان کو ادا نہ کرنے سے مذہب کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔ حالاں کہ مذہب اپنی حقیقت کے اعتبار سے داخلی اصلاح کا نام ہے نہ کہ کچھ ظاہری حرکات کا نام۔اس غلط تصور کا ایک بہت بڑا نقصان ہوا۔ وہ یہ کہ ہر مذہبی گروہ میں بظاہر کچھ مخصوص افعال اوررسوم کی دھوم تو خوب جاری ہے مگر داخلی حقیقت کے اعتبار سے ہر ایک کے یہاں مکمل خلا پایا جاتا ہے۔

مذہب کا سب سے بڑا رول یہ ہے کہ وہ آدمی کو سچائی سے متعارف کرتا ہے۔ اس تعارف یا دریافت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے ذہن میں ایک ہلچل پیدا ہوجاتی ہے، اس کی سوچ میں ایک انقلاب آجاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر ذہنی ارتقاء کا ایک عمل جاری ہوجاتا ہے۔ وہ ہر دن سچائی کی دریافت کے نیے مراحل طے کرنے لگتا ہے۔ اُس پر ہر روز حقیقت کے نیے دروازے کھلنے لگتے ہیں۔

مثلاً مسلمانوںمیں ہر سال عید الاضحی کے موقع پر جانور ذبح کیے جاتے ہیں۔ اس ذبح کو اگر آپ محض ایک رسم سمجھیں تو جانور کے ذبح کرتے ہی آپ کا مذہبی عمل پورا ختم ہوجائے گا۔ ایسی صورت میں ذبح کا عمل ایک جامد عمل ہوگا۔ اس میں آپ کو نہ کوئی چیز گھٹنے والی دکھائی دے گی اور نہ بڑھنے والی۔ ذبح کے بعد آپ مطمئن ہوجائیں گے اور یہ سمجھیں گے کہ ذبح کے معاملے میں میری جو شرعی ذمے داری تھی وہ میںنے ادا کردی۔

لیکن اگر ذبح آپ کے نزدیک ایک شعوری معاملہ ہو تو آپ یہ محسوس کریں گے کہ جانور ذبح کرنے پر معاملہ ختم نہیں ہوا۔ بلکہ وہ تو صرف ایک آغاز تھا۔آپ کا احساس یہ ہوگا کہ ذبحِ حیوان کے بعد اب ذبح خویش کی بار ی ہے۔اب آپ کو مزید شدت کے ساتھ خدا پرستانہ زندگی پر قائم رہنا ہے۔ خواہ قربانی کی سطح پر جاکراس کوکرنا پڑے۔

اپنے ذاتی تجربے سے میں یہ سمجھا ہوں کہ اختلاط (interaction) بہت ضروری ہے۔ جو لوگ اپنے محدود حلقے ،یا اپنے رشتے داروں یا دوستوں میں رہتے ہیں ان کا ذہنی ارتقاء نہیں ہوتا، وہ بہت سی باتوں سے بالکل بے خبر رہ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ اپنے اور غیر کا فرق کیے بغیر لوگوں سے ملتے ہیں، اور ڈسکشن کرتے ہیں اُن کا ذہنی ارتقاء دوسروں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس معاملے کا ایک تجربہ مجھے خود موجودہ سفر میں بھی ہوا۔

پٹا پرتھی کے سفر سے پہلے میری ملاقات دہلی میں ایک صاحب سے ہوئی جو ایک بڑے مدرسے میں تدریس کا کام کرتے ہیں۔ اُن سے اِس سفر کا ذکر ہوا تو انھوں نے کہا کہ سائی بابا کے ماننے والے تو اُن کو خدا کہتے ہیں، اس قسم کا عقیدہ کھلا ہوا شرک ہے۔ اس مشرکانہ ماحول میں جانا آپ کے لیے درست نہیں۔ مگر اس کانفرنس میں شرکت کے بعد مجھے ایک ایسی حقیقت دریافت ہوئی جو دعوتی کام کرنے والوں کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہاں مجھے معلوم ہوا کہ سائی بابا خود تو اپنے کو خدا نہیں بتاتے ہیں، مگر ان کے معتقدین ان کے بارے میں ایسا ہی کہتے ہیں۔ مگر اہم بات یہ ہے کہ اس کانفرنس میں مجھے اسلام پر بولنے کے لیے بلایا گیا۔ کسی شرط کے بغیر ایک عظیم مجمع کے سامنے مجھے اسلام پر بولنے کا موقع دیا گیا۔ میں نے اپنی تقریر میںصاف طورپر کہا کہ اسلام کا مقصد ہے انسان کو خدا کا پرستار (God's worshiper) بنانا۔ سائی بابا کے معتقدین ان کی حد درجہ تعظیم کرتے تھے۔ مگر میں یہاں اسی طرح رہا، جس طرح سیکولر کانفرنسوں میں رہتا ہوں۔ میری تقریر کے بعد کسی نے اس پر اعتراض نہیں کیا، بلکہ ہرایک نے اس پر اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ خود سائی بابا نے کہا کہ ہم اپنے اسکولوں میں قرآن پڑھاتے ہیں اور ہم اس پر پورا عقیدہ رکھتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس تجربے سے مجھے ایک اہم حقیقت کا علم ہوا۔ وہ یہ کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی آدمی ایک لفظ بولتا ہے وہ اس لفظ کو خود اپنے ذہن کے اعتبار سے بولتا ہے مگر سننے والا اس کو اپنے ذہن کے اعتبار سے لے لیتا ہے۔ اس سے غیر ضروری قسم کے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ مثلاً سیکولر ازم کے لفظ کو لیجیے، جدید تعلیم یافتہ لوگ سیکولرازم کا لفظ کثرت سے استعمال کرتے ہیں۔ اس کو سُن کر مذہبی لوگ غصہ ہوتے ہیں۔ وہ سمجھ لیتے ہیں کہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ مذہب کا دشمن ہے۔ حالاں کہ یہ صرف سمجھنے کا فرق ہے۔ جدید تعلیم یافتہ طبقہ سیکولرازم کو سادہ طورپر ایک جمہوری طریقے کے معنی میں لیتا ہے، اس کے برعکس مذہبی طبقہ سیکولرازم کا ترجمہ ’’لادینیت‘‘ کرکے اُس کو اینٹی مذہب کے معنی میں لے لیتا ہے۔ اس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔حالاں کہ سیکولرازم صرف ایک غیر جانب دارانہ پالیسی کا نام ہے نہ کہ کسی مخالفانہ پالیسی کا نام ۔

یہی معاملہ غالباً خدا کے لفظ کا ہے۔ سائی بابا جیسے لوگوں کے حلقے میں خدا کا لفظ غالباً صرف ایک علامتی لفظ کے طورپر بولا جاتا ہے۔ عملاً وہ گُرو یا مُرشد کے ہم معنی ہے۔ مگر مسلمان جب اس کو سنتا ہے تو وہ اپنے تصور کے مطابق، خداکو اللہ کے معنٰی میں لے لیتا ہے۔ اور اس طرح وہ ایسے لوگوں کے بارے میں منفی نفسیات کا شکار ہوجاتا ہے۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ردّ عمل واقعے کے خلاف ہے اورلوگوں کے لیے غیر ضروری مسائل پیدا کرنے والا ہے۔

۲۳ جولائی ۲۰۰۵ء کو میں پٹا پرتھی سے بنگلور گیا۔ ۲۳ جولائی کی ملاقات میں سائی بابا نے پوچھا تھا کہ آپ کب جارہے ہیں۔ میںنے کہا کہ میں یہاں سے بنگلور جاؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے ہماری گاڑی آپ کو لے جائے گی۔ میںنے اس کو زیادہ اہمیت نہیںدی تھی۔ مگر میںنے دیکھا کہ سائی بابا کے آدمی بار بار میرے پاس آنے لگے اور سفر کے بارے میں دریافت کرنے لگے۔ سنٹر کی خاص گاڑی ٹھیک وقت پر گیسٹ ہاؤس پہنچ گئی۔ اس سے روانہ ہوکر میں مغرب کے وقت بنگلور پہنچا۔ بنگلور میں مسٹر اعجاز احمد کے مکان پر تین دن قیام رہا۔

پٹا پرتھی اور بنگلور کے درمیان کار کا سفر حسب معمول تھا، سڑک عام طورپر اچھی ـتھی اور موسم بھی خوشگوار تھا۔ سائی سنٹر کی طرف سے راستے میں کھانے پینے کے لیے بہت سی چیزیں دے دی گئی تھیں مگر سفر میں کھانے پینے کا مجھے زیادہ ذوق نہیں۔ سفر کے دوران جو تجربے ہوتے ہیں وہ ایک صاحبِ معرفت آدمی کے لیے روحانی غذا بن جاتے ہیں۔ ایسی حالت میں مادّی غذا اس کے لیے ایک ثانوی چیز کا درجہ حاصل کرلیتی ہے۔

بنگلور ۱۸۳۰ سے کرناٹک کی راجدھانی ہے۔ پہلے اس پورے علاقے کو میسور اسٹیٹ کہا جاتا تھا۔ بنگلور انڈیا کا چھٹا سب سے بڑا شہر ہے۔ اس کے قریب دو ندیاں بہتی ہیں—اَرکاوتی اور کَنوا۔ یہ دونوں ندیاں کاویری سے ملی ہوئی ہیں۔

برٹش دور سے پہلے بنگلور سلطان ٹیپو کی ریاست کا ایک حصہ تھا۔ سلطان ٹیپو کا مقبرہ سرنگا پٹم، یہاں سے قریب واقع ہے۔ بنگلور میں ہمارے ایک ساتھی ڈاکٹر احمد سلطان تھے۔ وہ سلطان ٹیپو کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ عجیب وغریب خصوصیات کے حامل تھے۔ پہلے وہ نوابی مزاج کے آدمی تھے مگر ماہنامہ الرسالہ پڑھ کر وہ بالکل بدل گیے۔ بنگلور میں الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ کو پھیلانے میں ان کا کافی حصہ تھا۔ وہ سگریٹ بہت زیادہ پینے کے عادی تھے۔ حتی کہ ان کا حال یہ تھا کہ وہ کھانا کم کھاتے تھے اور سگریٹ زیادہ پیتے تھے۔ تمباکو نوشی کی اس کثرت سے ان کی صحت خراب ہوگئی تھی۔ چنانچہ کم عمری میںہارٹ اٹیک سے اچانک ان کا انتقال ہوگیا۔

بنگلور میں عرصے سے عبداللہ بَرمی صاحب الرسالہ مشن کے تحت دعوتی کام کررہے ہیں۔ انھوں نے اس سلسلے میں کافی کام کیا ہے۔ لیکن بنگلور کے اس سفر میں ان سے ملاقات نہ ہوسکی۔ بعد کو ان سے ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی۔ عبداللہ برمی صاحب نہایت مخلص آدمی ہیں اور اسی کے ساتھ ان کے اندر دعوت الی اللہ کا جذبہ بھر پور طورپر پایا جاتا ہے۔

بنگلور کی تاریخ سے ایک اہم واقعہ وابستہ ہے۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ پچھے زمانے میں ہندومسلم تعلقات کتنے زیادہ خوش گوار تھے۔ بنگلور کے قیام میں مجھے ۱۵۶ صفحے کی ایک با تصویر انگریزی کتاب ملی۔ اس کتاب کا نام یہ تھا

Bangalore: Scenes from an Indian city.

اس کتا ب میں بنگلور کی تاریخ کے بارے میں جو باتیں درج تھیں اس میں سے ایک بات یہ تھی کہ قدیم زمانے میں مسلم نواب نے بنگلور کا علاقہ شیواجی کی فیملی کو بطور جاگیر دیا تھا

Around 1637 Bangalore was conqured by the Bijapur Muslim sultans and Shahaji Bhonsle, father of Shivaji, was given Bangalore, along with a few other towns in Karnataka, as jagir. (p. 13)

بنگلور میں ایک بڑا ادارہ ہے جو ’’الامین‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ اس ادارے کے تحت بہت سے اسکول اور کئی کالج چل رہے ہیں۔ اس ادارے نے تعلیم اور اقتصادیات جیسے تعمیری میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔

الامین کے ایک ذمے دار پروفیسر عطاء اللہ صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے الامین کے بارے میںبہت سی باتیں بتائی، پھر انھوں نے الامین کالج میں آنے کی دعوت دی۔ چنانچہ میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ۲۴ جولائی ۲۰۰۵ کو وہاں گیا۔ وہاں طلبا اور اساتذہ سے ملاقاتیں ہوئیں۔ اس کے علاوہ، وہاں دو خطابات ہوئے۔ ایک ، ادارے کے مسلم اساتذہ کے درمیان، اور دوسرا، ادارے کے غیر مسلم اساتذہ کے درمیان۔ دونوں خطاب کے بعد سوالات کیے گیے، جن کا میںنے جواب دیا۔ دونوں خطابوں میںاسلام اور مسلمانوں کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ میںنے اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ مسلمانوں کو سب سے زیادہ توجہ تعلیم پر دیناچاہیے۔

ایک بات میں نے یہ کہی کہ موجود زمانے میںعلم کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ قدیم روایتی دور میں علم کا دائرہ بہت محدود تھا، مگر آج ہر چیز کا تعلق علم سے ہوگیا ہے۔ آج کوئی بھی چھوٹی یا بڑی چیز ایسی نہیں جس کا تعلق علم سے جڑا ہوا نہ ہو۔ میرا احساس یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ انھوں نے علم کی اس جدید اہمیت کو نہیں سمجھا۔ حتی کہ میرے نزدیک، سرسید احمد خاں بھی علم کی اس جدید اہمیت سے صرف جزئی طورپر باخبر تھے۔

مغل دور میں ہندستان میںفارسی زبان سرکاری زبان تھی۔ فارسی زبان جاننے والوں کو سرکای ملازمتیں ملتی تھیں۔ برطانوی دَور میں جب انگریزی زبان کو سرکاری زبان بنایا گیا تو مسلمان اچانک سرکاری ملازمتوں سے محروم ہوگیے۔ یہی سرسیدکا اصل کنسرن تھا۔ سرسید چاہتے تھے کہ مسلمان انگریزی زبان پڑھیں تاکہ ان کو سرکاری ملازمتیں ملیں۔ چنانچہ انھوں نے اسی مقصد کے لیے انگریزی تعلیم کے ادارے قائم کیے، مگر یہ جدید تعلیم کا بہت محدود تصور تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں ماڈرن ایجوکیشن کا تعلق پوری زندگی سے ہوچکا تھا، نہ کہ محدود طور پر صرف سرکاری ملازمت سے۔ مگر مسلم رہنماؤں نے اس حقیقت کو نہیں سمجھا اور مسلمانوں کو پچھڑے پن کی صورت میں اس کی بھاری قیمت دینی پڑی۔

الامین کالج میں ایک خاتون مسز نگار نے سوال کیا کہ نَوجوانوں کو مذہب کی طرف کس طرح لایا جائے۔ میں نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے یہ جانیے کہ آج کل کے نوجوان مذہب سے کیوں دور ہورہے ہیں۔ میرے نزدیک اس کے اصل ذمّے دار مذہب کے نمائندے ہیں۔ ان لوگوں نے نئی نسل کے سامنے مذہب کو وقت کے اسلوب میں پیش نہیں کیا۔ نئی نسل، کالج اور یونیورسٹی میں سیکولر علوم کو جس اسلوب میں پڑھتی ہے، اُس اسلوب میں اس کو مذہب کی تعلیم نہیں ملتی۔ یہی فرق نئی نسل کی مذہب سے دوری کا اصل سبب ہے۔ضرورت یہ ہے کہ اس فرق کو ختم کیا جائے۔ مذہب کو بھی اُسی عقلی اسلوب میں پیش کیا جائے جس عقلی اسلوب میں یہ لوگ سیکولرعلوم کو پڑھتے ہیں۔ اس کے سوا کوئی اور تدبیر نئی نسل کو مذہب کے قریب لانے والی نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

بنگلور کے زمانۂ قیام میں میرا ایک پروگرام یہاں کے الامین کالج میں تھا۔ اس پروگرام کی تفصیلی رپورٹ بنگلور کے اردو روزنامہ سالار (۳۰ جولائی ۲۰۰۵) میں شائع ہوئی۔ رپورٹر نے لکھا تھا کہ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’’اسلامی تاریخ ایسے بے شمار واقعات سے بھری پڑی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بار بار اقلیت میںرکھ کر بھی اکثریت پر حکومت کرنے کا موقع عنایت فرمایا۔ لہذا ہندستانی مسلمانوں کو اپنے کو غیر محفوظ نہیں سمجھنا چاہیے اور چیلنجوں کے ساتھ جو مواقع ملتے ہیں ان سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔‘‘

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس رپورٹ میںاخبار کے رپورٹر نے نادانستہ طورپر ایک ایسی بات میری طرف منسوب کردی جو میں نے نہیں کہی تھی۔ میں نے اپنی تقریر میںقرآن کی آیت (البقرہ ۲۴۹) کا حوالہ دیتے ہوئے آرنلڈ ٹائن بی کا فلسفۂ تاریخ بیان کیا تھا۔ اس کے مطابق، خود فطری عمل کے تحت ایسا ہوتا ہے کہ کسی سماج میں جو گروہ اقلیتی گروہ کی حیثیت رکھتا ہو وہ ہمیشہ اکثریتی گروہ کی طرف سے چیلنج سے دوچار رہتا ہے۔ یہ چیلنج اقلیتی گروہ کو تخلیقی گروہ بنا دیتا ہے۔ اس فطری عمل کے نتیجے میں ایسا ہوتا ہے کہ اقلیتی گروہ کی صلاحیتیں اُبھرتی ہیں اور وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ بڑے بڑے کارنامے انجام دے سکے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک تعلیم یافتہ مسلمان کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺکے تیئس سالہ دورِ نبوت کو دو دَوروں میں تقسیم کیا جاتا ہے—مکّی دور اور مدنی دور۔ یہ دونوں دور تدریجی دور نہیں تھے بلکہ وہ اضافی (relative) دور تھے۔ دونوں کے درمیان فرق کی اس نوعیت کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔بعض لوگوں نے ان دونوں دوروں کو لے کر اسلام کا ایک انقلابی نظریہ بنایا ہے۔ وہ اس کے حوالے سے کہتے ہیں کہ اسلام کی تحریک دعوت سے شروع ہوتی ہے پھر پُر امن مزاحمت (passive resistance) کا زمانہ آتا ہے۔ اُس کے بعد ہجرت ہوتی ہے اور پھر اہل ایمان منظّم ہو کر جنگی اقدام شروع کردیتے ہیں۔ یہ تقسیم سر تا سر بے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مکّی دور اور مدنی دَور اسلام کی عملی تاریخ کا حصہ ہیں، وہ دعوت الی اللہ کی کسی نظری ترتیب کا اظہار نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسلامی تحریک اصلاً دعوت الی اللہ کا نام ہے۔ دعوت سے مراد خدا کے پیغام کو خدا کے بندوںتک پُر امن طورپر پہنچانا ہے۔ اسلامی تحریک اپنے آغاز میں بھی دعوت ہے اور اپنے اختتام میں بھی دعوت۔ دعوت کے سوا اسلامی تحریک کا کوئی ابدی نشانہ نہیں۔ انسان چوں کہ پیدا ہوتے ہیں اور کچھ سالوں کے بعد مرجاتے ہیں، اس لیے دعوت کا عمل ایک ایسا عمل ہے جو ایک جنریشن کے بعد دوسری جنریشن میں جاری رہتا ہے۔ یہ دعوتی عمل جاری رہے گا یہاںتک کہ قیامت آجائے۔

دعوت کے بعد مزید جو واقعات پیش آتے ہیں ان کا تعلق داعی سے نہیں بلکہ ان کا تعلق مدعو سے ہے۔ دعوت کا عمل یکساں نوعیت کا ایک عمل ہے مگر جن انسانوں کے درمیان دعوت کا عمل کیا جاتا ہے وہ ہمیشہ یکساں نہیں ہوتے۔ دوسرے انسانوں کا یہی فرق مختلف قسم کے واقعات کو ظہور میں لانے کا اصل سبب ہے۔ پیغمبروں کی تاریخ بتاتی ہے کہ دعوت کے بعدکبھی طوفانِ نوح جیسا واقعہ پیش آیا، کبھی مدعو کی طرف سے وہ صورت پیش آئی جس کا ایک نمونہ حضرت یونس کی زندگی میں ملتا ہے۔ کبھی وہ واقعہ پیش آیا جس کی ایک مثال حضرت یوسف کے معاصر بادشاہ کے یہاں دکھائی دیتی ہے۔ اسی طرح مختلف پیغمبروں کے یہاں مختلف نمونے نظر آتے ہیں۔انھیں میں سے ایک نمونہ وہ ہے جس کی مثال پیغمبر اسلام کے زمانے میں مکّی دور اور مدنی دَور کی صورت میں پیش آئی۔

اب عالمی افکار کے انقلاب کے بعد دنیا میں بالکل نئی صورت ِ حال سامنے آئی ہے۔ اب دعوت کا طریقہ اور مدعو کا ردّ عمل دونوں بدل چکے ہیں۔ کچھ لوگ دورِ قدیم کے تجربات کو لے کر یہ کہتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں بھی ہم کو اسی طریقے کو دہرانا ہے، مثلاً وہ کہتے ہیں کہ قدیم زمانے کے داعی آگ میں ڈالے گیے اور اُن سے جنگ کی گئی اور ان کو ملک بدر کیا گیا، یہ سب واقعات موجودہ زمانے کے داعیوں کے ساتھ بھی پیش آنے چاہئیں، ورنہ ان کی دعوت پیغمبرانہ دعوت نہیں قرار پائے گی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس قسم کا نظریہ بلاشبہہ ایک بے بنیاد نظریہ ہے۔ اس قسم کے واقعات کا تعلق دعوت سے نہیں بلکہ مدعو کے ردّعمل سے ہے۔ قرآن میںاہلِ ایمان کو یہ دعا سکھائی گئی تھی کہ ربّنا ولاتحمل علینا اصراً کما حملتہ علی الذین من قبلنا(البقرہ ۲۸۶) یعنی ’’اے ہمارے رب! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال، جیسا تونے ڈالا تھا ہم سے اگلوں پر‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ نبوتِ محمدی کے ظہور کے بعد تاریخ میںتدریجی تغیر کا ایک عمل شروع ہوا۔ جس کے نتیجے میںآخر کار یہ ہوا کہ اسلامی دعوت کے راستے کی تمام رُکاوٹیں ختم ہوگئیں، اور داعیوں کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ وہ آزادانہ ماحول میں دعوت الی اللہ کا عمل جاری کرسکیں۔ مگر بد قسمتی سے زمانۂ جدید کے یہ قیمتی مواقع استعمال نہ ہوسکے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس کا سب سے بڑا سبب مذکورہ قسم کا خود ساختہ انقلابی نظریہ ہے۔ اس نظریے کے ماننے والوں کے دماغ میں یہ بسا ہوا تھا کہ اگر زندان وسلاسل کی جھنکار بلند نہ ہو اور جنگ وجدال کا معرکہ گرم نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگاکہ دعوت الی اللہ کا کام ہی نہیں ہُوا۔ چنانچہ انھوں نے خود ساختہ طور پر مُدبھیڑ اور مسلّح ٹکراؤ کی صورتیں پیدا کیں اور اس کے بعد پُر فخر طورپر کہا کہ دیکھو، ہم وہ لوگ ہیں جو حقیقی دعوت الی اللہ کا کام کرتے ہیں۔

انقلابی اسلام کے ان نام نہاد مجاہدین پر صحابی ٔ رسول عبد اللہ بن عمرؓ کے الفاظ صادق آتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺکی سخت ہدایات کے باوجود جب خلافت راشدہ کے آخری زمانے میں مسلمان اسلام کے نام پر خونیں لڑائی لڑنے لگے، اُس وقت حضرت عبد اللہ بن عمر نے اس کے خلاف آواز بلند کی۔ انھوں نے کہا کہ تم لوگ اپنے اس متشددانہ عمل کو جہاد سمجھتے ہو حالاں کہ وہ ہر گز جہاد نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ کی قیادت کے تحت لڑکر فتنے کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیا تھا، اب تم اپنی خود ساختہ لڑائی کے تحت اس ختم شدہ فتنے کو دوبارہ زندہ کررہے ہو۔ (فتح الباری بشرح صحیح البخاری، ۸؍ ۳۲)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ فیّاضی کا مزاج بہت اچھا ہے مگر مطلق فیاضی کوئی پسندیدہ چیز نہیں ۔ اس معاملے میں ضروری ہے کہ لوگوں کو صحیح ترجیح کا علم ہو۔ یعنی کسی وقت یا مقام پر فیاضی کا تقاضا کیا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے فیاضی کے جذبے کو ترجیحی طور پر استعمال کرے۔مثلاً موجودہ زمانے میںاصحابِ مال نہایت فیاضی کے ساتھ سوشل سروس اور کمیونٹی ورک پر اپنا پیسہ خرچ کرتے ہیں، مگر یہی اصحابِ مال عام انسانوں میں دعوہ ورک کے لیے اپنا مال خرچ نہیں کرتے۔ میرے نزدیک یہ کوئی اچھی علامت نہیں۔

۲۴؍ جولائی کی صبح کو مسٹر اعجاز احمد کے ساتھ لال باغ گیا۔ یہاں ہم لوگ دیر تک ٹہلتے رہے۔ یہ بہت بڑا پارک ہے جو تقریباً ستّر ہ ایکٹر کے رقبے میں قائم ہے۔ بنگلور میں مارننگ واک کے لیے لال باغ پارک بہت اچھی جگہ ہے۔ یہ سر سبز درختوں کے درمیان ایک پُرسکون جگہ ہے۔ یہاں کچھ اور لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ مثلاً مسٹر ضیاء (ٹی پلانٹر) درختوں کے سایے میں بیٹھ کر ان لوگوں سے دیر تک دینی موضوعات پر بات ہوتی رہی۔

ضیاء صاحب کا ایک سوال یہ تھا کہ انسان اس دنیا میں آزاد ہے یا مجبور۔ میں نے کہا کہ حقیقت دونوں کے درمیان ہے۔ یعنی پچاس فیصد آزاد اور پچاس فیصد مجبور۔ مثلاً ہم لوگ اس وقت بات کررہے ہیں،ہم پوری طرح آزاد ہیں کہ چاہیں تو بات کریں اور چاہیں تو نہ بات کریں۔ مگر یہ بات چیت اُس وقت ممکن ہوتی ہے، جب کہ میرے اور آپ کے بیچ میں، ہوا کا واسطہ موجود ہو۔ یہ ہوا خدا کی دی ہوئی ہے۔ اگر ہوا نہ ہو تو ہم اور آپ بات نہیں کرسکتے۔ بات چیت کرنا ہماری آزادی ہے اور یہاں ہوا کا ہونا ہماری مجبوری۔ خدا کے یہاں ہماری جو پوچھ ہوگی وہ ہوا کے بارے میں نہیں ہوگی بلکہ اپنی آزادیٔ گفتارکے استعمال کے بارے میں ہوگی۔

لال باغ کو حیدر علی نے بنایاتھا۔ حیدر علی ۱۷۲۲ء میں پیدا ہوا، اور۱۷۸۲ء میں اس کی وفات ہوئی۔ حیدر علی ،میسور اسٹیٹ کا حکمراں تھا۔ اس اسٹیٹ میں دوسرے علاقوں کے ساتھ بنگلور شامل تھا۔حیدر علی فوجی معاملات کا زبردست ماہر تھا۔ اس نے اپنی خصوصی لیاقت کے ذریعے ۱۷۴۹ء میں میسور اسٹیٹ قائم کیا۔

حیدر علی کے زمانے میں انڈیا میں برٹش رول ابھی مستحکم نہیں ہوا تھا۔ مختلف طاقتیں اپنی سیاسی قسمت کے لیے زور آزمائی کررہی تھیں۔ چناں چہ حیدر علی کو اپنے دورِ حکومت میں مختلف طاقتوں سے جنگ کرنی پڑی— نظام حیدر آباد ، مراٹھا، فرانسیسی، انگریز وغیرہ۔ ان جنگوں میں تقریباً پچاس ہزار آدمی مارے گیے۔ آخر میں حیدر علی نے محسوس کیا کہ اس کو جنگ کے بجائے صلح کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ چنانچہ اس نے اپنی موت کے وقت اپنے بیٹے ٹیپو سے یہ التماس کیا کہ تم انگریزوں سے صلح کرلینا

In his dying words to Tippu that Hyder implored him to make peace with the british. (V/235)

other sourceWords of another person or source

سلطان ٹیپو کی پوری تربیت اپنے باپ کے ساتھ فوجی انداز میں ہوئی تھی۔ وہ پوری طرح فوجی طرز فکر میں رنگ چکا تھا۔ چنانچہ وہ اپنے جنگ جویانہ ذہن کو بدل نہ سکا۔ اور اپنے والد کی نصیحت کے خلاف انگریزوں سے بے فائدہ لڑائی لڑ کر ۱۷۹۹ء میں ماراگیا۔

حیدر علی اور ٹیپو کی مثال بتاتی ہے کہ قدیم زمانے میں سیاسی مزاج کے لوگ کس طرح جنگ و جدال میں اپنی بہترین صلاحیت کو ضائع کرتے رہے۔ یہ لوگ صرف سیاسی اور فوجی چیزوں کی اہمیت کو جانتے تھے۔ وہ اس سے بے خبر تھے کہ اس دنیا میں اس سے بھی زیادہ بڑی ایک چیز ہے، اور وہ ہے روحانی سکون اور ذہنی ارتقاء۔ یہ لوگ نہایت اعلیٰ صلاحیت کے مالک تھے، مگر اپنی اس صلاحیت سے وہ اپنی شخصیت کی تعمیر میں کوئی کام نہ لے سکے، یہاں تک کہ وہ مرکراس دنیا سے چلے گیے۔

محترمہ سارہ فاطمہ کے دوبیٹے ہیں۔ یہ دونوں نہایت ذہین ہیں اور بشپ کاٹن اسکول میں پڑھ رہے ہیں۔ ان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح بڑوں سے بات کرتے تھے اسی طرح آپ بچوں سے بات کرتے تھے۔ بچوں سے بات کرتے ہوئے آپ اپنے آپ کو بچوں کی سطح پر لے آتے تھے، تاکہ بچے آپ کی بات سمجھ سکیں۔ مثلاً ایک بچہ جو ایک چڑیا پالے ہوئے تھا، ایک بار اس سے بات کرتے ہوئے آپ نے کہا یا أبا عمیر، ما فعل النُغیر!

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میںنے سارہ فاطمہ کے بیٹے سے کہا کہ میری بات کو دوہرائیے۔ انھوں نے دوہراتے ہوئے انگریزی میں اس طرح کہا

The Prophet could come down to the level of understanding of the children.

پروفیسر جعفری سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ وہ عرصے سے میری کتابیں پڑھتے رہے ہیں، وہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں۔ اس قسم کی باتیں بتاتے ہوئے انھوں نے کہاکہ آپ کی سب باتیں ٹھیک ہیں، مگر آپ کا ایک مائنس پوائنٹ ہے۔ اور وہ یہ کہ آپ کی تحریریں پڑھنے کے بعد کسی اور کی تحریر پڑھنا انسان کے لیے مشکل ہوجاتا ہے۔

دوسری طرف اسی بنگلور میں ایک اور مسلم بزرگ سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ پہلے میں ماہنامہ الرسالہ پڑھتا تھا، مگر اب میں نے اس کو پڑھنا چھوڑ دیا ۔ اس کا سبب انھوں نے یہ بتایا کہ آپ ہمارے اکابر پر تنقید کرتے ہیں۔ میںنے ان سے اس تنقید کی کوئی متعین مثال پوچھی، مگر وہ کوئی متعین مثال نہ بتا سکے۔ میںنے کہا کہ الرسالہ میں تنقید نہیں ہوتی بلکہ وہ کسی معاملے کا تجزیاتی مطالعہ ہوتا ہے۔ آپ اپنی حساسیت کی بنا پر اس کو تنقید سمجھ لیتے ہیں۔

بنگلور میں ایک سینئر پروفیسر سے ملاقات ہوئی ۔ یہ جناب عطاء اللہ صاحب تھے۔ وہ نفسیات کے پروفیسر ہیں۔ انھوں نے علم نفسیات کے اعتبار سے کئی قیمتی باتیں بتائیں۔ انھوں نے ایک مغربی اسکالر کا قول نقل کیا—بہترین گُل دستہ دستیاب پھولوں سے بنتا ہے نہ کہ اپنی پسند کے پھولوں سے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

The finest bouquet is not made of the finest flowers, but out of the available flowers.

ایک تعلیم یافتہ ہندو نے ایک کتاب کا ذکر کیا۔ یہ کتاب امریکا سے چھپی ہے اور اس وقت مغربی دنیا میں بیسٹ سیلر ہورہی ہے۔ اس کتاب میں بہت سے ’’واقعات‘‘ درج کیے گیے ہیں۔ یہ واقعات لوگوں کی پچھلی زندگی کے بارے میں ہیں۔ مصنف ایک ڈاکٹر ہے۔ اس کا بیان ہے کہ اس نے ایک مخصوص تھریپِی دریافت کی ہے۔ اس تھریپی کو جب کسی مرد یا عورت کے اوپر اپلائی کیا جاتا ہے تو وہ اپنے پچھلے جنم کی باتیں بتانے لگتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ کتاب آواگون کے نظریے کا ایک سائنسی پروف ہے۔ میں نے ان کی بات پورے دھیان کے ساتھ شروع سے آخر تک سنی۔ اس کے بعد میںنے کہا کہ آپ اس کتاب کے بارے میں میرا تبصرہ تفصیل کے ساتھ سننا چاہتے ہیں یا مختصر الفاظ میں۔ انھوں نے کہا کہ مختصر الفاظ میں۔ میں نے کہا کہ پھر سنیے، یہ کتاب صرف ایک فکشن ہے، وہ کوئی ہسٹری نہیں۔ آپ میرے ساتھ امریکا چلیے اور میں آپ کے سامنے سروے کرکے بتادوں گا کہ اس کتاب کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میں نے کہا کہ یہ بک بزنس کی ایک نئی تکنیک ہے۔ آج کل اس طرح کی کتابیں کثرت سے چھپ رہی ہیں جو بظاہر تاریخ کی زبان میں ہوتی ہیں، حالاں کہ ان کی حیثیت صرف فرضی کہانی کی ہوتی ہے۔ میں نے کہا کہ اس سے پہلے امریکا میں ایک کتاب چھپی تھی، جس کا نام یہ تھا

A monk who sold his ferrari.

یہ کتاب چھپتے ہی مغربی دنیامیں بیسٹ سیلر بن گئی۔ لوگوں نے سیدھے پن میںاس کوواقعہ سمجھ لیا، حالاں کہ وہ صرف ایک فرضی افسانہ تھا۔پھر میں نے آوا گون کے بارے میں کہا کہ آواگون کے نظریے کے مطابق ہر آدمی ایک تجربے سے گذر رہا ہے۔ اس اعتبار سے اس تجربے کا علم ہر شخص کو ہونا چاہیے۔ یہ کیسی عجیب بات ہے کہ جو تجربہ مجھ پر گذرا اس کو کوئی دوسرا شخص مجھ کو بتائے۔ جس ذاتی تجربے کو میں نے خود نہیں جانا، اس کو دوسرے آدمی نے کیسے جان لیا۔

۲۴ جولائی ۲۰۰۵ کی شام کو بنگلور میں تعلیم یافتہ مسلم خواتین کا ایک اجتماع ہوا۔ میں نے اس میں ایک مفصل تقریر کی۔ اس اجتماع کااہتمام ’’الفلاح‘‘ کی طرف سے کیا گیا تھا۔ الفلاح ایک ادارہ ہے۔ جس کو سارہ فاطمہ اور کچھ تعلیم یافتہ خواتین نے قائم کیا ہے۔ میں وہاں پہنچا تو میں نے دیکھا کہ یہ ایک خوبصورت اور منظّم ادارہ ہے۔ یہ ادارہ تمام تر الرسالہ مشن کی اشاعت کے لیے قائم ہوا ہے۔ اس میںایک لائبریری ہے، جہاں سے لوگ کتابیں پڑھنے کے لیے لے جاتے ہیں۔ اسی کے ساتھ مکتبہ بھی ہے، جہاں سے الرسالہ کی تمام مطبوعات خریدی جاسکتی ہیں۔ یہاںخواتین کا ہفتے وار اجتماع ہوتا ہے۔نیز روزانہ دعوتی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ میری تقریر کے بعد حاضرین کو ادارے کی طرف سے الرسالہ کی مطبوعات تحفۃً دی گئیں۔

میں نے اپنی تقریر میںقرآن اور حدیث کے حوالے سے مختلف باتیں کہیں۔ اُن میں سے ایک بات یہ تھی کہ موجودہ زمانے میں، صنفی برابری (gender equality) کے تصور کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ یہی تصور خود اسلام میں بھی ہے۔ حدیث میںآیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا النساء شقائق الرّجال(عورتیں مرد کا مسا وی حصہ ہیں) یعنی عورت اور مرد دونوں ایک وحدت کے دو مساوی نصف کی حیثیت رکھتے ہیں

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Man and woman are two equal halves of a single unit.

اصولی اعتبار سے عورت اور مرد کی سماجی پوزیشن یہی ہے۔ مگرعملی ضرورت کی بنا پر مرد کو عورت کے اوپر قوّام بنایا گیاہے۔ قوّام سے مراد عین وہی چیز ہے جس کو آج کل باس (boss) کہا جاتا ہے۔ باس ازم ہر تنظیم کی ایک عملی ضرورت ہے۔ باس ازم کے اصول کو اپنائے بغیر کوئی تنظیم نہیں چل سکتی۔ عورت اور مرد مل کر جوگھر بناتے ہیں وہ بھی ایک تنظیم ہے۔ باس ازم کے عالمی اصول سے اس تنظیم کو مستثنیٰ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

ایک ہندو انجینئر مسٹر شلیندر سے اسلام پر تفصیلی بات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میں اسلام کی عزت کرتا ہوں، مگر میں یہ نہیں مانتا کہ کوئی ایک ہی مذہب سچا ہے۔ میں ہر مذہب کو سچائی کا الگ الگ اظہار سمجھتا ہوں۔ میں نے کہا کہ ’’ہر مذہب سچا ہے‘‘ کا نظریہ صرف ایک سیاسی نظریہ ہے۔ وہ کوئی علمی حقیقت نہیں۔ اس قسم کا عقیدہ رکھنے والے لوگ یہ کرتے ہیں کہ ہر مذہب سے انتخابی باتیں لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو ہر مذہب کی تعلیم ایک ہی ہے، اور ہر مذہب سچا ہے۔ آپ کو چاہیے کہ کسی مذہب کے پورے مجموعے کو دیکھ کر اس کے بارے میں رائے قائم کریں۔ اگر آپ ایسا کریں تو آپ پائیں گے کہ مختلف مذہبوں کی تعلیم یکساں نہیں۔ایسی حالت میں آدمی اگر سنجیدہ ہے تو اس کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ ہر مذہب کی تعلیمات اور اس کی تاریخ کو تقابلی انداز سے پڑھے، اور پھر یہ فیصلہ کرے کہ مختلف مذاہب میں سے کو ن سا مذہب زیادہ درست اور زیادہ قابلِ اعتماد ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

۲۵ جولائی کی صبح کو نماز فجر کے بعد کچھ لوگوں سے گفتگو ہوئی۔ ایک سوال کے جوا ب میں میں نے کہا کہ حدیث میں آیا ہے لا ضرر ولا ضِرار في الإسلام (اسلام میں نہ نقصان اٹھانا ہے، اور نہ نقصان پہنچانا) یہی بات حضرت مسیح نے ان الفاظ میں کہی

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

کبوتر کی مانند بے آزار اور سانپ کی مانند ہوشیار بنو

Be harmless like a pigeon, and be clever like serpent.

اب غور کیجئے کہ کوئی شخص ان صفات کا حامل کیسے ہوسکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کے اندر وہ صفت پیدا ہو جس کو ذہنی ارتقاء کہاجاتا ہے۔ ذہنی اعتبار سے ایک ارتقاء یافتہ آدمی ہی ایسا کرسکتا ہے کہ وہ ایک قسم کے انسان اور دوسری قسم کے انسان کو جانے۔ اس قسم کا ذہنی ارتقاء کسی کے اندر پیدائشی طورپر نہیں ہوتا۔ اس کے لیے کوشش کرنا ضروری ہے۔ اس تشریح کو سامنے رکھ کر غور کیجئے تو مذکورہ پیغمبرانہ قول کا مطلب یہ ہے کہ ذہنی ارتقاء کے ذریعے اپنے آپ کو اس قابل بناؤ کہ تم ایک انسان اور دوسرے انسان میں فرق کرسکو۔

الفلاح کے ادارے میں ۲۵ جولائی ۲۰۰۵ کو دوسرا پروگرام ہوا۔ اس میں تعلیم یافتہ مرد شریک ہوئے۔ اس موقع پر میں نے ایک مختصر تقریر کی۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ آپ میں سے ہر ایک کو دو میں سے ایک کام کرنا ہے۔ یا تو آپ اپنا سارا وقت خدا کے کام کے لیے وقف کردیں۔ اپنی معاش کو خدا کے حوالے کردیں اور خدا کے دین کے جو عصری تقاضے ہیں ان کو پورا کرتے رہیں یہاں تک کہ اسی حال میں مر جائیں۔

دوسری صورت یہ ہے کہ آپ وَن مین ٹو مشن بنیں۔ یعنی آپ اپنے وقت اور اپنی طاقت کو دو حصوں میں تقسیم کریں۔ ایک حصہ اپنی معاشی ضروریات کی فراہمی کے لیے، اور دوسرا حصہ خدا کے دین کی خدمت کے لیے۔ میں نے کہا کہ آپ میں سے ہر شخص کو انھیں دو میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہے، تیسرا کوئی انتخاب آپ کے لیے نہیں۔

ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے سیکولرازم کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے ماہنامہ میثاق (جولائی ۲۰۰۵) میں اس کے مدیرِ مسئول نے لکھا ہے کہ ’’میں نے(اپنے دورے میں) بھارت کے ہر شہر میں ببانگِ دہل کہا کہ سیکولر ازم کُفر اور شرک ہے‘‘ (صفحہ ۱۳)

other sourceWords of another person or source

میں نے کہا کہ یہ ایک غیر علمی بات ہے۔ یہ اُسی قسم کی ایک غلطی ہے جس کے متعلق کہاجاتا ہے کہ کسی بات کو اس کی منطقی انتہاء(logical end) تک پہنچانا۔ یہ طریقہ بے حد خطرناک ہے۔ اگر اس طریقے کو درست مانا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے تمام لوگ کُفر اور شرک میں مبتلا ہیں۔ کیوں کہ وہاں کی بہت بڑی اکثریت درگاہوں پر جاتی ہے، اور وہاں یہ لوگ مرادیں مانگتے ہیں ۔ جولوگ ایسا نہیں کرتے وہ اس پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس لیے کچھ لوگ براہِ راست اور کچھ لوگ بالواسطہ طورپر غیر اللہ سے استعانت کی برائی میں مبتلا ہیں۔کیا مذکورہ نقطۂ نظر کو ماننے والے لوگ اس دوسرے معاملے میں بھی یہی کریں گے کہ وہ منطقی انتہا پر جاکر اس کے بارے میں رائے قائم کریں۔ کسی بات کو اس کی آخری منطقی حد تک پہنچانے ہی کا نام غلو ہے اور غلو اسلام میں نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سیکولرازم کے معاملے میں اپنے نقطۂ نظر کے حق میں قرآنی دلیل دیتے ہوئے انھوں نے لکھاتھا قرآن کی رُو سے حاکمیت صرف اللہ کے لیے ہے—إن الحکم الّا للّٰہ (صفحہ ۱۲)

other sourceWords of another person or source

قرآن کی مذکورہ آیت میںاور اس طرح کی دوسری آیتوں میں حُکم کا لفظ حکمِ فطری کے معنی میں آیا ہے، وہ حکم سیاسی کے معنی میں نہیںآیا۔ اس سلسلے میں قرآن کی آیت کو حکم سیاسی کے معنٰی میں لینا، قرآن کی معنوی تحریف کے ہم معنٰی ہے۔ یہ وہی غلطی ہے جس کو قرآن میں یہود کے تذکرے کے ذیل میں یحرّفون الکلم عن مواضعہ (المائدہ ۱۳) کہاگیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

صحیح تعریف کے مطابق، سیکولرازم دراصل یہ ہے کہ ریاست،مذہبی معاملات میں عدم مداخلت (non-interference) کی پالیسی اختیار کرے۔ مختلف مذاہب والے سماج میں یہ گویا ایک بہترین ورکنگ فارمولا ہے۔ یعنی ہر ایک کو اس کے مذہبی معاملے میں آزادی دیتے ہوئے مشترک ملکی معاملات کو اسٹیٹ کے حوالے کردینا۔ سیکولرازم حقیقتاً ناطرفداری کا نام ہے نہ کہ لامذہبیت کا۔

تقریباً یہی پالیسی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمنے مدنی دَور کے ابتدا میں اختیار فرمائی تھی۔ چنانچہ ’’صحیفۂ مدنیہ‘‘ میں جو باتیں لکھی گئی تھیں، ان میں سے ایک یہ تھی للیہود دینہم وللمسلمین دینہم (یہود کے لیے یہود کا دین ، اور مسلمانوں کے لیے مسلمان کا دین)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک صاحب نے کہا کہ آپ نے لکھا ہے کہ ہندستان کی آزادی کے لیے مسلّح جہاد کرنے والے علماء کو مہاتما گاندھی کے طریقے کی پیروی کرنی چاہیے تھی۔ یعنی متشددانہ طریقِ کار کے بجائے پُرامن طریقِ کار پر عمل کرنا۔ انھوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی تو ایک نان مسلم تھے۔ کوئی نان مسلم لیڈر علمائِ اسلام کے لیے کس طرح نمونہ بن سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ علماء نے تو خود ہی ایسا کیا۔ ۱۸۵۷ء میں انھوں نے مسلّح طریقِ کار اختیار کیا، اور ۱۹۱۹ ء میں اس کو چھوڑ کر انھوں نے گاندھی کو اپنا سیاسی لیڈر مان لیا۔پھرمیںنے کہا کہ یہ دین کی بات نہیں ہے بلکہ یہ طریقِ کار کی بات ہے۔ اس طرح کے معاملے میں طریقِ کار اسلامی یا غیر اسلامی نہیں ہوتا بلکہ صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ وہ حالتِ موجودہ کے اعتبار سے کس حدتک مفید اور نتیجہ خیز ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

کمیونٹی ورک یا سوشل ورک کے بارے میں ایک سوال کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں اس کی بہت اہمیت سمجھی جاتی ہے۔ حتی کہ مدر ٹریسا کو اس معاملے میں ماڈل کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ مگر اسلامی نقطۂ نظر سے جس کام کی سب سے زیادہ اہمیت ہے وہ کمیونٹی ورک یا سوشل ورک نہیں ہے بلکہ وہ دعوہ ورک ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو ۶۱۰ عیسوی میں نبوت ملی۔ اس وقت مکہ میں اُس کا م کی سخت ضرورت تھی جس کو آج کل سوشل ورک کہا جاتا ہے۔ مگر پیغمبر اسلام نے نبوت ملنے کے بعد صفا پر کھڑے ہو کر جو اپنی پہلی تقریر کی، اس میں آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ آؤ، ہم لوگ مکّہ میں سوشل ورک کریں۔ اس کے برعکس آپ نے آخرت کویاد دلاتے ہوئے کہا واللہ لتموتن کما تنامون ولتحیون کما تستیقظون، وإنہا لجنۃ أبداً أولنارأبداً (خدا کی قسم! تم اُسی طرح مروگے جس طرح تم سوتے ہو۔ اور تم اُسی طرح سے دوبارہ جیو گے جس طرح تم اٹھتے ہو۔ اور بے شک اس کے بعد یا تو ابدی جنت ہے یا ابدی آگ)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مکہ میں تیرہ سال گذارنے کے بعد پیغمبر اسلام مدینے گیے۔ مدینے میں اُس وقت مختلف مسائل تھے۔ مثلاً یہودی تاجروں کا استحصال، اہلِ مدینہ کے لیے محنت و مزدوری کے سوا کوئی اور ذریعۂ معاش نہ ہونا، مدینے میں جہالت وغیرہ۔ مگر پیغمبر اسلام نے مدینے پہنچ کر یہ نہیں کہا کہ اہلِ مدینہ مسائل میں مبتلا ہیں ان کے درمیان سوشل ورک کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے برعکس آپ نے فرمایا ایّہا الناس! اتقوا النار ولو بشق تمرۃ (اے لوگو! اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ، خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے کیوں نہ ہو)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ان دونوں حوالوں سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ معلوم ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خواہ مکی حالات ہوں یا مدنی حالات ، دونوں جگہ کرنے کا اصل کام کمیونٹی ورک یا سوشل ورک نہیں ہے، بلکہ دعوہ ورک ہے۔ یعنی خدا کے پیغام کو خدا کے بندوں تک پہنچانا۔ خدا کے تخلیقی نقشہ (creation plan of God) سے لوگوں کو باخبر کرنا۔

دنیا کے تمام مصلحین سب سے اہم کام یہ بتاتے رہے ہیں کہ دنیوی مسائل کو ختم کرکے آئیڈیل سماج بنانا۔ مگر کبھی دنیا میں اس قسم کا آئیڈیل سماج نہ بن سکا۔ حتی کہ خود مکہ اور مدینہ میں بھی نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ خدا نے موجودہ دنیا کو ٹیسٹ کے لیے بنایا ہے اور اس بنا پر انسان کو آزادی دی ہے۔ اس لیے موجودہ دنیا میں ہمیشہ مسائل موجود رہتے ہیں تاکہ انسان کا ٹیسٹ لیا جاسکے۔ جہاں تک آئیڈیل سماج کی بات ہے، وہ صرف آخرت میں بن سکتا ہے اور وہ قیامت کے بعد وہیں بنے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچرکا مطلب ہے، عصری ذہن کے لیے اسلام کو قابل فہم (understandable) بنانا۔ میںنے کہا کہ پیغمبر اسلام کے زمانے میں مکہ میں ایک پہلوان تھا جس کا نام رُکانہ تھا۔ وہ رسول اللہ کی پیغمبری سے انکار کرتا تھا۔ اس کو اپنی پہلوانی پر بہت گھمنڈ تھا۔ رسول اللہ نے کہا اگر میں تم کو کُشتی میں پچھاڑ دوں تو کیا تم مجھ کو مان لوگے۔ چنانچہ کشتی ہوئی جس میں رسول اللہ نے رکانہ کو ہَرا دیا (سیرت ابن ہشام، ۱؍۴۱۸)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس کا مطلب یہ نہیں کہ پیغمبر وہ ہے جو پہلوان کو کُشتی میں ہرادے۔ یہ نبوت کی پہچان نہیں۔ یہ دراصل ایک پہلوان کے لیے اس کے اپنے ذہن کے مطابق پیغمبری کو قابلِ فہم بنانا ہے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ جب رُکانہ پہلوانی کی اصطلاح میں پیغمبر کی اہمیت کو سمجھ لے گا تو وہ مزیدمطالعہ کرکے حقیقی معنوں میں پیغمبر کی معرفت حاصل کرسکے گا۔

بنگلور سے ایک اردو روزنامہ سالار کے نام سے نکلتا ہے۔ سالار کے شمارہ ۲۷ جولائی ۲۰۰۵ء میں ایک خبر کی سرخی یہ تھی طالبان جنگ جوؤں سے ملّا عمر کی اپیل— اس عنوان کے تحت اسلام آباد (یو۔این۔ آئی) کے حوالے سے یہ خبر دی گئی تھی کہ ’’طالبان لیڈر ملا عمر نے طالبان جنگ جوؤں سے کہا ہے کہ وہ بیرونی دشمنوں کے خلاف جنگ میں عام شہریوں کو نشانہ نہ بنائیں اور اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھیں۔ ملّا عمر نے یہ پیغام ایک آڈیو ٹیپ کے ذریعے دیا۔ انھوں نے کہا کہ میں تمام طالبان سے کہتا ہوں کہ وہ عام لوگوں پر رحم کریں اور کسی کو تنگ نہ کریں۔ انھوںنے کہا کہ مجاہدین،افغان علماء کی روحانی اولاد ہیں‘‘ (صفحہ ۳)

unverifiedAttribution could not be verified automatically

آج کل مسلم رہنماؤں کی طرف سے کثرت سے امن کی اپیلیں شائع کی جارہی ہیں۔ (ٹائمس آف انڈیا، ۲۵ جولائی ۲۰۰۵ ، صفحہ ۲۵) مگر یہ اپیلیں سرتاسر بے فائدہ ثابت ہوئی ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ نام نہاد مسلم رہنمااس معاملے میں کرنے کا اصل کام نہیں کرتے۔ وہ فرضی اپیلیں شائع کرکے قرآن کی اس آیت کا مصداق بن رہے ہیں یحبّون ان یحمدوا بما لم یفعلوا (آل عمران ۱۸۸)اس معاملے میں کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ مسلم جنگ جوؤں کو کھلے طور پر کنڈم کیا جائے۔ صرف یہ کہنا کہ، اسلام دہشت گردی کی تعلیم نہیں دیتا، یا مسلمانوں کو امن کی روایات قائم کرنا چاہیے، اس طرح کی باتوں سے نہ علماء اور رہنماؤں کی ذمّے داری ختم ہوتی ہے اور نہ اس سے جنگ جوئی یا دہشت گردی کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس معاملے میں نام نہاد مسلم رہنما ایک عجیب تضاد میں مبتلا ہیں۔ وہ ایک طرف قرآن وحدیث سے امن کی تعلیمات لے کر اُس کو اس طرح شائع کرتے ہیں جیسے کہ یہی مسلمانوں کا کیریکٹر ہو۔ حالانکہ اسلام کی تعلیم اور مسلمانوں کا عمل دونوں ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ اس معاملے کی ایک مثال خود روزنامہ سالار کے صفحات میں موجود ہے۔

اُس میں ایک طرف اسلامی امن کی اپیلیں ہیں اور دوسری طرف اُس میں مختلف مسلم ذمے داروں کے حوالے سے ایسے تبصرے شائع کیے گیے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ نیویارک ۱۱ ستمبر (۱۱؍۹) اورلندن میں ۷؍جولائی (۷؍۷) کو ہونے والے تشدد کے واقعات کا کوئی تعلق مسلمانوں سے نہ تھا۔ اسلام کو بدنام کرنے کے لیے اس کا الزام مسلمانوں پر ڈالا جارہا ہے۔ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے طبقے کا یہی تضاد ہے جس کی بنا پر مسلمانوں کے اندر متشددانہ تحریکیں ختم نہیں ہوتیں۔ صحیح اسلامی طریقہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی غلطی کو مانتے ہوئے کھلے الفاظ میں ان کی مذمت کی جائے۔ نہ یہ کہ دوردراز نکتے تلاش کرکے مسلمانوں کو بری الذمہ ثابت کیا جائے۔

عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ جب اس قسم کے ناخوش گوار واقعات میڈیا میں آتے ہیں تو سارے مسلمان فی الفور یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ میڈیا کا پروپیگنڈا ہے۔ مگر یہ ایک لغو بات ہے۔ اصل یہ ہے کہ میڈیا، خواہ وہ مسلمانوں کا ہو یا غیر مسلمانوں کا، اپنے مزاج کے اعتبار سے سلیکٹیو رپورٹنگ کرتا ہے۔ یعنی وہ مثبت واقعات کو رپورٹ نہیں کرتا۔ وہ انتخابی طورپر صرف منفی واقعات کی رپورٹنگ کرتا ہے۔

یہ بات بطورِ واقعہ درست ہے۔ مگر خود مسلم میڈیا کا طریقہ بھی یہی ہے۔ یعنی دوسری قوموں یا دوسرے گروہوں کے مثبت واقعات کو نظر انداز کرنا اور ان کے منفی واقعات کو نمایاں انداز سے شائع کرنا۔ اس معاملے میں مسلمانوں پر فارسی شاعر کا یہ شعر صادق آتا ہے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایں گناہے ست کہ در شہرِ شما نیز کُنند!

بنگلور کے روزنامہ سالار کے شمارہ ۲۶؍جولائی ۲۰۰۵ میں ایک خبر شائع ہوئی تھی، جس میں بتایاگیا تھا کہ مسلم علماء کے ایک وفد کو خطاب کرتے ہوئے یہاں کے پولیس کمشنر اَجے کمار نے کہا کہ آپ کو چاہیے کہ جمعہ کے خطبے میں نئی نسل خصوصاً نوجوان طبقے کو آپ ایسا پیغام دیں کہ ان نوجوانوں میں خود اعتمادی، وطن پرستی اور ایک اچھا شہری بننے کا جذبہ پیدا ہو جائے وہ اپنی زندگی صرف تعمیری کاموں ہی میں صرف کریں۔ اور کسی طرح کے منفی جذبات ان کے اندر پیدا نہ ہوں‘‘۔ (صفحہ ۱)

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اس خبر کو لے کر محمد ضیاء صاحب نے کہا کہ میں جمعہ کی نماز باقاعدہ طورپر مسجد میںادا کرتا ہوں اور ہر ہفتے جمعہ کے خطبات سنتا ہوں، اسی کے ساتھ میں مسلم علماء کی تقریروں میں بھی شرکت کرتا ہوں، میںنے پایا کہ کمشنر صاحب نے مسلم علماء سے جو کام کرنے کے لیے کہا ہے وہ کام بالفعل ہورہا ہے۔ مسلم علماء بر ابر مسلم نوجونوں کے سامنے قرآن وحدیث کے حوالے سے بہت سی باتیں بتاتے رہتے ہیں، مگر نوجوانوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ایسی حالت میںاصل سوال یہ ہے کہ مزید کیا کیا جائے۔ انھوں نے پوچھا کہ علماء کی تقریریں بے اثر کیوں ہور ہی ہیں۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

میںنے کہا کہ یہ علماء جو باتیں کرتے ہیں وہ روایتی زبان میں ہوتی ہیں۔ روایتی زبان اپنا اثر کھو چکی ہے۔ اب ضرورت ہے کہ زمانۂ حاضر کی زبان میں لوگوں کو اسلام کا مثبت پیغام پہنچایا جائے۔

بنگلور میںایک انجینیرسے ملاقات ہوتی ہے۔ میںنے پوچھا کہ آپ کیا کام کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آج کل تو میں بے کار ہوں۔ میں نے کہا کہ آپ کے پاس تو انجینئرنگ کی ڈگری ہے پھر آپ بے کار کیوں ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ایک امریکن کمپنی میںکام کرتے تھے۔ مگر وہاں انھوں نے دیکھا کہ سیاہ فام اور سفید فام کے درمیان امتیاز ہوتا ہے۔ سیاہ فام کے مقابلے میں سفید فام کو زیادہ تنخواہ ملتی ہے۔ اس امتیازی سلوک پر اُنھیں غصہ آیا اور انھوں نے کمپنی سے استعفا دے دیا۔

میں نے کہا کہ آپ نے یہ فیصلہ ایک غلط تقابل کی بنا پر کیا۔ آپ نے اپنی تنخواہ کا مقابلہ امریکی کارکن سے کیا۔ اگر آپ یہ کرتے کہ امریکی کمپنی میںآپ کو جو تنخواہ مل رہی تھی اس کا تقابل آپ انڈین کمپنی میں ملنے والی تنخواہ سے کرتے تو آپ کو معلوم ہوتا کہ آپ کو انڈیا کے مقابلے میںبہت زیادہ تنخواہ مل رہی ہے۔ میںنے کہا کہ بیش تر لوگ غلط تقابل کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے غیر ضروری طورپر مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں۔ میں نے انھیںمشورہ دیا کہ اگر امریکی کمپنی والے آپ کو دوبارہ قبول کرلیں تو آپ فوراً وہاں چلے جائیے اور سابقہ شرطوں پر دوبارہ وہاں کام شروع کردیجیے۔

آندھرا پردیش میں مارچ ۲۰۰۵ میں ایک نئی مسلم تنظیم بنی ہے۔ اس کا نام ’’مومنٹ فار پیس اینڈ جسٹس‘‘ (MPJ) ہے۔ اس کے سکریٹری جنرل کا انٹرویو ایک مسلم پرچے میںدیکھا۔ اس طرح کی تنظیمیں ساری دنیا میں بنی ہیں۔ جن کا مقصد امن اورانصاف بتایا جاتا ہے۔ میرے نزدیک یہ وہی چیز ہے جس کو اردو میں ’’شُترگُربہ ترکیب‘‘ کہا جاتا ہے۔ یعنی دو غیر متعلق چیزوں کو ایک دوسرے سے جوڑنا۔

جو مسلمان جہاد کے نام پر تشدد کررہے ہیں، یا جو مسلمان ایسی تحریکوں کی تائید کرتے ہیں، ان سے بات کی جائے تو ہمیشہ وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم کو وہ امن چاہیے جس میں ہم کو ہمارا نصاف بھی دیاگیا ہو۔ یہ صرف ایک نادانی کی بات ہے۔ اصل یہ ہے کہ امن بذاتِ خود اپنے ساتھ انصاف نہیں لاتا۔ امن کے قیام سے جو چیز ملتی ہے وہ مواقعِ کار ہیں۔ نہ کہ انصاف۔ فطرت کے قانون کے مطابق انسان کو چاہیے کہ وہ پہلے موجودہ صورتِ حال پر راضی ہو کر امن قائم کرے۔ اور جب امن کے نتیجے میں مواقعِ کار کھل جائیں تو پھر ان مواقع کو پُر امن طورپر استعمال کرکے حکمت کے ساتھ انصاف کے قیام کے لیے کام کرے۔

موجودہ زمانے میں مسلم رہنما تقریباً دو سوسال سے انصاف کے حصول کے لیے لڑ رہے ہیں، مگر آج تک اُن کو اپنا مطلوب انصاف نہیں ملا۔ اس کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ ہے امن اور انصاف کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا کرسمجھنا۔ اس طرح کی سوچ سرتا سر فطرت کے قانون کے خلاف ہے۔ جو لوگ یہ کہیں کہ ہم کو صرف وہ امن منظور ہے جس میںامن کے ساتھ انصاف بھی مل رہا ہو، ایسے لوگ دونوں ہی سے محروم رہیں گے—امن سے بھی اور انصاف سے بھی۔

دی ٹری بیون(The Tribune) کے گُڑ گاؤں اڈیشن (۲۷ جولائی ۲۰۰۵ء ) میں ایک مقامی خبر اس عنوان کے تحت چھپی ہوئی تھی

Irfan's father loses his job.

خبر میں بتایا گیا تھا کہ مشہور کھلاڑی عرفان پٹھان کے والد محمود خان یہاں کی ایک تاریخی جامع مسجد میں مؤذّن تھے۔ مگر ان کو اچانک برخاست کردیاگیا۔ ان کا قصور یہ تھا کہ حال میں جب تیز بارش آئی تو مسجد میں رکھا ہوا تاریخی قرآن اس کی وجہ سے بھیگ کر خراب ہوگیا۔ محمود خاں قرآن کو محفوظ رکھنے میں ناکام رہے۔ محمود خان اس مسجد میں چالیس سال سے مؤذن تھے۔ ان کے بیٹے عرفان پٹھان اسٹار کریکیٹر (Star Cricketer) بن گیے۔ اس کے باوجود انھوں نے مسجد کی خدمت نہیں چھوڑی۔ مسجد کی مجلسِ منتظمہ نے ان کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ مسجد میں ملا ہوا اپنا کمرہ چھوڑ دیں۔

other sourceWords of another person or source

محمود خاں نے مسجد کی منتظمہ کی اس کارروائی کو غلط اور غیر منصفانہ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ بہت تیز بارش تھی جس نے پورے شہر کو اور مسجد کو نقصان پہنچایا۔ اس وقت میں یہاں موجود نہ تھا۔ میں اپنے بیٹے سے ملنے کے لیے لندن چلا گیا تھا۔ کہا جاتاہے کہ قرآن کا یہ نسخہ ایک قیمتی نسخہ تھا۔ یہ قرآن جس کمرے میں محفوظ تھا اس کی کنجی مؤذن کے پاس ہوتی تھی۔ مؤذن صاحب اپنے بیٹے سے ملنے کے لیے لندن گیے تو قاعدہ کے مطابق، یہ کنجی اُنھیں مسجد کے انتظامی ذمہ داروں کو دینا چاہیے تھا، مگر وہ یہ کنجی کسی غیر متعلق شخص کو دے کر چلے گیے۔ اس لیے بر وقت اس کو بچانے کی کارروائی نہ ہوسکی۔ بظاہر اس واقعے میں مؤذن کا ارادہ شامل نہ تھا۔ لیکن اس قسم کے واقعے میں اگر کسی اعتبار سے ہندو کا نام آجاتا تو غالباً ایک ہنگامہ کھڑا کردیا جاتا۔ اور اس کو قرآن کی بے حرمتی کا نام دے کر ایسی صورتِ حال پیدا کردی جاتی جس کا نتیجہ مزید جانی اور مالی نقصان کی صورت میں ظاہر ہوتا۔

other sourceWords of another person or source

ایک تعلیم یافتہ ہندو خاتون نے پوچھا کہ شادی شدہ زندگی کی کامیابی کا راز کیا ہے۔ میں نے کہا کہ شادی شدہ زندگی کو کامیاب بنانے کا فارمولا نہایت سادہ ہے— اپنے شوہر کو اپنا باس بنا لیجئے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Make your husband your home boss.

میںنے کہا کہ یہ فطرت کا قانون ہے۔ ہر تنظیم کو کامیابی کے ساتھ چلانے کے لیے ایک ناظم درکار ہوتا ہے۔ چنانچہ ہر اجتماعی ادارے میں ایک با اختیار ناظم رکھا جاتا ہے۔ اور اس معاملے میں گھر کوئی استثناء نہیں

And your home is not an exception.

ایک مسلم نوجوان نے کہا کہ میں بہت پریشان رہتا ہوں۔ میں نے ایک معاشی کام شروع کیا تھا مگر اس میں کامیابی نہ ہوسکی۔میں نے کہا کہ یہ کوئی پریشانی کی بات نہیں۔ اگر آج آپ بظاہر ناکام ہوگیے ہیں تو کَل انشاء اللہ آپ کامیاب ہوجائیں گے۔ میں نے کہا کہ آپ ناکامی کو ناکامی نہ سمجھیں، بلکہ ناکامی کو کامیابی سے پہلے کا مرحلہ سمجھیں

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Don't take your failure as failure, take your failure as pre-succes.

زندگی میںکبھی ایسا نہیں ہوتا کہ آدمی کو کوئی ناخوش گوار تجربہ نہ ہو۔ ہر کامیاب آدمی کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ وہ ناکامیوں سے گذر کر کامیابی تک پہنچتا ہے۔ یہ فطرت کا قانون ہے۔ اس میں کوئی استثناء نہیں ۔ آدمی اگر اس حقیقت کو سمجھ لے تو وہ کبھی اُس مسئلے سے دو چار نہ ہو جس کو ذہنی تناؤ کہا جاتا ہے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میںنے امریکا کے مشہور عیسائی مشنری بلی گراہم (Billy Graham) کا ذکر کیا۔ اس وقت وہ ۸۶ سال کے ہوچکے ہیں اور صاحب فراش ہیں۔ وہ تقریباً ۴۰ سال تک امریکا کے مشہور کاؤنسلر (councelor) بنے رہے۔ وہ ناامیدوں کو امید دلانے کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ مگر بڑھاپے کی عمر کو پہنچ کر پارکنسن (Parkinson's) کے مریض بن گئے۔ وہ دوبار گر پڑے جس کی وجہ سے ان کے پاؤں کی کئی ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔ اب وہ بسترِ مرض پر مایوسی کی زندگی گذار رہے ہیں، ایک انٹرویو میں انھوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

I sense that people are searching for purpose and meaning in their lives. Many feel lonely and are out of touch with the culture. (Time, December 2004, p. 16)

ایک صاحب سے گفتگو ہوئی۔ وہ مذہب کو نہیں مانتے تھے۔ میںنے اس سلسلے میں کچھ دلائل دیے۔ میرے دلائل کے وزن کا انھوں نے اعتراف کیا۔ مگر انھوں نے کہا کہ آج کے لحاظ سے یہ بات ٹھیک معلوم ہوتی ہے مگر کل نئی حقیقتیں سامنے آسکتی ہیں، جو اِن دلائل کو غیر اہم بنادیں۔

میں نے کہا کہ آپ زندگی کے دوسرے معاملات تو آج کی بنیاد پر چلاتے ہیں مگر مذہب کے معاملے میں شک کا اظہار کرتے ہیں۔ آپ کا یہ رویّہ آپ کو دو عملی میں مبتلا کردیتا ہے۔ جب آپ اپنے دنیوی معاملات میں ہمیشہ آج کی بنیاد پر منصوبہ بناتے ہیں تو مذہبی معاملے میں بھی آپ کواپنا منصوبہ آج کی بنیاد پر بنانا چاہیے۔ دو عملی کا طریقہ آدمی کی سنجیدگی کو مشتبہ کردیتا ہے۔

ایک تعلیم یافتہ تاجر سے ملاقات ہوئی۔ ان سے آخرت کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔میں نے کہاکہ انسان ہمیشہ سے پُر مسرت زندگی کی تلاش میں رہا ہے۔ مگر ایسی زندگی اس کو کبھی حاصل نہیں ہوئی۔ صنعتی انقلاب کے بعد سامانِ راحت میں بہت زیادہ اضافہ ہوا۔ اب ہر چیز زیادہ نفیس انداز میں حاصل ہونے لگی۔مثلاً کچے مکانات کے مقابلے میں جدید طرز کے پختہ مکانات، بیل گاڑی کے مقابلے میں موٹر کار کا سفر، سرائے کے مقابلے میں شاندار ہوٹلوں میں قیام، ہاتھ کے کرگھا سے بُنے ہوئے معمولی کپڑے کے مقابلے میں مِل کے بنے ہوئے شان دار کپڑے، زبانی پیغام رسانی کے بجائے ٹیلی اور موبائل کا طریقہ وغیرہ۔ مگر ان ترقیوں نے انسان کو پُر مسرت زندگی نہیں دی، بلکہ ایک نیا مسئلہ پیدا کردیا، جس کو ٹنشن کہا جاتا ہے۔ یہ صورت حال انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ پُرمسرت زندگی کا گول بجائے خود درست نہیں۔

اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا کو اس کے بنانے والے نے اس لیے نہیں بنایا کہ اس میں پر مسرت زندگی کی تعمیر ہوسکے۔ یہ دنیا امتحان کے مقصد کے تحت بنائی گئی ہے۔ یہاں ہر انسان حالتِ امتحان میں ہے۔ موجودہ دنیا میں پر مسرت زندگی کی تعمیر کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی طالب علم قبل امتحان دور میں وہ کامیابی پانے کی کوشش کرے جو صرف بعد امتحان دَور میں کسی کو حاصل ہوتی ہے۔

ایک صاحب نے سوال کیا کہ زندگی میں کامیابی کا راز کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہم اخلاقی قدروں اور انسانی اصولوں کے مطابق زندگی گذاریں تو ہم کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ میںنے کہا کہ انسان کی زندگی کے دو مرحلے ہیں۔ ایک ہے موت سے پہلے کی عارضی زندگی اور دوسرا ہے موت کے بعد کی ابدی زندگی۔ آپ جوطریقے بتارہے ہیں، ہوسکتا ہے کہ وہ انسان کو اس کی عارضی زندگی میں اس کو بظاہر کامیاب کردیں۔ مگر موت کے بعد کی ابدی زندگی میں اس قسم کی کامیابی کسی کے لیے مدد گار بننے والی نہیں۔ موت کے بعد کی زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے یہ جاننا ہوگا کہ اس کے لیے خالق کا کریشن پلان کیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک صاحب نے کہا کہ ہم کو خدا کی ہدایت کی کیا ضرورت۔ اگر ہم اپنے ضمیر کی آواز پر چلیں تو وہی نجات کے لیے کافی ہے۔ میںنے کہا کہ ضمیر کوئی قابلِ اعتماد ذریعہ نہیں۔ اس لیے کہ زندگی میں بار بار آدمی کے اوپر ذاتی انٹرسٹ غالب آجاتا ہے۔ مختلف مادّی مصلحتوں کی بنا پر آدمی اپنے ضمیر کے خلاف چلنے لگتا ہے۔ آدمی کی یہ روش اس کے ضمیر کودھیرے دھیرے بے حس بنا دیتی ہے۔ اس کی حسّاسیت یا ختم ہوجاتی ہے یا کمزور پڑ جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ آدمی کے پاس ضمیر کے علاوہ کوئی اٹل رہنمائی موجود ہو۔ یہ رہنمائی خدا کے سوا کوئی اور نہیں دے سکتا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے آرٹ آف تھنکنگ کا ذکر کیا۔ انھوں نے پوچھاکہ آرٹ آف تھنکنگ کیا ہے۔ میںنے کہا کہ آرٹ آف تھنکنگ میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق(difference)کو جانیں۔ وہی آدمی صحیح ڈھنگ پر سوچ سکتا ہے جس کے اندر فرق کو جاننے کی بصیرت موجود ہو۔جو لوگ چیزوں کے درمیان فرق کو نہ جانیں وہ ہمیشہ کنفیوژن میں جیتے ہیں۔وہ معاملات کو صحیح رخ سے دیکھنے میں ناکام رہتے ہیں۔

ایک تعلیم یافتہ ہندو سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ روحانیت دراصل مذہب کا اعلیٰ درجہ ہے۔ اب دنیا میں مذہب کا دَور ختم ہورہا ہے۔ اب ساری دنیا میں روحانیت کا دَور آرہا ہے۔ میںنے کہا کہ آپ کی یہ بات رواجی مذہب کے لیے درست ہے۔ عام رَواج میں جس چیز کو مذہب کہا جاتا ہے وہ مذہب کا ظاہری فارم ہے۔ جہاں تک مذہب کی اصل اسپرٹ کا تعلق ہے، وہ روحانیت ہے۔ روحانیت مذہب کا اعلیٰ درجہ نہیں۔ روحانیت مذہب کی اصل اسپرٹ ہے۔ مذہب آدمی کو مادّی سطح سے اُٹھا کر اعلیٰ فکری سطح پر پہنچا دیتا ہے۔ اسی کا نام روحانیت ہے۔ حیوانات جسمانی سطح پر جیتے ہیں۔ انسان کا امتیاز یہ ہے کہ وہ رُوح کی سطح پر جینے لگے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مسٹر انس انور کی ڈائری میں میں نے نصیحت کے یہ الفاظ لکھے— سوچی سمجھی زندگی گذارنا، انسان کی صفت ہے اور بے سوچی سمجھی زندگی گذارنا حیوان کی صفت۔میرے تجربے کے مطابق بیش تر لوگ بے سوچی سمجھی زندگی گذارتے ہیں۔ دورِ جدید نے لوگوں کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ اچھے کپڑے پہنیں، اچھے گھروں میں رہیں اچھی گاڑیوں میںسفر کریں۔ اس طرح بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اعلیٰ درجے کی زندگی گذار رہے ہیں۔ مگر واقعہ اس کے برعکس ہے۔ بیش تر لوگوں کو میں دیکھتا ہوں کہ وہ مجھے خوش پوش حیوان نظر آتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ میری حسّاسیت ہے یا فی الواقع لوگ ویسے ہی ہوگیے ہیں جیسا کہ وہ مجھ کو نظر آتے ہیں۔

ایک نعت گو اپنا نعتیہ کلام سُنارہے تھے۔ مجھے یہ پورا کلام بہت عجیب معلوم ہوا۔ میرا احساس ہے کہ اکثر نعتیہ کلام محض شاعری ہوتا ہے نہ کہ نعتِ رسول۔ مثلاً مذکورہ نعت گو کا ایک شعر یہ تھا

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

الٰہی! روضۂ خیر البشر پر میںاگر جاؤں تو اک سجدہ کروں ایسا کہ اپنے سے گذر جاؤں

یہ شعر بلا شبہہ ایک تخیّلاتی پرواز ہے۔ بعد کے دَور میں مسلمانوں میںرسول کی نسبت سے ایک عجیب بدعت پیدا ہوئی جس کو عُرفِ عام میں عشقِ رسول کہا جاتا ہے۔ عشق کا لفظ رسول اللہ کے لیے بولنا بلا شبہہ ایک بدعت ہے۔ کیوں کہ یہ لفظ صحابہ اور تابعین کے زمانے میں کبھی استعمال نہیں ہوا۔ رسول اللہ کے لیے ایک مسلمان سے جو چیز مطلوب ہے وہ محبت رسول اور اتباعِ رسول ہے نہ کہ عاشقانہ وارفتگی۔

ایک صاحب نے کہا کہ حدیث میںآیا ہے اَصحاب الجنۃ بُلْہ۔ اس کا مطلب کیا ہے۔ میں نے کہا کہ بُلہ عربی زبان میں ضعیف العقل لوگوں کو کہاجاتا ہے۔ مگر یہاں اس سے مراد ضعیف العقل ہونا نہیں ہے۔ اس سے مراد وہی صفت ہے جس کو دوسری حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے أفئدتہم کافئدۃ الطّیر (اہل جنت کے دل چڑیوں کے دل جیسے ہوں گے)۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت میں وہ لوگ جائیں گے جن کے ایمان نے ان کو بے ضرر، غیر انتقامی اور یک طرفہ طورپر شفیق بنا دیا ہو۔ آخرت کی جنت میں وہ خدا پرست داخل کیے جائیں گے جنھوں نے دنیا کے سماج میں یک طرفہ طورپر امن پسند بن کر زندگی گذاری ہو۔ جن کے دل میں لوگوں کے لیے خیر خواہی کے سوا کچھ اور نہ ہو۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جنت میں داخل ہونے والے بے وقوف لوگ ہوں گے۔ ایسا سمجھنا جنت اور اہلِ جنت کی تصغیر ہے۔ اس حدیث کا مطلب دراصل یہ ہے کہ جنت کے مستحق وہ لوگ قرار پائیں گے جو عقلِ دنیا کے معاملے میں لوگوں کو نادان دکھائی دیں۔ جن کے اوپر مفادِ آخرت کا اتنا زیادہ غلبہ ہو کہ وہ اپنے اس مفادِ آخرت کے غلبے کی وجہ سے مفادِ دنیا کے معاملے میں دوسروں کے ساتھ ہوشیاری کا معاملہ نہ کرسکیں۔ حقیقت یہ ہے اس حدیث میں بُلہ کا لفظ دوسرے ناظرین کی نسبت سے ہے نہ کہ خود اہلِ جنت کی نسبت سے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سیّدہ حنا صاحبہ بنگلور کی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون ہیں۔ ان کی رہائش گاہ پر ایک مختصر اجتماع ہوا۔ اس میں میں نے دعوہ ورک کی اہمیت بتائی۔ میں نے کہا موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے کرنے کا سب سے ضروری کام یہی ہے۔ سیدہ حنا صاحبہ ایک بڑا کاروبار کررہی ہیں مگر وہ پوری طرح اسلامی طریقے پر رہتی ہیں۔ وہ اس بات کی ایک مثال ہیں کہ اسلامی وضع پر قائم رہتے ہوئے ایک عورت کس طرح بڑے بڑے کام کرسکتی ہے۔

ایک صاحب نے کہا کہ آپ نے الرسالہ میں وسیلے کے خلاف لکھا ہے۔ حالاں کہ وسیلہ صحابہ کے عمل سے ثابت ہے۔ حدیث میںآیا ہے کہ حضرت عمر فاروق نے رسول اللہ کے چچا حضرت عباس کے وسیلے سے بارش کی دعا کی۔ میںنے کہا کہ یہ صحیح نہیں۔ حضرت عمر کے عمل سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ انھوں نے بارش کے لیے دعا تو اللہ تعالیٰ سے کی تھی۔ البتہ انھوںنے صرف ایک قریبی حوالے کے طورپر حضرت عباس کا نام لیا تھا۔ یہ نام لینا در اصل پوائنٹ آف ریفرنس کے طورپر تھا، وہ وسیلے کے طور پر نہ تھا۔ یہ در اصل اسلوبِ دعا کی بات ہے نہ کہ معروف معنوں میں وسیلے کی بات۔ اس لیے کسی صحابی نے اپنی انفرادی دعا میں ایسے الفاظ استعمال نہیں کیے۔ ایسی دعا صرف اجتماع کے موقع پر وقتی نفسیات کے اعتبار سے کی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ وسیلے کا معروف تصور نعوذ باللہ خدا کی تصغیر ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

۲۷ جولائی ۲۰۰۵ کو بنگلور سے دہلی کے لیے واپسی ہوئی۔ یہ سفر انڈین ایر لائنز کے ذریعے طے ہوا۔ سفر دعوت بھی ہے اور مطالعہ بھی، اور اسی کے ساتھ تفریح اور تجارت بھی۔ یہ مسافر کے اپنے اوپر منحصر ہے کہ وہ اپنے سفر کو کیسا سفر بنائے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content
unverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyunverifiedAttribution could not be verified automaticallyother sourceWords of another person or sourceother sourceWords of another person or sourceoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it