← Al-Risala June 2020Al-Risala June 2020
خوف، بے خوفی
Urdu · 7 min read
اکثر لوگ مسائل اور مشکلات کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ حالات ہمارے لیے موافق نہیں ہیں۔ ایسے مقام پر کیا کرنا چاہیے۔مثلاً ایک مسلم ادارے سے شائع ہونے والے انگریزی میگزین میں ایک مضمون کا عنوان تھا:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Where the mind is without fear
یعنی جہاں انسان بے خوف ہو کر زندگی گزارے۔ مگر یہ تصور مطلق معنی میںدرست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مائنڈ کو خوف والا رہنا چاہیے۔ بے خوف مائنڈ بے پروائی کی زندگی گزارتا ہے، ایسا انسان تواضع کی صفت سے خالی ہوتا ہے، وہ ایک دوسرے سے لڑتا جھگڑتا رہتاہے۔ ایسا انسان انجام سے بے خبر ہوکر ہر کام کرتا ہے۔ اس کو نتیجے کی کوئی پروا نہیں ہوتی ۔
اس کے برعکس،خوف انسان کو اس کی اپنی آزادی کے مس یوز (misuse)سے روکتا ہے۔ وہ مائنڈ کو متحرک کرتا ہے تاکہ مائنڈمسائل میں الجھنے کے بجائے مواقع کو تلاش کرے۔ یہ انسان کا سب سے اچھا استاد ہے،جو مائنڈ کو الائیو (alive) رکھتا ہے۔جو انسان کو تجربہ سکھاتا ہے۔ انسان خوف کی حالت میںسنجیدگی کے ساتھ پلاننگ کرتا ہے۔ ایسا انسان کچھ کرنے سے پہلے سوچتا ہے، اس کے بعد وہ کوئی قدم اٹھاتا ہے۔خوف کی صورتِ حال اپنی حقیقت کے اعتبار سے انسان کے لیے ایک چیلنج کی صورتِ حال ہے۔
آدمی سے یہ مطلوب ہے کہ وہ چیلنج کے درمیان مواقع کو تلاش کرنا سیکھے، وہ چیلنج کو مینج (manage) کرکے اپنی دنیا بنائے۔ ایسا اس لیے ہے تاکہ انسان کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ اپنی عقل کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرے، وہ اپنی شخصیت کو زیادہ سے زیادہ ترقی یافتہ بنائے۔
ایک مرتبہ کا واقعہ ہے۔میں ایک چڑیا خانہ (zoo) دیکھنے کے لیے گیا۔ یہ چڑیاخانہ غالباً یوپی کے کسی شہر میں واقع تھا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ ایک بڑا سا گھیرا(enclosure) ہے۔ ا س کے اندر کچھ ہرن بیٹھے ہوئے تھے۔ چڑیا خانے کے نگراں نے کہا کہ ان ہرنوں کو دیکھیے۔ یہ بے خوفی کی حالت میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ بے خوفی کی حالت ان کے لیے اچھی نہیں ہے۔ اگر وہ دیر تک بے خوفی کی حالت میں رہیں تو وہ اپنی تولیدی (fertility) صلاحیت کھو دیں گے۔ اس لیے ہم کبھی کبھی ایسا کرتے ہیں کہ اس گھیرے(enclosure) کے اندر بھیڑیا ڈال دیتے ہیں۔ بھیڑیاہرن کے لیے ایک خوفناک جانور ہے۔ چنانچہ ہرن جب بھیڑیا دیکھتاہے، تو وہ فورا گھیرے کے اندر دوڑنا شروع کردیتا ہے۔ بھیڑیا ہرن کو دوڑاتا ہے، اور ہرن بھیڑیا سے بچنے کے لیے تیزی سے دوڑنا شروع کردیتا ہے۔ یہ گویا جنگل والی حالت کو چڑیا گھر میں مصنوعی طور پر پیدا کرنا ہے۔ اس دوڑ دھوپ کے نتیجے میں ہرن کی تولیدی صلاحیت لوٹ آتی ہے۔ ہرن دوبارہ اس قابل ہوجاتے ہیں کہ وہ بچے پیدا کریں۔ وہ جنگلی زندگی والے اوصاف کو دوبارہ اپنے اندر پیدا کرلیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ فطرت کا نظام ہے۔ فطرت کا نظام انسان کے لیے بھی مطلوب ہے۔ انسان کی زندگی میں جب ٹھہراؤ آجاتا ہے تو فطری نظام کے تحت انسان کے اندر ڈر کی حالت (challenge) پیدا کی جاتی ہے۔ یہ ڈر کی حالت یا چیلنج کی حالت انسان کی تخلیقیت (creativity) کو بڑھاتی ہے۔ اس کی وجہ سے غیر تخلیقی گروہ (non-creative group) تخلیقی گروہ (creative group) بن جاتاہے۔ یہی وہ فطری حقیقت ہے، جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:کَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِیلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً کَثِیرَةً بِإِذْنِ اللَّہِ وَاللَّہُ مَعَ الصَّابِرِینَ (2:249)۔ کتنی ہی چھوٹی جماعتیں اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں۔ اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرانسان ناموافق صورت ِحال میں صابرانہ طریقہ، یعنی حکیمانہ منصوبہ بندی کا طریقہ اپنائے تو بظاہر کم ہونے کے باوجود وہ زیادہ کے اوپر غالب آجائے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خوف محض ایک منفی چیز نہیں وہ ایک بصیرت ہے، جو آدمی کے ذہن کو اس طرح روشن کردیتا ہے کہ وہ ہر چیز کو اس کے اصلی اور حقیقی (as it is)روپ میں دیکھ سکے۔ خوف یا چیلنج کسی انسانی گروہ کو تخلیقی گروہ بناتا ہے۔ قرآن کے الفاظ میں یہ اذن اللہ، یعنی فطرت کا نظام ہے۔ یہ فطرت کا نظام بظاہر خوف کی بات ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ امید کی بات ہے۔ انسان کو چاہیے کہ جب کسی گروہ کے اندر ایسی حالت پیدا ہو، تو وہ اس کو فطرت کا تحفہ سمجھے۔وہ اس کو بطور موقع (opportunity) اویل (avail) کرے۔ اس طرح غیر تخلیقی گروہ تخلیقی گروہ بن جائے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
برٹش مورخ آرنلڈ ٹائن بی (1889-1975) نے12 جلدوں میں ایک ضخیم کتاب لکھی ہے۔ اس کتاب کا نام اسٹڈی آف ہسٹری (A Study of History)ہے۔ اس کتاب میں اس نے پوری دنیا کی 19 عظیم تہذیبوں کا جائزہ لیا ہے۔ ا س جائزے میں اس نے بتایا ہے کہ تاریخ میں فطرت کا ایک نظام قائم ہے۔ جس کو اس نے چیلنج- رسپانس میکانزم کانام دیا ہے۔ یعنی حالات کے تحت ایک چیلنج پیش آتا ہے۔ اس کے بعد قوم کے اندر ہلچل پیدا ہوتی ہے۔ یہ ہلچل قوم کو ترقی کی طرف لے جاتی ہے۔ یہاں تک کہ غیر ترقی یافتہ قوم ترقی یافتہ قوم بن جاتی ہے۔ یہ عمل پوری تاریخ میں جاری رہا ہے۔
موجودہ زمانے میں اس واقعے کی ایک مثال جاپان ہے۔ جاپان ایک کم ترقی یافتہ قوم بنی ہوئی تھی۔ پھر ایسے حالات پیدا ہوئے کہ سیکنڈ ورلڈ وار میں اس پر دو ایٹم بم گرا دیے گئے۔ اس واقعے کے بعد جاپان کی پوری قوم متحرک ہوگئی۔ جاپان کے اندر ترقیاتی سرگرمی کا عمل جاری ہوگیا۔
میں نے خود اپنی زندگی میں دیکھا ہے کہ جاپان کی صنعت کھلونا بنانے والی صنعت بنی ہوئی تھی۔ جاپان میں بڑی ترقیاں نہیں ہورہی تھی۔ اس کے بعد ایسے حالات پیدا ہوئے کہ امریکا نے جاپان کے دو شہروں ، ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر 1945 میں دو ایٹم بم گرادیے۔ اس سے جاپان کے شہر برباد ہوگئے۔ جاپان کی صنعت کو غیر معمولی نقصان پہنچا۔ یہ ایک دھماکہ خیز عمل تھا۔ مگر اس دھماکہ خیز عمل نے پوری جاپانی قوم کو جگا دیا۔ اس وقت جاپان کے اوپر ہیرو ہیٹو (Hirohito) کی حکومت تھی۔ ہیرو ہیٹو بہت پڑھا لکھا آدمی تھا۔ اس نے اس واقعے سے منفی سبق نہیں لیا، بلکہ اس سے مثبت سبق حاصل کیا۔ جنگ عظیم کے بعد 10 اگست 1945 کو ریڈیو پر اپنی قوم کو خطاب کرتے ہوئے اس نے کہا کہ ہم ایک ناقابلِ برداشت صورتِ حال سے دوچار ہیں۔ لیکن ہم کو اس ناقابلِ برداشت صورتِ حال کو برداشت کرنا ہے:
unverifiedAttribution could not be verified automatically
The time has come when we must bear the unbearable.
ہیرو ہیٹو کی بات کا مطلب یہ تھا کہ وقتی طور پر ہمیں ایک نا موافق صورتِ حال کو برداشت کرنا ہے تاکہ ہم جاپان کی اگلی نسلوں کو ترقی یافتہ قوم بناسکیں۔
دھماکہ خیز واقعات ہمیشہ چیلنج ہوتے ہیں، وہ اس لیے آتے ہیں کہ قوم کے اندر ہلچل پیدا کریں، وہ غیر زندہ قوم کو زندہ قوم بنادیں۔چیلنج کیا ہے۔ چیلنج کا لفظ مسئلہ (problem) کے لفظ سے مختلف ہے۔مسئلہ ایک منفی لفظ ہے، جب کہ چیلنج ایک مثبت لفظ ہے۔ چیلنج نسبتاً ایک نیا لفظ ہے۔ اس کا مطلب ہے — ایک نیا یا مشکل مسئلہ جو کہ آدمی کے لیے اس کی استعداد کا امتحان ہوتا ہے:
A new or difficult task that tests somebody's ability and skill.
جب بھی کوئی چیلنج سامنے آتا ہے تو اس میں مسائل (problems) کےساتھ نئے امکانات (opportunities) بھی موجود ہوتے ہیں۔ چیلنج کا رسپانس دینے کی دوصورتیں ہیں — نگیٹیو رسپانس (negative response)، پازیٹیو رسپانس (positive response)۔ نگیٹیو رسپانس یہ ہے کہ آدمی کو جب کسی چیلنج کا سامنا ہو تو وہ منفی رد عمل کا شکار ہوجائے، اور چیلنج کی حالت کو خوف اور سازش کے اعتبار سے دیکھنے لگے۔ اس کے برعکس، پازیٹیو رسپانس یہ ہے کہ انسان چیلنج پیش آنے پر نفرت اور شکایت کی نفسیات کا شکار نہ ہو، بلکہ صورتِ حال کا مطالعہ کرکے اس میں موجود مواقع کو دریافت کرے، اور اس کو اویل کرنے کی کوشش کرے۔
فرد کی ترقی یا سماج کی ترقی کا راز یہ ہے کہ فطرت کو آزادانہ طور پر کام کرنے کا موقع دیا جائے۔اگر فرد یا سماج کی سرگرمیوں میںمنفی نفسیات کے تحت مداخلت نہ کی جائے تو فرد اور سماج دونوںچیلنج - رسپانس (challenge-response) کے پراسس کے تحت اپنے آپ بھر پور طور پر ترقی کرتے ہیں — عقل مند انسان وہ ہے، جو مسائل میں الجھ کر وقت ضائع کرنے کے بجائے امکان تلاش کرے، اور اس کو اویل (avail) کرے۔