قرآن میں بتایا گیاہے کہ پوری کائنات انسان کےلیے مسخر کردی گئی ہے۔ اس سلسلے میں ایک آیت یہ ہے:وَسَخَّرَ لَکُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْہُ ۭ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ (45:13)۔ یعنی اس نے آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کردیا، سب کو اپنی طرف سے۔ بیشک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور کرتے ہیں۔
انسان کے لیے دوسرا تخلیقی اصول ا س آیت میں ملتا ہے: وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِی الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّہِ رِزْقُہَا وَیَعْلَمُ مُسْتَقَرَّہَا وَمُسْتَوْدَعَہَا کُلٌّ فِی کِتَابٍ مُبِینٍ (11:6)۔ یعنی اور زمین پر کوئی چلنے والا ایسا نہیں جس کی روزی اللہ کے ذمہ نہ ہو۔ اور وہ جانتا ہے جہاں کوئی ٹھہرتا ہے اور جہاں وہ سونپا جاتا ہے۔ سب کچھ ایک کھلی ہوئی کتاب میں موجود ہے۔
ان دونوں آیتوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پوری کائنات انسان کے لیے کسٹم میڈ یونیورس (custom-made) کے طور پر بنائی گئی ہے۔ اسی کے ساتھ ہر فرد کےلیے ایک گوشۂ خاص (personal corner) ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ ذاتی گوشے کو دریافت کرے، اور اس کے مطابق، اپنی زندگی کا منصوبہ بنائے۔ جو شخص ایسا کرے، وہ بہت جلد دنیا میں اپنے لیے ایک گوشۂ عافیت پالے گا۔ جو آدمی ایسا نہ کرے، وہ ساری عمر منفی سوچ میں جیے گا، اور دنیا سے حصہ لیے بغیر اس کا خاتمہ ہوجائے گا۔ زندگی کی اس حقیقت کو ایک آیت میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:وَابْتَغِ فِیمَا آتَاکَ اللَّہُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنْسَ نَصِیبَکَ مِنَ الدُّنْیَا (28:77)۔یعنی جو کچھ اللہ نے تم کو دیا ہے اس میں آخرت کے طالب بنو۔ اور دنیا میں سے اپنے حصے کو نہ بھولو۔اس آیت میں نصیب کا مطلب ہے حصہ (share)۔ لوگ عام طور پر یہ غلطی کرتے ہیں کہ وہ دوسرے کا نصیب چھیننا چاہتے ہیں، جو ان کو کبھی نہیں ملتا۔ صحیح یہ ہے کہ فطری طور پر جو آپ کا نصیب ہے، اس کو دریافت کیجیے۔ پھر آپ جانیں گے کہ جو آپ چاہتے تھے، وہ پہلے سے آپ کو ملا ہوا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔