اللہ کی صفت غضب بھی ہے اور رحمت بھی۔ اگر کوئی شخص یہ سمجھے کہ اللہ نے انسان کو اس لیے پیدا کیا کہ وہ اس کو اپنے غضب کا تجربہ کرائے تو یہ بلاشبہ اللہ رب العالمین کا ایک کمتر اندازہ (underestimation) ہوگا۔زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ کہاجائے کہ اللہ رب العالمین نے انسان کو اس لیے پیدا کیا کہ اللہ رب العالمین اس کو اپنی رحمت کا تجربہ کرائے۔ یہی تصور اللہ رب العالمین کی شان کے مطابق ہے۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے وَرَحْمَتِی وَسِعَتْ کُلَّ شَیْءٍ(7:156)۔یعنی میری رحمت شامل ہے ہر چیز کو۔ ایک حدیث قدسی میں اس حقیقت کواس طرح بیان کیا گیا ہے: إِنَّ رَحْمَتِی غَلَبَتْ غَضَبِی(صحیح البخاری، حدیث نمبر 7422)۔ یعنی میرے غضب پر میری رحمت غالب ہے۔
باپ کے اندر اپنے بیٹے کے لیے ایک اعلیٰ شریفانہ جذبہ ہوتا ہے، جس کو پدرانہ شفقت (fatherliness)کہا جاتا ہے۔ یہ جذبہ باپ کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کی غلطی کو سنبھالے، وہ اپنے بیٹے کو اس کی غلطی کا انجام بھگتنے نہ دے۔ یہ صفت بلاشبہ خالق کے اندر بے شمار گنا حد تک زیادہ ہے۔ اس صفت کی بنا پر جس طرح خالق کے غضب پر اس کی رحمت غالب آجاتی ہے۔ اسی طرح بندے کا بھی یہ حال ہوتا ہے کہ جب وہ اپنے مہربان خالق کے بارے میں سوچتا ہے تو اس کی رجاء (hope)اس کے خوف پر غالب آجاتی ہے۔ وہ یہ امید کرتا ہے کہ اس کا مہربان خالق اس کی غلطیوں کو سنبھالے گا، وہ اس کو اس کی غلطیوں سے بچالے گا۔یہ احساس آدمی کو اللہ کی رحمت کا یقین دلاتا ہے۔
زندگی کا یہ تصور اگر آدمی کے اندر یہ مزاج پیدا کرتا ہے کہ ایک طرف وہ ہمیشہ آخرت کی پکڑ سے ڈرتا رہے، دوسری طرف یہ مزاج اس کے اندر یہ نفسیات پیدا کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ اللہ کے بارے میں پر امید (hopeful) بنا رہے— رحمت، اللہ کی صفت عام ہے، اور اللہ کاغضب ایک استثنائی (exceptional)معاملہ ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔