قرآن میں ایک انسانی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِہِ بَصِیرَةٌ ، وَلَوْ أَلْقَى مَعَاذِیرَہُ (75:14-15)۔ یعنی بلکہ انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے ، چاہے وہ کتنے ہی بہانے پیش کرے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی تخلیق اس انداز میں ہوئی ہے کہ اگر وہ عذر (excuse) کا شکار نہ ہو، تو وہ خود اپنی تخلیق پرغور کرکے بڑی بڑی باتیں سیکھ سکتا ہے۔ اس کی زندگی خود ایک لائبریری ہے۔ اپنے مطالعہ سے خود وہ اپنے لیے بڑے بڑے سبق دریافت کرسکتا ہے۔ مثلاً حدیث میں آیا ہے کہ اللہ نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے(صحیح البخاری، حدیث نمبر6227)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو صفتیں کامل طور پر اللہ رب العالمین کی ذاتی صفتیں ہیں، ان میں سے کچھ محدود طور پر انسان کو بطور عطیہ دی گئی ہیں۔
مثلاً انسان جب اس کائنات کو دیکھتاہے ، تو اس کو یہ نظرآتا ہے کہ پوری کائنات نہایت منصوبہ بند انداز میں چل رہی ہے۔سورج ہمیشہ ٹھیک اپنےوقت پر نکلتا ہے، اور ٹھیک متعین وقت پر غروب ہوجاتا ہے۔ اسی طرح پوری کائنات زیرو ڈیفکٹ مینجمنٹ کے اصول پر چل رہی ہے۔ اس کے برعکس، انسان کے انتظام میں ہمیشہ نقائص موجود رہتے ہیں۔ انسان اگر اس معاملے کا مطالعہ تقابلی انداز میں کرے، تو وہ خود اپنے قریبی مطالعے کے ذریعے خدائے برتر کے وجود کو دریافت کرلے گا۔ یہ دریافت اس کو یہ کہنے پر مجبور کردے گی:أَفِی اللَّہِ شَکٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ (14:10)۔ یعنی کیا خدا کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کو وجود میں لانے والا ہے۔
انسان خدا کو براہ راست نہیں دیکھ سکتا۔ البتہ وہ تخلیق کی معرفت حاصل کرکے خدا کی موجودگی کے یقین تک پہنچ سکتا ہے۔ کائنات ایک موجود حقیقت ہے۔ خدا اس موجود حقیقت کا واجد (وجود دینے والا) ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ کائنات کا موجود ہونا،اپنے آپ میں خالق کے موجود ہونے کا ثبوت ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔