Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Al-Risala June 2020
Al-Risala June 2020

سوال و جواب

Urdu · 3 min read

قرآن کی ایک آیت ہے:وَیَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِینَ کَفَرُوا عَلَى النَّارِ أَذْہَبْتُمْ طَیِّبَاتِکُمْ فِی حَیَاتِکُمُ الدُّنْیَا وَاسْتَمْتَعْتُمْ بِہَا فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْہُونِ بِمَا کُنْتُمْ تَسْتَکْبِرُونَ فِی الْأَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَبِمَا کُنْتُمْ تَفْسُقُونَ (46:20)۔ یعنی اور جس دن انکار کرنے والے آگ کے سامنے لائے جائیں گے، (اُن سے کہا جائے گا کہ) تم اپنی اچھی چیزیں دنیا کی زندگی میں لے چکے اور ان کو برت چکے تو آج تم کو ذلت کی سزادی جائے گی، اس وجہ سے کہ تم دنیا میں ناحق تکبر کرتے تھے اور اس وجہ سے کہ تم نافرمانی کرتے تھے۔ اس آیت میں اذہاب طیب کا معنی کیا ہے،ایک مومن کو آرام دہ زندگی کا ملنا کتنا مطلوب ہے۔ وضاحت چاہیے۔ (مولانا سید اقبال احمد عمری، عمر آباد، تامل ناڈو)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی اس آیت میں اذہابِ طیبات مطلق معنی میں نہیں ہے۔ اس لیے کہ مطلق معنی میںطیبات اس زمانے میں کسی کو نہیں ملتی تھیں۔ اُس زمانے میں جو چیز ملتی تھی، وہ کھجور اور اونٹ کا دودھ ہے ۔ یہ طیبات کے اسٹینڈرڈ کے مطابق، بہت معمولی چیزیں ہیں۔

اس آیت میں طیبات سے مراد طیبات فطری ہیں، نہ کہ مادی طیبات۔ یعنی طیبات سے مراد غالباً انسانی مصنوعات نہیں ہیں، بلکہ اس سے مراد وہ چیزیں ہیں، جو براہ راست اللہ رب العالمین کی طرف سے انسانوں کو پہنچ رہی ہیں۔ یعنی وہ تمام چیزیں جو فطری طور پر کسی خاص کسب کے بغیر انسانوں کو ملتی ہیں ۔ اس میں رزق کی تمام چیزیں شامل ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں تم کو جو مواقع دیےگئے تھے، وہ خداوند عالم کی شکر گزاری کے لیے تھے۔ لیکن تم نے ان طیبات کو اویل نہیں کیا، بلکہ اویل کرنے کا موقع گنوادیا۔ خداوند عالم کی شکر گزاری کا تعلق تمام فطری نعمتوں سے ہے۔ مثلاً پانی کا برسنا، ہوا کے ذریعے آکسیجن کی سپلائی۔ زمین سے غذائی اشیاء کا اگنا، وغیرہ وغیرہ۔

مسلمانوں کے درمیان مختلف مسائل پر جاری احتجاج کے پس منظر میں ایک صاحب نے لکھا ہے:"احتجاج کے لیے جو جرات درکار تھی، وہ خون میں شامل ہوچکی ہے۔ اب نقصان کی پرواہ مت کیجیے۔ مولانا وحید الدین خاں صاحب سمجھانا چاہیں، تو ٹال دیجیے۔" اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ (عادل خاں، بنگلورو، کرناٹک)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میرے نزدیک احتجاج کے جواز یا عدم جواز کا سوال نہیں ہے۔ مفید یا غیر مفید ہونے کا سوال ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ احتجاج کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ کشمیر اور فلسطین میں یہ کام بہت بڑے پیمانے پر ہوا، لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا، بلکہ برعکس طور پر ان کے نقصان میں اضافہ ہوا ہے۔ صحابی رسول عبد اللہ بن مسعود کے الفاظ میں،وہ خوش قسمت ہے، جو دوسرے (کی کامیابی یا ناکامی)سے نصیحت حاصل کرے(السَّعِیدُ مَنْ وُعِظَ بِغَیْرِہِ)صحیح مسلم، حدیث نمبر 2645۔ احتجاج کے تعلق سے میری یہ رائے کسی عالم دین کی رائے پر مبنی نہیں ہے، بلکہ حدیث رسول پر مبنی ہے۔ وہ حدیث یہ ہے:مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ المَرْءِ تَرْکُہُ مَا لَا یَعْنِیہ(جامع الترمذی، حدیث نمبر 2317) ۔ یعنی یہ کسی آدمی کے اچھے اسلام میں سے ہے کہ وہ بے فائدہ چیز کو ترک کرے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس حدیث کی تشریح میں محمد بن عبد الہادی السندی لکھتے ہیں: مِنْ جُمْلَةِ مَحَاسِنِ إِسْلَامِ الشَّخْصِ وَکَمَالِ إِیمَانِہِ تَرْکُہُ مَا لَا یَعْنِیہِ مِنْ عَنَاہُ إِذَا قَصَدَہُ ... فَإِنَّ الشَّیْءَ الَّذِی لَا فَائِدَةَ فِیہِ غَیْرُ قَاصِدٍ لِلشَّخْصِ وَلَا مُتَوَجِّہٌ إِلَیْہِ وَلَا مُتَعَلِّقٌ بِہِ (حاشیۃ السندی علی سنن ابن ماجہ، جلد2، صفحہ474، حدیث نمبر 3976)۔ یعنی کسی شخص کے محاسن اسلام اور کمالِ ایمان میں سے ہے کہ وہ اس کو چھوڑ دے، جو اس کے لیے بے معنی ہو۔ (یعنیہ کا لفظ ) عناہ سے ماخوذہے، (اس کا مطلب ہے) قصدو ارادہ کرنا... (یعنی )جس چیز میں انسان کا فائدہ نہ ہو، وہ اس کا قصد نہیں کرتا ہے، نہ وہ اس کی طرف توجہ کرتا ہے، اور نہ وہ اس سےتعلق رکھتا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content