← Al-Risala June 2020Al-Risala June 2020
پریکٹکل وزڈم
Urdu · 6 min read
اجتماعی زندگی کبھی یکساں نہیں ہوتی۔ اجتماعی زندگی میں ہمیشہ مختلف قسم کے مسائل پیش آتے ہیں۔ اس بنا پر بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو دوسرے کی طرف سے ایسا تجربہ پیش آئے گا، جو اس کی مرضی کے خلاف ہوگا۔ ایسے موقع پر ہمیشہ یہ عقل کی بات ہوتی ہے کہ آدمی کم پر راضی ہوجائے۔ آئڈیل کی مانگ کرنا، عملاً اس نتیجے تک پہنچنا ہے کہ جو ممکن ہے، وہ بھی نہ ملے، اور زیادہ تو ملنے والا ہی نہیں تھا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ اِس دنیا میں ا جتماعی اختلافات کبھی معیار (ideal) کی بنیاد پر طے نہیں ہوتے۔
عام طور پر انسان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ متاثر ذہن (conditioned mind)سے سوچنے کی بنا پر صحیح فیصلہ نہیں لے پاتا۔ وہ چیزوں کو ان کے فیس ویلو (face-value) پر لیتا ہے۔جہاں انتظار کی پالیسی اختیار کرنی چاہیے، وہاں وہ جلد بازی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ جہاں پر امن تدبیر کے ذریعہ مسئلہ حل کرنا چاہیے، وہاں وہ تشدد کا طریقہ اختیار کرلیتا ہے۔ جہاں رد عمل (reaction) سے بچ کر اپنا منصوبہ بنانا چاہیے، وہاں وہ ری ایکشن کا شکار ہوکر ایسا منصوبہ بناتا ہے، جو مسائل میں صرف اضافے کا سبب بن جاتا ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ اسے اس کا مطلوب آئڈیل کی بنیاد پر حاصل ہو۔اس بنا پر وہ ایسا کرتا ہے۔ مگر یہ طریقہ وزڈم کے خلاف ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ چیزوں کو نتیجے کے اعتبار سے دیکھے۔ اس طرح مسئلہ کسی مزید دشواری کے بغیر بہ آسانی حل ہوجائے گا۔
اس دنیا میں اختلاف کے معاملے میںآپشن دو بہتر کے درمیان نہیں ہوتا، بلکہ چھوٹے شر (lesser evil)اور بڑے شر (greater evil)کے درمیان ہوتا ہے۔اسی کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خیر الشرین کہا ہے(العقد الفرید، جلد2، صفحہ109-110)، یعنی عقل مند وہ ہے، جو دو برائیوں (evils) میں سے کمتر بُرائی (شر)کو پہچانے۔ اگر آدمی چھوٹے شر پر راضی نہ ہو تو اس کے بعد اس کو جس چیز پر راضی ہونا پڑتا ہے، وہ بڑا شر ہے۔اس حقیقت کو صحابی رسول عمیر بن حبیب بن خماشہ اس طرح بیان کیا ہے: جو شخص نادان کی طرف سے پیش آنے والے چھوٹے شر پر راضی نہیں ہوگا، اس کو نادان کے بڑے شر پر راضی ہونا پڑے گا (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 2258)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اختلاف کے وقت دانش مند آدمی کے لیے پہلا آپشن کیا ہوتا ہے۔ وہ یہ ہےکہ فریقِ ثانی کی شرطوں کو قبول کرتے ہوئے اس سے صلح کرلی جائے۔پیغمبر اسلام کی یہی سنت رہی ہے۔ اسی سنت کو قرآن میں حکمت کہا گیا ہے۔ قرآن میں ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو کتاب اور حکمت کے ساتھ بھیجا۔ کتاب سے مراد قرآن ہے، اور حکمت سے مراد وہی چیز ہے، جس کو پریکٹکل وزڈم کہا جاتا ہے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پریکٹکل وزڈم کی وجہ سے آپ کو ملنے والی چیز ابتدا میں بہ ظاہر کم نظر آتی ہے۔ جیسا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر بہت سے صحابہ کو لگا تھا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2731)۔ لیکن اپنے نتیجے کے اعتبار سے وہ ہمیشہ زیادہ ہوتی ہے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ آئڈیل وزڈم نتیجے کی اعتبار سے بے فائدہ ٹکراؤ کی طرف لے جاتا ہے۔ اس کے برعکس، پریکٹکل وزڈم غیر ضروری نقصان سے بچا کر کامیابی کی منزل تک پہنچا دیتی ہے۔پریکٹکل وزڈم ہمیشہ آدمی کو یہ موقع دیتی ہے کہ اس کو اسٹارٹنگ پوائنٹ مل جائے۔ اسٹارٹنگ پوائنٹ سے آغاز کرکے آدمی زیادہ کو پاسکتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی اسی اصول پر مبنی تھی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
غیر حقیقت پسندانہ رہنمائی
ایک صاحب کا مضمون پڑھا، اس کا پہلا جملہ یہ تھا: مسائل تو اس امت کو ورثے میں ملے ہیں۔یہ پڑھ کر میں سوچنے لگا کہ قاری کو اس مضمون سے کیا ملے گا۔ مسلم قاری کا ذہن منفی ذہن بنے گا۔ وہ سمجھے گا کہ میری زندگی مسائل سے گھری ہوئی ہے۔ اس سے اس کے اندر شکایتی ذہن پیدا ہوگا، جو بڑھ کرکے نفرت کا ذہن بن جائے گا۔ اب اگر اس کے حالات ٹکراؤ کے موافق ہیں، تو وہ ٹکراؤ شروع کردے گا، اور اگر ایسا نہیں ہے تو قاری مستقل طور پر ڈبل اسٹینڈرڈ میں جینے لگے گا۔ یعنی وہ زمانے سے نفرت کی سوچ کے ساتھ جیے گا۔ مگر عملا ًوہ مصالحت کی زندگی گزارے گا۔ مسلم شعرا کے یہاں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔مثلاًاقبال کا یہ شعر
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
گفتند جہان ما آیا بہ تو می سازد؟ گفتم کہ نمی سازد، گفتند کہ برہم زن
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یعنی اس نے کہا کہ میرا پیدا کردہ یہ جہاں تمہارے ساتھ سازگاری کررہا ہے؟ میں نے جواب دیا نہیں،یہ سازگاری نہیں کر رہا ،تو اس نے کہاکہ اسے درہم برہم کر دو۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا ذہن عام طور پر اسی قسم کا ہے۔ وہ منفی ذہن کے ساتھ جیتے ہیں،اور زمانے کے ساتھ ٹکراؤ کرنا چاہتے ہیں، لیکن عملاً زمانے کو ناساز پاکر ڈبل اسٹینڈرڈ کے تحت مصالحانہ زندگی اختیار کرلیتے ہیں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ایسے لوگوں کے اندر کوئی ذہنی ارتقا نہیں ہوتا۔ کیوں ایسے لوگ ہمیشہ منفی ذہن کے ساتھ جیتے ہیں۔صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی حالتِ موجودہ میں مواقع کو تلاش کرے۔ آدمی مسائل کو نظر انداز کرے، اور مواقع کو دریافت کرکے ان کی بنیاد پر اپنی زندگی کا منصوبہ بنائے۔ مثلاً اگر وہ دیکھے کہ اس کے ماحول میں ایک گروہ کو ریزرویشن ملا ہوا ہے، جس سے تعلیم گاہوں میں اس کو بہ آسانی داخلے مل جاتے ہیں۔ اس کو بہ آسانی سروس حاصل ہوجاتی ہے۔ وہ ان حالات کا مطالعہ کرے۔ اگر وہ غیر جانبدارانہ انداز میں مطالعہ کرے گا ، تو وہ دریافت کرے گاکہ ریزرویشن ایک محدود دائرے میں عمل کرتا ہے۔ محدود دائرے کے باہر تمام مواقع کھلے ہوئے ہیں۔ وہ اگر ریزرویشن کے دائرے سے باہر جاکر محنت کرے، تو اس کو نئے نئے دائرے حاصل ہوں گے، جہاں وہ ریزرویشن کے بغیر بھی اچھے مواقع پاسکتا ہے۔
مثلاً میرے چھوٹے بھائی ایک کالج میں داخلے کے لیے گئے۔ وہ تاخیر کے ساتھ وہاں پہنچے تھے۔جب کہ داخلے کا وقت نکل چکا تھا۔ پرنسپل کو جب معلوم ہوا کہ طالب علم تاخیر کے ساتھ آیا ہے، تو اس نے فرض کرلیا کہ یہ تھرڈ کلاس کا طالب علم ہوگا، اسی لیے اس کو کہیں داخلہ نہیں ملا، تو اب وہ ہمارے ادارے میں آیا ہے۔ پھر گفتگو کے دوران پرنسپل نے پوچھا کہ تمھارے مارکس کتنے ہیں۔ طالب علم نے جواب دیا: سر، 85 پرسنٹ
یہ سنتے ہی پرنسپل فوراً اس کے لیے ہمدرد بن گیا، اور اس کو اپنے کالج میں داخلہ دے دیا۔ یہ طالب علم بعد کو فرسٹ کلاس میں پاس ہوا، اور اپنی بعد کی زندگی میں کامیاب رہا۔ کامیابی کا راز یہ ہے کہ آدمی مواقع کو دریافت کرے، اور اس کے مطابق اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کرے۔