امام الغزالی (1058-1111ء)کی ایک مشہور کتا ب ہے: احیاء علوم الدین۔ اس میں انھوں نے جہاد بالنفس کا ذکر کیا ہے: جاہد نفسک بأسیاف الریاضة(نفس سے جہاد کرو، ریاضت کی تلوار سے)۔ امام الغزالی کے نزدیک جہاد بالنفس کیا ہے۔ انھوں نے احیاء العلوم میں جہاد بالنفس کے تحت جن مختلف باتوں کا ذکر کیا ہے، ان میں سے ایک ہے کم سے کم کھانا، اور بہت تھوڑا سونا (القوت من الطعام والغمض من المنام) احیاء علوم الدین،جلد 3، صفحہ 66۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب ہے اپنے آپ کو جسمانی مشقت میں مبتلا کرنا۔
جہاد بالنفس بلاشبہ ایک اعلیٰ اسلامی عمل ہے۔لیکن امام الغزالی نےجہاد بالنفس کا جو تصوردیا ہے، وہ درست تصور نہیںہے۔ بالقصد اپنے آپ کو جسمانی مشقت میں مبتلا کرنا ، دوسرے ادیان کا تصور ہے، یہ اسلام کی تعلیم نہیں۔ اسلام کے مطابق، جہاد بالنفس کا مطلب یہ ہے کہ اعمال کے دوران فطری طور پر جو پُر مشقت احوال گزریں،ان کو منفی انداز میں نہ لینا، بلکہ ان کو صبر کے خانے میں ڈالنا۔ پرمشقت احوال کے باوجود اپنے آپ کو مثبت فکر اور مثبت عمل پر قائم رکھنا۔ جیسا کہ آپ اور آپ کے اصحاب کے ساتھ شعب ابی طالب میں گزرا تھا۔ اس وقت انھوں نے مثبت سوچ (positive thinking) کا طریقہ اختیار کیا تھا۔
دوسرے الفاظ میں اس کو بیان کیا جائے تو وہ یہ ہوگا — ایک، اپنے آپ کو جان بوجھ کر جسمانی مشقت میں مبتلا کرنا ۔مثلاً غذا رہنے کے باوجود کئی دنوں تک نہیں کھانا، نیند کے باوجود نہیں سونا، وغیرہ۔ یہ غیر اسلامی طریقہ ہے۔ اس کے برعکس، اگر کسی اعتبار سےآپ کو مصیبت یا تکلیف کا معاملہ پیش آجائے، مثلا ًآپ کہیں سفرمیں جارہے ہیں، اور وہاں آپ کو کوئی نقصان پیش آجائے، تو آپ مثبت سوچ کے ساتھ اس کو برداشت کیجیے۔اپنے آپ کوصابرانہ روش پر قائم رکھیے۔ اسلام کے مطابق، یہ جہاد بالنفس ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔