پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں میں سے ایک سنت وہ ہے، جس کو غیر نزاعی طریقہ کہا جاسکتا ہے۔ اس حقیقت کو ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:الْمُؤْمِنُ الَّذِی یُخَالِطُ النَّاسَ، وَیَصْبِرُ عَلَى أَذَاہُمْ، أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الْمُؤْمِنِ الَّذِی لَا یُخَالِطُ النَّاسَ، وَلَا یَصْبِرُ عَلَى أَذَاہُم(ابن ماجہ، حدیث نمبر 4032) ۔ یعنی وہ مومن جو لوگوں کے درمیان رہتا ہے، اور ان کی اذیتوں پر صبر کرتا ہے، وہ زیادہ اجر پاتا ہے اس مومن سے جو لوگوں کے درمیان نہیں رہتا، اور لوگوں کی اذیتوں پر صبر نہیں کرتا۔
اجتماعی زندگی میں کام کرنے کے دو طریقے ہوتے ہیں۔ ایک، نزاعی طریقہ اور دوسرا، غیر نزاعی طریقہ (non-confrontational approach)۔ موجودہ زمانے میں جو سیاسی طریقہ عام طورپر رائج ہوا ہے، وہ زیادہ تر نزاعی طریقہ (confrontational approach) ہوتا ہے، یعنی برسرِ اقتدار پارٹی سے نزاع کرتے ہوئے اپنا طریقِ کار متعین کرنا۔اس معاملے میں دوسرا طریقہ غیر نزاعی طریقہ ہے۔ غیر نزاعی طریقے کا دوسرا نام پرامن تعمیری طریقہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجود صورتِ حال کو بدلنے کی کوشش نہ کرنا، بلکہ کامل طور پر غیر نزاعی طریقے کی بنیاد پر اپنا منصوبہ بنانا۔
جب آدمی سوسائٹی میں رہتا ہے تو اس کے لیے صحیح یہ ہے کہ وہ نو پرابلم انسان بن کر رہے۔ نوپرابلم انسان بننے کا اصول یہ ہے کہ آدمی کے اندر قابلِ پیشین گوئی کردار (predictable character) موجود ہو۔ قابلِ پیشین گوئی کردار یہ ہے کہ کسی صورتِ حال میں ایک حقیقی انسان سے جو امید کی جائے، وہ ہمیشہ اُس پر پورا اُترے۔ یعنی دوسرا آدمی یہ جانے کہ اس کا سلوک آپ کے ساتھ کیا ہوگا۔ اصولی طور پر ہر انسان بے مسئلہ انسان کی حیثیت سے پیدا کیا گیا ہے۔ لیکن پیدا ہونے کے بعد ماحول کے اثر سے وہ مسئلے والا انسان بن جاتا ہے۔ اپنے آپ کوماحول کی کنڈیشننگ سے بچائیے، اور آپ اس دنیا کے لیے ایک رحمت والے انسان بن جائیں گے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔