خدا رخی زندگی یہ ہے کہ آدمی اللہ رب العالمین کو اس طرح دریافت کرے کہ وہ اس کی زندگی میں شامل ہوجائے۔ وہ خدا کی یاد کے ساتھ سوئے، اور خدا کی یاد کے ساتھ جاگے۔ وہ خدا کی دنیا میں خداوالا بن کر رہے۔ دنیا کی ہر چیز اس کو خدا کی یاد دلانے والی بن جائے۔ اس کے مقابلے میں بےخدا زندگی یہ ہے کہ آدمی پیدا ہوکر اس دنیا میں آگیا ۔ لیکن اس نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ اپنی عقل کو استعمال کرکے اپنے خالق کو دریافت کرے۔ وہ اپنے آج میں مشغول رہے، مگر وہ اس حقیقت کو دریافت نہ کرے کہ اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے۔
میرا تجربہ ہے کہ اگر لوگوں سے مسلم ایمپاورمنٹ کی بات کی جائے، تو ہر آدمی شوق سے سنے گا۔ بہت جلد لوگوں کی بھیڑ اکٹھا ہوجائے گی۔ ہر آدمی چاہے گا کہ وہ مسلم ایمپاورمنٹ کی کوشش میں اپنا حصہ ادا کرے۔اس کے برعکس، اگر خدا اور آخرت کی بات کی جائے، تو اچانک محسوس ہوگا کہ لوگوں کی دلچسپی ختم ہوگئی ہے۔ لوگ اس کو اس طرح لینے لگے ہیں، جیسے کہ وہ کوئی غیر متعلق بات ہے۔ مسلم ایمپاورمنٹ کی بات لوگ اس طرح سنیں گے، جیسے کہ وہ ان کی اپنی بات ہو۔ اس کے برعکس، خدا اور آخرت کی بات لوگ اس طرح سنیں گے ، جیسے کہ ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ دنیا کے حصول کی طرف دوڑ لگا ر ہے ہیں۔ دنیا کے معاملے میں وہ تکاثر کی نفسیات میں جیتے ہیں، نہ کہ قناعت کی نفسیات میں۔ موجودہ زمانے کا اصل مسئلہ یہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے میں اسلام کے نام پر جلسہ اور جلوس کی دھوم ہے، لیکن اسلام کے اعتبار سے حقیقی معنوں میں کوئی قابلِ قدر چیز نظر نہیں آتی۔ لوگوں کے درمیان فارم کی دھوم ہے، لیکن اسپرٹ کے اعتبار سے دیکھیے، تو وہ ہر جگہ مفقود نظر آئے گی۔ اسی کو حدیث میں ان الفاظ میں کہا گیا ہے:مَسَاجِدُہُمْ عَامِرَةٌ وَہِیَ خَرَابٌ مِنَ الْہُدَى(شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 1763)۔یعنی ان کی مسجدیں آباد ہیں، لیکن وہ ہدایت سے خالی ہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔