Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Al-Risala June 2020
Al-Risala June 2020

توازن یا ترجیح

Urdu · 1 min read

ماہ نامہ الرسالہ کے مضامین میں اکثر روحانیت (spirituality) پر زور دیا جاتا ہے۔ ایک صاحب جو ماہ نامہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں، اِن مضامین کو پڑھنے کے بعد ای میل کے ذریعے اُن کا ایک سوال موصول ہوا ہے۔ انھوں نے یہ سوال کیا ہے — زندگی کے مادی تقاضے بھی ہیں اور روحانی تقاضے بھی، پھر دونوں تقاضوں کے درمیان توازن (balance)کس طرح قائم کیا جائے:

How can one maintain a balance between spirituality and materialism?

جواب یہ ہے کہ توازن کا اصول غیر فطری اصول ہے۔ اکثر لوگ ’’توازن‘‘ کے تصور میںالجھے رہتے ہیں،چنانچہ وہ کبھی اپنی زندگی کے مختلف تقاضوں کے درمیان توازن قائم نہیں کرپاتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ذہنی تناؤ (tension)کا شکار ہوجاتے ہیں۔ توازن کا اصول غیر فطری ہونے کی وجہ سے ایک ناقابلِ حصول چیز ہے، اور جو چیز ناقابلِ حصول ہو، اس کے بارے میں صحیح رویہ صرف یہ ہے کہ اس کو علیٰ حالہ قبول کرلیا جائے۔

فطری قانون کے مطابق، زندگی کا نظام ترجیح (priority) کے اصول پر قائم ہے، یعنی زندگی کے ایک تقاضے کو اولین (primary) اہمیت دینا اور دوسرے تقاضے کو ثانوی (secondary) درجے پر رکھنا۔ اِس معاملے میں یہی واحد قابلِ عمل فارمولا ہے۔ اِس کے سوا کوئی دوسرا فارمولا سرے سے قابلِ عمل ہی نہیں۔

روحانیت اور مادیت کے معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ ترجیح کا اصول اختیار کیا جائے ، یعنی روحانیت کو اولین حیثیت دی جائے اور مادیت کو ثانوی حیثیت۔ اِس معاملے میں یہی حقیقت پسندی ہے۔ جو آدمی اِس حقیقت کو نہ مانے، اُس کو اِس کی بھاری قیمت دینی پڑے گی۔ وہ یہ کہ ایسا شخص ہمیشہ ذہنی تناؤ میں جیے گا، وہ ہمیشہ ذہنی سکون (peace of mind) سے محروم رہے گا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.