قرآن میںاللہ کی صفت کو بتاتے ہوئے یہ الفاظ آئے ہیں:کَتَبَ عَلَى نَفْسِہِ الرَّحْمَةَ (6:21)۔ یعنی اللہ نے اپنے اوپر رحمت کو لکھ دیاہے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کے ساتھ جو بھی معاملہ کرے گا، وہ اعلیٰ رحمت کے مطابق ہوگا۔ وہ اپنے بندوں کے ساتھ کبھی بھی رحمت کے خلاف معاملہ نہیں کرے گا۔لیکن اسی کے ساتھ بطورِ امتحان یہ بھی کیا کہ اللہ نےانسان کو پیداکرکے اس دنیامیں رکھا،اور اس کو کامل آزادی دے دی، یہ کامل آزادی ایک انتہائی انوکھا اختیار ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ کامل آزادی کے باوجود اپنی آزادی کو ڈسپلن کے اندر استعمال کرے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے انسان کو ایک امانت دی ہے،جو کائنات میں کوئی بھی لینے کے لیے تیار نہیں ہوا۔انسان نے اس امانت کو اٹھالیا۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں:إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَیْنَ أَنْ یَحْمِلْنَہَا وَأَشْفَقْنَ مِنْہَا وَحَمَلَہَا الْإِنْسَانُ إِنَّہُ کَانَ ظَلُومًا جَہُولًا( 33:72)۔
امانت کیا ہے۔ امانت سے مراداختیار و ارادے کی آزادی ہے۔ یہ اللہ رب العالمین کی خصوصیت ہے۔اس بنا پر اس کو امانت کہا گیا ہے۔اس خصوصیت کو اللہ رب العالمین نے عارضی طور پر انسان کو بطورِ آزمائش عطا کیا ہے۔ تاکہ انسان خود اپنے ارادے سے خدا کا تابعدار بنے، اور اپنے آپ کو خدا کے کنٹرول میں دے دے۔ اس کائنات میں صرف اللہ حاکم ہے، اور تمام چیزیں اس کی محکوم ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کی مرضی ہوئی کہ ایک ایسی آزاد مخلوق پیدا کرے، جو کسی جبر کے بغیر خود اپنے اختیار سے وہی کرے، جو خدا اس سے کروانا چاہتا ہے۔ اب انسان موجودہ دنیا میں خدا کی ایک امانت کا امین ہے۔ اس کو اپنے اختیار سے وہی کرنا ہے، جو خدا دوسری چیزوں پر کر رہا ہے۔ انسان کوخود اختیاری سے اپنے آپ پر خدا کا حکم چلانا ہے۔
اس کو خود اختیار کردہ اخلاقیات (self-imposed ethics) کہاجاسکتا ہے۔ خود اختیار کردہ اخلاقیات کے ساتھ زندگی گزارنا کیا ہے۔ مثلاً قرآن میں زندگی کا ایک اصول ان الفاظ میںبیان کیا گیا ہے:وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا یَضُرُّکُمْ کَیْدُہُمْ شَیْئًا(3:120)۔ یعنی اگر تم صبرکرو اور تقوی کی روش اختیار کرو تو ان کی سازش تم کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔ اس آیت میں یہ نہیں فرمایا کہ اگر تمھارے اندر صبر اور تقوی ہوتو تمہارے خلاف لوگوں کی سازش کا خاتمہ ہوجائے گا۔ بلکہ صرف یہ فرمایا کہ اگر تمھارے اندر صبر اور تقوی ہو تو لوگوں کی سازش تمھارے لیے نقصان دہ (harmful) نہیں بنے گی۔
اس دنیا میں ہر ایک کو اپنا امتحان دیناہے ۔ یہ امتحان صرف آزادانہ ماحول میں ممکن ہے۔ امتحان کا یہ نظام کسی انسانی گروہ کی جانب مقرر کردہ سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق براہ راست طور پر خالقِ کائنات سے ہے۔کسی اورکے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ خالق کائنات کے مقرر کیے ہوئے کورس کا خاتمہ کرسکے۔لیکن اللہ نے آپ کے لیے اس دنیا میں یہ امکان ضرور رکھا ہے کہ اگر کوئی اپنی آزادی کاغلط استعمال (misuse) کررہا ہے تو آپ سازش یا مخالفانہ تدبیر کو آزادی کے حدود میں رہتے ہوئے اپنی جوابی تدبیر سے غیر موثر بناسکیں۔
مثلاً اگر آپ کو یہ شکایت ہے کہ پولیس آپ کے خلاف ہے، اور وہ آپ پر گولی چلاتی ہے تو آپ اس معاملے کا موضوعی انداز میں مطالعہ کیجیے۔ گہرے مطالعے کے ذریعے آپ دریافت کریں گے کہ پولیس کبھی ایسا نہیں کرتی کہ وہ خود سے آپ کے اوپر گولی چلائے۔ ہمیشہ ایسا ہوگا کہ آپ بے صبر ہو کر پولیس کو پتھر ماریں گے۔ اس کے بعد پولیس جوابی کارروائی کے طورپر آپ کے اوپر گولی چلائے گی۔ اس مسئلہ کا حل صرف یہ ہے کہ آپ بے صبر ہو کر پولیس کو پتھر نہ ماریں۔اس کے بعد پولیس آپ پر گولی بھی نہیں چلائے گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ فطرت کے قانون کےمطابق ناموافق صورتِ حال کا وجود کبھی ختم نہ ہوگا، البتہ دانشمندانہ منصوبہ بندی کے ذریعہ اس کو اپنے لیے بے اثر بنایا جاسکتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔