قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: قُلْ یَاعِبَادِیَ الَّذِینَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیعًا إِنَّہُ ہُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ (39:53)۔ یعنی کہو کہ اے میرے بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ بیشک اللہ تمام گنا ہوں کو معاف کردیتا ہے، وہ بڑا بخشنے والا، مہربان ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایک شخص جب کلمہ پڑھتا ہے، تو عین اسی وقت یہ ہوتاہے کہ کلمہ کی برکت سے اس کے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ یہ بات بجائے خود صحیح ہے کہ ایمان قبول کرنے سے پہلے انسان جو عمل کرتا ہے، وہ ایمان قبول کرنے کے بعد معاف کردیا جاتا ہے۔ لیکن معافی کا یہ عمل اس طرح نہیں ہوتا، جیسے کمپیوٹر میں ایک بٹن دبایا، اور سارا ٹائپ کیا ہوا، فوراً ہی ڈیلیٹ ہوگیا۔ یہ سارا معاملہ ایک پراسس کے تحت انجام پاتا ہے، نہ کہ ٹچ بٹن میکانزم کی مانند۔
ایمان ایک دریافت کا نام ہے۔ ایمان ایک معرفت ہے۔ ایمان یہ ہے کہ آدمی زندگی پر غور وفکر کرے، اور پھر فکری دریافت کے طور پر اس پرکُھلے کہ اس کا خالق اللہ رب العالمین ہے۔ اس کو جو کچھ ملا ہے، وہ اللہ رب العالمین کا دیا ہوا ہے۔ اللہ رب العالمین نے اس کو ایک بامقصد منصوبے کے تحت پیدا کیا ہے۔ اس غور وفکر کے نتیجے میں اس پر تخلیق کی حکمت کُھلے۔ وہ شعوری طور پریہ فیصلہ کرے کہ اس نے انکارِ خدا کی زندگی کو چھوڑا، اور اقرارِ خدا کی زندگی کو اختیار کیا۔ وہ شعوری طور پر زندگی کے اس نقشے کو اختیار کرے، جو خالقِ کائنات نے اس کے لیے مقرر کیا ہے۔
ایمان ایک شعوری فیصلہ ہے۔ ایمان یہ ہے کہ آدمی زندگی کی ایک روش کو بالقصد چھوڑے، اور ایک زندگی کی دوسری روش کو بالقصد پورے عزم کے ساتھ اختیار کرے۔ انسان دنیا پرستانہ زندگی کو ترک کرے، اور آخرت پسندانہ زندگی کو عملاً اختیار کرلے۔کوئی انسان جب ایسا کرے، تو اللہ کا اعلان ہے کہ وہ اس کو اپنے بندے کے طور پر قبول فرماتا ہے، اور اس کی پچھلی خطاؤں کو معاف کردیتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔