ایک کردار کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے:یُخَادِعُونَ اللَّہَ وَالَّذِینَ آمَنُوا وَمَا یَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَہُمْ وَمَا یَشْعُرُونَ (92)۔ یعنی وہ دھوکہ دیتے ہیں اللہ کو ، اور ان کو جو لوگ ایمان لائے ،اور نہیں دھوکہ دیتے مگر اپنے آپ کو ،اور نہیں سمجھتے ۔
اللہ کو دھوکہ دینے کا کام کون کرتا ہے۔ یہ وہی شخص ہے، جو سماج میں اپنی امیج (image) بنانے کے لیے ایسے انداز میں بولتا ہے کہ عام لوگ اس کے بارے میں غلط فہمی میں پڑجائیں، وہ جھوٹ کو سچ مان لیں، اور بناوٹی بات کو حقیقی بات سمجھ لیں۔ اپنے دنیوی معاملات میں ہوشیار ہونا ،اور آخرت کے معاملہ میں سرسری توقعات کو کافی سمجھنا گویا خدا کے سامنے جھوٹ بولنا ہے۔ جو لوگ ایسا کریں، وہ گویا اللہ رب العالمین کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ حالاں کہ اللہ کو دھوکہ دینا اپنے جرم کو ڈبل بنانا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ ایسی کوشش سے آخری حد تک اپنے آپ کو بچائے۔
مثلاً لوگوں میں اختلافات کیوں پیدا ہوتے ہیں۔ اس کا کوئی حقیقی جواز نہیں ہوتا۔ اختلافات کی جڑ میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی ذاتی مفاد ہوتا ہے۔ تاہم لوگ یہ کرتے ہیں کہ اپنے اختلاف کو جائز اختلاف بتانے کے لیے اس کا کوئی ایساسبب پیش کرتے ہیں، جو ان کے اختلاف کو جائز قرار دیتا ہو۔ وہ اپنے ذاتی اختلاف کو جائز اختلاف کا نام دے دیتے ہیں۔
اسی کو قرآن میں اللہ کو دھوکہ دینا کہا گیا ہے۔ یعنی ان کا حقیقی مقصد تو ذاتی مفاد ہوتا ہے۔ لیکن وہ ایسے الفاظ بولتے ہیں، جو ان کے اصل مقصد کو چھپانے والا ہو، اور یہ ظاہر کرتا ہو کہ صرف حق کے لیے وہ ایسا کررہے ہیں۔ اس قسم کے واقعے کو یہاں اللہ کو دھوکہ دینا کہا گیا ہے۔ یعنی عالم الغیب جو تمام حقیقتوں سے باخبر ہے، اس کو معلوم ہے کہ کس نفسیات کے تحت کوئی اختلاف کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہے۔ لوگوں کو جاننا چاہیے کہ آخرت میں ان کا معاملہ حقیقتِ واقعہ کی نسبت سے جانچا جائے گا، نہ کہ ان کے بولے ہوئے الفاظ کی نسبت سے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔