حضرت موسی اسرائیلی سلسلۂ نبوت کے جلیل القدر پیغمبر تھے۔ ان کاایک واقعہ قرآن میں اس طرح ذکر ہوا ہے:(ترجمہ)اور جب موسیٰ ہمارے وقت پر آگیا اور اس کے رب نے اس سے کلام کیا تو اس نے کہا، مجھے اپنے کو دکھا دے کہ میں تجھ کو دیکھوں۔ فرمایا، تم مجھ کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے۔ البتہ پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ قائم رہ جائے تو تم بھی مجھ کو دیکھ سکو گے۔ پھر جب اس کے رب نے پہاڑ پر اپنی تجلی ڈالی تو اس کو ریزہ ریزہ کردیا۔ اور موسیٰ بےہوش ہو کر گرپڑا۔ پھر جب ہوش آیا تو بولا، تو پاک ہے، میں نے تیری طرف رجوع کیا اور میں اول المومن ہوں(7:143)۔
قرآن کی اس آیت پر غور کیجیے۔ اس میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ قَالَ لَنْ تَرَانِی(کہا، تم مجھ کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے)۔ دوسری جگہ یہ الفاظ ہیں کہ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِینَ(میں سب سے پہلے ایمان لانے والا ہوں)۔ ان دونوں الفاظ کے فرق پر غور کیجیے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان براہ راست اللہ کو نہیں دیکھ سکتا۔ البتہ وہ بالواسطہ طور پر اللہ کی معرفت حاصل کرسکتا ہے۔
راقم الحروف کا خیال ہے کہ یہ بالواسطہ انداز پہلی بار گلیلیو گلیلی کے زمانے میں پیش آیا، جب کہ گلیلیو نے حقیقت کو دوربین کے ذریعے دیکھا۔ دور بین کے ذریعے پہلی بار وہ میتھڈ قائم ہوا، جو حقیقت اعلیٰ کی معرفت کے لیے ضروری ہے۔ چنانچہ کوانٹم فزکس (quantum physics) کے زمانے میں یہ ثابت ہوا کہ مادہ (matter) کا آخری جزء سب ایٹمک پارٹکل (subatomic particle) ہے، اور سب ایٹمک پارٹکل براہ راست طور پر قابل مشاہدہ نہیں۔ یہ سب ایٹمک پارٹکل مسلسل طور پر حرکت کی حالت میں رہتا ہے۔ اس حرکت کے دوران اس سے ہیٹ (heat) جنریٹ ہوتا ہے۔ یہ ہیٹ (heat) صرف آلاتی طور پر قابلِ دریافت ہے۔ اس طرح مادہ کا آخری جزء قابل دریافت بن جاتا ہے۔یہی معاملہ خالق کائنات کا ہے۔ خالق کائنات بلاشبہ اپنا حقیقی وجود رکھتا ہے۔ لیکن انسان کی نسبت سے وہ صرف بالواسطہ طور پر قابل دریافت ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔