Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Al-Risala June 2019
Al-Risala June 2019

خیرخواہانہ دعوت

Urdu · 5 min

جون 2002 میں میں نے رشی کیش کا سفر کیا ۔اس سفر میں میرا تاثر یہ ہے کہ برادرانِ وطن سیکڑوں سال سے توہماتی عقائد اور روایات میں پھنسے ہوئے ہیں۔ مگر مسلمان ان کی ہدایت کے لیے نہیں تڑپے۔ ان کی خیر خواہی نے انہیں بے چین نہیںکیا۔ خود ہندوؤں میں ایسے لوگ اٹھے جنہوں نے محدود طورپر اصلاح کی کوششیں کیں۔ مثلاً کبیر نے اس سلسلہ میں بہت سی باتیں کہیں۔ ان کا ایک شعر یہ ہے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ماتھے تِلک ہاتھ مَلبانا

لوگن رام کھلونا جانا

آریہ سماج کی تحریک بھی اسی نوعیت کی ایک ادھوری تحریک تھی۔ گرونانک کی تحریک اپنی اصل نوعیت کے اعتبار سے غیر خداؤں کی پرستش کے بجائے ایک خدا کی پرستش کاپیغام تھا۔ اقبال نے گرونانک کے بارے میں یہ شعر کہاتھا:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

نانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایا

میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے

مسلمانوں کے پاس محفوظ آسمانی کتاب کی صورت میں کامل سچائی موجود تھی، مگر مسلمان برادران وطن کی اصلاح کے لیے کچھ نہ کرسکے۔ رشی کیش میں گفتگو کے دوران بہت سے ہندوؤں نے مجھ سے اسلام کے مطالعہ کی خواہش ظاہر کی۔ میں سمجھتا ہوں کہ کسی حقیقی اصلاحی کوشش کے لیے گہری خیرخواہی درکار ہوتی ہے۔ وہ خیر خواہی جو شکایتوں کے باوجود نہ ٹوٹے، بیٹے کے ساتھ ماں کی محبت کی طرح جو ہر حال میں قائم رہے۔ بد قسمتی سے مسلمانوں کے اندر برادران وطن کے لیے اس قسم کی خیرخواہی موجود نہ تھی۔ مسلم سلطنت کے دور میںوہ ہندوؤں کو کمتر سمجھتے رہے، اور 1947کے بعد وہ ہندوؤں سے اپنے سینہ میں نفرت اور شکایت لیے ہوئے ہیں، اور جو لوگ اس طرح کی نفسیات میںمبتلا ہوں وہ کبھی اصلاح و دعوت کاکوئی گہرا کام نہیں کرسکتے۔

1947 سے پہلے کے دور میں مسلم صوفیوں نے ضرور کچھ مفید کام کیے، مگر جہاں تک مسلم علماء کا تعلق ہے، وہ اس سلسلہ میںکوئی قابل قدر خدمت انجام نہ دے سکے۔ کچھ لوگوں نے ہندستان کو دارالحرب بتا کر مسلمانوں کے اندر منفی نفسیات پیدا کی۔کچھ لوگوں نے ہندوؤں کے ’’مسلم ملچھ‘‘ کے تصور کا مقابلہ کرنے کے لیے ’’ہندو کافر‘‘کا نظریہ پھیلایا۔ کچھ لوگوں نے بت شکنی کے نام پر ایسے کام کیے جو اپنے نتیجہ کے اعتبار سے صرف دل شکنی کے ہم معنٰی تھے۔

مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ ساری مسلم دنیا میںکوئی بھی عالم یا غیر عالم نہیں جو ان مسلم رہنماؤں سے یہ کہے کہ تم اپنی قومی لڑائی کو انتہائی ناعاقبت اندیشانہ طورپر یہ مجرمانہ رنگ دے رہے ہو کہ ہندوؤں کی مسلم نفرت یا اسلام نفرت اس حد تک بڑھ جائے کہ وہ معتدل ذہن کے ساتھ اسلام کے پیغام کو سننے کے قابل ہی نہ رہیں۔ مجھے یاد آتا ہے کہ میرے بچپن کے زمانہ میں کچھ علماء نے ’’تبلیغ‘‘ کے نام پر مناظرہ بازی کی مہم شروع کر رکھی تھی۔حالانکہ اس قسم کی مہم کو تبلیغ کے بجائے اینٹی تبلیغ کہنا زیادہ صحیح ہوگا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

مثلاً ایک مناظر عالم کو جوش آیا۔ انہوں نے ایک کتاب تیار کی جس کانام انہوں نے ’’کفر توڑ‘‘ رکھا ۔ اس کے جواب میںایک ہندو مناظر نے کتاب شائع کی جس کا نام تھا ’’کفر توڑ کا بھانڈا پھوڑ‘‘۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کہ اردو زبان عمومی طورپر ہندواور مسلمان دونوں کی مشترک زبان تھی۔ گویا داعی اور مدعو کے درمیان وہ لسانی بعد (language gap) موجود نہ تھا جو آج پایا جاتا ہے۔ مگر اس سنہری زمانہ کو خیر خواہانہ دعوت کے بجائے مناظرہ بازی کے لیے استعمال کیا گیا، جس کا نقصان صرف یہ ہوسکتا تھا کہ برادرانِ وطن متنفر ہو کر اسلام سے کچھ اور دور ہوجائیں۔ اس قسم کی کوششوں نے یہی کارنامہ انجام دیا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content