Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Al-Risala June 2017
Al-Risala June 2017

اپنی تعمیر آپ

Urdu · 3 min read

قرآن میں ایک نفسیاتی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِہِ بَصِیرَةٌ ، وَلَوْ أَلْقَى مَعَاذِیرَہُ (75:14-15) ۔ یعنی بلکہ انسان خود اپنے آپ سے خوب باخبر ہے۔ چاہے وہ کتنے ہی عذرات پیش کرے۔ قرآن کی اس آیت میں ایک نفسیاتی حقیقت کا حوالہ دیا گیا ہے۔ یہ نفسیاتی حقیقت ہر انسان کے لیے ایک حجت داخلی کی حیثیت رکھتی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انسان بظاہر دوسرے حیوانات کی طرح ایک حیوان ہے۔ مگر انسان کے اندر ایک صفت ایسی ہے جو اس کے لیےغیر مشترک صفت کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ صفت صرف انسان کے اندر پائی جاتی ہے، کسی اور حیوان کے اندر نہیں۔ ایگو (ego) کی صفت انسان اور دوسرے تمام حیوانات میںغیر مشترک طور پر پائی جاتی ہے، کسی میں کم کسی میں زیادہ۔ مگر ایک اضافی صفت ہے جو صرف انسان کو دی گئی ہے۔ یہ صفت کسی بھی حیوان کے اندر مطلق طور پر موجود نہیں۔ یہ ہے ضمیر (conscience) کی صفت۔ یعنی سیلف (self)کے ساتھ اینٹی سیلف (anti-self)کی صفت۔

یہ فرق بتاتا ہے کہ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ ایک سیلف میڈ مین (self-made man) بنے، اور اس کی صورت یہ ہے کہ وہ اپنی نگرانی خود کرے۔ وہ اپنے اندر سیلف کرکشن (self-correction) کا پراسس (process) جاری کرے۔ وہ تعمیر خویش کا نمونہ بن جائے۔

انسان کو اس کے خالق نے مکسچر آف اپوزٹس (mixture of opposites) بنایا ہے۔ یہ انسان کے اوپر اس کے خالق کا احسانِ عظیم ہے۔ خالق یہ چاہتا ہے کہ انسان سیلف ڈسکوری (self-discovery) کی سطح پر کھڑا ہو۔ وہ اپنی غلطی کو خود دریافت کرکے اس کی اصلاح کرتا رہے۔ خدا کی کتاب اور کائنات کی نشانیاں بلاشبہ انسان کے لیے مددگار ہیں۔ اسی کے ساتھ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے آپ کوخود اپنے عمل سے جنت کے لیے ایک مستحق امیدوار (deserving candidate)بنائے۔

انسان کے لیے اللہ نے جنت کو مقدر کیا ہے۔ جنت انسان کا ہیبیٹاٹ (habitat) ہے۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں انسان کی تمام خواہشیں پوری ہوں گی، جہاں انسان کو مکمل معنوں میں فل فلمنٹ (fulfilment)حاصل ہوگا۔ اس قسم کی جنت بلاشبہ انسان کے لیے خالق کا سب سے بڑا عطیہ ہے۔

انسا ن کےاوپر خالق کا مزید احسان یہ ہے کہ اس نے یہ فیصلہ کیا کہ انسان کو جنت یہ کہہ کر دی جائے کہ تم کو جنت بطور استحقاق دی جارہی ہے۔ اگر چہ دینے والا پھر بھی خالق ہوگا۔ خالق کے بغیر انسان اس دنیا میں کوئی بھی چیز حاصل نہیں کرسکتا۔ لیکن یہ خالق کی خصوصی عنایت ہے کہ وہ انسان کو جنت یہ کہہ کر دے کہ تم نے اپنے عمل سے اپنے آپ کو جنت کا مستحق ثابت کیا ہے ، اس لیے تم کو جنت دی جارہی ہے۔ اب تم اس میں ابدی طور پر عذر اور خوف سے محفوظ ہوکر قیام کرو۔

اس سلسلے میں ایک حدیث کا مطالعہ بہت اہم ہے۔ وہ حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: والذی نفسی بیدہ لو لم تذنبوا لذہب اللہ بکم، ولجاء بقوم یذنبون، فیستغفرون اللہ فیغفر لہم (صحیح مسلم، حدیث نمبر2749)۔ یعنی اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تم کو ہٹا دے گا اور ایسی قوم کو لائے گا جو گناہ کرے پھر اللہ سے مغفرت طلب کرے تو اللہ انہیں معاف فرما دے گا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس حدیث میں گناہ اور مغفرت کا ذکر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملے میں زیادہ اہم بات کیا ہے۔ وہ گناہ کے اور مغفرت کے درمیان جاری ہونے والا نفسیاتی عمل (psychological process) ہے۔ جب انسان کو ئی گناہ کرتا ہے تو وہ اس کے ایگو کا فعل ہوتا ہے۔ مگر عین اسی وقت انسان کی دوسری صفت ضمیر جاگ اٹھتی ہے۔ اس کے اندر شدید ندامت کا عمل جاری ہوجاتا ہے۔ اس طرح انسان کے اندر ایک داخلی اسٹرگل (struggle) جاری ہوجاتا ہے۔ یعنی ایگو اور ضمیر یا سیلف اور اینٹی سیلف کے درمیان داخلی اسٹرگل۔ اس داخلی اسٹرگل کے ذریعہ انسان کے اندر ایک نئی شخصیت ایمرج کرتی ہے۔ یہ شخصیت احساسِ خطا کے بغیر بن نہیں سکتی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content