Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala June 2017
Al-Risala June 2017

ہزار مہینے کے برابر

Urdu · 2 min read

قرآن کی سورہ نمبر 97 میں لیلۃالقدر کا ذکر ہے جو ہر سال رمضان کے مہینے میں آتی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس مبارک رات میںاللہ رب العالمین کے فرشتے بڑی تعداد میںاللہ کے خصوصی منصوبہ کے تحت زمین پر اترتے ہیں۔ یہاں تک کہ فرشتوں کی کثرت کی بنا پرلیلة القدر کی رات امن کی رات (night of peace) بن جاتی ہے۔

اس سورہ میں رات کا لفظ انسان کی نسبت سے آیا ہے۔ یعنی وہ انسان جس کو اس رات کا فیض حاصل ہوجائے،جو لوگ اپنی ذہنی بیداری کی بنا پر اس رات کو پہچانیں، اور اس سے پوری طرح فائدہ اٹھائیں، ان کے اندر مبنی بر سلام شخصیت بنے گی۔ ایسے لوگ مکمل معنوں میں امن پسند انسان (peaceful person) بن جائیں گے۔ ان کے اندر کامل معنوں میں پر امن سوچ (peaceful thinking) پیدا ہوجائے گی۔ اس رات کوملنے والی یہ پر امن غذا (peaceful food) جس کو حقیقی معنوں میں حاصل ہوجائے ، اس کے لیےوہ ہزار ماہ کی مدت تک کافی ہوجائے گی۔ دوسرے لفظوں میں وہ اپنی ساری عمر کے لیے ایک پرامن انسان (peaceful person) بن جائے گا۔

پر امن انسان بننا کوئی سادہ بات نہیں ۔ پر امن انسان بننے کا مطلب یہ ہے کہ وہ انسان جس کا دل منفی سوچ (negative thoughts) سے خالی ہو، وہ انسان جس کے اندر کامل معنوں میں تواضع (modesty) ہو، وہ انسان جو ہر قسم کے ڈسٹریکشن (distraction)سے بچا ہوا ہو، وہ انسان جو اپنی روحانی بلندی کی بنا پر اعلی حقائق میں جینے والا بن گیا ہو۔

امن پسند انسان سے مراد وہ انسان ہے جس کے لیے قرآن میں نفس مطمئن (89:27) اور قلب سلیم(26:89) جیسے الفاظ آئے ہیں۔ پرامن انسان وہ ہے جس کا دل غیر اللہ کی فکر سے خالی ہوجائے، جس کے دماغ میں اللہ کی نسبت سے کوئی کنفیوزن (confusion) باقی نہ رہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content