ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إنّ من السَّرَف أن تأکل کلَّ ما اشتہیت (ابن ماجۃ، کتاب الأطعمۃ) یعنی یہ اسراف ہے کہ تم ہر وہ چیز کھاؤ جس کے کھانے کو تمھارا دل چاہے۔ یہی بات حضرت عمر فاروق نے اِن الفاظ میں کہی: کفیٰ بالْمرء سرفاً أن یأکل کلَّ ما اشتہاہ(کنزل العمال، حدیث نمبر35919)۔ یعنی آدمی کے مُسرف ہونے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ وہ ہر وہ چیز کھائے جس کے کھانے کو اس کا دل چاہے۔
سرف اور اسراف کے لفظی معنیٰ — فضول خرچی (waste) کے ہیں، یعنی اپنے مال کو ایسی چیزمیں خرچ کرنا جو آدمی کے لیے ضروری نہ ہو، وہ اس کی صرف ایک خواہش (desire) ہو، نہ کہ اس کی حقیقی ضرورت (need)۔
ہر آدمی دو چیزوں کے درمیان ہوتا ہے— ضرورت ، اور خواہش۔اپنے مال کو ضرورت کے بقدر خرچ کرنا، بلاشبہہ ایک جائز فعل ہے۔ لیکن خواہش کی تکمیل کے لیے اپنے مال کو خرچ کرنا، ایک ایسا فعل ہے جس کے لیے انسان کو آخرت کی عدالت میں جواب دینا پڑے گا۔
اِس معاملے میں مومنانہ طریقہ یہ ہے کہ جب بھی آدمی کے سامنے ایساکوئی تقاضا پیش آئے جس میں مال کو خرچ کرنا ہو، تو وہ سنجیدگی کے ساتھ سوچے کہ یہ تقاضا اس کی حقیقی ضرورت کے لیے ہے، یا صرف اس کی خواہش کی بنا پر۔ اگر وہ تقاضا اس کی حقیقی ضرورت کی بنا پر ہو، تو وہ اس میں اپنا مال خرچ کرے۔ لیکن اگر اس کو محسوس ہو کہ یہ اس کی ضرورت کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ صرف اس کی خواہش کا معاملہ ہے، تو وہ فوراً اُس سے رک جائے اور ایسی کسی مد میں اپنا مال خرچ نہ کرے۔ اِس معاملے میں آدمی کو ہر دن اپنا جائزہ لینا چاہیے۔ اگر ایک دن کے لیے بھی اُس نے اس جائزے میں کوتاہی کی، تو اس کے بعد وہ اسراف کے ڈھلوان (slope) پر جا پڑے گا اور پھر اس پر پھسلتا ہی چلا جائے گا، یہاں تک کہ وہ اس کی آخری حد پر پہنچ جائے۔ اس کے بعد درمیان میں رکنا، یا واپس لوٹنا ، اس کے لیے ممکن نہ ہوگا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔