نفسیات کے اعتبار سے کسی انسان کے لئے سب سے زیادہ آسان کام دوسروں کی شکایت (complaint) ہے، اور سب سے زیادہ مشکل کام دوسروں کا اعتراف (acknowledgment) ہے-یہ بات انسان کی نسبت سے ہے- لیکن جہاں تک فطرت کے قانون کا تعلق ہے، فطرت کے قانون کے مطابق دوسروں کی شکایت کرنے کا ذہن انسان کے اندر اعلی شخصیت کی تعمیر میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے- اس کے برعکس، دوسروں کا اعتراف کرنے کا ذہن انسان کے اندر اعلیٰ شخصیت کی تعمیر میں سب سے زیادہ معاون عنصر کی حیثیت رکھتا ہے-
کیوں ایسا ہے کہ دوسروں کی شکایت نہایت آسان ہے اور دوسروں کا اعتراف بے حد مشکل- اس کا سبب یہ ہے کہ شکایت کا مطلب دوسروں کی نفی(negation) ہے، اور اعتراف کا مطلب خود اپنی نفی ہے- جب آدمی کسی دوسرے کی شکایت کرتاہے تو اس کو ایسا کرتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ دوسرا شخص براہے اور میں اچھا ہوں- اس کے برعکس، دوسرے کا اعتراف کرنے کا مطلب یہ ہوتاہے کہ میں اچھا نہیں ہوں بلکہ دوسرا شخص اچھا ہے-
آدمی کی سب سے بڑی کمزوری خودی ہے- شکایت کرتے ہوئے آدمی کو اپنی خود ی کے جذبے کی تسکین حاصل ہوتی ہے- اس کے برعکس، دوسرے کا اعتراف کرتےہوئے آدمی کی خودی کو ٹھیس پہنچتی ہے- یہی فرق ہے جس کی بنا پر لوگوں کے لیے شکایت کرنا سب سے زیادہ آسان کام بن گیا ہے، اور اعتراف کرنا سب سے زیادہ مشکل کام-
حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں چیزیں آدمی کے لئے امتحان کے پرچے ہیں- شکایت کا موقع بھی امتحان ہے، اور اعتراف کا موقع بھی امتحان- جس آدمی کا یہ حال ہو کہ وہ دوسروں کی شکایت تو کرے مگر وہ دوسروں کا کھلا اعتراف نہ کرے، ایسا آدمی آزمائش میں ناکام ہوگیا- ایسا آدمی اللہ کی رحمت کا مستحق نہیں بن سکتا-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.