عام طورپر یہ سمجھا جاتا ہے کہ دعوت الی اللہ کا کام فرضِ کفایہ ہے، وہ فرضِ عین نہیں، یعنی اگر کچھ لوگ دعوت کا کام انجام دیں تو بقیہ لوگوں سے اُس کی فرضیت ساقط ہوجائے گی- یہ تصور یقینی طورپر ایک بے بنیاد تصور ہے-
جہاں تک فرضِ عین کا تعلق ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں- فرضِ عین وہ ہے جس کی ادائیگی ہر فرد کے لیے ضروری ہے اور جس کی ادائیگی کے بغیر کسی انسان کی اخروی نجات ممکن نہیں- مثلاً نماز فرض عین ہے اور متفقہ طورپر ترکِ نماز سے آدمی کی نجات یقینی طورپر مشتبہ ہوجاتی ہے- یہی معاملہ دعوت الی اللہ کا ہے-
دعوت الی اللہ کیا ہے، وہ دراصل ’’ختم نبوت‘‘ کے عقیدے کا جز ہے- جب ایک صاحبِ ایمان یہ اقرار کرتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین تھے تو اس کے بعد اُس کے اوپر یہ لازم آجاتا ہے کہ وہ خاتم النبیین کے بعد آپ کے پیغام کو بعد کی نسلوں میں جاری رکھے- نبوت بلا شبہہ ختم ہوگئی، لیکن کارِ نبوت بدستور جاری ہے- دعوت الی اللہ کا مقصد اِس کارِ نبوت کو مسلسل نسل درنسل جاری رکھنا ہے- اس لیے دعوت الی اللہ کا کام ایک مسلسل کام ہے نہ کہ کوئی وقتی کام-
دعوت فرض عین ہے یا فرض کفایہ کاسوال اس وقت ہوتا ہے، جب کہ دعوت کو محض اعلانِ غیر کے معنی میں لیا جائے - مگر حقیقت یہ ہے کہ دعوت ایک شخصی عبادت ہے- دعوت کا نہایت گہرا تعلق انسان کی ذاتی تربیت اور ذاتی طورپر تعمیر شخصیت سے ہے- حقیقت یہ ہے کہ دعوت الی اللہ کا کام کیے بغیر کسی مومن کی مومنانہ شخصیت کی تکمیل نہیں ہوتی، کسی مومن کے اندر وہ اعلیٰ شخصیت نہیں بنتی جو آخرت کے اعتبار سے مطلوب ہے- داعی ایک اعتبار سے دوسروں کو سچائی کا پیغام پہنچاتا ہے، اور دوسرے اعتبار سے وہ خود اپنے آپ کو سچائی پر کھڑا کرتا ہے- وہ اپنے آپ کو اس قابل بناتا ہے کہ آخرت میں اس کو مقعد ِصدق (seat of truth) پر جگہ پانے کا اعزاز حاصل ہو-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔