سچا رہنما کون ہے، امت ِ موسیٰ کے حوالے سے قرآن میں اس کا جواب ان الفاظ میں دیاگیا ہے: وَجَعَلْنَا مِنْہُمْ اَىِٕمَّةً یَّہْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا وَکَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ (32:24) اور ہم نے ان میں امام بنائے جو ہمارے حکم سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے، جب کہ انھوں نے صبر کیا- اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے-قرآن کی اِس آیت میں ائمہ سے مراد مذہبی رہنما ہیں- یہاں یہ سوال ہےکہ قرآن میں ان کے لیے جعلنا کا لفظ کیوں آیا، یعنی اللہ کی طرف سے تقرری (appointment)- جیسا کہ معلوم ہے، اللہ کی طرف سے تقرری صرف پیغمبر کی ہوتی ہے- پھر غیر نبی امام کو اللہ کی طرف کیوں منسوب کیاگیا- اس سے مراد براہ راست تقرری نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد بالواسطہ تقرری ہے-
اس بالواسطہ تقرری کا درجہ ان لوگوں کو ملتاہے، جو صبر کا ثبوت دیں- اصل یہ ہے کہ رہنما دو قسم کے ہوتے ہیں- ایک وہ ہیں جو حالات کے رد عمل کے تحت (out of reaction) رہنمائی کے لیے کھڑے ہوجائیں- دوسری قسم ان لوگوں کی ہے، جو صابرانہ منصوبہ بندی (patient planning)کے تحت رہنمائی کے لیے اٹھیں- یہ دوسری قسم کے لوگ اللہ کے نزدیک درست رہنما ہیں، ان کو اللہ کی طرف سے قبولیت (acceptance)حاصل ہوتی ہے- یہی وجہ ہے کہ ایسے رہنماؤں کے معاملہ کو اللہ کی طرف منسوب کیاگیا- امت کی رہنمائی کا معاملہ اصولی طورپر نظریہ کا معاملہ ہے، اور عملی طور پر وہ حالات کا معاملہ ہے۔ حالات کا رخ انسان کی آزادی اور مسابقت (competition) سے تعلق رکھتا ہے- خارجی حالات کبھی اہلِ اسلام کے موافق نہیں ہوتے- حقیقت یہ ہے کہ رہنمائی نام ہے، ناموافق حالات میں اپنے لیے موافق راستہ تلاش کرنا-ایسی حالت میں رہنما ہمیشہ دوانتخاب (options) کے درمیان ہوتا ہے- ایک یہ کہ حالات کے خلاف رد عمل (reaction) کرتےہوئے کچھ جوابی سرگرمی شروع کردینا - ایسے لوگ اللہ کے نزدیک غیر مطلوب رہنما ہیں، وہ کبھی اللہ کے نزدیک ربانی امام کا درجہ نہیں پاسکتے- دوسرے رہنما وہ ہیں جو صابرانہ منصوبہ بندی کے تحت اپنے عمل کا تعین کریں- یہی وہ لوگ ہیںجو اللہ کے نزدیک ربانی امام کا درجہ پائیں گے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔