مردوزن کی مساوات (gender equality)کا لفظ پہلی بار یورپ میں استعمال کیا گیا - ابتداء ً اِس کا مطلب تھا عورت اور مرد دونوں کو ووٹ کا یکساں حق دینا-اس کے بعدیہ اصطلاح بہت مقبول ہوئی اور ہر اعتبار سے مردوزن کی مساوات کو بتانے کے لیے اس کو ایک معیاری اصطلاح کا درجہ حاصل ہوگیا- بیسویں صدی کے نصف آخر میں مزید تحقیقات کے بعد مساواتِ مردوزن کا نظریہ تنقید کا شکار ہوگیا-
اِس سلسلے میں رسرچ کے متعدد نتائج شائع ہوچکے ہیں- اِس سلسلے کی تازہ ترین تحقیق وہ ہے جو امریکا کی پنسلوینیا یونی ورسٹی میں ہوئی ہے اور وہ امریکا کے ایک جرنل (Proceedings of the National Academy of Science) کے شمارہ 3 دسمبر 2013 میں چھپی ہے- اِس رسرچ کا خلاصہ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (4 دسمبر 2013) میں شائع ہوا ہے-
اِس رسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان شدید فرق (stark difference) پایا جاتا ہے- اِس میں بتایا گیا ہے کہ عورتوں کی ذہنی ساخت اور مردوں کی ذہنی ساخت میں فرق ہوتا ہے:
Women's brains are designed for social skills and memory, while men's are for perception and coordination. (The Times of India, New Delhi, December 4, 2013, page 23)
عورت اور مرد کی فطری ساخت میں فرق ایک عظیم حکمت پر مبنی ہے، وہ یہ کہ دونوں زندگی کی گاڑی چلانے میں دو پہیے کا رول ادا کریں- دونوں اپنے اپنے اعتبار سے ایک دوسرے کے مددگار بنیں- عورت اور مرد کے درمیان مساوات بہ اعتبار رتبہ ہے، نہ کہ بہ اعتبار رول:
Equal in status, but different in role.
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔