Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Al-Risala June 2014
Al-Risala June 2014

مردوزن کی مساوات

Urdu · 1 min read

مردوزن کی مساوات (gender equality)کا لفظ پہلی بار یورپ میں استعمال کیا گیا - ابتداء ً اِس کا مطلب تھا عورت اور مرد دونوں کو ووٹ کا یکساں حق دینا-اس کے بعدیہ اصطلاح بہت مقبول ہوئی اور ہر اعتبار سے مردوزن کی مساوات کو بتانے کے لیے اس کو ایک معیاری اصطلاح کا درجہ حاصل ہوگیا- بیسویں صدی کے نصف آخر میں مزید تحقیقات کے بعد مساواتِ مردوزن کا نظریہ تنقید کا شکار ہوگیا-

اِس سلسلے میں رسرچ کے متعدد نتائج شائع ہوچکے ہیں- اِس سلسلے کی تازہ ترین تحقیق وہ ہے جو امریکا کی پنسلوینیا یونی ورسٹی میں ہوئی ہے اور وہ امریکا کے ایک جرنل (Proceedings of the National Academy of Science) کے شمارہ 3 دسمبر 2013 میں چھپی ہے- اِس رسرچ کا خلاصہ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (4 دسمبر 2013) میں شائع ہوا ہے-

اِس رسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان شدید فرق (stark difference) پایا جاتا ہے- اِس میں بتایا گیا ہے کہ عورتوں کی ذہنی ساخت اور مردوں کی ذہنی ساخت میں فرق ہوتا ہے:

Women's brains are designed for social skills and memory, while men's are for perception and coordination. (The Times of India, New Delhi, December 4, 2013, page 23)

other sourceWords of another person or source

عورت اور مرد کی فطری ساخت میں فرق ایک عظیم حکمت پر مبنی ہے، وہ یہ کہ دونوں زندگی کی گاڑی چلانے میں دو پہیے کا رول ادا کریں- دونوں اپنے اپنے اعتبار سے ایک دوسرے کے مددگار بنیں- عورت اور مرد کے درمیان مساوات بہ اعتبار رتبہ ہے، نہ کہ بہ اعتبار رول:

Equal in status, but different in role.

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content