نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (22 اپریل 2013، صفحہ 14) میں ایک خبر پاکستان کے آئندہ انتخابات کے بارے میں چھپی ہے- اخبار نے اِس خبر کی سرخی اِن الفاظ میں قائم کی ہے— پاکستان کی انتخابی مہم میں کشمیر کا کوئی حوالہ نہیں:
Kashmir finds no mention in Pak poll campaigns.
یہ ایک عجیب بات ہے کہ انڈیا اور پاکستان دونوں ملکوں کی سیاست میں ایک مشترک چیز پائی جاتی ہے- دونوں ملکوں میں جلد ہی انتخابات ہونے والے ہیں، مگر حالت یہ ہے کہ انڈیا کی جس پارٹی نے اِس سے پہلے رام مندر کی تعمیر کو اپنے الیکشن مینی فیسٹو (election menifesto)میں سب سے زیادہ نمایاں اشو کا درجہ دیا تھا، اب اس کے الیکشن مینی فیسٹو میں رام مندر کی تعمیر کا کوئی ذکر نہیں-
رام مندر کی تحریک اپنے نتیجے کے اعتبار سے، ہندو اور مسلم کے درمیان نفرت کا جنگل اگانے کی تحریک تھی- اِس قسم کا منفی جنگل خود پارٹی کے سیاسی مفاد کے خلاف تھا- چناںچہ انھوں نے جب اِس منفی نتیجے کو دیکھا تو حالات کے دباؤ کے تحت اِس تحریک سے عملاً کنارہ کشی اختیار کرلی- اِسی طرح پاکستان میں کشمیر کی تحریک اپنے نتیجے کے اعتبار سے،پاکستان اور پڑوسی ملک کے درمیان نفرت اور تشدد کا آتش فشاں بھڑکانے کے ہم معنی تھی- چناں چہ عملاً ایسا ہی ہوا- پہلے یہ آتش فشاں انڈیا اور پاکستان کے درمیان بھڑکا اور بعد کو وہ خود پاکستان کے اندر بھڑک اٹھا- اِس منفی نتیجے کو دیکھ کر پاکستان کے لیڈر گھبرا اٹھے اور اب وہ چاہتے ہیں کہ کشمیر کے مسئلے سے کنارہ کشی اختیار کرتےہوئے وہ اپنے ملک کی تعمیر کا نیا نقشہ بنائیں-
حقیقت یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں کسی اقدام سے پہلے ہمیشہ یہ سوچنا چاہئے کہ اس کا عملی نتیجہ کیا ہوگا- اگر نتیجہ برعکس نکلنے والا ہو تو اقدام کرنے سے بہتر یہ ہے کہ کوئی اقدام ہی نہ کیا جائے- یہ اصول اِس دنیا میں قوم کے لیے بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ فرد کے لیے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.