مشہور پاکستانی صحافی شورش کاشمیری (وفات: 1975) نے لکھا تھا کہ: ’’اقبال وہ شبلی نعمانی ہے جسے کوئی سید سلیمان ندوی میسر نہ آسکا‘‘- (ماہ نامہ الشریعہ، پاکستان، اپریل 2013، صفحہ: 7)
یہ تقابل درست نہیں-صحیح یہ ہے کہ شبلی نے افراد سازی کا کام کیا، اِس لیے اُن کو افراد ملے- اِس کے برعکس، اقبال کا معاملہ یہ تھا کہ فرد سازی عملاً ان کا کنسرن (concern)ہی نہ تھا- وہ ایک شاعر تھے اور شاعری کے ذریعے مجموعۂ ملت کو خطاب کرتے تھے- اِس کا فطری نتیجہ یہ ہوا کہ اقبال کو مجموعۂ ملت کے اندر مقبولیت حاصل ہوئی، لیکن اُن کو نہ کوئی فرد ملا اور نہ افراد کی کوئی ٹیم-
مجموعۂ ملت کو خطاب کرنا دوسرے الفاظ میں، بھیڑ (crowd)کو خطاب کرنا ہے ا ور بھیڑکو خطاب کرنے سے کبھی افراد حاصل نہیں ہوتے، افراد کے حصول کا طریقہ بالکل جداگانہ ہے- اِس کے لیے ضرورت ہے کہ فرد کی نفسیات کو سمجھا جائے، فرد کے ذہن کو ایڈریس کیا جائے، فر د کو اپنا کنسرن بنایا جائے- یہ ایک بے حد مشکل کام ہے- اس کام کو صرف وہی لوگ انجام دے سکتےہیں جو ایک فرد کے ملنے کو اتنی زیادہ اہمیت دیں کہ،حدیث کے الفاظ میں، ایک فرد اُن کو ’’سرخ اونٹوں‘‘ (حمر النعم)کی فوج سے زیادہ قیمتی دکھائی دینے لگے- اقبال کا مشہور شعر ہے:
نوا را تلخ تر می زن چو ذوقِ نغمہ کم یابی حُدی را تیز تر می خواں چو محمل را گراں بینی
اِس طرح کے کلام سے ایک بھیڑ کے اندر وقتی طورپر ہلچل پیدا کی جاسکتی ہے، لیکن اِس طرح کے پُرجوش کلام سے ایک فرد کے اندر شعوری انقلاب نہیں لایا جاسکتا- فرد کے اندر شعوری انقلاب لانے کے لیے صرف سنجیدہ کلام اور حقیقت بیانی کا انداز موثر ہوسکتا ہے(36:69)- کوئی فرد ہمیشہ ایک طویل فکری جدوجہد کے بعد تیار ہوتا ہے- شاعری اور خطابت کے ذریعے کسی شخص کو بھیڑ تو مل سکتی ہے، لیکن افرادِ کار اِس طرح کسی کو نہیں ملتے — فرد ہمیشہ فرد پر فوکس کرنے سے ملتا ہے، کوئی دوسرا طریقہ فرد سازی کے لیے کارگر نہیں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔