موجودہ زمانے کے مسلمانوںمیں باربار ایک واقعہ پیش آیا ہے- ایک اسلام پسند جماعت (Islamist party) اٹھتی ہے- وہ اسلام کے نام پر سیاسی تحریک چلاتی ہے، یہاں تک کہ وہ موجودہ حکمرانوں ;کو ہٹا کر اپنی پارٹی کی حکومت بنالیتی ہے- اِس واقعے پر ساری دنیا کے مسلمان خوشی مناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں ملک میں اسلام آگیا- مگر بہت جلد معلوم ہوتاہے کہ جو چیز آئی، وہ اسلام نہیں تھا، بلکہ صرف یہ تھا کہ حکومت کا ڈھانچہ بدل گیا، یعنی یہ معاملہ تبدیلی افراد کا معاملہ تھا، نہ کہ تبدیلی نظام کا-
ایساکیوں ہوتاہے- اِس کا سبب سیاسی بے بصیرتی ہے جو موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلمانوں پر چھائی ہوئی ہے، خواہ وہ علما ہوں یا غیر علما- وہ سیاسی بے بصیرتی یہ ہے کہ لوگ صرف لفظی نعروں کو جانتے ہیں- اُن کو یہ خبر نہیں کہ ’’انقلاب‘‘ کے نام پر جو واقعہ پیش آیا ہے، وہ صرف سیاسی اکھیڑ پچھاڑ کی بنا پر پیش آیا ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں اسلام کی بنا پر-
اصل یہ ہے کہ جب بھی کچھ لوگ اقتدار کی کرسی پر ہوں، خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم، خواہ وہ مخلص ہوں یا غیر مخلص، ہمیشہ عوام میں اُن کے خلاف شکایت کی فضا پیدا ہوجاتی ہے- اجتماعی نظام میں اِس عنصر کو اینٹی انکمبنسی فیکٹر (anti-incumbency factor) کہاجاتا ہے- سادہ لفظوں میں اس کو اینٹی اتھارٹی(anti-authority)ماحول کہہ سکتے ہیں-جمہوری نظام میں اپوزیشن پارٹیاں ہمیشہ یہی کرتی ہیں کہ وہ برسرِ اقتدار گروہ کے خلاف موجود شکایتوں کو استعمال (exploit) کرکے اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں-
جن مسلم ملکوں میں یہ واقعہ پیش آرہا ہے کہ وہاں نہایت دھوم کے ساتھ ’’اسلام‘‘ آیا اور پھر جلد ہی معلوم ہوتا ہے کہ جو چیز آئی تھی، وہ اسلام نہ تھا، بلکہ صرف اربابِ اقتدار کی تبدیلی (replacement) تھی، اس کے سوا اور کچھ نہیں- یہ صورتِ حال ہر اُس مسلم ملک میں پیش آئی جہاں نام نہاد اسلام پسند پارٹیاں سرگرم عمل ہیں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.