قرآن کی سورہ حم السجدہ میںاُن لوگوں کا ذکر کیاگیا ہے جو دعوت الی اللہ کی مخالفت کرتے ہیں- اِس سلسلے میں قرآن کی متعلق آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: ’’اور انکار کرنے والوں نے کہا اِس قرآن کو نہ سنو اور اس میں خلل ڈالو، تاکہ تم غالب رہو- پس ہم انکار کرنے والوں کو سخت عذاب چکھائیں گے اور اُن کو ان کے عمل کا بدترین بدلہ دیں گے- یہ اللہ کے دشمنوں کا بدلہ ہے، یعنی آگ- اُن کے لیے اس میں ہمیشگی کا ٹھکانا ہوگا، اِس بات کے بدلے میںکہ وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے‘‘- (41:26-28)
’’آیتوں کا انکار‘‘ سے مراد دعوت الی اللہ کی صداقت سے انکار ہے-ایسے لوگوںکو ’’اعداء اللہ‘‘ کہا گیاہے، یعنی اللہ کے دشمن- دعوت کا مشن ایک خدائی مشن ہوتاہے- جو لوگ دعوت الی اللہ کی مخالفت کریں، وہ خدائی مشن کی مخالفت کررہے ہیں- اِسی بنا پر اُن کو اللہ کا دشمن بتایا گیاہے-
دعوت الی اللہ کے کام کو قرآن میں انذار اور تبشیر (4:165) کہاگیا ہے، یعنی آخرت کی پکڑ سے انسان کو آگاہ کرنا اور آخرت کے انعام سے انسان کو باخبر کرنا- یہ کام خود اللہ کا مطلوب کام ہے- اللہ کو مطلوب ہے کہ تمام انسان موت سے پہلے یہ جان لیں کہ موت کے بعد اُن کے ساتھ اللہ کے یہاں کیا معاملہ ہونے والا ہے- یہ کام اگر چہ اللہ کا مطلوب کام ہے ، لیکن اِس دنیا میں اس کو انجام دینے والا انسان ہوتا ہے، یعنی پیغمبر اور داعی- دوسرے لفظوں میں یہ کہ دعوت الی اللہ کا مشن ایک خدائی مشن ہے، اگر چہ بظاہر وہ انسانوں کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے-
ایسی حالت میں دعوتی مشن کی مخالفت، اللہ کی مخالفت ہے- جو لوگ دعوتی مشن کی مخالفت کرتے ہیں، وہ اپنے خیال کے مطابق، انسان کی مخالفت کررہے ہوتے ہیں، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ اللہ کے کام کی مخالفت کررہے ہوتے ہیں- یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگوں کو قرآن میں اللہ کے دشمن (أعداء اللہ) کہاگیاہے- آخرت میں اُن کے ساتھ اللہ کے دشمن جیسا معاملہ کیا جائے گا، نہ کہ اللہ کے دوست جیسا معاملہ-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔