← Al-Risala June 2012Al-Risala June 2012
مسئلے کا حل
Urdu · 3 min read
موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا عام خیال یہ ہے کہ وہ ’’اغیار‘‘ کی سازش اور تشدد کا شکار ہیں۔ مگر قرآن یہ کہتے ہوئے اِس نظریے کو رد کررہا ہے کہ — اللہ ہرگز منکروں کو مومنوں پر کوئی راہ نہیں دے گا:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
And never will God allow non-believers to harm the believers. (4:141)
Qur'anQuotes the Qur'an
پھر مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے والی موجودہ صورتِ حال کا سبب کیا ہے۔ قرآن ایک اور آیت میں اُس کا جواب اِس طرح دیتاہے—اور جو مصیبت تم کو پہنچتی ہے، وہ تمھارے اپنے ہاتھوں کے کئے ہوئے کاموں ہی کے سبب سے ہے:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Whatever misfortune befalls you is of your own-doing (42: 30)
Qur'anQuotes the Qur'an
اب سوال یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے ساتھ ’’اغیار‘‘ کی طرف سے جو مسائل پیش آرہے ہیں، اُس کا اصل سبب کیا ہے۔ اِس کا جواب قرآن کی ایک اور آیت سے معلوم ہوتا ہے۔ اِس آیت کا ترجمہ یہ ہے — اے پیغمبر، جو کچھ تمھارے اوپر تمھارے رب کی طرف سے اترا ہے، تم اس کو لوگوں تک پہنچا دو۔ اور اگرتم نے ایسا نہ کیا تو تم نے اللہ کے پیغام کو نہیں پہنچایا۔ اور اللہ تم کو لوگوں سے بچائے گا:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
O Prophet, deliver whatever has been sent down to you by your Lord. If you do not do so, you will not have conveyed His message. God will protect you from the people. (5: 67)
Qur'anQuotes the Qur'an
قرآن کی اِس آیت سے معلوم ہوتاہے کہ اہلِ ایمان کی عصمت (protection) کا معاملہ دعوت الی اللہ (Dawah work) سے جڑا ہوا ہے، یعنی اہلِ ایمان اگر دعوہ ورک کریں تو اُن کو خدا کی طرف سے پروٹکشن ملا رہے گا۔ اگر وہ دعوہ ورک چھوڑ دیں، تو خدا کا پروٹکشن اُن سے اٹھ جائے گا۔ اہلِ ایمان کے مسائل کا حل نہ پروٹسٹ ہے اور نہ ٹکراؤ۔ اہلِ ایمان کے مسئلے کا واحد حل دعوہ ورک ہے۔ کوئی بھی دوسری تدبیر اِس معاملے میں اہلِ ایمان کے لیے ہرگز کار گر نہیں ہوسکتی:
Dawah work guarantees divine protection of Muslim Ummah.
حدیثِ رسول کے مطابق، موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو عالمی ادخالِ کلمہ کی ذمے داری ادا کرنا تھا، یعنی گلوبل دعوہ ورک۔ اِس گلوبل دعوہ ورک کے لیے ایک گلوبل انفراسٹرکچر درکار تھا۔ مسلمان خود اس گلوبل انفراسٹرکچر کو وجود میں نہ لاسکے۔ اِس کے بعد خدا نے سیکولر قوموں سے یہ کام لیا کہ وہ ایک گلوبل انفراسٹرکچر ڈیولپ کریں۔ سیکولر قوموں کے اِس رول کی پیشین گوئی خود حدیثِ رسول میں کردی گئی تھی۔ چناں چہ حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ مستقبل میں سیکولر لوگوں کے ذریعے اپنے دین کی تائید کا انتظام کرے گا (إن اللہ لیؤیدہذا الدین بالرجل الفاجر)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مسلمانوں کی ناکامی کے بعد سیکولر قوموں کے ذریعے اِس گلوبل انفراسٹرکچر کا وجود میں آنا، اِسی حدیثِ رسول کے مطابق تھا۔ مسلمانوں پر فرض تھا کہ وہ اِس راز کو سمجھیں اور ماڈرن انفراسٹرکچر کو گلوبل دعوہ ورک کے لیے استعمال کریں۔ لیکن بعض اسباب سے مسلمان اِس راز کو نہ سمجھ سکے اور خود ساختہ اِشوز کو لے کر لوگوں سے رقابت (rivalry) قائم کرلی، حتی کہ وہ اُن کے خلاف تشدد کرنے لگے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مسلمانوں کی یہ روش خدا کی اسکیم کے خلاف تھی۔ اب مسلمانوں کے لیے واحد راستہ یہ ہے کہ وہ اپنی پالیسی پر نظر ثانی کریں، وہ از سرِ نو اپنے عمل کی منصوبہ بندی کریں۔
وہ دوسری قوموں کو اپنا مدعو سمجھیں، نہ کہ اپنا حریف (rival) ۔ وہ جدید تہذیب کے ذریعے حاصل ہونے والے گلوبل انفراسٹرکچر کو لے کر عالمی سطح پر پر امن دعوہ ورک کو انجام دیں۔ مسلمانوں کے لیے یہی واحد راستہ ہے۔ اِس کے سوا کوئی اور طریقہ نہیں جو مسلمانوں کو موجودہ مسائل سے نجات دلانے والا ہو۔مسلمانوں کے لیے فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ وہ دعوت الی اللہ کے سوا ہر دوسری چیز کو اپنے لیے سکنڈری بنائیں۔ وہ دعوت کو اپنی زندگی کا واحدمشن قرار دیں۔اِس کے بعدہی ان کو دوبارہ خدا کی حفاظت ملے گی۔ اِسی میں اُن کے لیے دنیا کی حفاظت ہے اور اِسی میں ان کے لیے آخرت کی نجات مقدر ہے۔