← Al-Risala June 2007Al-Risala June 2007
ایک خط
Urdu · 4 min read
برادرِ محترم عبد السلام اکبانی صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ
30 مارچ 2007 کو آپ سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی۔ اُس کے بعد آپ کو یہ خط لکھ رہاہوں۔ 6 ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان معاہدۂ حدیبیہ پیش آیا۔ اِس پر قرآن کی سورہ نمبر 48 میں یہ آیت اُتری: إنا فتحنا لک فتحاً مبیناً (الفتح : 1)۔ اِس آیت میں ’فتح‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ عربی زبان میں فَتَحَ کے معنٰی ہیںکھولنا (to open) ۔ لسان العرب میں بتایا گیا ہے کہ : الفتح نقیض الإغلاق۔ یعنی ’فتح‘ بند کرنے کا اُلٹا ہے۔ عربی میں کہاجاتا ہے کہ : فتح القناۃَ، فجّرہا لیجری فیہا الماء۔یعنی پانی بہنے کے لیے نالی نکالنا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حدیبیہ کے موقع پر وہ کون سی بات ہوئی جس کو یہاں فتح سے تعبیر کیا گیا ہے۔ حالاں کہ روایات میں آتا ہے کہ اِس سفر میں شریک ہونے والے جب حدیبیہ سے لوٹ کر مدینہ پہنچے تو یہاں کے لوگوں نے اُن سے کہا: ماہٰذا بفتحٍ( یہ تو کوئی فتح نہیں) سورہ الفتح اتری تو حضرت عمر نے رسول اللہ سے کہا کہ: أوفتح ہو یا رسول اللہ (اے خدا کے رسول، کیا وہ کوئی فتح ہے) القرطبی، جلد16، صفحہ 261۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
یہ ایک تاریخی واقعہ ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر مسلمانوں کو بظاہر کوئی فتح حاصل نہیں ہوئی ـتھی۔ پھر وہ کیا چیز تھی جس کو قرآن میں فتح کہاگیا۔ اِس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں فتح سے مراد سیاسی یا حربی فتح نہیں ہے، بلکہ اُس سے مراد ہے— مواقعِ کار یا مواقعِ دعوت کا کھُل جانا۔
مشہور تابعی الزّہری نے کہاہے : فلما وقع الصّلح مشی الناس بعضہم فی بعض، وعلموا وسمعوا عن اللہ، فما أراد أحد الإسلام إلاّ تمکن فیہ (القرطبی)۔
other sourceWords of another person or source
اصل یہ ہے کہ معاہدۂ حدیبیہ سے پہلے مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان حالتِ جنگ قائم ہوگئی تھی۔ اس لیے باہمی انٹریکشن ختم ہوگیا تھا۔ اور انٹریکشن کا خاتمہ، دعوتی عمل کا خاتمہ ہے۔ معاہدۂ حدیبیہ میں یہ دفعہ شامل کی گئی کہ اب سے دس سال تک مسلمانوں اور اُن کے حریفوں کے درمیان جنگ نہیں ہوگی۔ اِس طرح معاہدۂ حدیبیہ کے بعد یہ ہوا کہ دونوں فریقوں کے درمیان کھلا انٹریکشن جاری ہوگیا۔ اور نارمل حالات میں کھُلے انٹریکشن کے نتیجے ہی کا نام اسلام کی دعوتی فتح ہے۔
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ نہیںہے کہ کوئی مفروضہ دشمن اُن کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ اِس قسم کا خیال بالکل بے بنیاد ہے۔ قانونِ فطرت کے مطابق، ایسا ہونا ممکن نہیںکہ کوئی دشمن کسی کو نقصان پہنچا سکے۔ قرآن میں بار بار یہ بات مختلف انداز میں کہی گئی ہے کہ انسان کی ناکامیابی کے اسباب اُس کے داخل میں ہوتے ہیں، نہ کہ اُس کے خارج میں (الشوریٰ: 30 )
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ فتحِ سیاسی کو جانتے ہیں، لیکن وہ فتحِ مواقع کو نہیں جانتے۔ حالاں کہ فطرت کے قانون کے مطابق، اِس دنیا میں کام کے مواقع کا کھلنا سب سے بڑی فتح ہے، بلکہ یہی اصل فتح ہے۔
یہ حقیقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے حالاتِ زندگی سے پوری طرح واضح ہے۔ میںنے اپنی کتابوں میں اِس کی بہت سی مثالیں دی ہیں۔ لیکن مسلمان پیغمبر اسلام کی سیرت کا مطالعہ پُر اسرار فضیلت اور پُراسرار کمالات کی اصطلاحوں میںکرتے ہیں، اس لیے وہ آپ کی زندگی سے مذکورہ قسم کا سبق نہیں لے پاتے۔ یہ بلاشبہہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی سب سے بڑی بد قسمتی ہے۔
یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں نے پیغمبرانہ بصیرت کو کھودیا ہے۔ پیغمبر کے لیے اُن کے پاس صرف لفظی نعت خوانی ہے۔ اس صورتِ حال کی اصلاح کے لیے نئی سوچ کی ضرورت ہے۔ نئی سوچ ہمیشہ اعترافِ خطا سے پیدا ہوتی ہے۔ اگرکوئی شخص یا گروہ ماضی میں اپنی غلطی کا اعتراف نہ کرے تو بعد کے زمانے میں بھی وہ اُسی غلطی میں پڑا رہے گا۔ غلطی کا اعتراف کسی نئی اصلاح کا ـآغاز ہے، غلطی کا اعتراف نہیںتو اصلاح کا آغاز بھی نہیں۔
نئی دہلی ، 31 مارچ 2007 دعاگو