Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Al-Risala June 2007
Al-Risala June 2007

احکامِ دین

Urdu · 3 min read

دین میں جو احکام دیے گیے ہیں وہ مختلف نوعیت کے ہیں۔ قرآن اور سنت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان احکام کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ ایک وہ جو دین کا مطلق حصہ (absolute part) ہیں۔ اور دوسرے احکام وہ ہیں جو دین کا اضافی حصہ (relative part) ہیں۔ مطلق حصہ ہر حال میں یکساںطورپر مطلوب ہوتاہے۔ جب کہ اضافی حصے کی مطلوبیت حالات پر منحصر ہوتی ہے۔ کسی وقت کے حقیقی حالات یہ طے کرتے ہیں کہ ان کا نفاذ کس طرح کیا جائے گا۔

احکام دین کے اس فرق کو سمجھنے کے لیے قرآن اور سنت کے دو حوالوں کا مطالعہ کیجیے۔ قرآن کی سورہ نمبر 109 میںپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ کہلایا گیا ہے کہ کہو کہ اے منکرو، میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی عبادت تم کرتے ہو۔ (الکافرون: 1-2)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی اس آیت میں عبادت کا لفظ آیا ہے۔ اس سے صریح طورپر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جہاں تک عبادت کا تعلق ہے، اس کو دین کے ایک مطلق حکم کی حیثیت حاصل ہے۔ عبادت کے معاملے میں دوسروں سے نہ سمجھوتہ ہے اور نہ ایڈجسٹمنٹ۔ ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ صرف ایک خدا کی عبادت کرے اور اسی ڈھنگ پر عبادت کرے جس طرح اسلام میں بتایا گیا ہے۔ جیسا کہ قرآن سے ثابت ہے، ایک خدا کے سوا کسی اور کی عبادت کرنا شرک ہے اور شرک خدا کے نزدیک ناقابل معافی جرم ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ عبادت میں اگر دوسروں کی طرف سے کوئی رکاوٹ ہو تو مسلمان اس رکا وٹ کو ختم کرنے کے لیے جنگ چھیڑ دیں۔ پیغمبر اسلام کے مکی دور کی زندگی سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت کے معاملے میں بھی حالا ت کی رعایت کی جائے گی۔

چناںچہ مکہ میں پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب نے ابتداً کئی سال تک چھپ کر عبادت کی اور باقاعدہ با جماعت نماز کا اہتمام بہت بعد کو مدنی دور میں کیاگیا۔ عبادت کے معاملے میں یہ طریقہ قرآن کے ایک مستقل اصول کے تحت تھا۔ یہ حکم قرآن میں ان الفاظ میں دیاگیا ہے: اللہ کسی بندے پر اس کی طاقت سے زیادہ ذمے داری نہیں ڈالتا (البقرہ: 286) ۔یہی بات قرآن کے دوسرے مقام پر بھی کہی گئی ہے۔ (التغابن: 16)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن اور حدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کے مطلق احکام خاص طور پر تین پہلوؤں سے تعلق رکھتے ہیں— عقیدہ ، عبادت اور اخلاق ۔ یہ تینوں قسم کے احکام اپنی نوعیت کے اعتبار سے مطلق ہیں، یعنی ان پر ہر حال میں عمل کیا جائے گا۔ خود اپنے ارادے سے ان میں کوئی کمی بیشی نہیں کی جائے گی۔ ان کی ادائیگی میںکسی قسم کا فرق صرف اسی وقت کیا جاسکتا ہے جب کہ مجبوری کی کوئی صورت پیدا ہوگئی ہو، جس کو شریعت میںاضطرار (البقرہ : 173) کہاگیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ان تینوں قسم کے احکام میںحالات کی نسبت سے فرق کرنے کی اجازت ہے، مگر یہ اجازت صرف بربنائے مجبوری ہے۔ ان تینوں احکام کا تعلق ایک شخص کے انفرادی رویے سے ہے اور ہر شخص کے ذاتی حالات ہی یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ ان کی تعمیل کس طرح کرے۔

احکامِ دین کی تعمیل فہرستِ احکام کے اعتبار سے مطلوب نہیں ہے، بلکہ وہ آدمی کے حالات کے اعتبار سے مطلوب ہے۔ آدمی کے حالات اُس کو جس حد تک اِن احکام پر عمل کرنے کی اجازت دیتے ہیں، اُسی حد تک وہ اُن پر عمل کرنے کا مکلّف ہوگا۔

تعمیل احکام کی یہی ترتیب فطری ترتیب ہے۔ یہی فطری ترتیب ایک شخص اور ایک قوم سے یکساں طورپر مطلوب ہے۔ کسی شخص اور قوم کے حقیقی حالات ہی اِس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ احکامِ دین کی تعمیل کس طرح کرے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content