Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala June 2007
Al-Risala June 2007

امتحان، نہ کہ انعام

Urdu · 2 min read

کرنل ولیم سلیمین(Sir William Sleeman) 1848 سے 1854 تک لکھنؤ میں تھا۔ اس نے اپنے قیام اودھ کی یادداشت لکھی ہے جو لندن سے 1854 میں دو جلدوں میں شائع ہوئی۔ اس کا نام ہے:

Journey Through the Kingdom of Oudh.

سلیمین نے جب داراشکوہ کی قبر دیکھی تو اس نے کہا کہ اگر وہ زندہ رہتا اور دہلی کی سلطنت پر اس کا قبضہ ہوجاتا تو تعلیم کی نوعیت اور اسی کے ساتھ انڈیا کا مستقبل بالکل مختلف ہوتا:

other sourceWords of another person or source

Had he lived to occupy the throne, the nature of education, and therewith the destiny of India, would have been different. (p. 572)

کرنل سلیمین نے اپنی کتاب میں اس کا ذکر کیا ہے کہ انگریزوں نے جن ہندستانیوں کو دباکر ان کے اوپر اپنی حکومت قائم کی، ان کے خیالات انگریزی حکومت کے بارے میں کیا تھے۔ اس سلسلے میںانھوں نے کیپٹن لاکٹ کا ذکر کیا ہے جو ہندستانی زبان اچھی طرح جانتے تھے۔ اور اس بنا پر ہندستانیوں سے اپنائیت کے ساتھ بات کرسکتے تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ:

unverifiedAttribution could not be verified automatically

’’کیپٹن لاکٹ نے لکھنؤ میںنواب اودھ کی کمزوریوں اور ان کی حکومت کے ظلم کے متعلق سوالات کیے۔ ان کو جواب دیا گیا کہ ہم پریشان ہیں، ہم کو مزید پریشانی میں نہ ڈالیے۔ یہ سن کر کیپٹن لاکٹ نے کہا کہ ایسا کیوں۔ کیا آپ لوگ پہلے سے زیادہ بہتر حکومت کے ماتحت نہیں ہیں۔ جواب ملا کہ ہاں، مگر اودھ کا نام اور ہمارے ملک کی عزت ختم ہوگئی۔ یہ جواب دینے والا ایک مسلمان تھا۔ ہندو کا جواب شاید اس سے مختلف ہوتا‘‘۔ (جلد دوم، صفحہ 65-66)

مذکورہ مسلمان کے جواب میں وہ معاشرہ جھلک رہا ہے جو اس وقت لکھنؤ میںموجود تھا اور جس میں اس مسلمان نے پرورش پائی تھی۔ اگر اس کی پرورش ایسے ماحول میں ہوتی جہاں قرآن کا چرچا ہوتاہے تو شاید اس کا جواب یہ ہوتا کہ حکومت کوئی انعام کی چیز نہیں ہے بلکہ قرآن کے مطابق، وہ امتحان کی چیز ہے۔ خدا نے ان کو ہٹا کر آپ کو یہاں کا اقتدار دیا ہے، تاکہ دیکھے کہ آپ کیسا عمل کرتے ہیں: ثم جعلناکم خلائف فی الأرض من بعدہم لننظر کیف تعملون (یونس: 14 )یعنی پھر ہم نے اُن کے بعد تم کو ملک میں جاں نشیں بنایا، تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیسا عمل کرتے ہو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مذکورہ مسلمان اگر یہ جواب دیتا تو اس کا جواب عین دعوت بن جاتا۔ اس طرح مسلمانوں اور غیر مسلموں کا مجرد اختلاط (interaction) ہی دعوتی عمل جاری ہونے کے لیے کافی ہے، بشرطیکہ مسلمان ضروری اسلامی معلومات رکھتے ہوں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content