Maulana Wahiduddin Khan
12 min left
0:00

← Al-Risala July 2022
Al-Risala July 2022

داعیانہ کردار

Urdu · 12 min read

سی پی ایس انٹرنیشنل، نئی دہلی کی چیرپرسن ڈاکٹر فریدہ خانم نے سی پی ایس لیڈیز ٹیم کے ایک آن لائن پروگرام میں مندرجہ ذیل تقریر کی تھی

other sourceWords of another person or source

مولانا وحیدالدین خاں صاحب نے ایک جگہ لکھا ہے کہ "دعوت الی اللہ کا مشن اختیار کرنے کے لیے داعیانہ کردار ضروری ہے۔ جو شخص دعوتی عمل کا کریڈٹ لینا چاہتا ہو، اُس پر لازم ہے کہ وہ اپنے اندر داعیانہ کردار پیدا کرے"۔ہم داعیانہ کردار کو رسول اللہ ﷺ اور اصحابِ رسول کے نمونہ سے بہت اچھے طریقے سے سمجھ سکتے ہیں۔ رسول اللہ کے زمانے میں بار بار ایسا ہوتا تھا کہ مدعوغصہ ہوجاتے تھے۔ لیکن آپ اور آپ کےا صحاب اعراض کا طریقہ اختیار کرتے تھے۔

مثال کے طور پر مصعب بن عمیر خدا کا پیغام پہنچانے مدینہ گئے تھے ۔وہاں قبیلہ اوس کے ایک بڑے سردار اسید بن حضیر کو جب ان کی دعوتی سرگرمیوں کی خبر ہوئی تو بہت غصہ ہوئے کہ تم ہماری عورتوں اور ہمارے بچوں کو بہکانے آئےہو (فَوَقَفَ عَلَیْہِمَا مُتَشَتِّمًا، فَقَالَمَا جَاءَ بِکُمَا إلَیْنَا تُسَفِّہَانِ ضُعَفَاءَنَا) ۔ مصعب بن عمیر نے بہت ٹھنڈے طریقے سے جواب دیا کہ پہلے آپ تھوڑی دیر بیٹھ کر میری بات سنیں، پھر اس کے بعد آپ جو فیصلہ کریں وہ مجھے منظور ہوگا۔ اسید بن حضیر نے کہا کہ تم نے بہت انصاف کی بات کہی اور سننے کے لیے بیٹھ گئے۔ اس کے بعد مصعب بن عمیر نے قرآن کا ایک حصہ پڑھ کر سنایا۔ وہ خاموشی سے سنتے رہے اس کے بعد کہا’یہ کلام کتنا عمدہ اور کتنا اچھاہے‘(مَا أَحْسَنَ ہَذَا الْکَلَامَ وَأَجْمَلَہُ)، اور وہ مصعب بن عمیر کے ساتھی بن گئے (سیرت ابن ہشام، جلد1، صفحہ 436)۔ اس طرح بہت جلد مدینہ کے تمام باشندے آپ کے فولڈ میں آگئے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہی سارے صحابہ کا طریقہ تھا، وہ غصے کا جواب غصے سے نہیں دیتے تھے۔ کیونکہ وہ اس بات کے بہت زیادہ حریص تھے کہ خدا کے بندوں کو خدا کا پیغام پہنچایا جائے۔اگر وہ غصہ کا طریقہ اختیار کرتے تو حالات دعوتی عمل کے لیے نارمل نہ ہوپاتے ۔ اس وجہ سے وہ ہر موقع پر اوائڈنس کا طریقہ اختیار کرتے تھے، اور آخری حد تک صبر و برداشت کے اصول پر قائم رہتے تھے۔

رسول اللہ کے زمانے میں اس قسم کی اور بھی مثالیں ملتی ہیں۔ فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف علاقوںمیں تبلیغی و فود بھیجے تھے ۔مثلاًآپ نے اپنے دو صحابہ حضرت ابو موسی اور حضرت معاذ بن جبل کو اسلام کی تبلیغ کے لیے یمن بھیجا۔ ان دونوں کو بھیجتے ہوئے آپ نے یہ نصیحت کی’’تم لوگ آسانی پیدا کرنا مشکل پیدا نہ کرنا، تم لوگ خوش خبری دینا، لوگوں کو متنفر نہ کرنا (یَسِّرَا وَلاَ تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلاَ تُنَفِّرَا) ‘‘صحیح البخاری، حدیث نمبر 3038 ۔انھوں نے انتہائی نرمی سے لوگوں سے بات چیت کی۔ تمام لوگ متاثر ہوگئے، اور پیغمبر اسلام کے سچے ساتھی بن گئے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

لیکن موجودہ دور میں معاملہ بالکل برعکس ہے۔ میری ایک دوست بتا رہی تھیں کہ انھوں نے اپنے بچے کے لیے ایک مولوی صاحب کو لگایا کہ وہ ان کو دین اسلام کی باتیں بتائیں۔ لیکن وہ آتے ہی بچوں کو جہنم سے ڈرانے لگے، ان کو ڈوز اینڈ ڈونٹز (do’s and don’ts) کی زبان میں دین کی باتیں بتانے لگے ۔یہ بچے انگلش اسکول کے پڑھنے والے تھے، ان کو اس قسم کی باتیں سمجھ میں نہیں آئیں، انھوں نے مولوی صاحب سے پڑھنے سے انکار کردیا ۔ اگر مولوی صاحب ان کو پیراڈائز کی باتیں بتاتے، دین کی باتوں کو ریزن آؤٹ کرکے بتاتے تو ان کے اندر دلچسپی پیدا ہوتی، اور وہ مولوی صاحب کی باتوں کو سمجھتے ۔ تو یہی وہ حکمت ہے،جس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ تم لوگ آسانی پیدا کرو، مشکل پیدا نہ کرو، لوگوں کو خوشخبری دو ،ان کو متنفر نہ کرو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسلام دین فطرت ہے، وہ ہر آدمی کی فطرت کی آوازہے۔ اسلام کو قابلِ قبول بنانے کے لیے صرف اتنی بات کافی ہے کہ لوگوں سے معتدل تعلقات قائم کیے جائیں۔ اور اسلام کے مثبت پیغام سے انھیں با خبر کردیا جائے۔قرآن کی سورہ الاحزاب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے دعوت کے آداب بتائے گئے ہیں۔ اس کاایک جزء یہ ہے’’ان کے ستانے کو نظر انداز کرو، اور اللہ پر بھروسہ رکھو، اللہ بھروسے کے لیے کافی ہے (وَدَعْ أَذَاہُمْ وَتَوَکَّلْ عَلَى اللَّہِ وَکَفَى بِاللَّہِ وَکِیلًا)33:48۔ ‘‘

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس آیت کے مطابق، جب کوئی آدمی دعوتی کام کرے گا تو ضرور ایسا ہوگا کہ مدعو کی طرف سے زیادتیاں پیش آئیں گی۔ داعی کے لیے ضروری ہے کہ ان زیادتیوں کو نظر انداز کرے۔ مدعو اگر ہماری دعوت کو سن کر ردِ عمل کا اظہارکرتا ہے تو اسے اعراض کرتے ہوئے ہمیں اپنی دعوتی مہم کو جاری رکھنا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی سورہ طٰہٰ آیت 44میں بتایا گیاہے کہ اللہ تعالی نے جب حضرت موسی کو فرعون کی طرف اپنے پیغام کے ساتھ بھیجا تو ان کو بطور خاص یہ حکم دیا تھا’’پس اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا، شاید وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے۔‘‘ اب آپ سوچیے کہ ایسا جابر اور ڈکٹیٹر حکمراں، جس نے سب سے بڑا رب ہونے کا دعوی کیا تھا ۔ اس نے کہا تھاأَنَا رَبُّکُمُ الْأَعْلَى(79:24)۔یعنی، میں تمھارا سب سے بڑا رب ہوں۔ اس کے بارے میں بھی اللہ تعالی کہہ رہے ہیں کہ اس سے نرمی سے بات کرنا، جب کہ اللہ تعالی کے علم میں سب کچھ تھا کہ وہ سرکش ہے اور خدا کے پیغام کوماننے والا نہیں، پھر بھی اللہ نے اس کے ساتھ نرمی اختیار کرنے کا حکم دیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

لہٰذاداعی کے لیے ضروری ہے کہ وہ خدا کو بہت زیادہ یاد کرے اور وہ یہ سمجھ کر دعوت کا کام کرے کہ وہ خدا کا کام کررہا ہے۔ تو خدا کے کام میں اگر اس کو کوئی تکلیف پہنچے، کوئی مسئلہ پیدا ہوتاہے تو وہ ری ایکٹ نہیں کرے گا، وہ ہر حال میں خوشی خوشی کام کرے گا کہ اس نے اپنے رب کے لیے کام کیاہے۔ اگر آسانی سے کام ہوجاتا تو اس کا اتنا ثواب نہیں ہوتا۔ لیکن جب اس کے لیے کچھ مصیبت اٹھانا پڑے، کچھ تکلیف اٹھانا پڑے تو اس کا ثواب بہت زیادہ ہوگا۔

نرمی اس لیےہےکہ مدعو بھی انسان ہی ہے، اس کا غصہ جو دکھائی دیتا ہے وہ اس کا اوپری اوپری رویہ ہوتا ہے، اس کی اندرونی فطرت میں وہ صلاحیت موجود رہتی ہے کہ کوئی حق بات اگر معقول انداز میں کہی جائے تو اس کی فطرت اس کو مجبور کرے گی کہ وہ اس پر ٹھنڈے دل سے غور کرے۔ اس کے برعکس، اگر ہم بھی غصہ ہونے لگیں، ہم بھی اپنے ایگو سے مغلوب ہوکر کوئی ردعمل ظاہر کریں تو مدعو کا کانشنس نہیں جاگےگا، تاکہ وہ ایک ریشنل اور لاجیکل بات کو مان لےجو اس کی فطرت کی آواز ہے ۔ اس کو ایک ضد ہوجائے گی، اوروہ بات کو نارمل طریقےسے نہیں لے پائے گا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

ایک بار میں نئی دہلی کے ایک پارک میں گئی ، جس کا نام لودھی گارڈن ہے۔ وہاں میں نے قرآن اور لٹریچر ایک سردار جی اور ان کی فیملی کو دینا چاہا۔ سردار جی نےسختی سے کہا کہ ہم کیوں لیں آپ کی کتاب، کیا آپ ہماری کتاب پڑھتی ہیں۔ ہم نے کہا کہ ہم ہرچیز پڑھتے ہیں آپ دیجیے۔ پھر انھوں نے کہ آپ ’ست سری اکال‘ کہیں گے۔ ہم نے کہا کہ ہاں ہم کہیں گے، ہم نے دہرا دیا۔ اسی طرح سے انھوں نے اپنے مذہب کی کئی باتیں پوچھیں ،اب وہ مجھے یاد نہیں، میں نے نرم انداز میں سب کا جواب دیا۔وہ لوگ بہت خو ش ہوگئے۔ سب نے ہماری کتابیں بہت خوشی خوشی لیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی سورہ النساء میں پیغمبر اسلام سے خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہےکہ جوتمھارے مخالفین ہیں، تم ان سے اعراض کرو اور ان کو نصیحت کرو، اور ان سے ایسی بات کہو جو ان کے دلوں میں اتر جائے(4:63)۔ "مخالفین سے اعراض کرو"کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بحیثیتِ انسان ان کو کمتر سمجھ کر نظرانداز کرو، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی مخالفت پر ری ایکٹ نہ کرو۔ یعنی مخالفت کا منفی اثر نہ لو۔ اور اگر تم نے ذرا بھی بحث ومباحثہ کیاتو ڈسکشن کا موضوع بدل جائے گا۔ اسی لیے اپنے موضوع پر قائم رہنے کے لیے ہمیں اعراض کرنا چاہیے، اسی وجہ سے بہت زیادہ اعراض کی تلقین کی گئی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل اعراض کرتے تھے، آپ کے صحابہ اعراض کرتے تھے۔ اِس کے لیے سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ اپنی انا (ego) کو کنٹرول کیا جائے۔ اس کے بعد دعوت کے باقی سارے آداب خود بخود پیداہوجائیں گے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی سورہ النحل میں ارشاد ہوا ہے کہ ’’اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور ان سے اچھے طریقے سے بحث کرو‘‘ (16:125)۔ بحث (جدال احسن )کا مطلب ہےڈسکشن اور ڈائلاگ ۔ اچھے طریقے سے بحث کرو، یعنی اگر وہ غیر ضروری بحث کریں تب بھی تمہارا انداز نرم رہے۔ وہ ٹیڑھی بات کریں، تب بھی اس کا جواب سیدھے طریقے سے دیا جائے۔ ان کے سخت الفاظ سن کر بھی اپنی زبان سے نرم الفاظ نکالنا ہے۔ اگر دوسرا پرووک (provoke)کرنا چاہے تو بھی داعی کو پرووک نہیں ہونا ہے۔یہ داعی کا کردار ہے کہ مدعو کی طرف سے پیش آنے والی ہر تکلیف پر صبر کرے۔ مدعو سے حساب چکانے کے بجائے ایسے تمام معاملات کو خدا کے خانے میں ڈال دے۔ جو انسان صحیح معنی میں اللہ سے ڈرنے والا ہوتا ہے اس کے اندر یہ کردار پیداہوجاتا ہے ۔ اس کو یہ گہرا یقین ہوتاہے کہ یہ خدا کا پیغام ہے اور وہ خدا کے لیے یہ کام کررہا ہے تو اس کو ہر حالت میں اس کام کو بحسن خوبی انجام دینا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ہر پیغمبر نے یہی کہا کہ میں تمہارے لیے ناصح ہوں اور امین ہوں۔ ناصح کالفظی مطلب ہے خیرخواہ، اور امین کا مطلب ہے امانت دار۔ خیر خواہی کا مطلب یہ ہے کہ وہ دوسرے کا ہمدرد ہو، وہ اس کا بھلا چاہنے والا ہو۔منصوبۂ تخلیق کے مطابق، وہ تمام انسانوں کو پرامن انداز میں ہدایت پہنچانے کا حریص ہو۔ یہ خیر خواہی اس کو مجبور کرتی ہے کہ وہ مدعو کی منفی روش سے بے پروا ہو کر یک طرفہ طور پر اس کی ہدایت کا حریص بنا رہے۔چنانچہ داعی اپنی تنہائیوں میں مدعو کے لیے دعا کرتاہے۔ وہ سوچتا ہے کہ میں کون سا انداز اختیار کروں کہ میری بات مدعو کے لیے زیادہ سے زیادہ قابلِ فہم ہوجائے۔ یہ ساری چیزیں اسی وجہ سے ہیں کہ اس کے اندر انسانی ہمدردی کا بہت گہرا جذبہ ہوتا ہے ۔ یہ چیز اس کو مدعو کی زیادتیوں کو نظر انداز کرنے والا بناتی ہے۔ اگر مدعو کڑوا بول بولے تب بھی داعی میٹھا بول بولتاہے۔اس بات کو آپ اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ جیسے اپنا بچہ ہوتا ہے کتنا ہی غلط کام کرے تو اسے نرمی سے سمجھایا جاتا ہے ،سختی نہیں کی جاتی ہے۔کیونکہ ماں باپ کو بچوں سے جو گہرا تعلق ہوتا ہے وہ والدین کو مجبور کرتا ہے کہ وہ بہت نرمی سے اپنے بچے کو سمجھائیں، تاکہ بات اس کے دل میں اتر جائے۔

یہی معاملہ داعی اور مدعو کا ہے۔ داعی کے دل میں مدعو کی شفقت اتنی بڑھی ہوئی ہونی چاہیے کہ وہ کسی بھی حال میں مدعو سے نفرت نہ کرے ۔ہر حال میں وہ اس کی ہدایت کا حریص ہو، تنہائیوں میں وہ اس کے لیے دعا کرے۔ایسی دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔ ایسے بہت سے واقعات ہیں کہ دعا کرنے کے بعد جب دعوت دی گئی تو ان کے دل میں بات اتر گئی۔ مثلاً ابوہریرہ کی ماں کا واقعہ جو صحیح مسلم (حدیث نمبر 2491)میں بیان کیا گیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور صحابہ کی پوری زندگی میں طرح طرح کی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ ایک کتاب ہے حیاۃ الصحابہ، اس کے مصنف مولانا زکریا کاندھلوی صاحب ہیں۔ اس میں صحابہ کے بہت سے واقعات ہیں، یعنی وہ کتنا زیادہ اس بات کے لیے بے چین رہتے تھے کہ لوگوں کو کیسے ہدایت کا پیغام پہنچا یا جائے۔کیونکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ یہ خدا کا پیغام ہے اور اس کے پہنچانے پر ان کو خدا کے یہاں کتنا زیادہ اجر ملے گا۔ ان کے سامنے خدا اور اس کی جنت ہوتی تھی۔ اسی لیے وہ بے چین رہتے تھے کہ اس پیغام کولوگوں تک ہر حال میں پہنچانا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سادگی ، سنسیرٹی (sincerity)، ماڈسٹی (modesty)اور انسانی خیرخواہی اور لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنا۔ یہ نمونے ہیں جو ہمیں صحابہ کی زندگیوں میں ملتے ہیں۔اس کے لیے صرف یہ شرط ہے کہ داعی اپنی انا کو ختم کردے، تواضع کے ساتھ رہے، اورسادگی (simplicity) کا طریقہ اپنائے ۔ صحابہ کرام نے اپنے زمانے میں دنیا کے بڑے حصے میں لوگوں کو اسلام کا پیغام پہنچا دیا تھا۔ان کی سادگی اور تواضع کو دیکھ کر لوگ متاثر ہوجاتے تھے۔ ان صفات کو ہمیں اپنی زندگی میں اپنانا ہوگا۔ ایک اچھا داعی بننے کے لیے یہ صفات نہایت ضروری ہیں۔ آج لوگ اپنے اور غیر (we and they) کی نفسیات میں جیتے ہیں۔ یہ روش خیر خواہی کی قاتل نفسیات ہے، یہ دعوتی عمل کے لیے انتہائی نقصان دہ روش ہے۔

ابتدائے اسلام میں جب مسلمان انڈیا آئے، تو وہ سب سے پہلے کیرالا آئے۔ وہاں انھوں نےقومی شناخت کے نام پر اپنے آپ کو مقامی آبادی سے الگ نہیں کیا، بلکہ وہ مقامی لوگوں سے مل جل کر رہے ، یہاں تک کہ انھوں نے مقامی عورتوں سے شادیاں بھی کیں۔ اس وجہ سے وہاں پر ان کے لیے خدا کا پیغام پہنچانابہت آسان ہوگیا ۔ اگر وہ اپنا الگ کلچر چلاتے، اپنے اور غیر کی نفسیات میں جیتے، جیسے آج کل مسلمان اپنا الگ کلچر چلاتے ہیں تو صحابہ قدیم دور میں دعوت کا کام نہیں کرپاتے۔ اپنے اور غیر کی نفسیات سے دوریاں بڑھتی ہیں۔ اس لیے ہمیں واپس جانا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اور ان کے صحابہ کی زندگیوںکو جاننا ہے، وہاں سے اپنے لیے عملی نمونہ تلاش کرنا ہے۔ آج کے قومی رہنماؤں میں ایسی مثالیں نہیں ملیں گی ۔ وہاں آپ کو حقیقی اسلام نہیں ملے گا۔ اس وجہ سے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو پڑھنا چاہیے،صحابہ کی زندگیوں کو پڑھنا چاہیے۔ اس سے آپ کی سمجھ میں آجائے گا کہ داعیانہ کردار کیا ہوتا ہے۔ (ڈاکٹر فریدہ خانم)

unverifiedAttribution could not be verified automatically
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content