← Al-Risala July 2022Al-Risala July 2022
مطالعۂ حدیث
Urdu · 13 min read
شرح مشکاۃ المصابیح
عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اعمال کا دار ومدار نیتوں پر ہے۔ اور آدمی کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔ پس جس آدمی کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے۔ اور جس آدمی کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہو تو اس کی ہجرت اسی چیز کے لیے ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔ (متفق علیہ)
quoted sourceQuoted from another author or source
ہر عمل کا ایک ظاہری نقشہ (form) ہوتاہے۔ مگر کوئی عمل صرف اپنے نقشہ یا خارجی صورت کے اعتبار سے مطلوب نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر عمل کی قیمت اس داخلی کیفیت یا اس قلبی محرک کے اعتبار سے ہوتی ہے جو عمل کے وقت آدمی کے اندر پایا جائے۔ مثلاً ہجرت یا ترک وطن اگر کسی دنیوی مقصد کے لیے ہو تو آدمی کو صرف اس کا مطلوب دنیوی مقصد حاصل ہوگا۔ اور اگر اس کی ہجرت کسی دینی مقصد، مثلاً حق کی اشاعت کے لیے ہو تو ایسی صورت میں آدمی کو حق کی اشاعت کا انعام دیا جائے گا۔
عمربن الخطاب رضی اللہ عنہ کہتےہیں ایک دن جب کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، اچانک ایک آدمی ہمارے سامنے آیا، بہت سفید کپڑوں والا اور بہت سیاہ بالوں والا۔ اس کے اوپر سفر کا کوئی نشان دکھائی نہیں دیتا تھا۔ اور ہم میں سے کوئی شخص اس کو پہچانتا نہ تھا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا۔ اس نے اپنے گھٹنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے سے ملادیے۔ اور اپنے دونوں ہاتھ آپ کے دونوں زانو پر رکھ دیے۔ اور کہا کہ اے محمد، مجھے اسلام کے بارےمیں بتائیے۔ آپ نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ اور نماز قائم کرو۔ اور زکوة ادا کرو۔ اور رمضان کے روزے رکھو۔ اور بیت اللہ کا حج کرو اگر اس کی استطاعت رکھتے ہو۔ آنے والے آدمی نے کہا کہ آپ نے درست فرمایا۔ ہم کو اس آدمی پر تعجب ہوا کہ وہ پوچھتا بھی ہے اور تصدیق بھی کرتا ہے۔ آنے والے نے کہا کہ مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے۔ آپ نے فرمایا یہ کہ تم ایمان رکھو اللہ پر اور فرشتوں پر اوراللہ کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر اور آخرت کے دن پر اور تم ایمان رکھو تقدیر پر ، اس کے خیر پر اور اس کے شر پر۔ آنے والے نے کہا کہ آپ نے درست فرمایا۔ آنے والے نے کہا کہ اب مجھے احسان کے بارے میں بتائیے۔ آپ نے فرمایا یہ کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو، پس اگر تم اس کو نہیں دیکھ رہے ہو تو وہ تم کو دیکھ رہا ہے۔ آنے والے نے کہا اب مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے۔ آپ نے فرمایا کہ پوچھا جانے والا اس معاملہ میں پوچھنے والے سے زیادہ باخبر نہیں۔ آنے والے نے کہاکہ پھر اس کی نشانیوں کے بارے میں بتائیے۔ آپ نے فرمایا، یہ کہ لونڈی اپنے آقا کو جنم دے۔ اور تم دیکھو کہ ننگے پاؤں، ننگے بدن والے مفلس، بکریوں کو چرانے والے، عمارتوں پر فخر کررہے ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر آنے والا چلا گیا۔ میں کچھ دیر وہاں ٹھہرا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اے عمر، کیا تم جانتے ہو کہ یہ آنے والا آدمی کون تھا۔ میں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ یہ جبریل تھے۔ وہ آئے تاکہ تم کو تمہارا دین سکھائیں (مسلم)۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
یہ حدیث کسی تشریح کے بغیر واضح ہے۔ اس میں احسان کی بابت جو کچھ کہا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اعلیٰ عبادت وہ ہے جب کہ عبادت کے ساتھ گہری معرفت شامل ہو جائے۔ عابد کے اندر خدا کی موجودگی (presence) کا اتنا شدید احساس ہو گویا کہ وہ اس کو براہ راست دیکھ رہا ہے۔ اگر کسی کے اندر یہ اعلی معرفت موجود نہ ہو تو دوسرے درجہ میں یہ ہونا چاہیے کہ اس کو بالواسطہ معرفت کا درجہ حاصل ہو۔ اگر قلبی احساس کے اعتبار سے اس کو خدا کی قربت حاصل نہیں ہے تو وہ سوچ کے اعتبار سے اس کا تصور اپنے ذہن میں قائم کرے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس حدیث میں اللہ رب العالمین کی موجودگی (presence of God) کے دو درجے بتائے گئے ہیں۔ ایک ہے، کیفیت کے درجے میں اللہ رب العالمین کی معرفت، اور دوسرا ہے، علم کے درجے میں یہ سوچ پیدا ہونا کہ میں اگر چہ اللہ کا مشاہدہ نہیں کرسکتا، لیکن اللہ خود اپنے مقام سے مجھ کو دیکھ رہا ہے۔ وہ مجھ سے کامل طور پر باخبر ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسی طرح قیامت کا معاملہ یہ ہے کہ جن چیزوں کو اس حدیث میں قیامت کی ابتدائی نشانی بتایا گیا ہے۔ وہ علامتیں اگر ظاہر ہوجائیں تو انسان کو کم سے کم یہ کرنا ہے کہ وہ قیامت کے معاملے میں چوکنا ہوجائے۔ وہ مزید اضافے کے ساتھ قیامت کے بارے میں سوچنے لگے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مذکورہ حدیث (0002)کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کسی قدر اختلاف کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اس میں ہے کہ "اور جب تم دیکھو ننگے پاؤں، ننگے بدن، بہرے اور گونگے زمین کے بادشاہ ہیں۔ قیامت ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کے بارے میں خدا کے سوااور کوئی نہیں جانتا۔ پھر آپ نے قرآن کی آیت (31:34)تلاوت فرمائی بیشک اللہ ہی کو قیامت کا علم ہے اور وہی بارش برساتا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ رحم میں ہے۔ اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرے گا۔ اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ بیشک اللہ جاننے والا، باخبر ہے(متفق علیہ) ۔
quoted sourceQuoted from another author or source
اس روایت میں قیامت کی پیشگی نشانیاں بتائی گئی ہیں۔ لوگوں کا شاندار عمارتیں بناکر ان پر فخر کرنا اور عوام کا بادشاہ بن جانا۔ یہ دونوں نشانیاں دراصل صنعتی دور کی پیشین گوئی ہیں۔ جدید صنعتی ترقیوں کے بعد دنیا میں ایک نیا انقلاب آیا ہے جس کو اقتصادی انفجار (economic explosion) کہاجاسکتا ہے۔ اس انقلاب نے ہر ایک کے لیے یہ ممکن بنا دیا ہے کہ وہ اپنے لیے پر فخر عمارتیں کھڑی کرسکے۔ اسی طرح جدید انقلابات کے نتیجہ میں وہ چیز ظہور میں آئی ہے جس کو ڈیموکریسی کہاجاتا ہے۔ اس نے پہلی بار یہ کیا کہ عوام کو حاکمیت کا حق دے دیا، جب کہ اس سے پہلے وہ شاہی خاندان کا حق سمجھا جاتا تھا۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتےہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے۔ یہ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور یہ کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اور نماز قائم کرنا۔ اور زکاة ادا کرنا۔ اور حج کرنا۔ اور رمضان کے روزے رکھنا (متفق علیہ)
quoted sourceQuoted from another author or source
اسلام کے پانچ ارکان جو حدیث میں بتائے گئے ہیں، ان میں سے ہر ایک کا ایک ظاہری فارم (form)ہے۔ شہادت کی ظاہری صورت زبان سے کلمہ کے الفاظ کی ادائیگی ہے۔ اسی طرح نماز اور زکاة اور حج اور روزہ کی ظاہری صورتیں ہیں جو کہ معلوم ہیں۔ اسی کے ساتھ ان میں سے ہر ایک کی ایک اسپرٹ یا داخلی کیفیت ہے۔ کلمہ کی داخلی حقیقت یہ ہے کہ آدمی کو شعوری دریافت کے درجہ میں اللہ کی وحدانیت اور محمد صلى اللہ علیہ وسلم کی پیغمبری کی معرفت حاصل ہوجائے۔ اسی طرح نماز کی حقیقت عجز اور خشوع ہے۔ زکاة کی حقیقت دوسرے انسانوں کے حق میں نفع بخشی ہے۔ حج کی حقیقت سارے اہل ایمان کا ایک فکری مرکز سے جڑ جانا ہے۔ روزہ کی حقیقت صبر ہے۔ یہ پانچ چیزیں گویا پانچ روحانی قدریں (spiritual values)ہیں۔ انہیں پانچ خصوصیات کے مجموعے سے وہ زندگی بنتی ہے جس کو اسلامی زندگی کہا جاتا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان کی 70 سے زیادہ شاخیں ہیں۔ ان میں سے اعلیٰ چیز یہ کہنا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سب سے ادنیٰ یہ ہے کہ آدمی راستے کی تکلیف دہ چیز ہٹا دے اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔ (متفق علیہ)
quoted sourceQuoted from another author or source
ایک آدمی کو جب ایمان کی معرفت حاصل ہوتی ہے تو اس کی زندگی کے ہر بڑے اور چھوٹے شعبہ میں اس کا اثر ظاہر ہونے لگتا ہے۔ اللہ کی نسبت سےاس کا اظہار اس طرح ہوتا ہے کہ اس کا سینہ اللہ کی صفاتِ کمال کے احساس سے بھر جاتا ہے۔ انسان کے لیے اس کا خیر خواہی کا جذبہ یہاں تک پہنچتا ہے کہ وہ نامعلوم راہ گیروں کی راہ کی رکاوٹوں کو بھی دور کرنے لگتا ہے۔ اس کی حساسیت اتنی زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنی غلطی پر شرمندہ ہو اور صرف اس وقت مطمئن ہو جب کہ وہ اپنی غلطی کی تلافی کرلے۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلم وہ ہے جس کی زبان سے اور جس کے ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہیں۔ اور مہاجر (وطن چھوڑنے والا) وہ ہے جو اس چیز کو چھوڑ دے جس سے اللہ نے منع فرمایا ہے (البخاری) ۔ اور صحیح مسلم کی روایت میں یہ ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ مسلمانوں میں کون بہتر ہے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں (مسلم)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ایک شخص جب سنجیدہ طور پر اور شعوری فیصلہ کے ساتھ اسلام کو اختیار کرتا ہےتو اس کے لازمی نتیجہ کے طورپر اس کی زندگی بدل جاتی ہے۔ اب وہ ایک با اصول انسان بن جاتاہے۔ وہ اپنے آپ کو خدا کے ماتحت سمجھنے لگتا ہے، نہ کہ اس سے آزاد۔ یہ تبدیلی اس کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنی زبان اور اپنے ہاتھ کا استعمال ذمہ دارانہ طورپر کرے۔ اپنی زبان سے دوسروں کو دکھ پہنچانا یا اپنی طاقت کا بے جا استعمال کرنا اس کو ایسا معلوم ہونے لگتا ہے جیسے کہ یہ دوسروں کے خلاف اقدام نہیں ہے بلکہ خود اپنے خلاف اقدام ہے۔ کیوں کہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ ایسا ہر فعل اس کو خدا کی پکڑ کا مستحق بنا دےگا۔
ہجرت محض ایک مقام کو چھوڑ کر دوسرے مقام پر جانے کا نام نہیں ہے بلکہ وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے غیر مطلوب روش کو چھوڑ کر مطلوب روش اختیار کرنے کا نام ہے۔ ہجرت کا انعام اسی شخص کو ملے گا جو ہر اس چیز کو چھوڑ دے جس سے خدا نے منع فرمایا ہے۔
انس رضی اللہ عنہ کہتےہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (مکمل)ایمان والا نہیں جب تک اس کا یہ حال نہ ہوجائے کہ میں اس کے لیے اس کے باپ اور اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہوجاؤں (متفق علیہ)۔
quoted sourceQuoted from another author or source
ایمان کا یہ فطری نتیجہ ہے کہ آدمی کو پیغمبرخدا صلى اللہ علیہ وسلم سے محبت ہوجائے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایمان ایک عظیم نعمت ہے جو کسی آدمی کو گمراہی کی تاریکی سےنکال کر ہدایت کی روشنی میں لاتا ہے۔ جو اس کو جہنم کے راستوں سے ہٹا کر جنت کے راستوں پر گامزن کرتا ہے۔ ہدایت کی یہ نعمت کسی آدمی کو براہِ راست آسمان سے نہیں ملتی بلکہ پیغمبر خدا کے ذریعہ سے ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہرسچا مومن یہ محسوس کرتا ہے کہ خدا کےپیغمبر کا اس کے اوپر عظیم ترین احسان ہے۔ یہ احساس اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ خدا کے بعد سب سے زیادہ اس کے رسول سے محبت کرے۔ اس کے سینہ میں پیغمبر خدا کی محبت کا لازوال چشمہ جاری ہوجائے۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین چیزیں جس آدمی کے اندر ہوںوہ ایمان کی لذت کو پالے گا۔ جس کے لیے اللہ اور رسول تمام دوسری چیزوں سے زیادہ محبوب ہو جائیں۔ جو کسی بندے سے صرف اللہ کے لیے محبت کرے۔ جو کفر کی طرف دوبارہ لوٹنے کو اتنا ہی ناپسند کرے جتنا کہ وہ آگ میں ڈالے جانے کو ناپسند کرتا ہے، جب کہ اللہ نے اس کو اس سے بچا لیا (متفق علیہ)۔
quoted sourceQuoted from another author or source
ایمان یہ ہے کہ آدمی کو اس سچائی کی معرفت ہوجائے کہ اس دنیا میں خدا کا انکار سب سے بڑی محرومی ہے، اور خدا کا اقرار سب سے بڑی طاقت۔ ایسا ایمان جب کسی انسان کو دریافت کے درجہ میں حاصل ہوتا ہے تو وہ ایک مختلف انسان بن جاتا ہے۔ اس کے لیے سب سے زیادہ محبوب خدا و رسول بن جاتے ہیں۔ اور اس کے لیے سب سے ناپسندیدہ چیز یہ ہوجاتی ہے کہ وہ دوبارہ سچائی سے محروم ہو کر اس صورتِ حال سے دوچار ہوجائے جس میں وہ پہلے مبتلا تھا۔ اس احساس کی خارجی علامتوں میں سے ایک علامت یہ ہے کہ انسانوں سے اس کی محبت اور خیرخواہی تمام تر اسی ایمانی محبت کے تابع ہوجاتی ہے۔
عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کہتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شخص نے ایمان کا مزہ چکھا جو اللہ کو اپنا رب بنانے پر راضی ہوگیا۔ اور اسلام کو اپنا دین بنانے پر اور محمد کو اپنا رسول بنانے پر (مسلم) ۔انسان پیدائشی طورپر سچائی کا متلاشی ہے۔ کسی انسان کی تلاش جب اس کو ایمان تک پہنچاتی ہے تو یہ واقعہ اس کے لیے سب سے بڑی طلب کو پالینے کے ہم معنی ہوتا ہے۔ وہ خدا کو اور خدا کے رسول کو اور خدا کے دین کو اپنے دل کی گہرائیوں میں اس طرح اتار لیتا ہے جیسے کہ اس کو کوئی بے حد لذیذ چیز مل گئی ہو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ کوئی بھی یہودی یا نصرانی جو میرے پیغام کو سنے پھر وہ مرجائے اور وہ اس پر ایمان نہ لایا ہو جس کو دے کر مجھے بھیجا گیا ہے تو وہ آگ والوں میں سے ہوگا۔ (مسلم)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پیغمبر اسلام کے بعد اب کسی کے لیے نجات کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ وہ آپ پر ایمان لائے ا ور آپ کی بتائی ہوئی تعلیم پر عمل کرے۔ اب پچھلےمذاہب کی آسمانی کتابیں صرف گزری ہوئی تاریخ کا حصہ ہیں، نہ کہ خود انسانوں کے لیے خدا کے دین کا ماخذ۔ کیوں کہ پچھلے نبیوں کی تعلیمات اب صرف محرف (distorted )صورت میں باقی ہیں، جب کہ پیغمبر اسلام کا لایا ہوا دین ہر قسم کی تحریف سے مکمل طورپر پاک ہے۔ دین خداوندی کےغیر محرف ایڈیشن کی موجودگی میں اس کا محرف ایڈیشن اپنے آپ غیر معتبر ہوجاتا ہے
ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین قسم کے لوگ ہیں جن کے لیے دوہر اجر ہے۔ اہل کتاب میں سے وہ شخص جو اپنے نبی پر ایمان رکھتا تھا پھر وہ محمد پر ایمان لایا۔ اور وہ مملوک غلام جو اللہ کا حق ادا کرے اور اسی کے ساتھ اپنے آقاؤں کا بھی۔ اور وہ آدمی جس کے پاس ایک باندی ہو جس سے وہ تمتع کرتا تھا پھر اس نے اس کی تربیت کی اور اچھی تربیت کی۔ اور اس نے اس کی تعلیم دی اور بہتر تعلیم دی ۔ پھر اس نے اس کو آزاد کیا اور اس سے نکاح کرلیا (متفق علیہ)۔
quoted sourceQuoted from another author or source
آدمی ایک کام کو جائز اور درست سمجھ کر اس میں مشغول ہو۔ تو وہ اس سے پوری طرح مانوس ہوجاتا ہے۔ اس کے لیے کسی نئی نیکی کو دریافت کرنا اور اس کو عملاً اختیار کرنا بظاہر ایک مشکل کام بن جاتا ہے۔ ایسی حالت میں جو آدمی اپنے مانوس دائرہ سے نکل کر ایک اور نیکی کو دریافت کرے اور اس کو اپنی زندگی میں شامل کرے اس نے گویا حق کے راستے میں دوہری منزلیں طے کیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے آدمی کے لیے دوہرا انعام مقرر کیا گیا ہے۔