Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala July 2020
Al-Risala July 2020

نچلے طبقے میں دعوتی کام

Urdu · 2 min read

کچھ لوگ دعوت کاکام کررہے ہیں۔ لیکن وہ اپنا دعوتی کام نچلے طبقے کے لوگوں میں انجام دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہی دعوت کا صحیح اسلوب ہے۔ اپنے نقطۂ نظر کی تائید میں وہ قرآن کی ایک آیت پیش کرتے ہیں۔ وہ آیت یہ ہے: فقال الملأ الذین کفروا من قومہ مانراک إلاّ بشراً مثلنا، وما نراک اتبعک إلا الذین ہم أراذلنا بادی الرأی (ہود: 27 ) اِس آیت میں ’أراذلنا‘ کا لفظ پیغمبر کی زبان سے نہیں ہے، یعنی پیغمبر نے یہ نہیں کہا کہ اراذل (نچلے طبقے کے لوگ) میرے مخاطبین ہیں۔ یہ لفظ دراصل پیغمبر کے مخالفین نے بطور استہزا استعمال کیا ہے۔ خود اس آیت سے یہ ثابت ہے کہ پیغمبر نے اصلاً خواص کو یعنی قوم کے سربرآوردہ افراد کو خطاب کیا تھا۔ اِسی کے ساتھ فطری طورپر عوام بھی اس کے مخاطب بن گئے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس سلسلے میں دوسرا حوالہ حدیث سے دیا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب ملنے کے بعد ہرقل اور ابوسفیان کے درمیان جو مکالمہ ہوا تھا، اس کا ایک حصہ یہ تھا: قال: فأشراف الناس یتبعونہ أم ضعفائہم۔ قلتُ: بل ضعفائہم(صحیح البخاری، کتاب بدء الوحی) اِس روایت میں ’ضعفاء‘ کا لفظ متبعین کو بتانے کے لیے آیا ہے، نہ کہ مخاطبین کو بتانے کے لیے۔ اِس لیے یہ دلیل بھی مذکورہ دعوے کا ثبوت نہیں بن سکتی۔ اِس دعوے کا علمی تجزیہ اس کو سرتاسر غلط ثابت کرتاہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر کا خطاب اصلاً قوم کے خواص سے ہوتا ہے۔ ہر پیغمبر کے براہِ راست مخاطب قوم کے خواص تھے، لیکن خواص کے طبقے کے اکثر لوگ اپنے دنیوی مفادات کی بنا پر پیغمبر کی دعوت کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ قرآن کے بیان کے مطابق، پیغمبر کی دعوت کی صداقت کو اُن کا دل مان لیتا ہے، لیکن ظلم اور علو کی بنا پر وہ اس کے منکر بن جاتے ہیں (النمل:14 )۔پیغمبر اسلام ﷺنے ہرقل (شاہِ روم) کو دعوتی مکتوب بھیجا، تو اس میں یہ درج تھا کہ اگر تم نے میری دعوت قبول نہ کی، تو تمھاری رعایا کا گناہ تمھارے اوپر ہوگا (فإن تولیتَ فإنّ علیک إثم الأریسییّن)۔ اِس میں یہی دعوتی اصول مضمر تھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content