Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Al-Risala July 2019
Al-Risala July 2019

کھونے میں پانا اور پانے میں کھونا

Urdu · 3 min

زندگی میں دو قسم کے واقعات پیش آتے ہیں۔ زندگی میں آدمی کچھ حاصل کرتا ہے، اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ کچھ کھودیتا ہے۔ دونوں قسم کے واقعات زندگی کا لازمی حصہ ہیں ۔کسی بھی شخص کی زندگی ان سے خالی نہیں ہوتی۔ جب آپ زندگی میں کچھ حاصل کرتے ہیں تو یہ یاتو آپ کی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہوتا ہے، یا کچھ اتفاقی واقعات آپ کے لیے مساعد (support)بن جاتے ہیں، اس لیے آپ کو کامیاب کردیتے ہیں۔جب آپ کامیاب ہوں تو یہ دریافت کیجیے کہ آپ کی کامیابی میں کن عوامل (factors)کا دخل ہے۔ ان عوامل کو اگر آپ دریافت کرسکیں تو آپ زندگی کی ایک حکمت (wisdom) کو دریافت کریں گے، جس کو آپ اپنی بعد کی زندگی میںبھی استعمال کرسکتے ہیں۔ یہ عوامل ایک اعتبار سے فطری عوامل ہوتے ہیں، اور دوسرے اعتبار سے وہ زندگی کی حکمت کو بتاتے ہیں۔

یہی معاملہ کھونے کا ہے۔ جب آپ کھوتے ہیں، وہ سادہ معنوں میں کھونا نہیں ہوتا، بلکہ آپ کے لیے ایک تجربہ (experience) ہوتا ہے۔ کھونے کی صورت کو آپ تجربے میں ڈھال دیجیے۔ اس طرح کھونا بھی آپ کے لیے ایک اعتبار سے پانا بن جائے گا۔ زندگی کی حکمت اگر آپ کے لیے ایک ریڈی میڈ وزڈم ہے، تو تجربہ آپ کے لیے ایک ذخیرہ کیے ہوئے (stored) وزڈم کی حیثیت رکھتا ہے۔ زندگی ایک نازک آرٹ ہے۔ زندگی میں پانا بھی آپ کے لیے کھونا بن سکتا ہے، اور اسی طرح کھونا بھی آپ کے لیے پانا بن سکتا ہے۔ اگر آپ پانے کے واقعے میں وزڈم کا عنصر دریافت نہ کرسکیں، تو آپ نے کوئی بڑی چیز نہیں پائی۔ آپ زندگی کے حاشیے پر پہلے بھی تھے، اور اب بھی وہیں پڑے ہوئے ہیں۔ اسی طرح اگر آپ کھونے کے واقعے کو تجربے میں نہ ڈھال سکے تو آپ ڈبل محرومی کا شکار ہوگئے۔ ایک تو وہ جس کو آپ نے کھودیا، اور دوسرا وہ جس کو آپ کھونے کے باوجود پاسکتے تھے، اس کو بھی آپ پانے سے محروم رہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.