Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala July 2019
Al-Risala July 2019

ٹیک اوے

Urdu · 2 min

ایک سفر کے دوران میں لندن میں تھا۔ایک روڈ پر چلتے ہوئےمجھے دکھائی دیا کہ ایک دکان کے سامنے ایک بڑا سا بورڈ لگا ہوا ہے، جس پر نمایاںالفاظ میں یہ لکھا ہوا تھا:

یعنی کھانے کا سامان جو خرید کر لے جایا جائے۔ وسیع تر استعمال کے اعتبار سے اس کا انطباق (application) ریڈنگ مٹیریل کے اوپر بھی ہوتا ہے، یعنی آپ نے کوئی مضمون یا کتاب پڑھی، اور اس میں آپ کو ایک بامعنی بات ملی، تو آپ کہیں گے کہ اس تحریر میں میرے لیے یہ ٹیک اوے تھا۔ تجربہ بتاتا ہے کہ دوکان کے بارے میں تو یہ لفظ صد فیصد صحیح ہے۔ آپ جب کسی دکان پر جائیں، تو وہاں قیمت ادا کرتے ہی وہ چیز آپ کو مل جائے، جو آپ کو مطلوب تھی۔ ہر دوکان پر وہ ٹیک اوے موجود ہوتا ہے، جس کے لیے وہ دوکان کھولی گئی ہے۔ کوئی دوکان ایسی نہیں، جہاں آپ کا مطلوب ٹیک اوے موجود نہ ہو۔

لیکن جب آپ کسی جریدہ یا کسی کتاب میں لوگوں کی تحریروں کو پڑھیںتو ، کم ازکم راقم الحروف کے تجربے کے مطابق، بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ وہاں قاری کو کوئی بامعنی ٹیک اوے ملے۔ آپ جو چیز پڑھیں گے، اس میں الفاظ کی بھرمار تو ضرور ہوگی، لیکن کوئی بامعنی ٹیک اوے (meaningful takeaway) مشکل ہی سے ملے گا۔

ٹیک اوے کی اہمیت یہ ہے کہ اس میں آپ کو ذہنی غذا (intellectual food) ملتی ہے۔ اس میں آپ کو کوئی ایسی وزڈم ملتی ہے، جس کو آپ اپنی زندگی میں اپلائی کرسکیں۔ اس میں آپ کو اپنے سوالات کا جواب ملتا ہے، جو آپ کے ذہن میں وضوح (clarity) میں اضافہ کرنے والا ہے۔ جس تحریر میں قاری کو کوئی ٹیک اوے نہ ملے، وہ گویا الفاظ کا جنگل ہے، جہاں دہرانے کے لیے تو بہت سی باتیں ہوں لیکن لینے کے قابل کوئی بات نہ ہو۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.