Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Al-Risala July 2017
Al-Risala July 2017

خالصہ تحریک کا تجربہ

Urdu · 7 min read

مہاراجہ رنجیت سنگھ (1780-1839) مشہور سکھ راجا تھے۔ان کی حکومت ایک بڑے رقبےپر پھیلی ہوئی تھی۔

The geographical reach of the Sikh Empire under Ranjit Singh included all lands north of Sutlej river, and south of high valleys in the northwestern Himalayas. The major towns in the Empire included Srinagar, Attock, Peshawar, Bannu, Rawalpindi, Jammu, Gujrat, Sialkot, Kangra, Amritsar, Lahore and Multan.

سکھ کمیونٹی کے درمیان خالصہ تحریک کا آغاز برٹش پیریڈ میں ہوا۔ اس کا مقصد تھا مہاراجا رنجیت سنگھ کی پولیٹکل گلوری کو واپس لانا۔ ملک کی تقسیم کے بعداس کا دائرہ محدود ہوگیا۔ مگر 1979 میں خالصتان نیشنل موومنٹ کے ذریعہ اس کا احیاء ہوا۔ اس کے بعد سکھ دانشوروں نے محسوس کیا کہ ان کی خالصہ تحریک کاؤنٹر پروڈیکٹو (counter-productive)ثابت ہورہی ہے۔ بظاہر اس کا کوئی مثبت نتیجہ نکلنے والا نہیں ۔ اس سے سکھ کمیونٹی کے دانشوروں میں نئی سوچ جاگی۔ انھوں نے اپنی کمیونٹی کے اندر وہی ذہن پیدا کیا جس کو ہم نے ری پلاننگ کہا ہے۔ یعنی مہاراجا رنجیت سنگھ کے دور کو گزری ہوئی تاریخ کا حصہ قرار دینا، اور نئے حالات کے تحت اپنے عمل کی ری پلاننگ کرنا۔

کچھ سکھ دانشوروں نے اپنی کمیونٹی کو بتایا کہ انڈیا کی آزادی(1947) کے بعد سکھ کمیونٹی نے انڈیا میں کافی ترقی کی ہے۔ انڈیا میں ان کی تعداد صرف دو فیصد ہے، مگر عملاً وہ انڈیا کی بیس فیصد (20%) اقتصادیات (economy) کو کنٹرول کررہے ہیں۔ اس کے بعد خالصہ تحریک کے لیڈر سردار جگجیت سنگ چوہان (وفات2007:) اپنی کمیونٹی میں غیر مقبول شخصیت بن گیے۔ اب سکھ کمیونٹی کے لوگوں نے ری پلاننگ کے ذہن کے تحت عمل کرنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ اب پنجاب انڈیا کے خوشحال ریاستوں میں سے ایک ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سکھ کمیونٹی کی یہ مثال فلسطین اور کشمیر پر پوری طورح منطبق ہوتی ہے۔ اگر کشمیر اور فلسطین کے مسلمان اس تجربے سے سبق لیں، اور اپنی قومی جدو جہدکی ری پلاننگ کریں تو بلاشبہ وہ ایک نئی تاریخ بنا سکتے ہیں۔ دونوں علاقوں میں ترقی کے غیر معمولی مواقع موجود ہیں، جو غیر حقیقت پسندانہ مزاج کی بنا پر ناقابل استعمال پڑے ہوئے ہیں۔ اگر فلسطین اور کشمیر کے مسلمان ری پلاننگ کے راز کو جانیں تو وہ بلاشبہ اپنے لیے ایک عظیم مستقبل پیدا کرسکتے ہیں۔

موجودہ زمانے میں نہ صرف کشمیر اور فلسطین بلکہ تمام دنیا کے مسلمان منفی سوچ میں جی رہے ہیں۔وہ دوسروں کو ظالم اور اپنے کو مظلوم سمجھتے ہیں۔ اس ذہن کی بنا پر ان کے اندر مثبت سوچ (positive thinking) کا ڈیولپمنٹ نہیں ہوا۔ وہ اپنی ماضی کی گلوری کو جانتے ہیں، لیکن وہ حال کے مواقع سے بے خبر ہیں۔ وہ شکایت کلچر کو جانتے ہیں، لیکن وہ مبنی بر حقیقت منصوبہ بند ی سے واقف نہیں۔ ان کی سوچ اپنے مفروضہ ظالموں کی شکایت پر قائم ہے۔ اس بنا پر وہ اپنے آپ کو مظلومیت کے خانے میں ڈالے ہوئے ہیں۔ موجودہ زمانے کے مسلمان اگر اس منفی سوچ سے باہر آئیں تو وہ دریافت کریں گے کہ فیصلے کی جو بنیاد زمانے نے فراہم کی ہے، وہ عین ان کے حق میں ہے۔

آج کا زمانہ پوری طرح ایک بدلا ہوا زمانہ ہے۔ لیکن مسلمان گزرے ہوئےماضی کے دور میں جی رہے ہیں۔ وہ عملاً تاریخ کے قیدی (prisoners of history) بنے ہوئے ہیں۔ یہی مسلمانوں کا اصل مسئلہ ہے، اور اسی کی اصلاح سے ان کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔

لکھنؤ کے ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی (1913-1974)مسلم مجلس مشاورت کے تاسیسی صدر تھے۔ انھوں نے ایک روزنامہ اردو اخبارنکالا تھا، قائد۔ اس میں انھوں نے اپنےایک مضمون میں لکھا تھا کہ مسلم صحافت ایک احتجاجی صحافت (protestant journalism) ہے۔ یہ مسلمانوں کی موجودہ زمانے کی پوری صحافت پر صادق آتا ہے۔ ہندوستان کے مسلمان کو اس کے بجائے تخلیقی صحافت (creative journalism) کو وجود میں لانا ہوگا۔ اس کے بعد ہی وہ آج کی دنیا میںاپنے لیے کوئی نیا دور پیدا کرسکتے ہیں۔ شکایت اور احتجاج کے ذریعہ انھیں کچھ ملنے والا نہیں۔

ایک صاحب نے یہ سوال کیا ہے کہ کچھ مسلمانوں کو اگر کہا جائے کہ آج کل مسلمان بہت زیادہ انسانوں کے قتل عام میں ملوث ہیں، تو وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ عالمی جنگوں میں بے شمار آدمی قتل کیے گیے، ہٹلر نے ہزاروں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا، وغیرہ۔ یہ کہہ کر گویا وہ مسلمانوں کے ہاتھوں ہونے والے قتل کا جواز دیتے ہیں۔ مولانا اس میں مغالطہ کیا ہے، واضح کریں۔ (ایک قاری الرسالہ، دہلی)

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ ایک غلط تقابل (wrong comparison)ہے۔ اس معاملے میں دیکھنے کی اصل بات یہ ہے کہ فرسٹ ولڈ وار اور سکنڈ ورلڈ وار میں جو قومیں شریک تھیں، انھوں نے جنگوں کے تجربے کےبعد کیا کیا۔ اس معاملے میں ان کا آخری نمونہ قابل اعتبار ہے، نہ کہ درمیان کا نمونہ۔

واقعات بتاتے ہیں کہ جو قومیں فرسٹ ورلڈ وار اور سکنڈ ورلڈ وار میں شامل تھیں ، تجربے کے بعد انھوں نے دیکھا کہ ان جنگوں میں انھوں نے صرف نقصان اٹھایا، جنگ کا طریقہ ان کے لیے پورے معنوں میں کاؤنٹر پرڈیکٹو ثابت ہوا۔ اس تجربے کے بعد ان قوموں کے قائدین نے دوبارہ غور کیا۔ انھوں نے پورے معاملے کا از سر نو جائزہ لیا۔ اس کے بعد حقیقت پسندی کا رویہ اختیار کرتے ہوئے، انھوں نے وہ طریقہ اختیار کیا، جس کو ری پلاننگ کا طریقہ کہاجاتا ہے۔ انھوں نے جنگ کا طریقہ چھوڑ دیا، اور مکمل معنوں میں امن کا طریقہ اختیار کرلیا۔ برطانیہ نے یہ کیا کہ اپنی عظیم سلطنت (empire) کو خود اپنے اختیار سے ختم کردیا، اور اپنی سلطنت کو صرف برطانیہ تک محدود کرلیا۔ فرانس نے اپنی افریقی مقبوضات کو یک طرفہ طور پر چھوڑ دیا۔ جرمنی نے یہ کیا کہ ایسٹ جرمنی کو چھوڑ کر ویسٹ جرمنی کی تعمیر و ترقی میں لگ گیے۔ جاپان نے مکمل طور پر جنگ اور تشدد کا طریقہ چھوڑ دیا، اور جاپان کی پر امن ترقی میں مصروف ہوگیے، وغیرہ۔

موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر ایسا ہوا کہ انھوں نے ہر قسم کی قربانی کے باوجود صرف کھویا، ان کو کچھ بھی حاصل نہ ہوسکا۔ اب حقیقت پسندی کا تقاضا ہے کہ مسلمان بحیثیت مجموعی یو ٹرن (U-Turn) لیں۔ وہ جنگ اور تشدد کے طریقہ کو مکمل طور پر چھوڑ دیں، اور پر امن انداز اختیار کرتے ہوئے، اپنی تعمیر و ترقی میں لگ جائیں۔ یہی تاریخ کا تقاضا ہے، اور یہی اسلام کا تقاضا بھی۔

نصیحت کا اصول یہ ہے کہ دوسروں کے عمل سے تجربہ (experience) حاصل کیا جائے۔ دوسروں کے تجربے سے جو چیز باعتبار نتیجہ ہلاکت ثابت ہوئی ہو، اس کو چھوڑ دیا جائے، اور ان کے تجربے سے جو مفید سبق حاصل ہوتا ہو، اس کو لے لیا جائے۔ پہلی عالمی جنگ اور دوسری عالمی جنگ کا یا تو حوالہ نہ دیا جائے، یا اگر حوالہ دینا ہے تو اس کے مفید پہلو کا حوالہ دیا جائے، اور وہ یہ ہے کے جنگ کے منفی تجربے سے سبق لینا، اور جنگ کا طریقہ چھوڑ کر پر امن تعمیر کا طریقہ اختیار کرنا۔

دوسروں کی غلطیوں سے اپنے لیے جواز (justification) نکالنا سخت قسم کی بے دانشی ہے۔ اگر آپ اپنے مفروضہ دشمن کی گردن کاٹیں ، اور کہیں کہ فلاں لوگوں نے بھی لوگوں کی گردنیں کاٹی تھی، تو یہ ایک سرکشی کی بات ہوگی۔ دوسروں کا تجربہ سبق لینے کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ اپنی غلطی کو جائز ٹھہرانے کے لیے۔اس سلسلے میںصحابی رسول عبد اللہ ابن مسعود کا ایک حکیمانہ قول ان الفاظ میں آیا ہے:السعید من وعظ بغیرہ (صحیح مسلم، حدیث نمبر2645)۔ یعنی سعید وہ ہے جو دوسروں سے اپنے لیے نصیحت حاصل کرے۔ دوسروں کی نقل کرنا، نادانی ہے، اور دوسروں سے مفید نصیحت لینا، دانش مندی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

* * ** * * * * * * * * * ** * * * * *

اگر آپ ایک ملین ڈالر خرچ کرکے ایک بید کی چھڑی حاصل کریں تو یہ پانا نہیں ہوگا، وہ کھونے کی بدترین شکل ہوگی۔ کوئی بڑا اقدام صرف اس وقت بڑا ہے جب کہ وہ نتیجہ خیز بھی ہو۔ جو اقدام بظاہر بڑا ہو، مگر نتیجہ کے اعتبار سے چھوٹا ہو، وہ اقدام نہیں بلکہ خودکشی کی چھلانگ ہے۔ ا س سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ (سفرنامہ، غیرملکی اسفار، صفحہ 177)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content