← Al-Risala July 2017Al-Risala July 2017
عملی تقاضا
Urdu · 7 min read
اسلام میں شورائی سیاست کا نظام اختیار کیا گیاہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں جمہوریت (democracy) کہا جاتا ہے۔ پیغمبر اسلام کی وفات کے بعد اسی اصول کی بنیاد پر خلافت کا نظام قائم ہوا۔ مگر تقریباً تیس سال کے بعد لوگوں کو محسوس ہوا کہ خلافت کا نظام عملاً ورک (work) نہیں کررہا ہے۔ سیاست میں اصل چیز استحکام (stability) ہے۔ مگر خلافت کے نظام کے تحت استحکام کا یہ مقصد حاصل نہ ہوسکا۔ چناں چہ چوتھے خلیفہ علی ابن طالب کے بعد مسلم دنیا میں خاندانی حکومت (dynasty) کا طریقہ رائج ہوگیا، اور بعد کی تمام صدیوں میں عملاً مسلمانوں کے درمیان یہی نظام رائج رہا۔
خاندانی بادشاہت کا نظام جب شروع ہوا، اس وقت صحابہ اور تابعین بڑی تعداد میں موجود تھے۔ اس کے بعد محدثین ، فقہا ء، اور علماء متقدمین کا دور آیا۔ ان تمام لوگوں نے عملاً اس سیاسی تبدیلی کو قبول کرلیا۔ اس کا سبب کیا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ اسلام میں سیاست کا اصل مقصود سماجی استحکام (social stability) ہے۔ یہ استحکام خلافت کے نظام کے تحت حاصل نہیں ہورہا تھا۔ لیکن خاندانی حکومت کے تحت وہ حاصل ہوگیا۔ اس لیے پریکٹکل وزڈم کے اصول پر اس کو قبول کرلیا گیا۔
یہ بھی ری پلاننگ کا ایک کیس تھا۔ اسلام کے پہلےدور میں خلافت کا نظام قائم کیا گیا۔ لیکن تجربے سے معلوم ہوا کہ خلافت کا نظام ورک (work) نہیں کررہا ہے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ پچھلی تاریخ کے نتیجے میں لوگوں کا یہ ذہن بن گیا تھا کہ حاکم کے بعد حاکم کی اولاد کو حقِ حکومت (right to rule)حاصل ہوتا ہے۔ اس وقت تک یہ رواج ختم نہیں ہوا تھا۔ اس لیے پرکٹکل وزڈم کا تقاضا تھا کہ خاندانی حکومت کے نظام کو اختیار کرلیا جائے۔ تاکہ کم از کم سیاسی استحکام (political stability) کا مقصد حاصل ہوجائے۔ اس لیے عملی سبب (practical reason)، نہ کہ نظری سبب (theoretical reason) کے تحت خاندانی سیاست کا نظام اختیار کر لیا گیا۔ یہ ری پلاننگ کی ایک مثال ہے ۔تاریخ کے تجربے نے ثابت کیا ہے کہ اس معاملے میں دورِ اول میں لیا ہوا ری پلاننگ کا فیصلہ باعتبارِ حقیقت بالکل درست تھا۔
ری پلاننگ کے معاملے کا تعلق اصول (principle) سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق طریق کار (method) سے ہے۔ طریقِ کار کبھی مطلق (absolute) نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کا تعین ہمیشہ عملی افادیت (pragmatism) کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ حضرت عائشہ کی مشہور روایت ہے : ما خیر رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم بین أمرین، أحدہما أیسر من الآخر، إلا اختار أیسرہما ( صحیح مسلم ،حدیث نمبر 2327)۔ یہاں ایسر کا لفظی مطلب ہے آسان۔ یہاںآسان طریقہ سے مراد وہ طریقہ ہے جو با آسانی قابل عمل ہو۔یعنی وہ طریقہ جو کوئی نیا مسئلہ پیدا نہ کرے، جس پر غیر نزاعی (non-controversial)انداز میں عمل کرنا ممکن ہو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس حدیث سے کامیاب منصوبہ بندی کا ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ وہ منصوبہ پوری طرح قابل عمل ہو۔ وہ کوئی نزاع پیدا کرنے والا نہ ہو۔ وہ ایک نتیجہ خیز طریقہ کار ہو۔ ایسا نہ ہو کہ کہنے میں تو وہ ایک خوبصورت بات معلوم ہو، لیکن جب اس کو عمل میں لایا جائے تو وہ صرف مسائل میں اضافہ کرنے کا سبب بن جائے۔حقیقت یہ ہے کہ پہلےمنصوبہ میں اس تجربے کا موقع ہوتا ہے کہ کیا چیز قابل عمل (workable) ہے، اور کیا چیز قابل عمل نہیں۔اس لحاظ سے دوسرے منصوبہ کا فائدہ یہ ہے کہ بے نتیجہ عمل سے اپنے کو بچایا جائے،ا ور صرف نتیجہ خیز پہلووں کو سامنے رکھ کر اپنے عمل کی نئی منصوبہ بندی کی جائے۔ تاکہ پہلا منصوبہ اگر بے نتیجہ ثابت ہوا تھا تو دوسرا منصوبہ نتیجہ خیز ثابت ہو۔ جو مقصد اگر پہلے منصوبہ میں نہیں ملا تھا تو اس کو دوسرے منصوبہ کے تحت حاصل کر لیا جائے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس کے مطابق یہ کہنا صحیح ہوگا کہ پہلے منصوبہ کے وقت غلطی قابل معافی ہوسکتی ہے۔ لیکن دوسرے منصوبہ کے وقت غلطی قابل معافی نہیں۔ اس اعتبار سے دوسرے منصوبہ کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اس کو شروع کیا جائے۔ غلطی کا کھلا اعتراف کیے بغیر دوسری منصوبہ بندی سرے سے منصوبہ بندی ہی نہیں، بلکہ وہ نقصان میں اضافہ کے ہم معنی ہے۔
تاتاری حملے کا واقعہ
تیرھویں صدی میں وسط ایشیا(Central Asia) میں خوارزم کی حکومت تھی۔ منگول سردار چنگیز خاں نے اپنا سفیر سلطان علاءالدین شاہ کے دربار میں بھیجا۔سلطان نے کسی غلط فہمی کی بنا پر تاتاری سفیر کو قتل کردیا۔اس کے بعد چنگیز خان کا غصہ بھڑک اٹھا۔ اس نے قبائل کی فوج کے ساتھ مسلم سلطنت پر حملہ کردیا، اور اس کے پوتے ہلاکو خاں نے تکمیل تک پہنچایا۔ اور سمرقند سے لے کر حلب تک مسلم دنیا کو تاراج کردیا۔
مورخ ابن اثیر نے اس واقعہ کو مسلم تاریخ کا سب سے بھیانک واقعہ قرار دیا ہے۔ اس کے بعد مسلم دنیا میں جوابی کارروائی کا ذہن ابھرا۔ سیاسی سرگرمیاں تیزہو گئیں۔ یہاں تک کہ 1260 میں عین جالوت کی لڑائی پیش آئی۔اس لڑائی سے اس وقت کے مسلمانوں کو جزئی فائدہ ہوا، لیکن وہ تاتاریوں کو مسلم دنیا سے نکالنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ یہاں تک کہ مسلم دنیا میں یہ کہا جانے لگا : من حدثکم أن التتر انہزموا وأسروا فلا تصدقوہ (الکامل فی التاریخ، 10/353) ۔ یعنی جو تم سے بیان کرے کہ تاتاری شکست کھاگیے اور قید کرلیے گیے تو اس کی تصدیق نہ کرو۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس زمانے میں کوئی ایسا شخص پیدا نہیں ہوا، جو شعوری اعتبار سے مسلمانوں کو ری پلاننگ کا پیغام دے۔ تاہم حالات کا دباؤ (pressure) بھی ایک معلم ہوتا ہے۔ چنانچہ حالات کا معلم ظاہر ہوا، اور ایسے اسباب پیدا ہوئے ، جن کے نتیجے میں اس زمانے کےمسلمانوں میں ایک نیا خاموش عمل (process) جاری ہوگیا۔ یہ عمل اگرچہ بظاہر حالات کا نتیجہ تھا، لیکن عملا ًوہ وہی چیز بن گیا جس کو ہم نے ری پلاننگ کہا ہے۔ یعنی بے فائدہ جنگ کو چھوڑ کر پر امن دعوت کا طریقہ اختیار کرنا۔
اس موضوع پر برٹش مصنف ٹی ڈبلیو آرنلڈ (–1864-1930) نے گہری تحقیق کی ہے۔ طویل تحقیق کے بعد انھوں نے ایک کتاب لکھی، جو 388 صفحات پر مشتمل ہے اور پہلی بار 1896 میں چھپی۔
other sourceWords of another person or source
پروفیسر آرنلڈ نے اپنی اس کتاب میں تفصیل کے ساتھ لکھا ہے کہ کس طرح حالات کے دباؤ کے تحت اس وقت کے مسلمانوں میں عملا ًایک نیا ذہن ابھرا۔ یہ مسلح جنگ کے بجائے پر امن دعوت کا ذہن تھا۔ پر امن دعوت کا کام بڑے پیمانے پر تاتاریوں کے درمیان ہونے لگا۔جو آخر کار اس درجے تک پہنچا کہ منگولوں (تاتاریوں) کی اکثریت نے اسلام قبول کر لیا۔ اس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے فلپ کے ہٹی(Philip K Hitti) نے اپنی کتاب ہسٹری آف دی عربس میں لکھا ہے کہ مسلمانوں کے مذہب نے وہاں فتح حاصل کرلی جہاں ان کے ہتھیار ناکام ہوچکے تھے:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
The religion of the Moslems had conquered where their arms had failed. (1970, p. 488)
other sourceWords of another person or source
پروفیسر حتی کی بات کو دوسرے الفاظ میں اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے — مسلمانوں کی پہلی پلاننگ جہاں ناکام ہوگئی تھی، اس کی دوسری پلاننگ نے وہاں کامیابی حاصل کرلی۔ یہ دوسرا پراسس اس واقعہ سے شروع ہوا جس کو پروفیسر آرنلڈ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
other sourceWords of another person or source
This prince, Tūqluq Timūr Khān (1347-1363), is said to have owed his conversion to a holy man from Bukhārā, by name Shaykh Jamāl al-Dīn. This Shaykh, in company with a number of travellers, had unwittingly trespassed on the game-preserves of the prince, who ordered them to be bound hand and foot and brought before him. In reply to his angry question, how they had dared interfere with his hunting, the Shaykh pleaded that they were strangers and were quite unaware that they were trespassing on forbidden ground. Learning that they were Persians, the prince said that a dog was worth more than a Persian. “Yes,” replied the Shaykh, “if we had not the true faith, we should indeed be worse than the dogs.” Struck with his reply, the Khan ordered this bold Persian to be brought before him on his return from hunting, and taking him aside asked him to explain what he meant by these words and what was “faith.” The Shaykh then set before him the doctrines of Islam with such fervour and zeal that the heart of the Khān that before had been hard as a stone was melted like wax, and so terrible a picture did the holy man draw of the state of unbelief, that the prince was convinced of the blindness of his own errors, but said, “Were I now to make profession of the faith of Islam, I should not be able to lead my subjects into the true path. But bear with me a little; and when I have entered into the possession of the kingdom of my forefathers, come to me again.” Later he accepted Islam. (London, 1913, pp. 180-81)
unverifiedAttribution could not be verified automatically