Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Al-Risala July 2017
Al-Risala July 2017

ڈیزرٹ تھرَپی

Urdu · 7 min read

اللہ رب العالمین نے انسان کو پیدا کرکے کرۂ ارض (planet earth) پر آباد کیا۔ اس کو ہر قسم کے مواقع فراہم کیے۔ اور پھر اس کو پوری آزادی دے دی۔ اب یہ انسان کا اپنا اختیار ہے کہ وہ خوا ہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرکے اپنے آپ کو ابدی کامیابی کا مستحق بنائے ، اور اگر وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال (misuse) کرتا ہے تو اس کے لیے تخلیقی منصوبہ کے مطابق ابدی ناکامی کے سوا کچھ اور مقدر نہیں۔

اللہ رب العالمین نے انسان کو عقل دی۔ اس کے اندر حق اور باطل کی تمیز رکھی۔ اس کے بعد خالق نے یہ انتظام کیا کہ ہر قوم میں اور ہر ہر علاقے میں اپنے رسول بھیجے۔ جو انسان کو اس کی اپنی قابل فہم زبان میں حق اور ناحق کا علم دیتے تھے۔ پیغمبروںنے یہ کام اعلیٰ اتمام حجت کی سطح پر انجام دیا۔ مگر انسان نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتے ہوئے ہمیشہ پیغمبروں کی دعوت کا غیر مطلوب جواب دیا۔ اس واقعے کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: یَاحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا یَأْتِیہِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا کَانُوا بِہِ َیَسْتَہْزِؤوْنَ (36:30)۔ یعنی افسوس ہے بندوں کے اوپر، جو رسول بھی ان کے پاس آیا وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اللہ رب العالمین کو اپنے نقشۂ تخلیق (creation plan) کے مطابق یہ منظور نہیں تھا کہ وہ انسان کی آزادی کا خاتمہ کردے۔ اس لیے اس نے یہ کیا کہ انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے، ہدایت کا ایک نیا نقشہ بنایا۔ اس نئے نقشے کی تکمیل کے لیے اللہ رب العالمین نے ابراہیم اور ان کی ذریت کو چنا۔ جن کا زمانہ 2324-1850 ق م کے درمیان ہے۔ یہ گویا رب العالمین کی طرف سے ہدایت کی ری پلاننگ کا معاملہ تھا۔

پیغمبر ابراہیم قدیم عراق میں پیداہوئے۔ وہاں انھوں نے لوگوں کو سچائی کا راستہ دکھایا۔ لیکن قدیم عراق کے باشندے جو اس وقت شرک پر قائم تھے، پیغمبر ابراہیم کی پیروی پر راضی نہ ہوسکے۔ آخرکار پیغمبر ابراہیم نے ایک خدائی منصوبہ کے مطابق عراق کو چھوڑ دیا۔ وہ اُس صحرائی علاقے میں آکر آباد ہوئے جہاں اب مکہ واقع ہے۔ انھوں نے اس صحرائی علاقہ میں اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو آباد کردیا۔ جب کہ اس وقت وہاں صحرا کے سوا کچھ نہ تھا۔

اس نئی منصوبہ بندی کو ایک لفظ میں صحرائی منصوبہ بندی (desert therapy) کہا جاسکتا ہے۔ یہ صحرائی ماحول اگرچہ انسانی آبادی کے لیے انتہائی حد تک غیر موافق تھا۔ مگر نئی پلاننگ کے لیے یہ سب سے زیادہ موزوں علاقہ تھا۔ اس صحرائی ماحول میں فطری طور پر ایسا ہوا کہ ایک نئی نسل بننا شروع ہوئی، جو تمدن کے اثرات سے دور تھی، اور فطرت کے ماحول کے سوا کوئی اور چیز اس پر اثر انداز ہونے کے لیے موجود نہ تھی۔ فطرت کے اس ماحول میں اسماعیل ابن ابراہیم نے ایک قبیلہ میں شادی کی، اور پھر توالد و تناسل کے ذریعہ یہاں ایک نئی نسل بننا شروع ہوئی۔ اس صحرائی منصوبہ بندی کا ذکر حدیث میں ایک طویل روایت (صحیح البخاری، حدیث نمبر3364)کے تحت کیا گیا ہے۔ یہ ابراہیمی سنت ایک منصوبے کے بعد دوسرا منصوبہ بنانے کا معاملہ تھا۔ اس کے ذریعہ یہ مطلوب تھا کہ ایک نئی جاندار نسل تیار ہو، جو اپنی فطرت پر قائم ہو، اور اس بنا پر وہ سچائی کے پیغام کو آسانی کے ساتھ سمجھ جائے، اور اس کو اختیار کرلے۔یہی وہ نسل ہے جس کے اندر پیغمبر اسلام محمد بن عبد اللہ پیدا ہوئے۔ وہ لوگ جن کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے، وہ سب اسی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

توقع کے مطابق یہ منصوبہ کامیاب رہا۔ رسول اور اصحاب رسول نے دعوتی جدو جہد کے ذریعہ ایک گروہ تیار کیا۔ اس گروہ نے توحید کی بنیاد پر کام کرکے ایک انقلاب برپا کیا۔ اس گروہ نے تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ ان کی قربانیوں کے نتیجے میں یہ ہوا کہ پہلی بار انسانی تاریخ میں ایک انقلابی عمل (revolutionary process) جاری ہوا، جس نے تاریخ کو بدل دیا۔ اس عمل کے نتیجے میں ایک طرف دورِ شرک کا خاتمہ ہوا۔ اسی کے ساتھ دوسری طرف اس کے نتیجے میں نیچر میں آزادانہ تحقیق کا مزاج پیدا ہوا، اس کے بعدتاریخ میں وہ دور آیا جس کو جدید تہذیب (modern civilization) کہا جاتا ہے۔ تاریخ میں یہ انقلاب ری پلاننگ کے ذریعہ ظہور میں آیا۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن توحید کا مشن تھا۔ یعنی شرک کی آئڈیالوجی کے بجائے دنیا میں توحید کی آئڈیالوجی کو ظہور میں لانا۔ آپ نے اپنا مشن 610 عیسوی میں قدیم مکہ میں شروع کیا۔ اس وقت مکہ میں شرک کا کلچر تھا۔ مشرک سرداروں کو ہر اعتبار سے غلبہ کا مقام ملا ہوا تھا۔ تیرہ سال کی مخالفت کے بعد آخر کار انھوں نے رسول اللہ کوعملاً الٹی میٹم دے دیا کہ آپ اپنے ساتھیوں کو لے کر مکہ سے چلے جائیں، ورنہ ہم آپ کو قتل کردیں گے۔

پیغمبر اسلام کےلیے یہ ایک بحران (crisis)کا لمحہ تھا۔ مگر آپ نے رد عمل (reaction) کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ بلکہ حالات کا بے لاگ جائزہ کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ آپ خاموشی سے مکہ چھوڑ دیں، اور یثرب چلے جائیں۔ جو کہ قدیم عرب کے تین بڑے شہروں میں سے ایک تھا، اور مکہ سے تقریبا 500 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع تھا۔پیغمبر اسلام نے جب مکہ کو چھوڑنےکا فیصلہ کیا۔ اس وقت آپ نےاپنے اصحاب سے ایک بات کہی تھی۔ یہ روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح البخاری (حدیث نمبر1871)اور صحیح مسلم (حدیث نمبر1382)کے مشترک الفاظ یہ ہیں:أمرت بقریة تأکل القرى، یقولون یثرب، وہی المدینة ۔ یعنی مجھے ایک بستی کا حکم دیا گیا ہے، جو بستیوں کو کھاجائے گی۔ لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں، اور وہ مدینہ ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس حدیثِ رسول پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں باعتبار معنی ہجرت مدینہ سے مراد مشن کی ری پلاننگ ہے۔ چنانچہ یہی ہوا۔ آپ نےمدینہ پہنچ کر مکہ والوں کے خلاف کسی قسم کی منفی روش اختیار نہیں کی۔ بلکہ مکہ والوں کے سلوک کو بھلا کر انتہائی مثبت انداز میں اپنے مشن کی نئی منصوبہ بندی کی۔ تفصیل کے لیےملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتابیں،پیغمبر انقلاب اور سیرت رسول۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مثلا ً عرب میں پھیلے ہوئے قبائل کی طرف کثرت سے دعوتی وفود بھیجنا ، عرب کے باہر ملوک و سلاطین کے نام دعوتی خطوط بھیجنا۔ قریش کی یک طرفہ شرطوں کو مانتے ہوئے ان سے امن کا معاہدہ کرنا، قریش نے یک طرفہ طور پر حملہ کرکے آپ کو جنگ میں الجھانا چاہا، لیکن آپ نے دانش مندی کے ساتھ ان کو مینج کیا، اوران کے حملوں کو جھڑپ (skirmish) بنادیا، وغیرہ۔ یہ سب آپ نے اس لیے کیا تاکہ مشن کی ری پلاننگ کے لیے آپ نےجو عمل (process)جاری کیا تھا، وہ بلارکاوٹ جاری رہے۔

پیغمبر اسلام کی اپنے مشن کی یہ ری پلاننگ پوری طرح کامیاب رہی۔ ہجرت کے آٹھویں سال یہ معجزاتی واقعہ ہوا کہ مکہ میں کسی جنگ کے بغیر آپ کو دوبارہ فاتحانہ داخلہ مل گیا۔ یہ واقعہ بھی اسی سلسلے کا ایک حصہ ہے کہ جب آپ کو مکہ پر غلبہ حاصل ہوگیا اور مکہ کے سردار آپ کے پاس لائے گیے۔ یہ لوگ بین اقوامی اصطلاح کے مطابق جنگی مجرمین (prisoners of war) تھے۔ مگر آپ نے ان کے خلاف کوئی جوابی کارروائی نہیں کی، بلکہ یہ کہہ کر سب کو چھوڑ دیا :أقول کما قال یوسف:لا تثریب علیکم الیوم یغفر اللہ لکم وہو أرحم الراحمین [12:92]. قال:فخرجوا کأنما نشروا من القبور فدخلوا فی الإسلام (سنن الکبریٰ للبیہقی، حدیث نمبر 18275) ۔ یعنی میں وہی کہتا ہوں جو یوسف نے کہا: تم پر کوئی الزام نہیں ، اللہ تم کو معاف فرمائے، اور وہ بہت رحم کرنے والا ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر وہ حرم سے نکلے گویا کہ وہ قبروں سے نکلے ہوں، پس وہ اسلام میں داخل ہوگیے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قدیم مکہ کے سردار یہ جانتے تھے کہ ان کا کیس ظلم کا کیس ہے۔ اس کے باوجود پیغمبر اسلام نے ان سب کو یک طرفہ طور پر معاف کردیا ۔ اس سلوک کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان سرداروں میں ندامت کا جذبہ فطری طور پر پیدا ہوگیا، اور وہ پیغمبر اسلام کے ساتھی بن گیے۔ اس کے برعکس، اگر آپ ان سے انتقام کا معاملہ کرتے تو یقیناً ان کے اندر جوابی انتقام کا ذہن پیدا ہوتا۔ اس طرح دونوں فریقوں کے درمیان انتقام در انتقام (chain reaction) کا ماحول قائم ہوجاتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ قانون اسباب کے مطابق پیغمبر اسلام کا پرامن مشن اپنے پہلے ہی تجربے میںغیر ضروری مشکلات کا شکار ہوجاتا۔ مگر اس اعلیٰ سلوک کی بنا پر پیغمبر کا مشن بلاتوقف (non-stop) جاری رہا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content