Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala July 2016
Al-Risala July 2016

میرٹ کلچر، تعلقات کلچر، تزکیہ کلچر

Urdu · 2 min read

ترقی یافتہ قومیں (developed nations) میں میرٹ کلچر (merit culture) رائج ہے۔ غیر ترقی یافتہ قوموں (underdeveloped nations) میں تعلقات کلچر کواہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ربانی معاشرہ وہ ہے جہاں تزکیہ کلچر پایا جائے۔ میرٹ کلچر کے ماحول میں ساری اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ کوئی شخص کتنا زیادہ لائق (competent) ہے۔ ایسے ماحول میں لائق آدمی کو جگہ ملتی ہے، اور جو شخص لائق نہ ہو، اس کو رد کردیا جاتا ہے۔

جس معاشرہ میں تعلقات کلچر کا رواج ہو، وہاں یہ حال ہوتا ہے کہ ہر آدمی ذمہ داروں سے تعلق (contact) بنانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ اس کو اپنی ذاتی استعداد بڑھانے کی فکر نہیں ہوتی، البتہ وہ رات دن اس کوشش میں لگا رہتا ہے کہ ذمہ داروں سے خوب تعلق قائم کرے۔ اس کا ذہن یہ ہوتا ہے کہ تعلقات سے کام بنتے ہیں ، نہ کہ ذاتی استعداد سے۔

ربانی معاشرہ ان دونوں سے مختلف ہوتا ہے۔ ربانی معاشرہ میں ہر ایک کا کنسرن (concern) تزکیہ ہوتا ہے۔ یعنی اپنی اصلاح، اپنے آپ کو اس قابل بنانا کہ وہ اللہ کی عنایتوں کا مستحق قرار پائے، اپنے اندر وہ شخصیت بنانا جس کو شریعت میں مزکیّ شخصیت کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ شخصیت جس کو آخرت میں جنت میں داخلہ کے لیے منتخب کیا جائے۔

دوسرے معاشروں میں لوگوں کی توجہ کا مرکز انسان ہوتے ہیں۔ یعنی اپنے آپ کو انسان کی نسبت سے لائق بنانا یا انسان کی نسبت سے اپنے آپ کو قابل قبول بنانا۔ اس کے برعکس، ربانی معاشرہ میں انسان کی توجہ کا مرکز تمام تر صرف اللہ ہوتا ہے۔ ایسے معاشرہ میں انسان اپنے آپ کو اس نظر سے دیکھنے کی کوشش کرتا ہے، جس نظر سے اس کا رب اس کو دیکھے گا۔ ایسے معاشرہ میں انسان اپنی کامیابی کو آخرت کے اعتبار سے جانچتا ہے، نہ کہ دنیا کے اعتبار سے۔ ایسے معاشرہ میں انسان کا تصور یہ ہوتا ہے کہ کامیاب انسان وہ ہے جس کو جنت میں داخلہ ملے، اور ناکام انسان وہ ہے جو جنت میں داخلہ سے محروم ہوجائے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.