رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے بعد تیرہ سال تک مکہ میں رہے۔ اس کے بعد آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ مدینہ کے لوگوں نے بہت جلد آپ کو اپنا قائد تسلیم کرلیا۔ اس کا راز یہ تھا کہ آپ کی ہجرت سے تقریبا پانچ سال پہلے مدینہ (یثرب) کے دو قبائل ، اوس اور خزرج کے درمیان جنگ ہوئی۔ جو جنگ بعاث کے نام سے مشہور ہے۔ اس جنگ میں دونوں قبیلوں کے بڑے بڑےسردار مارے گئے۔ اس سلسلے میں حضرت عائشہ کی ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: کان یوم بعاث، یوما قَدمہ اللہ لرسولہ(صحیح البخاری، حدیث نمبر3777) ۔ یعنی آپ کی ہجرت سے پہلے جنگ بعاث کا ہونا، یہ اللہ کی طرف سے آپ کی ایک مدد تھی۔
اس جملہ کی شرح کرتے ہوئےشارحین نے لکھا ہے : لو کان صنادیدہم أحیاء لما انقادوا لرسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم حبا للریاسة (عمدۃ القاری للعینی، بیروت، 17/64۔ الکواکب الدراری فی شرح صحیح البخاری للکرمانی، بیروت ، 1981، 15/139)۔یعنی اگر ان کے بڑے بڑے سردار اس وقت زندہ ہوتے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہرگز اطاعت نہ کرتے، اپنی سرداری کی محبت میں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس صورتِ حال کو سمجھا، اور نہایت حکمت کے ساتھ اس کو استعمال کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ صرف سرداروں کا ماراجانا کافی نہ تھا، بلکہ یہ بھی ضروری تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچنے کے بعد نہایت حکمت کا طریقہ اختیار فرمائیں۔ تاکہ کوئی نیا مسئلہ پیدا نہ ہوجائے۔
حقیقت یہ ہے کہ اہل ایمان کے لیے موافق حالات ہمیشہ پیدا ہوتے ہیں۔ مگر صرف حالات کا پیدا ہونا کافی نہیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ مسلم قائدین ان حالات کو سمجھیں، اور پیدا شدہ مواقع کو حکمت کے ساتھ استعمال (avail) کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکیمانہ طریقہ بھی اہل ایمان کے لیے ایک سنت کی حیثیت رکھتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔