Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Al-Risala July 2016
Al-Risala July 2016

بیماری کا مثبت پہلو

Urdu · 4 min read

بیماری بظاہر ایک غیر مطلوب چیز ہے۔ لیکن گہرائی کے ساتھ غور کیاجائے تو بیماری میں بھی ایک عظیم مثبت پہلو موجود ہے۔ روایات میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کی عیادت کرنے کے لیے اس کے گھر جاتے تو آپ بیمار سے کہتے: لا بأسَ، طَہور إن شاء اللہ۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5656)۔ یعنی کوئی حرج نہیں، یہ پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

محدث ابن حجر نے اس حدیث کی بابت لکھا ہے :إن شاءاللہ یدل على أن قولہ طہور، دعاء لا خبر۔ یعنی یہاںان شاء اللہ کا لفظ اس بات کی دلیل ہے کہ رسول اللہ کا یہ قول خبر نہیں ہے بلکہ وہ دعاء ہے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ آپ کا یہ قول دعاء کی صورت میں ایک خبر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیمار کے اندر مثبت سوچ پیدا ہو، بیماری کے باوجود وہ مایوس نہ ہو۔ اس دعاءمیں انسان کے لیے تسکین کا ایک پہلو موجود ہے۔ اس لیے کہ بیماری کے بعد اکثر انسان کو شفا حاصل ہوتی ہے (26:80)۔ اس طرح بیماری کے واقعےمیں یہ سبق پایا جاتا ہے کہ اس دنیا کا نظام بازیابی (recovery)کے اصول پر بنا ہے۔ یہاں کا اصول یہ ہے کہ کسی درخت کی ایک شاخ ٹوٹ جائے تو وہاں دوبارہ ایک نئی شاخ نکل آئے۔ انسان کو کوئی بیماری لاحق ہو تو اس کے بعد قانونِ فطرت کے مطابق وہ دوبارہ صحت مند ہو جائے۔اس طرح اس دنیا میں کسی چیز کو کھونے کے بعد اس کو پانا (regaining of something lost) کا معاملہ ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

نقصان کے بعد تلافی یا بازیابی کا یہ اصول ہر قسم کے نقصان پر صادق آتا ہے، مالی نقصان ، سیاسی نقصان، وغیرہ۔ اس بنا پر انسان کے لیے اس دنیا میں کسی بھی حال میں شکایت کا موقع نہیں (no place for complaint)۔ انسان کے لیے اس قانون کی اہمیت بہت زیادہ تھی ، اس لیے انسان کے لیے اس معاملے کو بیماری یا حادثہ وغیرہ کی صورت میں ذاتی تجربہ (personal experience) کی حیثیت دے دی گئی۔

تلافی مافات کے اس اصول کا تعلق جس طرح فرد کے لیے ہے، اسی طرح وہ قوم کے لیے بھی ہے۔ ایک قوم زوال کا شکار ہونے کے بعد دوبارہ زندہ ہوسکتی ہے۔ ایک تہذیب ختم ہوجائے تو اس کے بعد دوبارہ اس کا احیاء (revival) کیا جاسکتا ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ آدمی بیماری میں مبتلا ہو،پھر وہ عیادت کرنے والوں کے سامنے اس کا شکوہ نہ کرے تواس کے لیے جنت لکھ دی جاتی ہے۔ (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر8801)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

عیادت کرنے والوں سے شکایت نہ کرنے پر جنت ملنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو آدمی شکایت نہ کرے تو اس کو اپنے آپ جنت حاصل ہو جائےگی ۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ غیر شکایتی نفسیات سے گہری سوچ پیدا ہوتی ہے۔ پھر اس کے مطابق اس کے اندر جنتی شخصیت کی تعمیر ہونے لگتی ہے۔ یہاں تک کہ آدمی اس قابل ہوجاتا ہے کہ اس کو جنت کا مستحق قرار دیا جائے۔

کسی نقصان پراس کی تلافی کا اصول ایک اہم فطری اصول ہے۔ مستحق شخص کو یہ تلافی لازماً حاصل ہوتی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو چیز کھوئی گئی ہے وہی چیز اس کو دوبارہ مل جائے۔ یہ تلافی اکثر کسی متبادل صورت میں حاصل ہوتی ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اس متبادل تلافی کو پہچانے۔ مثلا یہ ہوسکتا ہے کہ اس کا نقصان تو مالی نوعیت کا ہو، لیکن تلافی کے طور پر اس کو جو چیز ملے وہ نفسیاتی ہو۔ یعنی سبق کی صورت میں یا ذہنی ارتقا کی صورت میں، یا روحانی ترقی کی صورت میں۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ نقصان تو دنیا میں ہو لیکن اس کی تلافی آخرت میں کی جائے۔

انسان کا تمام معاملہ سوچ پر مبنی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ کبھی ردعمل (reaction) کی نفسیات میں مبتلا نہ ہو۔ بلکہ جب بھی کوئی ناخوشگوار صورتِ حال پیش آئے تو وہ معتدل ذہن کے ساتھ اس پر غور کرے۔ وہ منفی واقعہ میں مثبت واقعہ کو دریافت کرنے کی کو شش کرے۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو اس کو قانونِ فطرت کی تائید حاصل ہوگی۔ وہ منفی واقعہ میں مثبت پہلو کو دریافت کرلے گا۔ اور اس طرح وہ اپنے آپ کو مایوسی سے بچانے میں کامیاب ہوجائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ مایوسی ایک غیر فطری چیز ہے، وہ کوئی فطری چیز نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content