قرآن میں انسان کی تخلیق کے بارے میں بتایا گیاہے :لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ ثُمَّ رَدَدْنٰہُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَ (95:4-5)۔ انسان کو احسنِ تقویم کے ساتھ پیدا کیا جانا اور پھراس کو اسفلِ سافلین میں ڈال دینا، کوئی سزا کی بات نہیں۔ یہ انسان کے بارے میں نظام تخلیق کی بات ہے۔ انسان اپنی تخلیق کے اعتبار سے لامحدود خواہشات کے ساتھ پیدا کیاگیا ہے۔ لیکن عملاً جس دنیا میں وہ زندگی گزارتا ہے، وہاں خواہشات کی صرف محدود تکمیل ممکن ہے۔ انسان اپنی پوری عمر انہی دو مختلف تقاضوں کے درمیان زندگی گزارتا ہے:
Life is a perpetual conflict between wanting more and receiving less.
انسان کے ساتھ یہ معاملہ اس کی اپنی بھلائی کے لئے کیاگیاہے۔ اس صورت حال کے نتیجہ میں انسان کے اندر ذہنی کش مکش (intellectual struggle) کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ یہ انسان کی ترقی کے لئے بے حد اہم ہے۔ اس ذہنی کش مکش کا یہ نتیجہ ہے کہ انسان ذہنی جمود (intellectual stagnation) سے بچ جاتا ہے۔ انسان کے اندر مسلسل طورپر ذہنی ارتقا (intellectual development)کا عمل جاری رہتاہے۔ انسان کی ذہنی بیداری کا سفر کسی مقام پر نہیں رکتا۔ اس اعتبار سے یہ حالت ایک عظیم رحمت کی حیثیت رکھتی ہے۔انسان کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ اس کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) پیدا ہو۔ یہ انسان کی سب سے بڑی صفت ہے۔ یہ صفت کبھی ہموار حالات میں پیدا نہیں ہوتی۔ اس کے لئے ضرورت ہوتی ہے کہ انسان عدم تشفی (dissatisfaction) کی صورت حال سے دوچار ہو۔ یہی وہ چیز ہے جو کسی انسان کو تخلیقی انسان بناتی ہے۔
اس معاملے کو قرآن میں انسان کا ابتلاء (test) کہا گیا ہے۔ یہ ابتلاء کسی منفی معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ کامل طور پر مثبت معنی میں ہے۔ وہ انسان کی بہتری کے لیے ہے۔ انسان اگر اس حقیقت کو جانے تو وہ ابتلاء کی صورت حال کا مثبت ذہن کے ساتھ استقبال کرے گا۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔