Maulana Wahiduddin Khan
1 min left
0:00

← Al-Risala July 2014
Al-Risala July 2014

تنظیم کافی نہیں

Urdu · 1 min read

تحریکوں کا یہ عام طریقہ ہے کہ لوگ ایک تنظیم بنا لیتے ہیں اور تنظیم کے تحت ایک طریقِ کار مقرر کرکے اس کے مطابق، اپنا کام شروع کردیتے ہیں- اِس طریقے کا یہ فائدہ ہے کہ کام بظاہر تسلسل کے ساتھ ہونے لگتا ہے- ہر فردِ تحریک کو معلوم ہوتا ہے کہ اُسے کیا کرنا ہے اور اِس معلوم نقشے کے مطابق، وہ اپنا مقرر کام ہر روز انجام دیتا رہتا ہے-

حقیقت یہ ہے کہ وہ چیز جس کو ایک منظم کام کہاجاتا ہے، وہ صرف ایک بے روح نظم (spiritless routine)کا اعادہ ہے- اِس طریقے میں بظاہر کام ہوتا ہوا نظر آتا ہے، لیکن اس کے تحت افراد کا روحانی ارتقا (spiritual development) نہیں ہوتا- اپنی داخلی شخصیت کے اعتبار سے، وہ جہاں پہلے دن تھے، وہیں وہ آخری دن بھی رہتے ہیں-

صحیح طریقہ یہ ہے کہ افراد کے اندر زندہ شخصیت پیدا کی جائے- افرادِ تحریک محسوس کریں کہ ہر دن اُن کے اندر شخصی ارتقا(personality development) ہورہا ہے-

یہ مقصد صرف اُس وقت حاصل ہوسکتا ہے جب کہ افرادِ تحریک کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) پیدا کی جائے- ہر آدمی خود سوچے، وہ خود اپنے عمل کا نقشہ بنائے، ہر انسان پروگرام ساز (programme maker) انسان بن جائے، نہ کہ بنے بنائے پروگرام کو بطور رُٹین (routine) دہرانے والا-

زندہ تحریک وہ ہے جس کے افراد ذاتی داعیہ کے تحت متحرک ہوئے ہوں، جن کے اندر شعوری بیداری اتنی زیادہ آچکی ہو کہ وہ آزادانہ طورپر سوچیں اور آزاد ارادے کے تحت اپنے آپ کو تحریک کے کام کے لیے وقف کردیں-

یہی وہ طریقہ ہے جو حقیقی معنوں میں نتیجہ پیدا کرنے والا ہے- مقررہ پروگرام کے تحت کیا جانے والا عمل بظاہر عمل ہوتا ہے، لیکن وہ مطلوب نتیجے سے خالی ہوتا ہے-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.