Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Al-Risala July 2014
Al-Risala July 2014

سیکولرزم کیا ہے

Urdu · 3 min read

رسول اور اصحابِ رسول کو حکم دیتے ہوئے قرآن میں کہاگیا تھا: وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَةٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ (8:39) یعنی تم اُن سے جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے، اور دین، سب کا سب، اللہ کے لیے ہوجائے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی اِس آیت میں ’فتنہ‘ سے مراد مذہبی جبر (religious persecution) ہے، جو کہ قدیم زمانے میں ہزاروں سال سے دنیا میں قائم تھا- یہ نظامِ جبر خداکے تخلیقی نقشے کے خلاف تھا، اِس لیے حکم دیاگیا کہ اس کو ختم کردو، خواہ اِس کے لیے تم کو جنگ کرنی پڑے، تاکہ دنیا میں مذہبی آزادی کا دور پیدا ہو اور انسان اللہ کے حکم پر چلنے کے لیے پوری طرح آزاد ہوجائے-

یہ ایک دور کو بدلنے کا حکم تھا، اور کسی دور کی تبدیلی اچانک نہیں ہوتی، بلکہ وہ لمبے تاریخی عمل (historical process) کے ذریعے ہوتی ہے- رسول اور اصحابِ رسول کی کوششوں سے انسانی تاریخ میں یہ عمل جاری ہوا- مختلف حالات کے دوران وہ آگے بڑھتا رہا، یہاں تک کہ یورپ کی نشاةِ ثانیہ (Renaissance) کے بعد وہ اپنی تکمیل تک پہنچا- سیاسی نظام میں سیکولرزم کااصول اِسی انقلاب کا نتیجہ ہے-

سیکولرزم کوئی اینٹی مذہب (anti-religion) نظریہ نہیں ہے- سیکولرازم کا مطلب صرف یہ ہے کہ سیاسی اقتدار، مذہب کے معاملے میں عدم مداخلت (non-interference) کی پالیسی اختیار کرے- مصلحین کی مسلسل کوشش کے نتیجے میں آج سیکولرازم کا یہ سیاسی نظریہ انٹرنیشنل سطح پر ایک مسلّمہ اصول (accepted norm) بن چکا ہے- اس کو اقوامِ متحدہ (United Nations) کا سینکشن (sanction) حاصل ہے- اصولی طور پر دنیا کی تمام حکومتیں اِس پالیسی کو اختیار کرچکی ہیں-

سیکولرزم کے اِس جدید نظریے نے تاریخ میں پہلی بار مذہبی جبر کا خاتمہ کردیا ہے- آج ہرانسان کا یہ ایک مسلمہ حق ہے کہ وہ جس مذہب کو چاہے، اختیار کرے اور جس مذہب پر چاہے، عمل کرے اور جس مذہب کی چاہے، تبلیغ کرے- اِس حق (right) کو استعمال کرنے کی صرف ایک شرط ہے، وہ یہ کہ انسان جو کچھ کرے، اس کو وہ پرامن طور پر کرے، کسی بھی حال میں وہ تشدد کا طریقہ اختیار نہ کرے-

موجودہ زمانے میں بار بار میڈیا میں اِس قسم کی خبریں آتی ہیں جس میں بتایا جاتا ہے کہ فلاں ملک میں اسلام پسند جماعتوں پر تشدد کیا گیا- مثلاً الاخوان المسلمون کے لیڈر سید قطب کو 1965 میں پھانسی دی گئی- جماعتِ اسلامی کے بانی سید ابو الاعلی مودودی کو 1948 میں جیل کی سزا دی گئی، مگر اس قسم کے تمام واقعات سیاسی بنیاد پر ہوئے، نہ کہ حقیقةً مذہبی بنیاد پر- اِس قسم کے تمام لوگوں کو جو سزائیں دی جارہی ہیں، وہ دراصل سیاسی سزائیں ہیں، نہ کہ مذہبی سزائیں-

اصل حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں کچھ اسلام پسند لیڈر اٹھے- انھوں نے خود ساختہ طورپر یہ نظریہ پیش کیا کہ اسلام ایک مکمل نظام ہے جو اپنے قیام کے لیے لازماً حکومت چاہتا ہے- ہمارا یہ مذہبی فرض ہے کہ ہم اقتدار پر قابض حکمرانوں سے لڑ کر ان سے اقتدار کی کنجیاں چھین لیں اور اسلام پسند افراد کو حکومت کرنے کا موقع دیں- اِس سیاسی نظریے کا یہ نتیجہ تھا کہ اسلام پسند جماعتوں اور ارباب ِ اقتدار کے درمیان ٹکراؤ ہوگیا- اربابِ اقتدار نے اسلام پسند جماعتوں کے خلاف پرتشدد کارروائیاں کیں- اربابِ اقتدار کی طرف سے یہ کارروائیاں اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے تھیں، نہ کہ اسلام یا مذہب اسلام کو مٹانے کے لیے-

موجودہ زمانے کے نام نہاد اسلام پسندوں پر صحابی رسول عبد اللہ بن عمر کے وہ الفاظ صادق آتے ہیں جو انھوں نے اپنے زمانے میں اس قسم کے لوگوں کے بارے میں کہے تھے، یعنی اللہ نے تاریخ میں انقلاب برپا کرکے ایسے حالات پیداکردئے تھے کہ اہلِ اسلام کو اربابِ اقتدار کی مداخلت کا اندیشہ باقی نہ رہے- اہلِ اسلام مذہب کی حقیقی تعلیمات پر کسی روک ٹوک کے بغیر آزادی کے ساتھ عمل کرسکیں- مگر اہلِ اسلام نے خود ساختہ طورپر اسلام کی سیاسی تعبیر کی- وہ اربابِ اقتدار کو  اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے سرگرم ہوگئے- اِس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ مذہبی تشدد دوبارہ تاریخ میں واپس آگیا-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content