قرآن کی سورہ الانعام میں ارشاد ہوا ہے:وَاُوْحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَکُمْ بِہٖ وَمَنْ بَلَغَ (6:19)یعنی کہو کہ میری طرف یہ قرآن وحی کیاگیا ہے، تاکہ میں بھی اس کے ذریعے سے تم کو ڈراؤں، اور وہ بھی ڈرائیں جن کو یہ قرآن پہنچے- مولانا امین احسن اصلاحی (وفات: 1998) نے اِس آیت کی تشریح اِن الفاظ میں کی ہے: ’’عام طورپر مفسرین نے ’ومن بلغ‘ کو ضمیر ِ منصوب پر معطوف مانا ہے، یعنی یہ قرآن اِس لیے مجھ پر وحی کیاگیا ہے کہ میں اس کے ذریعے سے تم کو اور اُن سب کو بیدار وہوشیار کروں جن تک یہ پہنچے- لیکن ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ ضمیر ِ متکلم پر معطوف ہے، یعنی میں اس کے ذریعے سے تم کو خبردارکروں اور جن کو یہ پہنچے- لیکن ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ ضمیر ِ متکلم پر معطوف ہے، یعنی میں اس کے ذریعے سے تم کو خبردار کروں اور جن کو یہ پہنچے، وہ بھی اپنی اپنی جگہ پر اس کے ذریعے سے لوگوں کو خبردار کریں‘‘- (تدبرقرآن، جلد 3، صفحہ 31)- مذکورہ آیت کی یہ تفسیر بالکل درست ہے- اِس آیت میں ایک اہم دعوتی مسئلہ بیان ہوا ہے، وہ یہ کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح اپنے معاصر انسانوں پر دعوت وتبلیغ کی ذمّے داری ادا فرمائی، اِسی طرح امتِ محمدی کے بعد کے لوگوں پر یہ فرض ہے کہ وہ ہر زمانے میں اپنے ہم عصر انسانوں پر دعوت وتبلیغ کی ذمے داری نسل درنسل ادا کرتے رہیں- دعوت وتبلیغ کی ذمے داری ایک ابدی ذمے داری ہے- امتِ محمدی کی بعد کی نسلوں پر یہ ذمے داری ٹھیک اُسی طرح عائد ہوتی ہے جس طرح وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر خدا کی طرف سے عائد کی گئی تھی- دعوت وتبلیغ کی ذمے داری ایک ایسی ذمے داری ہے جو کبھی اور کسی حال میں ساقط نہیں ہوسکتی-
دعوت کا یہ مسئلہ جس طرح قرآن میں مذکور ہے، اِسی طرح وہ حدیث میں بھی بیان ہوا ہے- چناں چہ حجة الوداع کے موقع پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو، اور نیابةً پوری امت کو، خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ مجھے اللہ نے تمام انسانوں کی طرف بھیجا ہے- تم میری طرف سے میرا پیغام تمام لوگوں تک پہنچا دو- اِسی طرح آپ نے فرمایا تھا کہ جو لوگ یہاں موجود ہیں، وہ میرا پیغام اُن لوگوں تک پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں ہیں (فلیبلغ الشاہدُ الغائب)-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔