قرآن کی سورہ الکہف میں ایک کردار کو اِس طرح بیان کیا گیاہے:قُلْ ہَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًا اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُہُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَہُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا (18:102-104)یعنی کہو، کیا میں تم کو بتاؤں کہ اپنے اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ گھاٹے میں کون لوگ ہیں- یہ وہ لوگ ہیں جن کی کوشش دنیا کی زندگی میں اکارت ہوگئی اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ بہت اچھا کام کررہے ہیں-
قرآن کی اِس آیت میں دراصل اُس نفسیاتی حالت کا ذکر ہے جس کو موجودہ زمانے میں کنڈیشننگ کہاجاتا ہے- جن لوگوں کا کیس کنڈیشنڈ مائنڈ (conditioned mind) کا کیس ہو، اُن کا حال یہ ہوجاتا ہےکہ وہ اپنے مانوس تصور ہی کو درست سمجھنے لگتے ہیں-
اپنے اِس ذہنی شاکلہ (mind-set) کی بنا پر وہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ وہ کررہے ہیں، وہی حقیقت کے اعتبار سے بھی صحیح ہے- لیکن آخرت میں ان کے یہ اعمال باطل قرار پائیں گے، یعنی بے نتیجہ ہوجائیں گے-
اعمال کا باطل ہونا کوئی پراسرار چیز نہیں -اُس سے مراد ہے مطلوب نتیجہ حاصل نہ ہونا- دنیا میں کسی انسان سے جو چیز مطلوب ہے، وہ یہ کہ اس کے اندر مزکیّٰ شخصیت بنے، یعنی وہ شخصیت جو جنت میں داخلے کے قابل ہو- ایسے لوگوں کو آخرت میں معلوم ہوگا کہ جو کچھ وہ کرتے رہے، وہ صرف ایک غیر متعلق کام تھا- وہ ان کی شخصیت کو مزکیّٰ شخصیت بنانے میں کار آمد نہ تھا-
لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ بطور خود اپنی زندگی کا ایک نشانہ بناتے ہیں- وہ اس میں اپنی ساری طاقت لگا دیتے ہیں- اُن کا ذاتی خیال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے لیے ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کررہے ہیں، لیکن اچانک موت آتی ہے جو اُن کے پورے محل کو ڈھا دیتی ہے- موت کے بعد آدمی اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پاتا ہے جہاں اس کی سابقہ کوششیں کچھ بھی اس کے کام نہیں آتیں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔