مولانا سید سلیمان ندوی (وفات: 1953) نے اپنا ایک واقعہ اِن الفاظ میں بیان کیا ہے: ’’1920 کی تحریک خلافت کے سلسلے میں میرا یورپ جانا ہوا- وہاں میں ایک بار انگلستان سے فرانس گیا- اُس وقت میں اِسی مشرقی لباس میں تھا- اگر چہ میں انگریزی زبان جانتا اور سمجھتاتھا، لیکن فرنچ زبان سے واقفیت نہیں تھی- فرانس کے ساحل پر اترتے ہی ایک کانسٹبل نے فرنچ زبان میں کچھ کہا- میں سمجھا کہ اس نے میرے مشرقی لباس پر کچھ طنز کیا ہوگا- چناں چہ میں نے اس کا وہ فرنچ جملہ یاد رکھا اور ہوٹل پہنچ کر اپنے ایک فرنچ رفیق سے اُس جملے کا ترجمہ دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ اُس کانسٹبل نے مجھے اجنبی دیکھ کر خوش آمدید کہا اور کہا کہ دیکھو، ہمارا ملک کتنا اچھا ہے- میرے دل پر اس کا بڑا اثر ہوا اور یہ احساس ہوا کہ یہاں کے معمولی درجے کے لوگوں میں بھی اپنے ملک کی عزت اور مسافروں کو خوش آمدید کہنے کا کتنا جذبہ پایا جاتاہے‘‘- (مجلہ الشارق، اعظم گڑھ، مارچ- اپریل 2014)
فرانس کے ساحل پر خوش آمدید کا یہ واقعہ پڑھ کر مجھے خوش آمدید کا دوسرا واقعہ یاد آیا جو اللہ کے مخلص بندوں کے ساتھ آخرت میں پیش آئے گا- اِس واقعے کا ذکر قرآن میں اِن الفاظ میں کیاگیا ہے: وَسِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّہُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًاۭ حَتّىٰٓ اِذَا جَاۗءُوْہَا وَفُتِحَتْ اَبْوَابُہَا وَقَالَ لَہُمْ خَزَنَـــتُہَا سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْہَا خٰلِدِیْنَ (39:73) یعنیجو لوگ اپنے رب سے ڈرے، وہ گروہ درگروہ جنت کی طرف لے جائے جائیں گے۔یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے کھول دئے جائیں گے اور اس کے محافظ ان سے کہیں گے کہ سلام ہو تم پر،شاد رہو، پس جنت میں داخل ہوجاؤ ہمیشہ کے لیے-
مومن ایک حساس انسان کا نام ہے- مومن کی بڑھی ہوئی حساسیت اس کے اندر یہ مزاج پیدا کرتی ہے کہ ہر تجربہ میں اس کو آخرت کی تصویر دکھائی دے- سچا مومن وہ ہے جس کا حال یہ ہوجائے کہ دنیا کا ہربراتجربہ اس کو جہنم کی یاد دلائے اور دنیا کا ہر اچھا تجربہ اس کو جنت کی یاد دلانے والا بن جائے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔